تجھے کیا سمجھ میرے فرض کی تجھے حال اپنا معلوم نہیں
میں یہ بات کبھی بھی نہیں بھولوں گا کہ ہر انسان مکمل ہوتا ہے۔ میں خود بھی مکمل نہیں ہوں جس معاشرے میں موجود ہوں کیا اس جگہ میرے خلاف باتیں نہیں ہوتی ہوں گی۔ میں مانتا ہو ضرور ہوتی ہوں گی۔ انسان فطری طور پر کسی پر بھی خوش نہیں وہ تو اپنے مالک حقیقی یعنی اللہ کریم کی ذات کو ہزاروں گلے کرتے کرتے تھکتا نہیں تو ہم جیسوں کی کیا اوقات۔ مگر اوقات سے ہٹ کر انسانیت کے ناتے انسان کا کوئی کردار ہوتا ہے۔ اس کے بات کرنے کا کوئی انداز ہوتا ہے۔ مگر جس شخص میں ایسی کوئی بات ہی نہیں ہو تو اسے کیا بولا جائے۔ میں باتیں کسی کی شان کے خلاف نہیں کر رہا اور نہ کروں گا بلکہ فقط حقیقت واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لوگ کیا ہوتے ہیں اور جیسے ہی طاقت کا نشہ چڑھتا ہے تو پھر کیسے ہو جاتے ہیں۔
میں اسی لیے آج ایک سچ بولنے جا رہا ہو جو مستقبل میں میرے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔ خیر سچائی کو لکھتے وقت اگر ڈرنا شروع کر دیا تو پھر قلم نہیں ڈر کو تھام لینا چاہیے۔ میں اسی لیے دو ہزار سات کی بات کر رہا ہوں ماضی میں ہونے والے واقعات ایسے ہوتے ہیں ایسے واقعات میں ہزاروں لوگ آپ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ اس بات کی تصدیق بھی کرنا چاہیں تو ہو جائے۔ میرے والد گرامی شیر محمد جھانوالہ (مرحوم) اللہ کریم ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ آپ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے ہم بنیادی طور پر لوئر مڈل کلاس لوگ ہیں۔ ایسی حالت میں کینسر کا علاج اس وقت بہت زیادہ مہنگا تھا اسی وجہ سے ہم نے کافی ہسپتالوں کے دھکے کھائے۔ اور ہم والد صاحب کو شوکت خانم ہسپتال میں لے کر چلے گئے۔ ان دنوں فتنہ نیازی صاحب کا پہلا جلسہ ہمارے گاؤں میں ہوا تھا شاید میں ان پر کبھی نہ لکھتا مگر میں نے جو دیکھا اور سنا وہ سچ ہوا۔
ان کے ہسپتال میں میں ہمارے بھائی مظہر حسین صنم، بھائی طفیل آرائیں، اقبال صاحب اور میرے والد گرامی کافی دیر کھڑے رہے کسی بندے نے یہ تک نہیں پوچھا کہ کون ہیں آپ۔ بھائی جان نے پہلے ہی ابتدائیہ پر جا کر ان کو بتایا کہ مریض کو لے آئے ہیں ان کا علاج کروانا ہے۔ انہوں نے بولا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اتنے پیسے ایڈوانس جمع کروائیں گے اور اس ہسپتال میں آپ کا منرل واٹر سے لے کر کے سب آپ کا خود خریدا ہوا ہو گا اور علاج کا خرچہ الگ سے ہو گا۔ جب ساری بات ہو گئی تو بتایا گیا کہ اگر ہم علاج کے پیسے برداشت نہ کر سکے تو کیا پروسیجر ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کمیٹی بیٹھے گی اور وہ فیصلہ کرے گی کہ آپ کا مریض علاج کے قابل ہے کہ نہیں اس کے بعد ہم آپ کو ڈاکومنٹ دیں گے جو آپ اپنے ضلع کی زکوٰۃ کمیٹی سے دستخط کروا کر لائیں گے۔ اس پورے پروسیجر پر لگنے والا وقت شاید ایک مہینہ کے لگ بھگ ہوتا۔
خیر بات چھوٹی کرتا ہوں جب اس سارے معاملے کے بارے میں اس صاحب اعلیٰ مقام کو بتایا کہ تو ان کا ایک ہی بیان تھا کہ آپ کے وہ بندے (جھوٹ بول رہے ہیں ) میرے ہسپتال میں غریبوں کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔ اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کا علاج نہ ہو سکے۔ نیازی صاحب اب آپ مجھے بتائیں کہ ہم کہاں کے امیر ہیں اور کب امیر ہوئے ہیں اور وہ زمین و جائیداد تو ہماری منظر عام پر لے آئیں نا۔ خیر والد محترم انتہائی تکلیف میں مبتلا تھے۔
(جاری ہے )


