470 دن کی مزاحمت اور اہل غزہ کی جیت

7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے اہل غزہ نے اپنے جذبہ ایمانی سے اسرائیل پر کاری ضربیں لگائی ہیں اور دنیا بھر میں اسرائیل کو سفارتی، اخلاقی، عوامی، معاشی شکست دینے کے ساتھ ساتھ، اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کی متھ کو ختم کر دیا ہے۔ فلسطین کی عالمی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی حملوں کے بعد دنیا بھر میں ہمدردی کی لہر دیکھی گئی۔ 80 سے زائد ممالک میں فلسطین کے حق میں مظاہرے ہوئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرے امریکہ، یورپ، ایشیا، اور مشرق و سطیٰ میں ہوئے۔ لندن میں ایک مظاہرے میں تقریباً 2 لاکھ افراد نے شرکت کی، جو فلسطین کے لیے یکجہتی کا مغرب میں سب سے بڑا اجتماع تھا۔ نیویارک میں اجتماعات و احتجاج میں 50,000 افراد نے مارچ کیا، جو امریکی عوام کے بدلتے موقف کی نشاندہی کرتا ہے، امریکہ و یورپ میں ابتدائی پانچ مہینوں میں 15 ہزار مظاہرے ریکارڈ کیے گئے جبکہ اسرائیل کے حق میں صرف 600 مظاہرے ہوئے۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی، بشمول خواتین اور بچے، جاں بحق ہوئے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے ”نسل کشی“ اور ”جنگی جرم“ قرار دیا۔ یعنی اب دنیا میں اسرائیل بچوں کے قاتل کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی حملوں کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور جنگ بندی پر زور دیا۔ سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں پر غور کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ”ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ 120 ممالک نے فلسطین کے حق میں بیانات جاری کیے۔ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے جنگ کے دوران اسرائیل کے اہم علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کمزوری ظاہر ہوئی۔ فلسطینی مزاحمت نے 7000 سے زائد راکٹ فائر کیے، جن میں سے کئی نے تل ابیب اور دیگر اہم شہروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق، فلسطینی گروہوں کے پاس اب بھی 10,000 راکٹ موجود ہیں۔ جس سے اسرائیل کے آئرن ڈوم سسٹم کو شدید دھچکا پہنچا اور اسرائیل نے امریکہ سے دفاعی حفاظت کے لئے نیا نظام منگوایا وہ بھی سارے حملے روکنے میں ناکام رہا۔ اسرائیل کو جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر معاشی نقصان ہوا۔ سیاحت، تجارت، اور سرمایہ کاری میں شدید کمی ہوئی۔ رپورٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی معیشت کو 8 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ تاہم نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کو اپنے 34 مغویوں کے بدلے میں 1,904 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر نے کی ضمانت دینا پڑی، جس میں کئی ایسے افراد شامل تھے جو کئی دہائیوں سے قید تھے۔ یہ رہائی فلسطینی عوام کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور سیاسی فتح سمجھی گئی، کیونکہ یہ اسرائیل کے دباؤ میں آنے کی علامت ہے۔ حماس نے کئی اسرائیلی یرغمالیوں کو پکڑ کر اسرائیل کو مذاکرات پر مجبور کیا، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔
جنگ کے دوران کئی اہم ممالک نے اسرائیل کے اقدامات پر کھل کر تنقید کی۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک نے بھی اسرائیلی پالیسیوں کی مذمت کی۔ جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے قراردادیں منظور کیں، جن میں اسرائیل کی مذمت شامل تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے حق میں قرارداد پر 140 ممالک نے ووٹ دیا۔ جنگ کے دوران اسرائیلی حکومت کو اندرونی اختلافات اور عوامی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے کابینہ سے علیحدگی کی دھمکی دی۔ جنگ کے دوران ہی اسرائیل کی جنگی کابینہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، شدید سیاسی عدم استحکام نے جنم لیا عوامی مظاہروں میں ہزاروں اسرائیلیوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کیا۔ عالمی میڈیا نے فلسطینی عوام کی مظلومیت کو نمایاں کیا، جس سے اسرائیلی بیانیہ کمزور ہوا۔ سوشل میڈیا پر فلسطینی کاز کے ہیش ٹیگز 1 ارب سے زائد بار شیئر کیے گئے۔ جنگ کے دوران اور بعد میں فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ فلسطینی مزاحمت اور عوامی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ عالمی برادری کی ہمدردی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو نہ صرف معاشی اور سفارتی سطح پر نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اخلاقی طور پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اب میں آپ کے سامنے کچھ ایسے حقائق پیش کروں گا جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ آئندہ دنیا بھر میں اہم تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یاد رکھیے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تحریکوں کو تقویت دی ہے۔ یہ واقعات ممکنہ طور پر حکومتوں اور تنظیموں کو مظلوم اقوام کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر مجبور کریں گے۔ غزہ کی جنگ نے عالمی طاقتوں، خاص طور پر مغربی ممالک، کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ فلسطینی جدوجہد سے متاثر ہو کر کئی ممالک اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ کئی ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا اور آئندہ مزید کئی ممالک یہ اقدام کریں گے۔ غزہ نے مسلم دنیا میں یکجہتی پیدا کی ہے۔ یہ مسئلہ مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی، اور عسکری تعاون کو بڑھا سکتا ہے، جو دنیا کے جغرافیائی سیاسی توازن پر اثر ڈالے گا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوریاں ختم ہوئی ہیں اور تعاون کو فروغ ملا ہے۔ غزہ کی مزاحمت دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ مقبوضہ یا مظلوم قومیں فلسطینی ماڈل کو اپنا کر اپنی جدوجہد کو منظم کر سکتی ہیں۔ غزہ کی جنگ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی ناکامی کو اجاگر کیا ہے۔ مستقبل میں جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور قبضے کے خلاف زیادہ سخت قوانین بنائے جا سکتے ہیں۔ غزہ کی صورتحال نے عوام کو میڈیا اور حکومتی بیانیے کے خلاف سوالات اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ یہ عوامی دباؤ مستقبل میں حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی عالمی مہم زور پکڑ سکتی ہے۔ یہ معاشی اور سفارتی پابندیاں عالمی معیشت اور سیاست پر گہرے اثرات ڈالیں گی۔
غزہ میں جاری مشکلات نے مقامی لوگوں کو تخلیقی حل نکالنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ تکنیکی جدتیں، خاص طور پر پانی، زراعت، اور توانائی کے شعبوں میں، دنیا بھر میں اپنائی جا سکتی ہیں۔ غزہ نے ثابت کیا کہ روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی عوامی رائے عامہ پر گہرے اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں حکومتوں اور عوام کے درمیان تعلقات کو بدل سکتا ہے۔ غزہ کے حالات نے دنیا کو اخلاقی اقدار اور انصاف کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ یہ شعور عالمی برادری کو مزید مساوی اور انصاف پر مبنی نظام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ غزہ ایک علامت بن چکا ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق، آزادی، اور انصاف کی جدوجہد کو متاثر کر رہا ہے۔ مستقبل میں اس کا اثر عالمی سیاست، معیشت، اور سماج پر گہرے نقوش چھوڑے گا۔

