دنیا امن کی تلاش میں


دہشت گردی کے خلاف بیس سالہ طویل جنگوں کے نتیجہ میں لاکھوں معصوم جانوں کے ضیاع، چار ریاستوں جن میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کی مکمل تباہی، پوری دنیا میں کمر توڑ مہنگائی اور کھربوں ڈالرز کے مالی نقصان جس میں جنگی اخراجات اور انفراسٹرکچر کی تباہی شامل ہے۔ دہشت گردی کا تدارک کس قدر ہوا یہ ابھی تک ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 2021 ء میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد امید ہو چلی تھی کہ اب دنیا امن کی طرف رخ کرے گی مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آفٹر شاکس ابھی باقی تھے کہ فروری 2022 ء میں روس نے یوکرائن جو کہ روس کے مقابلے میں بہت چھوٹا ملک ہے پر فوجی یلغار شروع کر دی اور بہانہ یہ بنایا گیا کہ یوکرائن نیٹو کا ممبر ملک بننے کا سوچ رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں لاکھوں جانوں کا نقصان، شہروں اور انفراسٹرکچر کی تباہی، گھروں اور ملک سے بڑے پیمانے پر عوامی انخلاء مہلک ہتھیاروں کا استعمال اور آئے دن ایٹم بموں کے استعمال کی دھمکیاں، شمالی کوریا کا جنگ میں کود پڑنا، مشرق وسطیٰ کی جنگیں بھی اسی جنگ کا شاخسانہ ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد صرف فلسطینی شہری اور بچے شہید ہو چکے ہیں۔ ایران کسی بھی وقت جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس تین سالہ بڑھتی ہوئی جنگ کو رکوانے کے لیے یورپ، عالمی اداروں، ترکیہ اور چین وغیرہ کی کوششیں قطعی طور پر ناکام نظر آتی ہیں۔

جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان جنگوں کو بند کروانے کا بارہا اعادہ کیا تو عالمی امن کی ایک امید بندھ گئی لیکن صدارتی انتخاب جیتے کے بعد جناب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ابھی کنٹرول بھی حاصل نہیں کیا اور انہوں نے جاری جنگوں کو کیا بند کروانا تھا الٹا انہوں نے اپنے ہمسایہ ملکوں کینیڈا، گرین لینڈ اور پانامہ کو دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے روسی صدر جناب پیوٹن نے ایک نئی روایت کو کامیابی سے رواج دے دیا ہے کہ ”ہر بڑا ملک اپنے کمزور ہمسایہ ممالک کو ناصرف ڈرا دھمکا سکتا ہے بلکہ فوج کشی کر کے اس پر قبضہ بھی کر سکتا ہے“ ۔ اس خطرناک روایت نے ابھی تک روس سے اسرائیل اور امریکہ تک کا سفر تو کر لیا ہے اگر یہ روایت مزید زور پکڑتی ہے تو دنیا میں کوئی چھوٹا ملک اپنے بڑے یا طاقتور ہمسایہ سے محفوظ نہیں رہے گا۔ جناب ٹرمپ اور ایلون مسک کی حالیہ چھیڑخانیوں سے امن کی آخری امیدیں بھی دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتیں ہیں۔

یاد رہے کہ جنگوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان گہرا ارتباط موجود ہے۔ جنگیں لڑنے والے ملک سب سے پہلے خوراک اور ایندھن کو مہنگا کر کے جنگی فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔ یوں جنگ کی قیمت پوری دنیا کے عوام کو چکانی پڑتی ہے۔ اگر ان جاری جنگوں کو جلد از جلد بند نہ کرایا گیا تو جنگ سے بچ جانے والے عوام مہنگائی کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے اس کے بعد انسانی، شہری، جمہوری، تحریر و تقریر، اظہار رائے کے حقوق کو بھی تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے۔

عالمی امن کے حصول کے لیے ممالک اور عالمی اداروں (اقوام متحدہ وغیرہ) کی کوششوں کی ناکامی کے بعد قدرتی طور پر انسان کی نظر عالمی امن کی تحریکوں، فروغ امن کی تنظیموں اور ایسی با اثر شخصیات کی طرف اٹھتی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر امن کا ڈول ڈالتے ہیں مثال کے طور پر پاکستان میں فیض احمد فیض، عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر مبشر حسن جن کی علاقائی امن (انڈیا اور پاکستان کے مابین) کے لیے بہت خدمات ہیں۔

انٹرنیٹ پر عالمی امن دوست لیڈران و کارکنان کی ایک لمبی چوڑی لسٹ موجود ہے مگر اس کی اکثریت یا تو وفات پا چکی ہے یا بزرگ شہری ہو چکی ہے۔ حالیہ وقت میں کوئی قدآور امن کا وکیل یا لیڈر نظر نہیں آ رہا۔

دنیا میں دو بڑے عالمی امن ایوارڈ ہوئے ہیں ایک نوبل امن پرائز جو ابھی تک جاری ہے اور دوسرا لینن امن پرائز جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ سوویت انہدام کے بعد اس کا سلسلہ ختم ہو گیا آخری لینن امن پرائز 1990 ء میں دیا گیا۔ ان دونوں عالمی ایوارڈز حاصل کرنے والوں کی لسٹ کو ایک نظر دیکھ لیا جائے تو خاصی دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکثریت کا امن یا عالمی امن سے کچھ لینا دینا ہی نہ تھا۔ مثال کے طور پر 1988 ء کا لینن امن پرائز عبدالستار ایدھی صاحب کو دیا گیا جو کہ بھلے آدمی تھے مگر گلی محلے کی لڑائیوں میں بھی شاید امن نہیں کروا سکتے تھے۔ اسی طرح نوبل امن ایوارڈ یافتہ کی لسٹ میں صدر اوباما اور بنگلہ دیش کے محمد یونس صاحب جیسے بھی بیشمار لوگ شامل ہیں۔ سائنس اور ادب کے نوبل پرائز کے لیے سخت معیارات مقرر ہیں مگر امن کے ایوارڈ کے لیے کوئی معیار نہیں ہے محض خانہ پری یا نوازنا ہی مقصد ہے۔ ”اس طرح کے رجحانات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سنجیدہ یا باشعور دنیا کے نزدیک بھی عالمی امن کوئی ترجیہی اہمیت نہیں رکھتا“ ۔

اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد جنگوں کی روک تھام ہے مگر ہمارے علم میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہے جو اقوام متحدہ نے رکوائی ہو خانہ جنگی البتہ دوسری یا چھوٹی باتیں ہیں۔ حالیہ جاری جنگوں کی روک تھام کے لیے بھی اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل کا کردار یا توجہ نظر نہیں آتی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے طاقتور طبقات کا کاروبار جنگوں کا مرہون منت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ کرہ ارض کے تقریباً 98 فیصد عوام کے معمولات زندگی امن ہی کی بدولت ہیں۔ جہاں جنگیں لڑنے والے بغیر کسی قانونی و اخلاقی جواز کے ببانگ دہل جنگیں لڑ رہے ہیں وہاں عوام، سول سوسائٹی، اہل فکر، میڈیا کا بھی فرض بنتا ہے کہ رنگ و نسل، مذہب و وطنیت سے بالاتر ہو کر دستیاب پلیٹ فارمز سے امن کے لیے آواز بلند کریں۔

Facebook Comments HS