یہ جو ہیں شہر کے واعظ، یہ خطیبان کرام
زمانۂ طالب علمی میں کئی بار علمائے سو کا لفظ نظر سے گزرا، اس وقت اس بارے زیادہ علم تھا نہ ہی یہ جاننے میں کوئی دلچسپی تھی کہ آخر یہ علمائے کرام کی کون سی قسم ہے پھر جب تھوڑی بہت سنی سنائی کو نا کافی جانتے ہوئے تھوڑی سی تحقیق کی تو ایسا لگا کہ دور حاضر میں علمائے سو کو نہ صرف پہچاننا بہت آسان ہے بلکہ یہ قسم آج کے دور میں بہت عام ہو چکی ہے اب علمائے ربانیین کو ڈھونڈنا پڑتا ہے جو واقعی عالم دین ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے، مشکلات کا شکار رہا ہے ایک ایسا ملک جو انگریزی سامراجی تسلط سے آزاد ہوا ہی ہو اس کے لئے معاشی، سماجی اور معاشرتی نظام کی ازسر نو تشکیل و تعمیر کافی مشکل، صبر آزما، اور اخلاص طلب کام ہے۔ معاشرے جب نئے نئے وجود میں آتے ہیں تو اس میں بسنے والے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کا فرض اولیں ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ کسی بھی ملکی سیاست میں عموماً سیاستدان ہی عملی کردار ادا کرتے ہیں اس ضمن میں سیاسی عوامل خاص طور پر متحرک ہوتے ہیں مگر پاکستان کی قسمت یہ تھی کہ پیدا ہوتے ہی عسکری قوتوں نے گود میں اٹھا یا پھر انہی مضبوط ہاتھوں میں پروان چڑھا اور نوجوانی کی ساری منازل طے کرتے کرتے خیر سے اپنی بزرگی کی سیڑھی پر بھی انہی آہنی ہاتھوں کے سہارے قدم رکھ چکا ہے۔
اللّٰہ ہمارے پیارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور خود مختاری و خود انحصاری کی قوت عطا فرمائے۔ بات کا رخ تھوڑا دوسری طرف ہو گیا دراصل ہمارا موضوع علمائے سو تھا۔ بہت وقت لگا یہ حقیقت عیاں ہونے میں کہ ہمارے یہاں زیادہ تر علماء کرام بھی اسلام سے کوسوں دور اور ملک کے ”معتقدین و مقتدرین“ کے زیادہ قریب ہیں اور شاید اس قربت سے چار و ناچار مستفیض بھی ہوتے ہوں (واللہ اعلم) ۔ آج کل ایسے مفتی صاحبان تازہ تازہ فتوے ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں کہ جیسے ہی ”ازن خاص“ ملے کھٹ سے فتویٰ حاضر کر دیں۔
مہذب معاشروں میں مذہبی پیشواؤں کی اپنی مسلمہ اہمیت ہوتی ہے چاہے جس قدر بھی معاشرے جدیدیت اختیار کر لیں مذہبی عقائد کی اہمیت سے وہ لوگ بھی انکار نہیں کر سکتے جو جدید اور آزادی پسند معاشروں کے پروردہ ہوں وہ بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ یہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہر وہ کام کرتے ہیں جو ان کے کرنے کا نہیں ہوتا اور ہر اس کام سے دوری اختیار کرتے ہیں جو ان کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
مفتیان کرام اور مولوی حضرات ہمارے نیم خواندہ معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جنہیں لوگ عقیدے سے بڑھ کر عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہاں پر مراد تمام علمائے کرام سے ہر گز نہیں بلکہ صرف وہ علما ہیں جنہیں اسلام نے علمائے سو کا نام دیا ہے۔ پیارے ملک پاکستان میں زیادہ تر مولوی حضرات نے سارے کام کیے اگر کچھ نہیں کیا تو فقط دین کی خدمت نہیں کر پائے اور ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ لوگوں نے لفظ ”مولوی“ کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا کبھی مارکیٹ میں کسی داڑھی رکھے شخص نے کوئی چیز زیادہ مہنگی یا غیر معیاری دے دی تو لوگ جھلا کر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یار اس مولوی کے پاس تو جانا ہی نہیں چاہیے تھا اللّٰہ کا نام لے کر بھی ٹھیک خرید و فروخت نہیں کرتا وغیرہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قسمیں اٹھا اٹھا کر ناقص مال بیچتے ہیں اور تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے نہ صرف اپنی آخرت خراب کرتے ہیں بلکہ اسلام کے تشخص کو بھی نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔
پاکستان میں بہت سے مفتیان کرام ایسے بھی تھے جن کا انداز تکلم بہت بہترین، پر اثر اور عام فہم تھا ان میں مولانا مودودی صاحب، مولانا اسرار احمد صاحب اور ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صاحب کے نام سرِ فہرست ہیں یہ وہ مذہبی شخصیات تھیں جن کے اندر معاشرے کی بہتری اور ترقی کا درد دل تھا جن کو دین کا ادراک بھی تھا اور انداز میں رعب کے ساتھ ساتھ نرم گفتاری اور جدت بھی تھی اگر آپ مذہبی رہنما ہیں اور ساتھ ہی سیاست بھی کرتے ہیں تاکہ ملک کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں تو اس میں شاید کوئی برائی نہیں مگر پاکستان کی سیاست بھی ان ”عوامل“ کی پیرو کار ہے جو اپنا کام چھوڑ کر سیاست میں مصروف ہیں۔
معاشرے کی اصلاح عام آدمی سے جڑی ہے اگر عام آدمی کی تربیت میں بچپن سے ہی یہ بات ڈالی جائے کہ فلاں عقیدہ درست ہے فلاں کے خلاف نعرے بازی کریں تو معاشرے شدت پسندی اور نفرت کا شکار ہو جاتے ہیں ہمارے یہاں مفتیان کرام کی سیاسی قرابت داریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ان کا ملک کی مقتدرہ کے ساتھ بھی ”محبت و عقیدت“ کا رشتہ ہے جو ان سے اکثر اپنی مرضی کے کام لیتا رہتا ہے
بنیادی طور پر مذہبی مفکرین کے اندر نرمی کا عنصر موجود ہونا چاہیے تاکہ لوگ آرام سے اپنے نجی مسائل ان سے ڈسکس کر سکیں اور اسلام کی روشنی میں ان کا حل جان سکیں۔ ہمارے یہاں زیادہ تر مولوی حضرات درشت مزاجی سے بات کرنے کے عادی ہیں ایسے میں لوگ ڈر کے مارے ان سے سوال کرنے سے گھبراتے ہیں حالانکہ دین اسلام میں نرمی اور بہترین اخلاق کو مکرم بتایا گیا ہے
افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ اب مارکیٹ میں ایسے ایسے یو ٹیوبر مولوی حضرات آ چکے ہیں کہ جن کے پاس آپ کے ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے محض ایک جادوئی ”پھونک“ کے اثر سے معذور افراد وہیل چیئر سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے پیروں پر چلنے لگتے ہیں ایسے بیمار جن کا علاج جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ڈاکٹری آلات اور میڈیکل سائنس کرنے میں نا کام ہو جاتی ہے وہاں یہ شعبدہ باز مولوی محض ”شف شف“ کر کے دو پل میں مریض کو بھلا چنگا کر دیتے ہیں۔
ہماری سوچ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ ہم یہ سوچنے کے لائق بھی نہیں رہتے کہ ایسے معجزے تو اللّٰہ صرف پیغمبروں کو عطا کرتے ہیں ہم بحیثیت قوم اتنے راسخ العقیدہ ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی بہروپیا چہرے پر داڑھی رکھ کر سر پر ٹو پی پہن کر اور ہاتھ میں تسبیح تھام کر ہمیں دین کے نام پر لوٹ جاتا ہے اور ہم لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں۔ فراز صاحب کا ایک شعر ہے کہ
”امیر شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بحیلۂ مذہب کبھی بنامِ وطن ”
ایک مزے کی بات یہ بھی ہے کہ ان نیم ملاؤں کے پاس کیونکہ ہر آپ کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہوتا ہے اور ان کے بقول وہ چٹکیوں میں لوگوں کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں ان شعبدہ بازوں کے خود ساختہ علوم کے سامنے جدید سائنس اور دیگر علوم پانی بھرتے نظر آتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر ایسے علما کے معتقدین میں بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں ہم اس جدید دور میں ان فتنوں کا شکار اس لئے بھی آسانی سے ہو جاتے ہیں کہ ہم اسلام کی اصل تعلیمات کو یکسر بھلا چکے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے جو ہمیں مشکلات میں بھی صبر سے جینے کا درس دیتا ہے اسلام نے زندگی کو جہد مسلسل سے تعبیر کیا ہے
اسلام ہمیں جینے کے اسلوب سکھاتا ہے اور مل جل کر رہنے کا حکم دیتا ہے جبکہ ہمارے زیادہ تر علماء، مشائخ اور خطیب زور شور سے سیاسی بیانات جاری کرتے ہیں جھوٹ موٹ کے فتوے گھڑتے ہیں۔
لوگوں کو بنیادی تعلیمات جیسے صفائی ستھرائی کا خیال، نشست و برخاست کے آداب، دیانتداری، دروغ گوئی سے اجتناب، چوری بارے وعید، گھروں میں حسن سلوک، ہمسائے اور اقلیتوں کے حقوق اور اچھے اخلاق کی تربیت دیتے نظر نہیں آتے بلکہ نفرت اور انتشار کا درس دیتے ہیں۔
جہاں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی ذمہ داری ہے وہیں مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ اور مولوی حضرات کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ دین اسلام کے صحیح طریقے معاشرے میں رائج کریں تاکہ لوگ دین سے محبت کریں اور اچھے مہذب مسلمان بنیں اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اللّٰہ کے بھیجے گئے پیارے دین میں علماء کرام پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے جو اس ذمہ داری کا بوجھ نہ اٹھا پائیں وہ پھر سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر عالم دین نہیں۔ چونکہ موضوع بحث بھی علمائے سو ہیں جو اسلام کے لحاظ سے اپنی معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے میں غفلت برت رہے ہیں اور محض اپنے ذاتی مفادات کی خاطر لوگوں میں نفرت اور تفریق پیدا کر رہے ہیں ان کی خاطر ایک شعر ہے جو امید بھی ہے خواہش بھی ہے اور دعا بھی
” یہ جو ہیں شہر کے واعظ یہ خطیبان کرام
یہ بھی اللّٰہ نے چاہا تو مسلماں ہوں گے ”


