لٹ خانہ، دمشق کا قاضی اور اُردو اکادمی کوئٹہ
اس بار اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول گھٹن اور حبس کی رُت میں بھی کچھ سرد لگا۔ جملہ وجوہات میں تین روزہ میلے کی جائے وقوعہ اور نواحی آبادی کی سردمہری کو سرفہرست جانیئے۔ ایسے ہی ٹھنڈے ٹھار سیشن سے نکلتے ہوئے عثمان قاضی صاحب سے سرراہ مختصر ملاقات میلے کو یادگار بنا گئی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس بے اعتنا شہر کی باسی ہونے کے سبب (جہاں ناموری ہی باعث عزت ٹھہر چکی ہے ) کے باوجود اس لمحے شادمانی کا احساس ہوا۔
شہر میں قلم کی برکت ابھی موجود ہے۔ یہ بات یوں تازہ ہوئی کہ برادرم ریحان فیصل کی متعدد فیس بک پوسٹوں سے خبر ملی کہ عثمان قاضی صاحب کی کتاب سفر و حضر اُردو اکیڈمی کوئٹہ کی اولیّں اشاعت کے طور پہ چھپ رہی ہے۔
حضرت کی اولین تحریریں سوشل میڈیا پہ دیکھ رکھی ہیں ابتدا میں کسی قدر خوشگوار حیرت رہی جب ایک نسبتاً کم عمر لکھاری سے بیروت، لبنان اور دمشق (کتابی نہیں بلکہ موجودہ) کا احوال لکھتے دیکھا۔
ارے یہ کون ہے دمشق کا قاضی؟ عظمت رفتہ کی لُٹی محفلوں کی دھول کو بچشم خود دیکھنے اور بچشم نم سُنانے کو۔ سوچا، ہوں گے کوئی سفیر کبیر۔ قلم سے شہرت کشیدگی کے شوقین! ہمیں عبرت دلانے کو جا پہنچیں ہوں گے، پھر ایسا ہوا کہ کئی بار سوشل میڈیا نے سامنے لا کھڑا کیا۔ آہستہ آہستہ بند ذہن کے کواڑ کھلے تو ان کے قلمی جوہر کھلے۔
کوئٹہ اردو اکیڈمی کی اول سند تشکیل، عہد پارینہ کی حکایت!
کتاب کی قرات کرتے ہر صفحہ پہ پاس بیٹھا شخص بارہا استفسار پہ مجبور کہ ہنسی کیوں اور ہنسی میں آنسو کیوں؟ کوئٹہ پہ لکھے دو ابواب میں وطن بولی کا ہر لفظ احساس کی شدت سے دُھلا اپنے مفہوم کا مکمل امانت دار۔ حرف آغاز ہی گویا سیاست و سماج کا سلیس بیانیہ (وطنِ عزیز کی گوناگوں ”مشکل تر اور پیچیدہ بحثیں“ ہمارے بڑوں نے تو نہ خود پڑھیں کبھی اور نہ کسی کو پڑھنے دیں ) ۔
یہ کون جوان رعنا ہے بھئی بولان کے سنگلاخ چٹیل پہاڑوں میں اُردوئے معلیٰ کے نازک آبگینوں میں تازہ اور آسان معانی کا نقیب۔
مثلاً سالٹ رینج میں لٹ کا لفظ انہی معنوں میں شُنید ہے۔ پہلا باب پڑھا تو احساس ہوا دو چار لَٹ مزید مل جاتے ’کعبہ سے صنم خانوں کو‘ تو بارانی گندم اور جوار سے پلے چھ فٹے چکوالی دیار غیر میں یورپی لاموں کا ایندھن بننے کی بجائے پیارے وطن کی قلمی راحت کاری کا سامان ہوتے۔ شاہ محمد مری اور ما ما جمالدینی کی مٹی خوش بختوں کا ورثہ ہوئی اور ہم نو آبادیاتی دراندازوں کی چھوڑی توپوں کے وارث قرار پائے۔
سفر و حضر میں شامل تحریریں زیادہ تر ”ہم سب“ (ورچوئل لٹ خانہ) پہ شائع ہو چکی ہیں اور ایسی مدون کتاب خوانی میں مشکل یہی رہتی ہے کہ ہر اگلا کا لم/ شذرہ انفرادی موضوع اور نئی ماہیت کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور یوں تحریر کا لوکیل اور شناخت بار بار بدلتا ہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ لکھاری آپ کو زوئے جان بُلاتے بولان سے راجستھان، آگرہ اور بھوپال کی سیر کرواتے کمال (قلم کی) چابکدستی سے قزاقستان میں نجی طبی تعلیمی اداروں کی حقیقت اور وہاں سے ہی وطن عزیز کی دستور گلی کا پھیرا لگوا دیتے ہیں اور اپنی قابل رشک زبان دانی اور سلاستِ طبع سے آپ کو ایک لمحے کو بھی بور نہیں ہونے دیتے۔
قومی غیرت و حمیت پہ مبنی (اور جگاتے ) کئی اور اکثر سوالات جن سے بڑے بڑے خوف کھاتے ہیں اُن کے سیر حاصل جوابات تشفی کے ساتھ عنایت کرتے ہیں۔ شک ہو تو کتاب اُٹھائیں اور باب پنجم پڑھ لیں۔ مزید تسلی کے لئے ساتواں آٹھواں اور نواں باب بھی کچھ کم چشم کشا نہیں۔ موصوف کتاب میں بہت بار ایسی جرات مردانہ و عاقلانہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔
المختصر اردو اکادمی نے یقیناً بہت غور و غوض کے بعد عثمان قاضی صاحب کی متفرق تحریوں کے مجموعے کو اشاعت اولین کا درجہ دیا ہے۔ الفاظ کی شیرینی حقائق کے بلند آہنگ کو کم نہیں کرتی مگر اس کے کسیلے پن کو کم تلخ بناتی ہے موضوعات کا تنوع، شخصیات کا احوال اور مقاماتِ آفرین و نفرین سے لکھاری کی کمیونٹی ٹرانسفارمیشن کی استعداد کار اور تبدیلی کی حقیقی خواہش کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
عثمان قاضی کی عورتوں کی عزت نفس، تعلیم و ترقی اور بہتر انسانی مستقبل کی خاطر اُن کے مساوی حرکیت کے گہرے عزم پہ مبنی تحریریں وسیع تر مقاصد کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس شدید خُشک سرد موسم کی طویل راتوں میں دمشق، کوئٹہ، ڈھاکہ، بیروت اور لبنان کی سیر کرنی ہے تو عثمان قاضی کی کتاب خوانی کیجیئے اور سفر میں حضر کا لُطف لیجیے۔


