”چالیس چراغ عشق کے“ ناول کے کردار


 

”The Forty Rules of Love“ تُرکیہ کی نامور ادیبہ ایلف شفق کے شاہکار ”Aşk“ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ ایلف شفق کی تحریر کو مشرق و مغرب کا حسین امتزاج کہنا کسی طور پر بھی غلط نہ ہو گا۔ ان کے اس ناول کو بی بی سی کی جانب سے ان سو ناولوں میں شامل کیا گیا ہے کہ جو ہماری دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

اردو زبان میں اسے ”ہُما انور“ نے ”چالیس چراغ عشق کے“ کے نام سے ترتیب دیا ہے۔ صوفی ازم اور محبت کے رہنما اصول سمجھاتے، حکایات و اقوال سے بھرپور اس ناول پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ جو بلاشبہ اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ لیکن آج ہم اس ناول و مصنف اور مرکزی چار کرداروں (شمس تبریز، رومی۔ ایلا، عزیر) کی بجائے محض دیگر کرداروں پر ایک قاری کی حیثیت سے بات کریں گے کہ جن کڑیوں نے باہم مل کر اس ناول کی کہانی کو دلچسپ بنایا۔

قاتل:

سابق حشاشی، قلعہ الموت کا فرار یہ کردار اس گروہ کا تصور لے کر ابھرتا ہے کہ جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط کر رہے ہیں مطمئن ہوتے ہیں۔ اس کو اپنا فن سمجھ سکتے ہیں کہ جو کوئی نہیں کر پاتا وہ ہم کرتے ہیں۔ سیاہ ترین کا بھی ایک موقف ہوتا ہے جس پر سفید کا کبھی دھیان نہیں جاتا۔

· ”اگرچہ یہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے مگر میں اس بوجھ کے ساتھ جینے کا عادی ہو چکا ہوں اور اسے اپنے کام کے حصے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ “

· ”لیکن کسی اجنبی کو بے حسی سے ہر کوئی قتل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں منظر میں مَیں داخل ہوتا ہوں۔ میں نے دوسروں کے حصے کا گندا کام کیا۔“

طالب علم حسام:

مختصر سا کردار جو یہ سمجھاتا ہے کہ اندھی تقلید ضروری نہیں۔ جب تک آپ کسی سے مل نہ لیں، محض سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر کسی فرد کے لیے حتمی رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے۔ اور اس بات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ خبر کیسے بھی مستند ذریعے سے آپ تک پہنچی ہو بہرحال خبر ہے۔ اور خبر اصطلاح میں اس جملے کو کہا جاتا ہے کہ جس کے متعلق جھوٹ یا سچ دونوں ثابت ہو سکتے ہیں۔ سو ذاتی مشاہدے کی بنا پر طے کریں۔ اور تبھی آپ مقابل کے خیر و شر کو بہتر پہچان پائیں گے۔

· ”میں نے سر ہلا دیا، اگرچہ شمس تبریز مجھے کوئی شیطان نہ لگے تھے۔“

· ”لیکن مجھے محسوس ہوا کہ بیشتر لڑکوں نے کسی مخلصانہ اتفاق کی بجائے محض اپنے استاد کی حمایت کے لیے ایسا کیا تھا۔“

· ”شمس تبریز نے میری طرف قدم بڑھایا اور مجھے اس قدر شفقت و مہربانی سے دیکھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں والدین کی غیر مشروط محبت سے حظ اٹھاتا کوئی ننھا بچہ تھا“

دوسری بات، کہتے ہیں کہ موسیٰ کے مقابل آئے جادوگران دولتِ ایمان اس لیے پا گئے کہ انہوں نے موسیٰ کا ادب ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے پوچھا تھا کہ پہلے رسیاں آپ ڈالیں گے یا ہم؟ ادب کی یہ سیڑھی بڑے مقام دلاتی ہے۔

· ”میں نے خود پر جمی ان (شمس تبریز) کی نگاہ محسوس کی، اور یہ جیسے کسی کو شریکِ راز کرنے جیسا تھا۔ کسی اَن کہی اور اَن سنی برادری میں داخلہ“

· ”صلاح الدین کی وفات کے بعد طالب علم حسام جو روحانی راستے پر بڑی تیزی اور اس قدر خوبی سے سمجھدار ہوا تھا کہ اسے اب ہر کوئی حسام چلیبی پکارنے لگا ہے، میری (مولانا رومی کی) نظموں کو تحریر کرنے میں مدد کرنے لگا ہے۔ وہ محرر ہے جسے میں نے پوری مثنوی لکھوائی۔ منکسر المزاج اور فیاض، اگر حسام سے کوئی پوچھے کہ وہ کون ہے اور کیا کرتا ہے تو وہ لمحے بھر کا انتظار بھی کیے بغیر کہتا ہے“ میں بس شمس تبریز کا عاجز پیروکار ہوں، میں بس یہی ہوں ”

متعصب:

شیخ یٰسین، انسان کی اُس نسل کی نمائندگی کرتے ہیں کہ جو اپنے ہم عہدہ لوگوں سے حسد میں یوں مبتلا ہوتے ہیں کہ خود بھی اندازہ نہیں کر پاتے۔ ہمہ وقت مقابل کے زوال کے انتظار میں مصروف ان لوگوں کو بالآخر ایک موقع مل ہی جاتا ہے کہ جب یہ کینہ منہ زور قے کی طرح اُبل کر باہر آن پڑتا ہے۔ وہ کہ جو علم کی شفاف شاہراہ کو غرور و تکبر کی گرد سے آلودہ کرتے ہیں۔ اور لاجواب ہو کر غیظ و غضب کو اپناتے ہیں۔

· ”مجھے ہمیشہ سے اس بات کا شبہ تو تھا کہ مولانا رومی کی شخصیت کا کوئی تاریک پہلو تھا جو کسی نہ کسی روز ضرور سامنے آ جاتا۔“

· ”ایمان والے قوانین کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہم عالم ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔“

· ”بہت ہو گئی! میرا خیال ہے کہ ہم تمہاری دو شاخی زبان سے خاصی بکواس سن چکے ہیں۔ اب میرے کمرہ جماعت سے نکل جاؤ“

اور دوسری بات، اقرباء پروری اور پیاروں کو ہمیشہ نگاہِ نیک سے دیکھنا۔ اور اس پر مطمئن بھی رہنا۔

· افواہ ساز، فضول گو لوگ کہتے ہیں کہ مدرسہ استاد کی حیثیت سے میرے رتبے کے باعث وہ یہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ بکواس! بیبرس (بھتیجا) کسی نوکری کے حصول کے لئے خاصا مضبوط اور بہادر ہے ”

· ”اُس جیسے ایک نوجوان، با اصول لڑکے کے پاس اس بد اعمال شہر میں کرنے کو بہت کام ہے“
بیبرس جنگجو:

اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا، چور راستوں سے مسند پر پہنچا طبقہ۔ عقل و فکر سے لاتعلق، منفی جذبات سے بھرپور۔ ایک مقام پر اُس خاص مکتبۂ فکر کا ترجمان محسوس ہوتا ہے کہ جن کے مطابق دین محض جہاد اور وہ بھی بیرونی عناصر (جیسا کہ کفار وغیرہ) سے ہی ہے۔ امن و آشتی کا فروغ بے بنیاد ہے۔

· ”جنگ زندگی کا مرکزی حصہ ہے۔ شیر ہرن کو کھا جاتا ہے۔ اور گدھ لاش کے باقی بچ جانے والی ہڈی پر پلتے ہیں۔ قدرت سفاک و بے رحم ہے۔ خشکی پر، سمندر میں یا ہوا میں، کسی انتشار کے بغیر ہر مخلوق کے لیے بقا کی صرف اور صرف ایک صورت ہے۔ : اپنے بد ترین دشمن سے طاقتور اور عیار تر ہونا۔ زندہ رہنے کے لئے تمہیں لڑنا پڑتا ہے۔ یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے۔“

نو مرید:

مخلص ہو کر کام نہ کرنے والے۔ جیسے محض زبان سے اللہ اللہ کرنے والے۔ بالکل اسی طرح اپنی رضا و رغبت سے کام کرنے کی بجائے محض حکم کی بجا آوری کے لئے کام کرنے والے اور دل میں سو اعتراضات رکھنے اور راہ کی مشکلات کا رونا رونے کے باوجود یہ گمان کرنے والے کہ منزل کو پالیں گے۔

· ”جب سے میں یہاں آیا ہوں کسی کتے کی طرح کام کر رہا ہوں۔“
· ”ہم تمہاری (نومرید کی) مرضی کے بغیر تمہیں درویش نہیں بنا سکتے۔“

· ”تمہیں (نومرید کو) اس بات کی پرواہ ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ لیکن کیا تم جانتے ہو؟ چونکہ تم دوسروں کی پسندیدگی حاصل کرنے کے لیے بہت جان توڑ کوشش کرتے ہو، تم ان کی تنقید سے کبھی چھٹکارا حاصل نہ کر پاؤ گے، چاہے تم کتنی ہی مشقت کرو۔“

حسن گداگر:

کسی حد تک حقیقت پسند اور غیرت مند ہونے کے باوجود اپنے غموں میں سب سے امید رکھنا کہ وہ بھی ہنسنا ترک کر دیں۔ خود کو سب سے بڑھ کر مظلوم سمجھنا اور دوسروں پر اعتراض اٹھانا کہ وہ اس بلا سے محفوظ کیوں کر ہیں۔

· ”مولانا رومی کو تکلیف کا کیا علم تھا؟ اور ہمیشہ ان سے محبت کی گئی اور انہیں سراہا گیا اور ان کی تعریف و تحسین کی گئی۔ کیوں کر انہیں تکلیف و مصائب پر تبلیغ کی جرآت ہوئی؟“

· ”خدا اس قدر نا انصاف کیوں تھا؟ جانب دار کیوں تھا؟ مجھے اس نے غربت، بیماری اور بد حالی دیے جب کہ مولانا رومی کو دولت، کامیابی اور حکمت۔“

· ”کیا انہوں (مولانا رومی) نے اس پر غور کیا کہ چاہے ایک روز کے لیے ہی سہی مگر بے خانماں ہونا اور دھتکارا جانا کیسا محسوس ہو گا؟“

طوائف، گلِ صحرا:

اُن تاریکیوں کو جو مقدر نے ہمیں امتحاناً سونپ دیں اپنا مستقل نصیب سمجھ لینے والے لوگ۔ خود سے منسوب سیاہی کو دھو ڈالنے کی بجائے خود کو سیاہ سمجھ کر دھتکار دینے والے لوگ۔ اور وہ لوگ کہ جن کو دنیا ان کا ماضی بھولنے بھی نہ دے۔

· ”ایمان کے بارے میں بھی میں ایسا ہی سوچتی ہوں۔ گلابوں کا کوئی مخفی باغ جہاں میں کبھی گھومتی پھرتی اور اس کی خوشبوؤں سے محظوظ ہوتی تھی مگر اب وہاں قدم بھی نہیں رکھ سکتی۔“

· ”یہ ایک طوائف ہے! آؤ اس طوائف کو سزا دیں!“

· ”مجھے وہاں کبھی نہیں جانا چاہیے تھا۔ لوگ ٹھیک کہتے ہیں، تم جانتے ہو۔ مسجد یا گرجا یا خدا کے کسی بھی گھر میں کسی طوائف کی کوئی گنجائش نہیں۔“

· ”تم (گلِ صحرا) دوسروں کو اپنی بے عزتی کا الزام کیسے دے سکتی ہو جب کہ تم خود اپنے آپ کو احترام کا مستحق نہیں سمجھتیں“

سلیمان مدہوش:

منفرد سوچ رکھنے والے افراد کا گروہ کہ جن کی سوچوں کو رُخ دینے والا کوئی نہ ہو۔ اور وہ پھر فہم کی گلیوں میں آوارہ بھٹکتے ایسے سوال داغتے رہیں کہ جو عوام کو اشتعال دلائیں۔ جو چپ چاپ احکام بجا لانے کی بجائے حلت و حرمت کے اسباب جاننا چاہیں لیکن انہیں مطمئن کرنے والا کوئی نہ ہو۔

· ”تم جانتے ہو، یہی وجہ ہے کہ مجھے مذہب ناگوار گزرتا ہے۔ ہر قسم کے مذہب، مذہبی لوگ اس قدر پُر اعتماد ہوتے ہیں کہ خدا اُن کی طرف ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ وہ ہر کسی سے برتر ہیں۔“

· ”یقیناً میں کرتا ہوں سوال۔ ہمیں دماغ اسی لیے بخشا گیا تھا۔ کیا تمہارا یہی خیال نہیں۔“

· ”میں خود کو بولنے سے روک نہ پایا۔ یہ گہرے سوالات ہیں بیٹے۔ اگر مجھے ان کے جواب معلوم ہوتے تو میں اس دنیا میں ہمارے مقصد کا اسرار حل کر چکا ہوتا۔“

سلطان ولد:
مثلِ ہابیل لوگ۔ صاف دل، مثبت، جھوٹ نہ بول سکنے والے، اردگرد لوگوں کا درد رکھنے والے لوگ۔

· ”مجھے ایسا شُبہ سا ہی ہوا، لیکن اس شک پر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ پھر بھی میں اُس پر غصہ نہ کر سکا اور اگر کرتا بھی تو میری خفگی زیادہ دیر نہ رہتی“

· ”میں یہ ردِ عمل دیکھ کر اس قدر جذباتی ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آخر کار میرے والد اور شمس تبریز کو وہ مقام ملنے کا آغاز ہو گیا تھا جس کو وہ یقیناً حقدار تھے۔“

· ”وہ میرے قریب بیٹھ کر مجھے کھاتے ہوئے دیکھنے لگی، اُس کی مسکراہٹ کے گرد ایک روحانی ہالہ سا تھا۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ کیرا اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔“

علا الدین :

مثلِ قابیل لوگ۔ جن کے شر پر پیامبر زادہ ہونا بھی اثر نہیں کرتا۔ حسد کو معمولی سمجھتے ہیں اور بالآخر اسی کی آگ میں راکھ ہو جاتے ہیں۔

· ”کیا تمہیں فکر نہیں ہوتی کہ ہمارے بابا ایک اجنبی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں؟ اب ایک مہینے سے زیادہ وقت ہو چکا ہے۔ بابا نے اپنے خاندان کو ایک طرح نظرانداز کر دیا ہے۔“

· ”میری کوئی ماں نہ تھی۔ نہ کوئی باپ۔ نہ کوئی بھائی۔ اور کوئی کِیمیا نہیں۔ میں اس دنیا میں بالکل تنہا تھا۔ میرے دل میں اپنے والد کا جو احترام بچا تھا، رات بھر میں وہ بھی ختم ہو گیا۔“

· ”بڑا بیٹا تو آپ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے مگر چھوٹے والا (علا الدین ) ، مجھے اندیشہ ہے کہ بالکل ہی مختلف ڈگر پر ہے۔ اُس کا دل خفگی اور حسد سے سیاہ ہے۔“

کِیمیا:

وہ لڑکیاں جو لاکھ ذہین ہو کر بھی محبت کے نام پر سادہ لوح غلطیاں کر بیٹھتی ہیں اور پھر خمیازہ بھگتتی ہیں۔

· ”مجھے علم نہ تھا کہ میں ایسی سب سے عام اور انتہائی تکلیف رساں غلطی کرنے جا رہی تھی جو ہر زمانے میں عورتیں کرتی آئی ہیں : اپنی سادہ لوحی میں یہ خیال کر لینا کہ اپنی محبت سے ان مردوں کو تبدیل کر سکتی ہیں جن سے وہ محبت کرتی ہیں۔“

کِیرا:

بہترین اوصاف کے باوجود روایتی خواتین کی ترجمان جو شوہر کی لاپرواہی کا شکوہ کرتی ہیں، جلن کا شکار ہوتی ہیں۔ معمول کے حالات میں پرسکون، جبکہ حالات کے بگڑتے ہی اپنے زخم کُریدنے والے لوگ۔

· ”لیکن جب شمس تبریز ہمارے گھر آئے اور وہ اور میرے شوہر چالیس روز تک کتب خانے میں گوشہ نشین ہو گئے، مجھے اپنے اندر ایک پرانی خفگی اُبلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ایک زخم جس سے میں کبھی واقف بھی نہ رہی تھی کہ مجھ میں تھا، اُس سے لہو رسنے لگا۔“

Facebook Comments HS