حکومت اپوزیشن مذاکرات
تحریک انصاف کی فائنل کال جو چھبیس نومبر کو ایک پرتشدد واقعہ پر ختم ہوئی اس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی آخری حدوں کو چھونے لگی۔ سیاسی بحران اپنی آخری انتہا تک پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں جہاں تحریک انصاف کو حکومتی ایکشن کے بعد ڈی چوک سے پسپا ہونا پڑا وہیں کئی افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد حکومت بھی پریشر میں آ گئی۔ تحریک انصاف اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہوئی تو حکومت کو بھی مس ہینڈلنگ اور بے مہار طاقت کے استعمال کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک انتہائی تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ اگرچہ ملکی مین سٹریم میڈیا کو مینج کر لیا گیا مگر سوشل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا نے اس واقعہ کو بھرپور انداز میں کوریج دی اور تشدد کی متعدد ویڈیوز منظر عام پر آ گئیں۔
اس واقعہ کے بعد تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں انتشار کی کیفیت نظر آئی۔ علی امین گنڈاپور کا دوسری بار عین ڈی چوک کے قریب سے غائب ہو جانا کارکنوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا تھا۔ اگرچہ کے پی سے روانہ ہوئے ہزاروں کارکنوں کو اس دفعہ یقین دلایا گیا تھا کہ اس دفعہ تمام مطالبات تسلیم کروانے کے بعد واپس آنا ہے اور بانی تحریک انصاف کی بیگم بشریٰ بی بی نے مارچ کے دوران جو جذباتی تقریریں کی تھیں اس نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں ایک جوش و ولولہ پیدا کیا ہوا تھا مگر جیسے ہی ڈی چوک پر حالات بے قابو ہوئے، مبینہ طور پر گولیاں چلیں تو بشریٰ بیگم اور علی امین گنڈاپور کارکنوں کو چھوڑ کر چھلاووں کی طرح غائب ہو گئے۔ ہزاروں کارکنوں کو لیڈ کرنے والا کوئی نہیں تھا اور جس کا جس طرف منہ اٹھا اس طرف نکل کھڑا ہوا۔ بعد میں جب تحریک انصاف کی نہ تو جوڈیشل فورم پر کوئی بات سنی گئی اور نہ ہی ملک کے دوسرے حصوں سے عوام باہر نکلے تو ان حالات میں آخرکار تحریک انصاف کی قیادت کو جس حکومت کو فارم سینتالیس کی حکومت کہہ کر ریجیکٹ کرتے آئے تھے اب بادل نخواستہ ان کے ساتھ گفت و شنید کے لئے سپیکر سے درخواست کرنی پڑی۔ حکومت بھی جو خود اس خونی تصادم کی وجہ سے پریشر میں تھی۔ اس پریشر سے نکلنے کے لئے فوری طور پر مذاکرات پر آمادہ ہو گئی۔
مگر دیکھنا ہو گا دونوں اطراف میں ان مذاکرات کے لئے کس قدر سنجیدگی اور خلوص پایا جاتا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات پر ابھی سے سوالات کھڑے ہونے لگے ہیں۔ مذاکرات کے لئے کی گئی ابھی تک دو بیٹھکوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ پی ٹی آئی جو پہلے عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات اور چھبیسویں ترمیم کی واپسی کے مطالبات کرتی آئی تھی اب پیچھے ہٹ کر نو مئی اور چھبیس نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے تک محدود ہو گئی ہے۔ حکومت نے شروع میں اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کو عمران خان تک رسائی کی ضمانت دی مگر بعد میں کمیٹی کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ حکومت نے تحریک انصاف کو اپنے مطالبات کو تحریری طور پر پیش کرنے کو کہا تو اپوزیشن نے بغیر کسی مانیٹرنگ کے بانی تحریک انصاف سے ملاقات پر اصرار کر دیا۔ اب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ڈیڈ لاک ختم ہوا ہے اور پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کو تحریری طور پر پیش کرنے اور حکومت سے ایک اور بیٹھک کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے اکتیس جنوری کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
مگر ان مذاکرات کی کامیابی محال نظر آتی ہے کچھ حلقوں نے یہ انکشاف کیا کہ اصل مذاکرات بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ سے کر رہی ہیں اور علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو بنی گالہ میں نظر بند کیے جانے کی پیشکش وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ذریعے کرائی گئی۔ جبکہ خواجہ آصف نے اس قسم کی کسی پیشکش کی خبر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کیسز کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہو گا۔ اب حکومت اور تحریک انصاف کے اصل مقاصد کیا ہیں بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں فریق وقت گزاری چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی فائنل کال کے بعد اتنی جلدی کوئی بڑا شو نہیں کر سکتی تھی اس کے لئے اس کو وقت درکار ہے۔
بیس جنوری سے امریکہ میں انتظامیہ تبدیل ہو رہی ہے اور ٹرمپ کے آنے کے بعد پی ٹی آئی کو امید نظر آتی ہے کہ حکومت پر پریشر بڑھے گا۔ اس لئے مذاکرات کی ناکامی کے بعد اس وقت احتجاج کی کال دی جائے گی جب واشنگٹن میں ایک ہمدرد انتظامیہ بیٹھی ہو گی۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کی حال میں کی گئی ٹویٹس سے حکومتی صفوں میں بے چینی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اگرچہ چھبیسویں ترمیم کے بعد حکومت نے عدلیہ کو تقریباً نیوٹرل کر دیا ہے۔ مگر تحریک انصاف کو امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستانی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ اگرچہ معیشت میں کافی بہتری کے آثار ہیں اور افراط زر میں خاطر خواہ کمی آئی ہے مگر ابھی بھی آئی ایم ایف کی امداد کی ضرورت باقی ہے اور اگر ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات پر کان نہ دھرے گئے تو امریکی حکومت اس بارے میں روڑے اٹکا سکتی ہے۔ حال ہی میں بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو اپنے لئے خطرہ قرار دیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اس مسئلہ کو اور پرزور طریقے سے اٹھا سکتی ہے۔ اور ٹرمپ کی انتظامیہ میں بہت سے اہلکار پرو انڈیا اور پرو اسرائیل ہیں ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بعض معاملات میں الجھایا جائے۔ ان حالات میں حکومت کی بھی خواہش ہے کہ اپوزیشن کو ہر ممکن حد تک انگیج رکھا جائے اور اس کو کسی بڑے احتجاج سے روکا جائے۔ جبکہ تحریک انصاف جس کے پاس اس وقت کھونے کو تو کچھ نہیں مگر لگتا ہے جوں جوں وقت گزرے گا اس کے مطالبات کی فہرست بڑھتی جائے گی جس میں فروری الیکشن میں مبینہ بے قاعدگیوں پر جوڈیشل کمیشن اور قبل از وقت نئے انتخابات کا مطالبہ ہے۔ تاہم اس وقت حکومت کے پاس تحریک انصاف کو احتجاج سے باز رکھنے کے لئے طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی کارگر تدبیر یا آفر نظر نہیں آتی اس لئے اگلے کچھ ہفتوں کے بعد پھر سے ایک نئے ڈیڈ لاک اور نئے سیاسی تصادم کا خدشہ ہے۔


