المارہ فاؤنڈیشن: یتیم، بے آسرا بچوں کا گہوارہ


abdul waheed khan birmingham

پاکستان میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی نگہداشت اور کفالت کے لئے بے شمار فلاحی ادارے اور سماجی تنظیمیں ملک بھر میں کام کر رہی ہیں جن کا کام بلاشبہ قابل تعریف اور لائقِ تحسین ہے اور انہی میں ایک نام ”المارہ فاؤنڈیشن“ (Almarah Foundation) کا بھی ہے جو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے روح رواں ڈی آئی جی پولیس محبوب اسلم للہ کمانڈنٹ پولیس کالج چوہنگ لاہور اور ان کی اہلیہ محترمہ صوفیہ وڑائچ چئیر پرسن المارہ فاؤنڈیشن ہیں جنہیں اس نیک کام کے لئے اپنے بچوں کی مدد بھی حاصل ہے یوں یہ گھرانا دو سو سے زیادہ بچوں کو اپنے گھرانے کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔

ماہ رفتہ برمنگھم میں قائداعظم ٹرسٹ برطانیہ کی طرف سے مقامی ریستوران میں محبوب اسلم للہ اور ان کی بیگم صوفیہ وڑائچ کے دورہ برطانیہ کے موقع پر ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی جہاں پر ان کا کہنا تھا کہ وہ دو سو سے زائد بچوں کی نہ صرف کفالت کر رہے ہیں بلکہ ان تمام بچوں کو ایسی ہی تمام سہولیات اور خوبصورت و محفوظ گھریلو ماحول فراہم کرتے ہیں جیسے وہ اپنے سگے بچوں کو مہیا کرتے ہیں۔

برطانیہ آمد پر ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں سمارا ایونٹس کی طرف سے لندن میں دار الامرا (ہاؤس آف لارڈز) میں ایک تقریب میں لارڈ کُلدیپ سنگھ سہوتا نے ان کو ایوارڈ دیا اور ان کی خدمات کو زبردست سراہا جبکہ قائداعظم ٹرسٹ برطانیہ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق نے ان کے اعزاز میں جو استقبالیہ تقریب سجائی اس میں شہزادہ ایم اے حیات، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین، چوہدری صغیر حسین، راجہ فہیم کیانی، راجہ محمد یاسین، عبدالرؤف مغل، چوہدری شاکر حسین، راجہ محمد فیاض، عائشہ بٹ، ویسٹ مڈلینڈ پولیس کے چیف انسپکٹر محمد یوسف خان، چیف انسپکٹر محمد حنیف، محمد شکیل خان، زاہد محمود خٹک، رانا شفقت علی رضا، سید عابد حسین کاظمی، عبدالوحید خان، ارسلان محمود، بشارت چوہدری و دیگر نے شرکت کی۔

تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے محبوب اسلم للہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نواز رکھا ہے لیکن ان کی بیوی جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں اور ان کے والد میجر رشید وڑائچ 1995 سے خالصتاً اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے مخلوق خدا کی خدمت اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا کام کر رہے تھے۔ ان کے کام کو جاری رکھنے کی ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ سماجی بھلائی کا کوئی کام کیا جائے اور انہوں نے جب دیکھا کہ معاشرے میں یتیم اور لاوارث بچوں کی دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہے تو انہوں نے اپنے سسر کے خواب کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس نیک کام کا آغاز اپنے گھر سے کیا اور پانچ بے آسرا بچوں کو پالنا شروع کر دیا اور آج چھ گھروں میں دو سو تیس سے زیادہ بچے رہ رہے ہیں جہاں پر نہ صرف ان کو گھر کا صاف ستھرا اور محفوظ ماحول میسر ہے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے مثالی سہولیات اور خوبصورت ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ وہ تمام بچے بہت ہی معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور ان کی مذہبی تعلیم کا بھی زبردست انتظام کیا گیا ہے اور یہ سہولیات غیر مسلم بچوں کو بھی حاصل ہیں۔

محبوب اسلم کا کہنا تھا کہ المارہ فاؤنڈیشن کے تمام بچے گھر کو اپنا گھر، انہیں پاپا اور ان کی بیوی کو اپنی ممی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خالصتاً نیکی اور بھلائی کے جذبے سے شروع کیا گیا یہ کام اس وقت المارہ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام اپنی مثال آپ ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نیک کام کے لئے ہمیں چنا گیا ہے اور ہم اپنے معاونین کے بھی بہت شکر گزار ہیں کہ ان کے پرخلوص تعاون سے یہ کام چل رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اس نیک اور بھلائی کے کام میں ان کے ادارے المارہ فاؤنڈیشن کے معاون بنیں اور جب بھی پاکستان آئیں تو ان کی فاؤنڈیشن کو ضرور وزٹ کر کے عملی کام کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تسلی کریں اور یقیناً یہ جان کر خوشی ہو گی کہ نہ صرف ہمارے ادارے کے بچے اعلیٰ اور معیاری درسگاہوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ باقاعدہ طور پر کھیلوں اور دیگر ہم نصاب سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے ہیں جبکہ ان کی مذہبی تعلیم اور دینی تربیت کا بھی بھرپور خیال رکھا جاتا ہے اور یہ سہولیات صرف مسلمان بچوں کو ہی نہیں بلکہ جو مسیحی بچے ہیں ان کے لئے بھی باقاعدہ ان کی مذہبی تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے اور جس طرح مسلمان بچے ہر جمعہ کو مسجد جاتے ہیں اسی طرح کرسچن بچوں کو ہر اتوار کو چرچ میں ان کی عبادت کے لئے لے کر جایا جاتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اور ان کی اہلیہ محترمہ صوفیہ وڑائچ چئیر پرسن المارہ فاؤنڈیشن نے میڈیا سے رسمی اور شرکا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے ہیں جو اپنے گھر اور والدین سے محروم ہیں لیکن المارہ فاؤنڈیشن کے پراجیکٹ کو ملکی سطح پر پھیلا کر نہ صرف ہم ان بچوں کو چھت اور گھر مہیا کر سکتے ہیں بلکہ ان کی بہترین تعلیم و تربیت کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنا کر ایک بہترین پاکستانی بنا سکتے ہیں اور اس نیک اور بھلے کام کے لئے تمام پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی عملی مدد درکار ہے۔

تقریب کے میزبان قائداعظم ٹرسٹ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق نے کہا کہ ”المارہ فاؤنڈیشن“ کے روح رواں ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ اور ان کی اہلیہ صوفیہ وڑائچ بہترین کام کر رہے ہیں جو دو سو سے زائد بچوں کی کفالت کر رہے ہیں اور ان بچوں کو ایسی ہی سہولیات اور ماحول فراہم کرتے ہیں جیسے وہ اپنے سگے بچوں کو مہیا کرتے ہیں اس لئے ہمیں ان کی خدمات کا نہ صرف کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے بلکہ ان کے دست و بازو بن کر ان کی عملی مدد اور مالی تعاون بھی کرنا چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے اِنہیں ہماری کسی مدد کی ضرورت نہ ہو لیکن وہ بچے جن کی یہ پرورش کر رہے ہیں ہمارے بھی بچے ہیں اور ہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا چاہیے اور المارہ فاوٴنڈیشن کی مستقل بنیادوں پر مدد کرتے ہوئے معاون بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم ٹرسٹ خالصتاً غیرسیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو اکٹھا رکھنا، اپنے مشاہیر سے روشناس کرانا اور پاکستان سے اپنے روابط کو مضبوط بنانا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ”سب کو پڑھاؤ مفت“ کے سلوگن کے ساتھ اپنے گاؤں نڑالی جبیر گوجر خان میں انوارِ مدینہ ماڈل کالج قائم کر رکھا ہے جس کا الحاق فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے ہے اور وہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے مقابلے کا امتحان پاس کر کے ایس پی لیول تک پہنچ چکے ہیں۔

قبل ازیں شہزادہ ایم اے حیات، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین، راجہ فہیم کیانی، چیف انسپکٹر یوسف خان، چیف انسپکٹر محمد حنیف، چوہدری شاکر حسین و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور المارہ فاؤنڈیشن کے کام کی تعریف کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر کھانے کے بعد مہمانوں کے ہمراہ گروپ اور انفرادی فوٹو بنوائے گئے۔

Facebook Comments HS