پنجاب کے صوفی دانشور: تعارف و تجزیہ


”پنجاب کے صوفی دانشور“ معروف دانشور قاضی جاوید کی کتاب ہے جس میں انھوں نے پنجاب کی تقریباً ایک ہزار سالہ تاریخ میں ایسے صوفیا کی تعلیمات کا انتخاب، ہمارے سامنے پیش کیا ہے جنھوں نے عوام کے دل و دماغ کو متاثر کیا۔ ان صوفیا نے پنجاب کی تہذیبی و ثقافتی روایت کی تشکیل اور عوام کی اخلاقی پاکیزگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے پنجاب کے صوفیا کے فکری نظام کو سمجھے بغیر پنجاب کے سماج کی بُنت اور تاریخی و تہذیبی روایت کو حیطۂ تفہیم میں لانا ناممکن ہے۔ ظاہر پرست مولویوں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی لیکن اس کے باوجود وہ اس کے اثرات کی وسعت کو روکنے میں ناکام رہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ نو آبادیاتی عہد میں کچھ علما نے اسے ”اسلامی تصوف“ اور ”عجمی تصوف“ کے خانوں میں تقسیم کر کے، اسلامی تصوف کی حمایت کی اور عجمی تصوف کو برا بھلا کہا۔ یوں انھوں نے تصوف کو شریعت کے تابع کرنے کی کوشش کی تاکہ متصوفانہ خیالات پر اسلام کی ملمع کاری کی جا سکے۔

میرے خیال میں تصوف ایک عالم گیر مشرب ہے جس کے اپنے پیمانے، منہاجات اور نتائج ہیں۔ اسی لئے حسین بن منصور حلاج، شہاب الدین سہروردی، سرمد، دارا شکوہ، بلھے شاہ اور شاہ حسین جیسے صوفیا ظاہر پرست مولویوں کی پروا کیے بغیر اپنے منہج پر سر گرمِ سفر رہے اور ظاہر پرستوں سے ظاہری نقصان اٹھایا۔ ان لوگوں نے وحدت الوجود، فنا و بقا اور صحو و سکر کو توجہ کا مرکز بنایا جن کی اسلامی مذہبی قوانین میں کوئی اہمیت نہیں۔ صوفیا کی داخلی صداقت، مذہبی قانون پر برتری رکھتی ہے۔ اس عمل کا آغاز شیخ ابو یزید بسطامی کے فکر و عمل سے ہوا اور حسین بن منصور حلاج کی شکل میں انتہا کو پہنچا۔ شیخ ابو یزید بسطامی ہندوستان کی ویدانتی فکر سے متاثر تھے جنھوں نے ابو علی سندھی سے کسبِ فیض کیا تھا۔ حسین بن منصور کے واقعے کے بعد آزاد خیال صوفیا اپنے خیالات کو چھپانے پہ زور دینے لگے اور ان کا عوام کے سامنے اظہار گناہ خیال کیا۔ حلاج کے المیہ کے بعد درمیانی راہ اور متوازن رویہ اختیار کرنے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ اس کا درمیانی راستہ یوں اختیار کیا گیا کہ داخلی صداقت اور مذہبی سچائی ایک دوسرے سے متصادم نہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

مذکورہ کتاب میں سید علی ہجویری سے لے کر پیر مہر علی شاہ تک سترہ صوفیا کا تعارف اور ان کے فکری نظام پر بات کی گئی ہے۔ سید علی ہجویری امام غزالی کے ہم عصر تھے اور دونوں شیخ ابو علی فارمدی کے شاگرد تھے۔ یہ طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں خواجہ ابوالقاسم گرگانی سے بیعت ہیں۔ سید علی ہجویری نے اس دور کے تقاضوں کے تحت صوفیانہ انحراف پسندی کی حوصلہ شکنی کی اور عقیدہ پرست قوتوں کو مضبوط کیا۔ انھوں نے اعتدال پسندی کی راہ اپنائی اور وہ خیالات جن کا تعلق ہندو سریت اور فلسفے سے تھا اس کی مخالفت کی کیوں کہ اس دور کے مسلمان فاتحین کو تصوف کے اس طرح کے خیالات پسند نہیں ہو سکتے تھے جو محی الدین ابن عربی اور ویدانتی فکر کا امتزاج تھے۔ ہندو مسلم تضادات اپنے عروج پر تھے اور مسلمان نہیں چاہتے تھے کہ وہ زندگی کے کسی بھی پہلو میں ہندوؤں سے کم تر سطح پر موجود ہوں۔ مزید اس دور میں تصوف میں اسماعیلی اثرات موجود تھے اور سلطان محمود غزنوی نے ان دنوں اسماعیلی اثرات کے علاقوں کو مہم جوئی کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان مہموں کو جواز فراہم کرنے کے لیے اسماعیلی عقائد پر شدید نکتہ چینی کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی اور ہندوانہ سریت کے خلاف بات کرنا سرکاری حکمت عملی میں شامل تھا۔ ریاست کے بیانیہ کے خلاف بات کرنا خود کو معتوب ٹھہرانے کے مترادف تھا۔ اس فکری اور سیاسی پس منظر نے علی ہجویری کی ذہنی اور فکری تشکیل کی۔ انھوں نے شیخ ابو علی فارمدی کے ساتھ ساتھ شام کے کوہ لکام میں مقیم، شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی سے بھی کسب کیا تھا اور وہ انھیں اپنا مرشد خیال کرتے تھے۔ ان کا صوفیانہ تصور حضرت جنید بغدادی سے مستعار تھا جو صوفیانہ انحراف پسندی اور تصوف میں غیر اسلامی عناصر کے خلاف تھے۔ شاید ان کے افکار کا نتیجہ تھا کہ علی ہجویری نے اعتدال کا راستہ اپنایا اور کہا کہ شریعت اور طریقت باہم متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا وسیلہ ہیں۔

داتا گنج بخش کے بعد ، پنجاب میں جن صوفیا نے تصوف کو پروان چڑھایا ان میں بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کا نام نمایاں ہے۔ ان کا تعلق تصوف کے چشتیہ سلسلے سے ہے۔ تصوف کے اس سلسلۂ فکر نے شمالی ہند میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد ثقافتی، تہذیبی، فکری اور روحانی اہمیت حاصل کر لی تھی۔ تاریخی مادیت کے تناظر میں رکھ کر بات کی جائے تو یہ صوفیانہ مکتبۂ فکر مسلمان حملہ آوروں اور مقامی حکمرانوں کے جواب دعویٰ کے طور پر سامنے آیا تھا۔ برصغیر میں اس کے بنیاد سازوں میں خواجہ معین الدین چشتی کا نام سرِ فہرست ہے۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی کی تاریخِ مشائخ چشت کے مطابق خواجہ معین الدین چشتی اجمیری وسط ایشیا سے تاتاری یلغار سے تنگ آ کر ہندوستان کے علاقہ اجمیر میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کی سوچ و فکر کا محوری نکتہ یہ تھا کہ دنیا کی تخلیق کے عقب میں محبت کا جذبہ موجود ہے۔ خالقِ کائنات نے انسان کو اپنی محبت کے اظہار کے طور پر پیدا کیا اور اسی جذبے سے انسان اپنی ذات کے اعلیٰ ترین مقامات کو حاصل کر سکتا ہے۔ اور ایسا ذاتِ مطلق کے ساتھ ملاپ سے حاصل ہو تا ہے۔ ان کی وفات کے بعد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ قطب الدین بختیار کاکی کے بعد پنجاب میں اس سلسلے کو خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر نے توانائی فراہم کی۔ ان کے والد بابا جمال الدین سلیمان، سلطان شہاب الدین غوری کے عہد حکومت میں اس قصبے کے قاضی رہ چکے تھے۔ وہ ترک قبائل کے پے در پے حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ابتری کے باعث ہندوستان آنے پر مجبور ہوئے۔ ان کے والد، ان کی ابتدائی عمر میں وفات پا گئے اور ان کی والدہ قریشم خاتون نے ان کی تعلیم و تربیت کی۔ محبت، انسان دوستی، اعتدال پسندی، موسیقی اور فنونِ لطیفہ سے رغبت ان کی ماں کی تربیت اور چشتیہ سلسلے کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے اکابرین کے مانند شریعت اور طریقت میں ہم آہنگی کا تصور پیش کیا ہے اور اجودھن کے علاقے کو ہند اسلامی تہذیب کا مرکز بنا ڈلا۔

جنوبی پنجاب کی سر زمین کو جس صوفی بزرگ نے متاثر کیا اس میں بہاء الدین زکریا کا نام نمایاں ہے۔ ان کا تعلق تصوف کے سہروردی سلسلے سے ہے جس کا آغاز شیخ ضیا الدین ابو نجیب سہروردی سے ہوا، وہ ہمدان اور زنجان کے مابین قصبہ سہرورد سے تھے لیکن اس کو شہرت اور پذیرائی شیخ شہاب الدین سہروردی کی کوششوں سے حاصل ہوئی جو کہ شیخ ضیا الدین کے بھتیجے تھے۔ ان بزرگوں نے فکر و نظر کے اعتبار سے شیخ جنید بغدادی سے کسبِ فیض کیا تھا۔ بہاء الدین زکریا جس دور میں ملتان میں رشد و ہدایت کا چراغ روشن کیے ہوئے تھے اس دور میں وہاں ناصر الدین قباچہ کی حکومت تھی۔ قباچہ نے جب دہلی کی مرکزی حکومت سے علیحدگی کی کوشش کی تو بہاء الدین زکریا کو یہ بات ناگوار گزری انھوں نے قاضی مولانا شرف الدین اصفہانی کے ساتھ مل سلطان التمش کو خطوط لکھے جو پکڑے گئے جس کے نتیجے میں قاضی شرف الدین اصفہانی کو تو قتل کر دیا لیکن حضرت بہاء الدین زکریا کو آزاد چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اس نے سلطان التمش سے مقابلہ کیا، شکست کھائی اور دریائے سندھ میں ڈوب گیا۔ اس طرح سلطان التمش کے ساتھ بہاء الدین زکریا کے دوستانہ تعلقات استوار ہو گئے۔ نئی صورتِ حال میں سہروردیہ سلسلہ پنجاب میں پھلا پھولا لیکن اس کے منفی اثرات یہ ہوئے کہ وہ ریاستی اثرات کے ماتحت آ گیا۔ اس کے بعد شیخ کی زندگی آسودہ حال گزری، جاگیر، تجارت، نذرانے اور فتوحات کی صورت میں لاکھوں کی آمدن نے ان کی زندگی میں فراغت پیدا کی جو کسی اور صوفی کے نصیب میں نہ آئی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے شیخ صدر الدین عارف اور پوتے شیخ رکن الدین ابولفتح ملتانی نے اس روحانی سلسلے کو آگے بڑھایا۔ سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا سلسلہ بھی یہی ہے جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقے اوچ شریف سے ہے۔ سہروردیہ روایت کی پیروی کرتے ہوئے انھوں نے تصوف کے مابعد الطبیعیاتی اور حکیمانہ پہلوؤں کو لائقِ توجہ خیال نہیں کیا۔ انھوں نے فرد کے روحانی ارتقا کے لئے شریعت، طریقت اور حقیقت کی منازل کا ذکر کیا ہے۔

اس کے علاوہ شاہ ابوالمعالی، شاہ حسین، حضرت سلطان باہو، حضرت میاں میر، ملا شاہ بدخشانی، بلھے شاہ، خواجہ نور محمد مہاروی، شاہ محمد سلیمان تونسوی، خواجہ شمس الدین سیالوی، خواجہ غلام فرید اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی تعلیمات کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ مغلیہ عہد میں شاہ ابوالمعالی نے تصوف کے قادریہ سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے شاہ حسین کی صوفیانہ بغاوت میں حصہ نہیں لیا بلکہ قادریہ سلسلے کے عقیدہ پرست عنصر سے کسب کیا۔ پنجاب کی تہذیبی اور سیاسی صورتِ حال کے پیشِ نظر ان کی فکر آزاد خیالی کے خلاف بند نہ باندھ سکی اور میاں میر، ملا شاہ بدخشانی اور دارا شکوہ جیسے آزاد خیال صوفی دانشوروں کو پیدا کیا۔ سولہویں صدی کی پنجاب کی ثقافتی صورت پر غور کریں تو اس پر فلسفۂ وحدت الوجود، بھگتی تحریک اور چشتیہ سلسلے کی تعلیمات اور اکبر کی انسان دوستی کی بنیاد پر مذہب کی توجیہہ وسیع تر مفہوم میں کی جا رہی تھی۔ تنگ نظری اور تعصب کہیں حاشیے پر چلے گئے تھے۔ اسی عہد میں شاہ حسین لاہوری، میاں میر اور بلھے شاہ جیسے اکابرین پیدا ہو سکتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد ، شیخ محدثِ دہلوی اور شیخ احمد سرہندی نے آزاد خیالی کے اس مسلک کو چیلنج کیا۔ دوسری جانب تُلسی داس نے ہندو گروہی تشخص کو ابھارنے کی کوشش کی جس سے انسان دوستی اور آزاد خیالی کے تصورات محدود ہو کر رہ گئے۔

نو آبادیاتی دور کے پنجاب میں تصوف کا نیا دور شروع ہوا۔ اس سے قبل چشتیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلے کے بزرگوں نے تصوف کی شمع روشن رکھی اور پنجاب میں انسان دوستی اور آزاد فکر کو آگے بڑھایا۔ شاہ حسین سے بلھے شاہ تک پنجاب میں قادریہ سلسلے کا دور دورہ رہا۔ جنوبی پنجاب میں مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے بعد سہروردیہ سلسلے کا کوئی نمایاں دانشور پیدا نہ ہو سکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی تک خانقاہیں تو موجود تھیں لیکن ان میں دانش و بینش کی شمعیں گل ہو چکی تھیں۔ ایسے حالات میں نور محمد مہاوری، خواجہ شمس الدین سیالوی، خواجہ غلام فرید اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے اس روایت کو زندہ کیا۔ مہر علی شاہ نے مرزا غلام احمد اور عبداللہ چکڑالوی کے وحدت الوجودی اعتراضات کا بھر پور جواب دیا اور دوسری جانب سرسید کی نیچریت اور انگریز کی جدیدیت کے محاذوں پربھی فکری جنگ لڑی۔

قاضی جاوید کی کتاب ”پنجاب کے صوفی دانشور“ اس لحاظ سے عمدہ کتاب ہے کہ اس میں انھوں نے صوفیانہ روایت کو محفوظ بنایا ہے۔ مذکورہ کتاب کو نگارشات، لاہور نے شائع کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ صوفیانہ روایت سے دلچسپی رکھنے والوں کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔

Facebook Comments HS