حسن اللّٰہ یاری اور اویس اقبال کے مابین ایک لاحاصل سی بحث
مذہب اور سائنس کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کیا جا سکتا، سائنس ”مادہ“ قابل رسائی یا مشاہدہ ایسی اشیاء پر بات یا تحقیق کرتی ہے اور ماحصل کو عقلی و تجرباتی بنیادوں پر جانچ اور پرکھ کے بعد اصول وضع کرتی ہے۔ سائنس اپنی حاصلات کے آگے کبھی بھی فل اسٹاپ نہیں لگاتی، کل کلاں کو کوئی بھی اپنی تحقیقات کی روشنی میں سابقہ سائنسی نتائج پر سوال اٹھا سکتا ہے اور سائنٹفک پروٹوکول میں اس قسم کے اقدام کو احسن اور قابلِ ذکر سمجھا جاتا ہے اور دل و جان سے قبول بھی کیا جاتا ہے۔ حتمیت و قطعیت ایسی اصطلاحات کا سائنسی راہداریوں میں داخلہ ممنوع ہوتا ہے، صرف اور صرف سوال، اختلاف یا مختلف سوچ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف مذہب ہے جو ایمان بالغیب اور طے شدہ عقائد کا سر چشمہ کہلاتا ہے، اس کے بندوبست میں تشکیک، وہم و گمان یا سوال کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ تشویش و تشکیک یا وہم و سوال اور شبہ ایسی قباحتوں کو گمراہی یا پٹڑی سے اترنے کی بنیادی علامات سمجھا جاتا ہے اور ایمان و یقین کو متزلزل کرنے میں ان تشکیکی مراحل کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔
انہی بنیادوں پر سائنس اور مذہب کو زبردستی ایک دوسرے کی ڈومین میں داخل نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسا کرنے کا بیڑا اٹھایا بھی جائے تو سائنس کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن مذہب پر کچھ ایسے سوالات کھڑے ہو جائیں گے جن کا جواب دینے سے مذہبی فکر قاصر رہے گی اور سب سے بڑھ کر مذہب کی تقدیس متاثر ہو گی۔
اس لیے مذاہب کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ انہیں ان کی حدود میں رہنے دیا جائے اور اہل ایمان اپنے اپنے عقیدہ و ایمان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پریکٹس کرتے رہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا تعلق انسان کے اندرون سے ہوتا ہے اور یہ زیادہ تر انسانوں کے تزکیہ نفس پر زور دیتا ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اسے نمائشی یا تفاخرانہ انداز میں اپنا رکھا ہے جس کی بنیاد پر دوسروں کے ایمانوں کے فیصلے کرتے رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک لاحاصل سی بحث سننے کا اتفاق ہوا، سننے کے بعد ایک لمحے کے لیے یوں لگا کہ یار وقت کا ضیاع ہوا اس کی بجائے برٹینڈرسل کی کوئی کتاب ہی پڑھ لیتے۔
معروف میڈیا پرسن اویس اقبال جو کبھی جاوید احمد غامدی کے دینی پروگرام میں بطور اینکر اپنی خدمات سر انجام دیا کرتے تھے، اب نہ غامدی جی رہے اور نا ہی اویس دونوں امریکہ کو پیارے ہو گئے۔
غامدی صاحب بڑے شد و مد کے ساتھ علم الکلام کی نوک پلک سنوارنے اور اپنے تئیں مذہب کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بعد عمر کے آخری حصے میں خانقاہی بزرگ بن چکے ہیں، روایتی بزرگوں کی طرح مختلف ممالک میں قائم کردہ غامدی سنٹرز کی یاترا فرمایا کریں گے۔
جبکہ اویس اقبال الحادی راہوں کے مسافر بن گئے، خود کو ملحد کہتے ہیں اور اگناسٹک پوزیشن میں خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں اور آج کل لاحاصل سی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں، اس قسم کی ابحاث سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا سوائے الجھاؤ یا شور شرابے کے اور اس بحث میں بھی یہی کچھ ہوا۔
خدا کے وجود پر حسن اللّٰہ یاری اور اویس اقبال کے مابین شور شرابا ہوا، حسب سابق اویس نے اپنا سائنسی منتر چھیڑا اور اللّٰہ یاری کو مذہبی گراؤنڈ پر چت کرنے کی کوشش کی لیکن نتیجہ ندارد۔
حسن اللّٰہ یاری شیعہ عالم ہیں، خاصے پڑھے لکھے اور زیرک انسان ہیں، ظاہر ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنے اپنے سامعین کو منجن بیچنے والا کوئی بھی شخص سوشل میڈیائی ٹرینڈز سے بے خبر تو نہیں ہوتا، اسی لیے اللّٰہ یاری نے سائنسی منترہ یا بگ بینگ میں الجھنے کی بجائے اویس کو روایتی تسلسل میں گھسیٹنے کی کوشش کی اور مانولاگ ٹائپ گفتگو کرتے ہوئے اصل مدعا پر آنے سے حتی الامکان احتراز برتتے رہے۔
ٹائم اینڈ اسپیس، زمان و مکاں، مادہ کی ہیئت و حیثیت، ارتقاء یا بگ بینگ ایسے حقائق کا مذہب سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، ان اصطلاحات کو زبردستی مذہب کے ساتھ چپکانے سے مذہبی اعتقادات کو ریشنلائز تو نہیں کیا جا سکتا البتہ تاویل ضرور کی جا سکتی ہے اور تاویلات کے میدان میں اہل جبہ و دستار کا کوئی ثانی نہیں، بھلا جذباتیت، تاویل یا خطابت کا عقل و خرد سے کیا سمبنھد؟
اللہ یاری بھی روایتی تاویلات کا سہارا لیتے ہوئے خالق کائنات کا ثبوت فراہم کرتے رہے، خدا کی موجودگی یا ناموجودگی ایسی مباحث نجانے کب سے ہو رہی ہیں، ہماری نظر میں تو یہ ایک ایسی پہیلی ہے جو شاید کبھی بھی حل نہ ہو سکے۔
سائنس اور سائنسدان تو واضح طور پر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ فی الوقت حتمی طور پر ”فرسٹ کاز“ کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتے۔ لیکن مذہب بڑے وثوق سے اس کی موجودگی کا دعویٰ تو ضرور کرتا ہے لیکن کوئی ٹھوس یا منطقی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہے، ظاہر ہے مذہبی علماء کرام بڑے وثوق سے دعویٰ تو کرتے ہیں اور ”برڈن آف پروف“ انہی کے ناتواں کاندھوں پر ہے۔
اب یہ اس سوال کے جواب میں تاویلات کا انبار لگا دیتے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے موقف پر سائنسی اور فلسفیانہ اصطلاحات کی موٹی موٹی تہیں چڑھا دیتے ہیں کہ کسی حد تک بچت و مباحثہ بھی ہو جائے اور جدید ذہن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
ہمارا مسئلہ خدا کی موجودگی یا ناموجودگی سے قطعاً نہیں ہے، ہمارا مسئلہ تو ان سے ہے جن کا خدا کی موجودگی پر تو مکمل ایمان ہے لیکن عملی زندگیوں میں اس کی موجودگی کے احساس و ادراک کے باوجود انسانوں پر ظلم کرتے ہیں، ناپ تول میں کمی، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، بچہ بازی اور جعلی میڈیسن کا بلاخوف دھندا کرتے ہیں اور مذہبی لوازمات و عبادات میں بھی مستغرق رہتے ہیں۔
آخر اتنا بڑا تضاد کیوں پایا جاتا ہے کہ جو معاشرے خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ صاف شفاف اور دو نمبریوں سے پاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک خدا پر یقین رکھنے والے پسماندگی اور بے ایمانیوں میں لتھڑے ہوئے ہیں؟


