منٹو کا فحش افسانہ؟ ٹھنڈا گوشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا ہے۔ مدیر۔

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔

کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔

سرپر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ جو کرپان تھامے ہوئے تھے۔ تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، گمڑی اس کے قدوقامت اور خدوخال سے پتہ چلتا تھا کہ کلونت کور جیسی عورت کے لیے موزوں ترین مرد ہے۔ چند اور لمحات جب اسی طرح خاموشی سے گزر گئے تو کلونت کور چھلک پڑی۔ لیکن تیز تیز آنکھوں کو بچا کر وہ صرف اس قدر کہہ سکی۔

”ایشرسیاں۔ “
ایشر سنگھ نے گردن اٹھا کر کلونت کور کی طرف دیکھا، مگر اس کی نگاہوں کی گولیوں کی تاب نہ لا کرمنہ دوسری طرف موڑ لیا۔ کلونت کور چلائی۔
”ایشر سیاں۔ “

لیکن فوراً ہی آواز بھینچ لی اور پلنگ پر سے اٹھ کر اس کی جانب جاتے ہوئے بولی۔
”کہاں رہے تم اتنے دن؟ “

ایشر سنگھ نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔
”مجھے معلوم نہیں۔ “

کلونت کور بھنا گئی۔
”یہ بھی کوئی ماں یا جواب ہے؟ “

ایشر سنگھ نے کرپان ایک طرف پھینک دی اور پلنگ پر لیٹ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کئی دنوں کا بیمار ہے۔ کلونت کور نے پلنگ کی طرف دیکھا۔ جواب ایشر سنگھ سے لبالب بھرا تھا۔ اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔
”جانی کیا ہوا ہے تمہیں؟ “

ایشر سنگھ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، اس سے نگاہیں ہٹا کر اس نے کلونت کور کے مانوس چہرے کوٹٹولنا شروع کیا۔
”کلونت! “

آواز میں درد تھا۔ کلونت کور ساری کی ساری سمٹ کراپنے بالائی ہونٹ میں آگئی۔
”ہاں جانی“

کہہ کر وہ اس کو دانتوں سے کاٹنے لگی۔ ایشر سنگھ نے پگڑی اتار دی۔ کلونت کور کی طرف سہارا لینے والی نگاہوں سے دیکھا، اس کے گوشت بھرے کولھے پر زور سے دھپا مارا اور سر کو جھٹکا دے کر اپنے آپ سے کہا۔
”یہ کڑی یا دماغ ہی خراب ہے۔ “

جھٹکا دینے سے اس کے کیس کھل گئے۔ کلونت کور انگلیوں سے ان میں کنگھی کرنے لگی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔
”ایشر سیاں، کہاں رہے تم اتنے دن؟ “
”بُرے کی ماں کے گھر۔ “

ایشر سنگھ نے کلونت کور کو گھور کے دیکھا اور دفعتاً دونوں ہاتھوں سے اس کے ابھرے ہوئے سینے کو مسلنے لگا۔
”قسم واہگورو کی بڑی جاندار عورت ہے۔ “

کلونت کور نے ایک ادا کے ساتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ ایک طرف جھٹک دیے اور پوچھا۔
”تمہیں میری قسم بتاؤ، کہاں رہے؟ شہرگئے تھے؟ “

ایشرسنگھ نے ایک ہی لپیٹ میں اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا۔
”نہیں۔ “

کلونت کور چڑ گئی۔
”نہیں تم ضرور شہر گئے تھے۔ اور تم نے بہت سا روپیہ لوٹا ہے جو مجھ سے چھپا رہے ہو۔ “

”وہ اپنے باپ کا تخم نہ ہو جو تم سے جھوٹ بولے۔ “
کلونت کور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی، لیکن فوراً ہی بھڑک اٹھی۔

”لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، اس رات تمہیں کیا ہوا؟ اچھے بھلے میرے ساتھ لیٹے تھے، مجھے تم نے وہ تمام گہنے پنا رکھے تھے جو تم شہر سے لوٹ کر لائے تھے۔ میری بھپیاں لے رہے تھے، پر جانے ایک دم تمہیں کیا ہوا، اٹھے اور کپڑے پہن کر باہر نکل گئے۔ “

ایشر سنگھ کا رنگ زرد ہو گیا۔ کلونت کور نے یہ تبدیلی دیکھتے ہی کہا۔
”دیکھا کیسے رنگ نیلا پڑ گیا۔ ایشر سیاں، قسم واہگورو کی، ضرور کچھ دال میں کالا ہے؟ “

”تیری جان کی قسم کچھ بھی نہیں۔ “
ایشر سنگھ کی آواز بے جان تھی۔ کلونت کور کا شبہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا، بالائی ہونٹ بھینچ کر اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”ایشر سیاں، کیا بات ہے۔ تم وہ نہیں ہو جو آج سے آٹھ روز پہلے تھے؟ “

ایشر سنگھ ایک دم اٹھ بیٹھا، جیسے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ کلونت کور کو اپنے تنو مند بازوؤں میں سمیٹ کر اس نے پوری قوت کے ساتھ اسے بھنبھوڑنا شروع کردیا۔
”جانی میں وہی ہوں۔ گھٹ گھٹ پا جپھیاں، تیری نکلے ہڈاں دی گرمی۔ “

کلونت کور نے مزاحمت نہ کی، لیکن وہ شکایت کرتی رہی۔
”تمہیں اس رات ہو کیا گیا تھا؟ “

”برے کی ماں کا وہ ہو گیا تھا۔ “
”بتاؤگے نہیں؟ “
”کوئی بات ہو تو بتاؤں۔ “
”مجھے اپنے ہاتھوں سے جلاؤ اگر جھوٹ بولو۔ “

ایشر سنگھ نے اپنے بازو اس کی گردن میں ڈال دیے اور ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گاڑ دیے۔ مونچھوں کے بال کلونت کور کے نتھنوں میں گھسے تو اسے چھینک آگئی۔ دونوں ہنسنے لگے۔ ایشر سنگھ نے اپنی صدری اتار دی اور کلونت کور کو شہوت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔
”آجاؤ، ایک بازی تاش کی ہو جائے! “

کلونت کور کے بالائی ہونٹ پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ آئیں، ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنی آنکھوں کی پتلیاں گھمائیں اور کہا۔
”چل دفان ہو۔ “

ایشر سنگھ نے اس کے بھرے ہوئے کولہے پر زور سے چٹکی بھری۔ کلونت کور تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی۔
”نہ کر ایشر سیاں، میرے درد ہوتا ہے۔ “

ایشر سنگھ نے آگے بڑھ کر کلونٹ کور کا بالائی ہونٹ اپنے دانتوں تلے دبا لیا اور کچکچانے لگا۔ کلونت کور بالکل پگھل گئی۔ ایشر سنگھ نے اپنا کرتہ اتار کے پھینک دیا اور کہا۔
”لو، پھرہو جائے تُرپ چال۔ “

کلونت کور کا بالائی ہونٹ کپکپانے لگا، ایشر سنگھ نے دونوں ہاتھوں سے کلونت کور کی قمیض کا گھیرا پکڑا اور جس طرح بکرے کی کھال اتارتے ہیں، اسی طرح اس کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا، پھراس نے گھور کے اس کے ننگے بدن کو دیکھا اور زور سے اس کے بازو پرچٹکی بھرتے ہوئے کہا۔
”کلونت، قسم واہگورو کی، بڑی کراری عورت ہے تو۔ “

کلونت کور اپنے بازو پر ابھرتے ہوئے لال دھبے کو دیکھنے لگی۔
”بڑا ظالم ہے تو ایشر سیاں۔ “

ایشر سنگھ اپنی گھنی کالی مونچھوں میں مسکرایا۔
”ہونے دے آج ظلم؟ “

اور یہ کہہ کر اس نے مزید ظلم ڈھانے شروع کیے۔ کلونت کور کا بالائی ہونٹ دانتوں تلے کچکچایا۔ کان کی لووں کو کاٹا، ابھرے ہوئے سینے کو بھنبھوڑا، ابھرے ہوئے کولہوں پر آواز پیدا کرنے والے چانٹے مارے۔ گالوں کے منہ بھر بھر کے بوسے لیے۔ چوس چوس کر اس کا سارا سینہ تھوکوں سے لتھیڑ دیا۔ کلونت کور تیز آنچ پر چڑھی ہوئی ہانڈی کی طرح ابلنے لگی۔ لیکن ایشر سنگھ ان تمام حیلوں کے باوجود خود میں حرارت پیدا نہ کرسکا۔ جتنے گر اور جتنے داؤ اسے یاد تھے۔ سب کے سب اس نے پٹ جانے والے پہلوان کی طرح استعمال کردیے۔ پرکوئی کارگر نہ ہوا۔ کلونت کور نے جس کے بدن کے سارے تار تن کر خود بخود بج رہے تھے۔ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے تنگ آکر کہا۔
”ایشر سیاں، کافی پھینٹ چکا ہے، اب پتا پھینک! “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *