ہالی ووڈ کے بابے اور بابیاں
یہ مضمون میں اس وقت لاس اینجلس کاؤنٹی کے ایک شہر لونگ بیچ سے لکھ رہی ہوں۔ یہ شہر ساحل سمندر پر واقع ہے اور آگ کے خطرے سے محفوظ ہے۔ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ باہر کھڑی گاڑیوں پر جمی ہوئی ہوا کے دوش پر آئی ہوئی راکھ یاد دلاتی ہے کہ صرف چند میل دور لگی ہوئی آگ نے کیا قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ دل پر ایک نامعلوم اداسی ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالٰی سب چرند، پرند، انسانی جانوں اور املاک کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
دنیا بھر کی ثقافت کو متاثر کرنے والا امیر و کبیر ہالی ووڈ جل کر راکھ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک آگ ہے۔ باقی تین آگیں ان علاقوں میں ہیں جہاں کے عام امریکی اسی طرح زندگی کی دوڑ میں پسے ہوئے ہیں جس طرح دنیا کے دوسرے لوگ ہیں۔
سنا ہے کہ کسی ہالی ووڈ سٹار نے غزہ کے بارے میں ایک بھیانک بیان دیا تھا اور اب اس کا اپنا گھر راکھ ہو گیا ہے اور وہ ٹیلیویژن پر بیٹھا رو رہا تھا۔ اگر یہ سچ ہے تو کون جانتا ہے کہ شاید آگے چل کر یہ واقعہ اسے کچھ سوچنے پر مجبور کر دے اور اس کی اصلاح کرنے کا سبب بن جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے دل پر اسی طرح مہر ثبت رہے۔
تیرہ سال قبل ہمارا گھر اور ہمارا شہر ہماری نظروں کے سامنے ہوائی طوفان ٹورنیڈو کے ہاتھوں دیکھتے ہی دیکھتے تباہ و برباد ہو گیا۔ ہمیں ایک ہفتے تک سینکڑوں دوسرے لوگوں کے ساتھ ریڈ کراس کے مہیا کردہ ایک بڑے ہال میں قیام کرنا پڑا۔ اس وقت یہ احساس ہوا کہ جن لوگوں کے سروں پر گھر کی چھت نہ ہو وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس طوفان میں ہمارے چھوٹے سے شہر جس کی کل آبادی پچاس ہزار ہے کے 161 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس ساری ابتلا کے دوران کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ یہ امرا نہیں بلکہ غریبوں اور خدا پر ایمان والوں رکھنے والے بائبل بیلٹ کا شہر تھا۔ یہ ضرور ہے کہ اس واقعہ نے بہت سے لوگوں کی جذباتی، روحانی اور عملی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایسے قدرتی حادثات سے انسان صدیوں سے نبرد آزما ہے۔ ہر حادثہ ایک سبق سکھاتا ہے اور مستقبل میں ان سے بچنے کی تدبیر ظہور میں آتی ہے۔
دنیا بھر سے لوگ ہالی ووڈ قسمت آزمانے آتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا ستارہ انہیں اس بلندی پر لے جاتا ہے جو دوسروں کی آنکھیں خیرہ کر دیتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے لوگ انہی محل نما گھروں کی تباہی و بربادی دیکھ کر اپنے اپنے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ ان میں رہنے والوں کی عالی شان زندگی کے بارے میں رشک، حسد یا ججمنٹ تو کی جا سکتی ہے لیکن یہ فرض کر لینا کہ ان میں شیطان نما انسان رہتے تھے ایک کوتاہ نظری ہے۔ برسوں پہلے ٹوفل کے امتحان میں اس سوال کا تفصیلی جواب لکھنا تھا کہ کیا ہالی ووڈ کے فنکاروں کے مہنگے معاوضے بجا ہیں؟ میرا جواب یہ تھا کہ اچھے فنکار کو اس کے فن کا معقول معاوضہ ضرور ملنا چاہیے تا کہ وہ غم روزگار سے بے نیاز ہو کر اپنی پوری توجہ تخلیقی سرگرمیوں پر مرکوز کر سکے۔
مجھے متاثر کرنے والی بہت سی شخصیات کا تعلق ہالی ووڈ سے ہے۔ یہ نہ صرف اپنے فن میں یکتا ہیں بلکہ انسان دوستی اور روحانی ترقی کے سفر پر بھی گامزن ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے میں ان کے اس سفر کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ ان میں سر فہرست اوپرا ونفری ہے۔ سوشل میڈیا اور گوگل سے بہت پہلے اوپرا نے اپنے ٹاک شو سے امریکہ اور دنیا بھر کے انسانوں اور خصوصاً عورتوں کو زندگی کو جینے کا حوصلہ دیا اور اس کا سلیقہ سکھایا۔ بہت سے دوسرے ہالی ووڈ کے ستاروں کی طرح اوپرا نے اپنے بچپن میں شدید غربت دیکھی۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں اس کے کالے رنگ اور موٹاپے کی وجہ سے اس کی تضحیک کی گئی۔ جب وہ دنیا کی امیر ترین عورت بن گئی تو اس کی آمدنی کا ایک خطیر حصہ فلاحی منصوبوں میں خرچ ہونے لگا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ روحانیت سے لگن اور اس کی ترویج اوپرا کی شخصیت کا بنیادی وصف ہے۔
شیرن سٹون کی کہانی سے کون واقف نہیں۔ تیس بتیس سال پہلے جس فلم کے بد نام سین نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہی سین حالیہ سالوں میں اس کے غم اور غصے کا سبب بن گیا۔ وہ اس واقعے کو اپنے ذہن سے محو کر دینا چاہتی ہے۔ وہ اکثر بتاتی ہے کہ کس طرح ہالی ووڈ کی شارک مچھلیوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اسے سین پر اسی وقت پچھتاوا تھا اور اس نے اس کو فلم میں رکوانے کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ایک غریب آرٹسٹ تھی اور اس کی کچھ نہ چلی۔ بہت سال پہلے شیرن سٹون کو سر میں شدید درد اٹھا۔ سی ٹی سکین سے معلوم ہوا کہ اس کے دماغ کی شریان پھٹ گئی ہے۔ اس کا فوراً دماغ کا آپریشن کیا گیا۔ وہ معجزانہ طور پر بچ نکلی۔ اس دوران اسے Near Death Experience ہوا جس نے اس کی دنیا ہی بدل دی۔ اگر کسی نے معرفت کی باتیں سننی ہے تو شیرن سٹون کے حالیہ انٹرویوز دیکھے۔ پلاسٹک سرجری نہ کروانے کے باوجود ساٹھ کے پیٹے میں وہ اتنی ہی حسین ہے جتنی اپنی جوانی میں تھی لیکن اب وہ حسن بے پرواہ کی سٹیج میں داخل ہو چکی ہے کیونکہ اس کی اندر کی آنکھ کھل چکی ہے۔
جوڈی فوسٹر بھی چھپا رستم ہے۔ یہ کم عمری میں ہی اس وقت پوری دنیا کی توجہ کی مرکز بن گئی جب اس کے ایک مداح نے اسے متاثر کرنے کے لئے صدر ریگن کو گولی مار دی۔ جوڈی فوسٹر شمع محفل بننے سے دور رہتی ہے اور بہت دیکھ بھال کر اعلیٰ درجے کی فلموں کو ہی سائن کرتی ہے۔ ایک حالیہ فلم میں اس نے اس خاتون وکیل کا کردار کمال خوبی سے ادا کیا ہے جس نے بدنام زمانہ گوانتانا موبے میں جا کر ایک مسلمان قیدی کی پیروی کی تھی۔
ہالی ووڈ کی سب سے سینئر بابی شرلی میکلین ہے جو کئی کتابوں کی مصنفہ ہے۔ روحانیت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ان کی کتابیں ایک انمول خزانہ ہیں۔
جہاں تک ہالی ووڈ کے بابوں کے تعلق ہے تو اس وقت جم کیری کا نام ذہن میں آ رہا ہے۔ ان کی زندگی کا سفر دراصل عشق حقیقی کا سفر ہے۔
اگرچہ مل گبسن کا شمار ان بابوں میں نہیں آتا لیکن اس آگ کے بعد کون جانتا ہے اس کے اندر کی دنیا میں کیا انقلاب برپا ہو۔ ماضی میں یہ اکثر کثرت شراب نوشی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ لیکن دس سال سے وہ ایک گروپ ”گمنام شرابی“ ”Alcholics Annymanous کا حصہ ہے جس کی بارہ سٹیجوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔ عام فہم الفاظ میں یہ بارہ سٹیجیں دراصل تزکیہ نفس کا دوسرا نام ہے۔ مل گبسن کا ہالی ووڈ مینشن بھی خاکستر ہو گیا ہے۔ جب ان حضرت سے اس حادثے کے بارے میں ان کے تاثرات پوچھے گئے تو انھوں نے جو فرمایا اس کا لب لباب یہ ہے کہ چلو اچھا ہوا اتنے وسیع و عریض گھر میں جمع شدہ چیزوں اور اس کے مسائل سے جان چھٹی۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے گبسن صاحب نے یہ بیان دینے سے پہلے پی رکھی ہو ( ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دس سال سے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا) ۔ ان کا یہ بیان اس مادی دنیا کے متعلق epiphany (کشف) بھی ہو سکتی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مجھ سمیت بہت سے دوسرے لوگوں کے اس سے ملتے جلتے تاثرات تھے جب ہمارے گھر ٹورنیڈو کے دوران اڑ گئے اور ہم مرتے مرتے بچے۔ وہ شاید شاک کی کیفیت کے زیر اثر تھے لیکن ”سب مایا ہے“ جیسے جذبات کی کیفیت نے اس مشکل گھڑی میں بہت حوصلہ دیا۔ بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔



آپ کم کم لکھتی ہیں لیکن کیا اچھا لکھتی ہیں۔
اگر زندگی مایا کے ساتھ گزاریی ہو اور کبھی پرانے دور میں حج کیا ہو تو "چند دن ایسے ہی ادوار کے گزرتے ہیں” جب حاجی کو قیامت نفسانفسی اور اپنی بے مائیگی کا گاہے بگاہے احساس ہوتا ہے۔
اگر یہ احساسات نہ ملے تو جان لیں کہ آپ صرف حاضری لگاکر آگئے ہیں۔