میاں صاحب سے تازہ ملاقات کا احوال


میاں صاحب کا فون آیا پوچھا کہاں ہو؟ میں بولا گھر پہ، کہنے لگے ڈائیوو اڈے پہنچو 10 بجے دن کی ٹکٹ لے کے بندہ انتظار کر رہا ہو گا شام کو گپ شپ لگاتے ہیں رات 11 بجے کی ڈائیوو سے واپس چلے جانا، آج فارغ ہوں تم سے بھی کافی ٹائم ہوا ملاقات نہیں ہوئی، اسی شام ساڑھے چھ بجے ہم رائیونڈ میں باہر برآمدے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے قریب ہی ہیٹر جل رہا تھا میں نے مریم بی بی کا پوچھا کہنے لگے اس نے بیورو کریسی کو نتھ پائی ہوئی ہے دن کو دورے کرتی شام کے بعد بریفنگز چلتی ہیں میں نے پوچھا کس وقت تک آجاتی ہیں کہنے لگے ہو سکتا تمہارے جانے سے پہلے آ جائے میں بولا میاں صاحب میں ان کے پہنچنے سے پہلے نکلنا چاہتا ہوں زور سے قہقہہ لگایا کہنے لگے سمجھ گیا تم آج کل اس کی سوشل میڈیا ٹیم پر بہت تنقید کرتے ہو اب سامنا کرنے سے ڈر رہے ہو؟ میں کھسیانی ہنسی ہنس کے بولا جی جی میاں صاحب، اتنے میں راشد نصراللہ آ گیا سلام کیا میاں صاحب نے بیٹھنے کا اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا راشد کو جانتے ہو؟ میں بولا جی جی اچھی طرح لندن میں آپ کے شانہ بشانہ ہوتے تھے پھر میاں صاحب نے راشد نصراللہ سے کہا بھئی یہ میرے 1994 کے دور کے پرانے ساتھی اور دوست ہیں دوست پہ راشد تھوڑا چونکے میاں صاحب بولے بھئی یہ واحد بندہ ہے جو مجھے سسلین مافیا کہتا ہے اور مجھے برا نہیں لگتا راشد نے اوہ آئی سی کہہ کے سر ہلایا، میاں صاحب نے بتایا جب میری پہلی گورنمنٹ پہ 58۔ 2 b کا کلہاڑا چلایا گیا تو میں نے پنڈی تا لاہور عوام ایکسپریس سے واپسی کی تھی یہ اس وقت بھکر میں پڑھتے تھے لیکن میرے استقبال کے لئے لاہور پہنچ کے ریلوے اسٹیشن پہ جم غفیر کے ساتھ پلیٹ فارم پہ صدر اسحاق کے خلاف اور میرے حق میں نعرے لگا رہے تھے، راشد نے کہا میاں صاحب واقعی آپ کے پرانے ووٹر سپورٹر بڑے پکے ہیں،

میاں صاحب نے راشد کو اپنا فون دے کر کہا اسے دیکھو اس کی میسیج ٹون بدل دو، پھر میاں صاحب نے مجھ سے بھکر کے متعلق پوچھا کہ وہی پرانا حال ہے یا کچھ بہتری ہوئی میں بولا پرانا ہی سمجھیں بس ڈھانڈلوں کے دور میں کچھ کام ہوتے ہیں باقی وہی حال ہے، پھر بھکر کے سیاستدانوں کے متعلق پوچھا میں نے نوانیوں کی شکایتیں لگانا شروع کر دی، میاں صاحب نے سنی ان سنی کرتے ہوئے نوکر کو بلا کے کہا 8 بجے کھانا لگا دے انہوں نے 11 والی ڈائیوو سے واپس جانا ہے۔

مجھے شرارت سوجھی بولا میاں صاحب جس دکان سے سودا منگواتے ہیں وہ بدل دیں حیران ہوکے پوچھا وہ کیوں؟ میں بولا اپ کا نمک کھا کے بہت سے لوگ نمک حرامی کر جاتے ہیں پہلے زور سے ہنسے پھر افسردہ ہو گئے کہنے لگے یار کبھی کبھی دل کٹ کے رہ جاتا ہے بہت ساروں کو میں نے چھوٹا بھائی سمجھا سر آنکھوں پہ بٹھایا اعلیٰ ترین عہدوں پہ بٹھایا مگر بے وفائی کر گئے اب میرا دروازہ ان کے لئے ہمیشہ بند ہی رہے گا، میں بولا یہ زندگی کے سبق ہیں ہر دور میں ایسے کردار ہوتے ہیں پھر موقع دیکھ کے کہا میاں صاحب ایک بات مانیں گے؟ کہنے لگے کیا؟ میں بولا دو بندوں کو واپسی کا راستہ دے دیں کہنے لگے کس کو؟ میں بولا ایک تو چوہدری صاحب کو، تھوڑی دیر خلاء میں گھورتے رہے پھر پوچھا دوسرا کون ہے میں نے جھجکتے ہوئے کہا دوسرا نہیں، دوسری۔ دراصل وہ۔ اتنے میں راشد کے ہاتھ میں میاں صاحب کا فون بجا میری بات ادھوری رہ گئی راشد نے حیرت سے میاں صاحب کو دیکھ کے کہا اس نے کیسے فون کر لیا؟ کاٹ دوں؟ میاں صاحب نے پوچھا کون ہے؟ راشد نے کہا خان ہے، گھنٹی پھر بجی میاں صاحب بولے لاؤ میں بات کرتا ہوں راشد نے فون دے دیا میاں صاحب نے وعلیکم سلام کہہ کے بات شروع کی میں سر پکڑ کے دھیرے سے بولا۔ ”لگے گئے“ ۔ راشد نے سوالیہ نظروں سے دیکھا میں نے کہا میں کہہ رہا تھا یہ بھی جدے گیا، ادھر میاں صاحب ہوں ہاں کرتے اور گلے شکوے کرتے رہے تم نے تو میرا اے سی اتارنے کی بات بھی کی تھی میری مرحومہ بیوی کی تعزیت تک پہ نہیں آئے پھر تین چار منٹ کچھ سنتے رہے آخر میں ٹھنڈی سانس لے کے کہا پریشان نہ ہوں آپ میرے بھائی ہو 2013 میں بھی میں نے جلسے میں آپ کے لئے دعا کرائی تھی الیکشن مہم ملتوی کی تھی آپ کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچا تھا چلیں میں کچھ کرتا ہوں۔ فون بند کر کے ڈرائیور کو بلایا اور کہا گڈی دا تیل پانی چیک کر ٹائراں اچ ہوا برابر کر سویرے اسلام آباد لانگ مارچ تے نکلنا ہے خان دی رہائی واسطے، پھر راشد سے کہا تم ٹویٹر پہ میسیج ڈال دو۔

میں گم سم بیٹھا تھا ان کے نوکر نے میرا کندھا ہلایا خان صاحب کھانا لگ گیا ہے اٹھیں میں بیٹھا رہا اس نے پھر میرا کندھا ہلایا پھر اس کی آواز بدل گئی اور الفاظ بھی بدل گئے زور سے کندھا ہلا کے کہا کب سے اٹھا رہی ہو، آج نماز بھی قضاء کر بیٹھے اب اپنی دوائی کھاؤ اور جلدی جلدی ناشتہ بناؤ بچوں کو سکول یونیورسٹی سے دیر نہ ہو جائے اور جب ناشتہ بن جائے مجھے اٹھا دینا میرے سر میں درد ہے میں سونے لگی ہوں۔

Facebook Comments HS