ذہنی صحت


siraj bhaagat

موجودہ حالات کے پیش نظر دماغی بیماری ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی دماغی بیماریاں جس میں اینگزائٹی، ڈپریشن، شیزوفرینیا، دھیان کی کمی، اوور تھنکنگ، نشہ آور اشیا کا استعمال، جذبات، غذائی بے اعتدالی، خود اذیتی، سستی اور بائی پولر ڈس آرڈر و منفی سوچ کے عارضے عام ہیں۔ تحقیق کے مطابق نوجوان افراد مختلف ماحولیاتی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس میں تعلیمی دباؤ، خاندانی تنازعات، گھریلو مسائل، کیریئر کے مسائل، ہم عمر دباؤ، سماجی توقعات اور ماحولیاتی آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تناؤ ذہنی صحت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں اور کسی بڑی ذہنی بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی ذہنی و دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈپریشن اور شیزوفرینیا ہیں۔ ماہرین کے مطابق دماغی صحت سے متعلق تقریباً نصف مسائل 15 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں بھی 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے 3 کروڑ کے قریب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہم میں سے ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔

ذہنی عارضے کی ایک بنیادی وجہ صدمے کا سامنا کرنا ہے، جیسے کہ بدسلوکی، نظر انداز کرنا، نفرت کا اظہار کرنا یا تشدد کا مشاہدہ وغیرہ ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تکلیف دہ تجربات جس میں اچانک صدمے کے اثرات ( پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے واقعات بھی نوجوانوں کے ذہن کو متاثر کرتے ہیں، جن میں اخلاقیات کا خیال رکھے بغیر ہی پرتشدد یا دلخراش واقعات کو ویسے ہی شیئر کر دیا جاتا ہے جس سے بچوں سمیت نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرا ہمارے سماج میں گفتگو کا معیار متاثر ہوا ہے۔ خاص طور پر سننے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے دل کی بات کہنے کے رجحانات ختم ہوچکے ہیں کوئی کتنی بھی ذہنی اذیت میں کیوں نہ ہو کسی سے شیئر کرنے کے لیے کہیں محفوظ اسپیس کا متلاشی ہوتا ہے جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی صحت کو ترجیع دی جا رہی ہے اور ہر چیز میں ذہنی صحت کے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے اس کے برعکس ہمارے ہاں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے بھی کئی دقیانوسی تصورات جڑے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ اس سرمایہ دارانہ نظام نے زندگی گزارنے کے طور طریقے ہی بدل دیے ہیں جس میں ہر انسان زندگی کی ریس میں بھاگ رہا ہے بغیر کسی آرام کے، بنیادی ضروریات کی چیزوں کو انسانی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے جن کے حصول کے لیے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے افراد کو جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سماجی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے سوشل میڈیا یا دوسرے ڈیجیٹل ذرائع سے منسلک ہونے کے باوجود آج کا انسان اپنی ذات میں تنہا ہے، تنہائی کے احساسات کسی بھی ذہنی بیماری کا باعث بن سکتے ہیں سماجی تنہائی دماغی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے اور ڈپریشن یا اضطراب میں مبتلا کر سکتی ہے۔

ذہنی بیماری کو ہمارے سماج میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، نہ ہی اس پر کھل کر بات کی جاتی ہے اس سے ذہنی بیماری میں مبتلا افراد خاص طور پہ نوجوانوں کو مدد طلب کرنے یا اپنی کیفیات کو ظاہر کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ اکیلے ہی اس ٹراما سے گزر رہے ہوتے ہیں، جس سے دماغی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس طرح جسمانی بیماریوں کے حامل افراد کو علاج یا کیئر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس چیز کو بالکل نارمل سمجھا جاتا ہے اسی طرح ذہنی صحت کو لے کر بھی اس سے جڑے سارے پرانے تصورات کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہنی صحت کی آگہی کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں، والدین، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی، میڈیا اور کمیونٹیز کو ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم دینے سے کئی مسائل کا حل مل سکتا ہے۔

حکومت اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیموں کو نوجوانوں کی ضروریات کے مطابق قابل رسائی اور سستی ذہنی صحت کی خدمات کی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے جس میں دماغی صحت کے پروگراموں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ، آنلائن ہیلتھ سروسز کو بڑھانا، نصاب میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا شامل ہے۔ نوجوانوں کو صحت مند مقابلہ کرنے کے طریقہ کار کو اپنانے کی ترغیب دینا، جیسے ورزش، ذہن سازی، تخلیقی اظہار اور سماجی معاونت کے وسیلے اچھی ذہنی صحت کو فروغ دے سکتے ہیں اور ذہنی تندرستی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان بنیادی وجوہات کو حل کرنے والی پالیسیوں پر عمل درآمد صحتمند ماحول پیدا کر سکتا ہے اور دماغی بیماریوں سے وابستہ خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے خاندان کا تعاون بھی اہم ہے، جس میں آپس میں مل بیٹھنا، ان کے مثبت کام کی تعریف کرنا ان کی پسند کا خیال رکھنا شامل ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ خاص طور پر خاندان اور دوستوں میں صحت بخش بحث مباحثے او ر تخلیقی موضوعات موثر اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اچھی ذہنی صحت کے لیے صحت بخش طرز زندگی اہم ہے، جس میں سونے جاگنے کے اوقات، چہل قدمی، جسمانی مشقیں، فطری مناظر کی قربت اور مثبت انداز فکر لوگوں کی قربت اہمیت کی حامل ہے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے مثبت مشاورت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

دماغی بیماری میں کردار ادا کرنے والے حیاتیاتی، ماحولیاتی اور سماجی عوامل سے نمٹنے سے معاشرہ بہتر ماحول کو فروغ دے سکتا ہے، افراد کو با اختیار بنا سکتا ہے اور ذہنی صحت کی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے ہمدردی اور مدد کا ماحول ترتیب دے سکتا ہے۔

Facebook Comments HS