جنگ بندی اور امن کا قیام: عارضی یا دائمی؟


اسرائیلی افواج اور حماس کی جو جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی وہ پندرہ مہینوں کے بعد 19 جنوری 2025 کو اس وقت ختم ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے نمائندوں نے امن کے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں جو کردار امریکہ نے ادا کیا اسے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے عہد اقتدار کے آخری ہفتے کی تقریر میں اس وقت بیان کیا جب ان کے دائیں طرف نائب صدر کملا ہیرس اور بائیں طرف سیکرٹری آف دی سٹیٹ ٹونی بلنکن کھڑے تھے۔ اس تقریر کا ترجمہ اور تلخیص حاضر خدمت ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریر

آپ سب کو سہ پہر بخیر۔ یہ سہ پہر اس لیے بہت خوش آئند ہے کیونکہ بالآخر میں آپ کو یہ خوش خبری سنانے آیا ہوں کہ پندرہ مہینوں کے بعد جنگ بندی اور قیدیوں کی واپسی پر اسرائیل اور حماس کا اتفاق ہو گیا ہے۔ پچھلے پندرہ مہینوں میں معصوم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر جو جنگ کا عذاب آیا تھا وہ اب ختم ہو جائے گا۔ اب قیدی اپنے رشتہ داروں کے پاس اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔

اب جس امن کے معاہدے پر دستخط ہو رہے ہیں یہ وہی معاہدہ ہے جو میں نے پچھلے سال مئی کے مہینے میں پیش کیا تھا۔ اس معاہدے کو دنیا کے بہت سے ممالک اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی حمایت بھی حاصل تھی۔ یہ معاہدہ مختلف ادوار پر مشتمل ہے

پہلے دور کا دورانیہ چھ ہفتے یعنی بیالیس دن ہے۔ اس دوران حماس چند قیدیوں کو آزاد کرے گا ان قیدیوں میں عورتیں اور بزرگ اور زخمی لوگ شامل ہوں گے۔ ان قیدیوں میں چند ایک امریکی قیدی بھی ہوں گے جنہیں میں اپنی نائب صدر کے ساتھ امریکہ میں خوش آمدید کہوں گا۔

ان اسرائیلی اور امریکی قیدیوں کے بدلے میں اسرائیل چند سو فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔

پہلے دور میں غزہ کے بے گھر فلسطینی واپس اپنے اپنے گھروں میں جا سکیں گے اور فلسطینیوں کے لیے کھانے پانی اور ادویہ کے ٹرک بھی بھیجے جائیں گے۔

دوسرے دور میں مستقل امن کی تیاری کی جائے گی۔ اگر اس تیاری میں زیادہ دیر لگی بھی تو جنگ بندی قائم رہے گی۔

میں نے اس سلسلے میں کویت اور مصر کے رہنماؤں کی مدد حاصل کی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقل امن قائم کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔

دوسرے دور میں حماس بقیہ زندہ قیدیوں کو آزاد کر دیں گے اور مردہ قیدیوں کی لاشیں بھی واپس کر دیں گے۔ اس دور میں اسرائیل اپنی فوج کو غزہ سے واپس بلا لے گا۔

تیسرے دور میں غزہ کی تعمیر نو کا کام ہو گا۔

یہ تین ادوار پر مشتمل معاہدہ وہی معاہدہ ہے جو میں نے پچھلے سال مئی کے مہینے میں تیار کیا تھا۔ اب اس پر اسرائیل اور حماس کے نمائندے دستخط کریں گے۔ یہ مذاکرات کا عمل بہت جان لیوا اور مشکل تھا۔ میں نے پچھلی کئی دہائیوں میں امن کے جتنے بھی مذاکرات میں شرکت کی ہے یہ ان سب سے زیادہ مشکل مذاکرات تھے۔

پچھلے پندرہ مہینوں میں جو جنگ لڑی گئی اس میں امریکہ کے دشمن کمزور ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں ایران کے حامی حزب اللہ حماس اور ہوتی بھی کمزور ہوئے ہیں۔ ان کے کئی لیڈر بھی مارے گئے ہیں اور ان کے فوجی اڈے بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔

اس جنگ میں نہ صرف معصوم اسرائیلی مارے گئے بلکہ بہت سے معصوم فلسطینی بھی زندہ نہیں رہے۔ اس جنگ بندی کے بعد اب فلسطینی حماس کے تسلط کے بغیر اپنی زندگی کا نیا باب شروع کر سکیں گے۔

بائبل کہتی ہے ان لوگوں پر خدا کی رحمت ہوتی ہے جو کرہ ارض پر امن قائم کرتے ہیں۔
امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں میں امریکی نمائندے بھی شامل ہیں۔

اس امن کے عمل کا آغاز میری حکومت کے نمائندوں نے کیا ہے اور اس کو انجام تک اگلی حکومت کے نمائندے پہنچائیں گے۔ پچھلے چند دنوں میں ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔

ہمارا یہ موقف ہے کہ مشرق و سطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کی اپنی علیحدہ آزاد ریاست قائم ہو اور اسرائیل اور عرب ممالک میں امن کا معاہدہ ہو۔

میں اپنی اس تقریر کو اپنے سینیٹر دوست جارج مچل کے قول پر ختم کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے کہا تھا کہ
ڈپلومیسی سات سو دنوں کی ناکامی اور ایک دن کی کامیابی کا نام ہے۔
ہمیں بھی اس ایک دن کی کامیابی کے لیے چار سو دنوں کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بالآخر وہ کامیابی کا دن آن پہنچا ہے میں ان تمام قیدیوں کے لیے دعا گو ہوں جو امن کے معاہدے کی وجہ سے اپنے عزیزوں سے مل سکیں گے اور ان فوجیوں کے لیے دعا گو ہوں جو دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔

اسرائیل کی کمیونسٹ پارٹی کا رد عمل

اسرائیل اور حماس کے امن کے معاہدے کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں اور اداروں کے ردعمل مختلف تھے۔ میں نے جب اپنی سوشلسٹ خیالات کی مالک دانشور ڈاکٹر دوست سارہ علی سے ان کے تاثرات پوچھے تو انہوں نے اپنے خیالات کے ساتھ اسرائیل کی کمیونسٹ پارٹی کے نظریات بھی بھیجے۔ لکھتی ہیں امن ہی مستقل حل ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف اسرائیل

”ہم کمیونسٹ پارٹی آف اسرائیل غزہ جنگ بندی معاہدے سے مطمئن نہیں اور ہم اپنے اس وعدے کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی جدوجہد ایک ایسے دو طرفہ مذاکرات کے لیے جاری رکھیں گے جو فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کا باعث بنے اور دائمی امن اور انصاف کی راہ ہموار کرے جس کی بنیاد فلسطینی عوامی کے حق خودمختاری اور اسرائیل کے ساتھ برابری کی سطح پر قائم ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو۔ غزہ کی تعمیر نو ہماری نظر میں اولین اہمیت کی حامل ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک نہ صرف غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں بھرپور حصہ لیں گے بلکہ دنیا کے تمام ممالک کا فرض ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل کے دوران اور اسرائیلی فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے بعد اسرائیل کی شدت پسند دائیں بازو کی حکومت کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے جنگی جرائم سے باز رکھیں گے۔ ہم تمام دنیا کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اس جنگ بندی کے معاہدے کو اسرائیلی حکومت اسرائیل میں موجود فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد اور آزار رسانی کے لیے استعمال کرے گی اور ان پر زندگی کا دائرہ مزید تنگ کر دیا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ ویسٹ بنک پر زبردستی قبضے کے لیے راہ ہموار کی جائے گی۔ اسرائیل کی غزہ پر اس خوفناک اور بے نتیجہ لمبی جنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور امن ہی آخری امید اور اس گمبھیر تاریخی مسئلے کا فیصلہ کن حل ہے۔“

سارہ علی کے تاثرات

جب میں یہ لائنیں پڑھ رہی تھی تو میرے ذہن میں سات اکتوبر 2023 کا دن پھر رہا تھا جب میں نے اپنی ٹی وی اسکرین پر حماس کے حملے کی خبر دیکھی اور میں نے اپنے سے ہزاروں میل دور فلسطینیوں کے لیے اپنے دل کو پریشان پایا۔ مجھے معلوم تھا کہ جس پاگل آمر دیو کے غیظ و غضب کو حماس نے دعوت دی ہے وہ انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو جائے گا کہ وہ اپنی زخمی انا کے ہاتھوں ہر چیز کو تہہ و بالا کر دے گا اور ہر فلسطینی کو اپنے پاؤں تلے روند دے گا اور پچھلے پندرہ ماہ میں ہم نے یہ سب پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھا سچ پوچھیے تو فلسطینیوں نے زبردستی ہمیں یہ دکھایا ورنہ آج کی دنیا دولت کی ہوس اور مذہبی نفرت سے اندھی اور شارٹ ٹرم میموری لاس کا شکار ہے۔ اس سے پہلے بھی اس دنیا کی تاریخ نسل کشی کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن یہ پہلی نسل کشی ہے جس کو مظلوم نے ریکارڈ کیا اور ساری دنیا کو نشر کیا شاید فلسطینی جان گئے ہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں کسی بھی زندہ فلسطینی کا وجود نہ رہے اس لیے انہوں نے اپنی موت کو کیمرے میں ریکارڈ کیا۔

فلسطینی ڈاکٹروں اور نرسوں نے بھاگنے کی بجائے ہسپتال میں برستے بموں کے نیچے مریضوں کے ہمراہ جان دینا قبول کیا۔ ہم نے دیکھا کہ غزہ کے صحافیوں نے بموں کی آگ کے درمیان کھڑے ہو کر رپورٹنگ کی اور اس نسل کشی کو کیمرے پر ریکارڈ کر کے دنیا کے منہ پر دے مارا کہ یہ ہے آپ کی تہذیب کی ترقی اور انسانی حقوق اور مسلم امہ اور عرب پرائیڈ۔ ایک قوم پچھلے پچھتر سال سے مسلسل ظلم کا شکار ہے اور کھڑی ہے یہ ہے انسانی جرات لیکن اس سے بھی بڑی جرات یہ ہے کہ اسرائیل میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس جنگی جنون کو برملا چیلنج کرتے ہیں اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اسرائیل کے باپ امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں بھی موجود ہیں اور مسلسل اس نسل کشی اور اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف آواز بلند کیے ہوئے ہیں اور اس کی قیمت جانی اور مالی ہراسمنٹ کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق بائیں بازو سے ہے اور یہ ادیب اور دانشور اور عام انسان نسل، مذیب اور قوم کے فرق کو پس پشت ڈال کر ایک ایسے وقت میں انسانیت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جب ان کو چاروں اطراف سے ظالموں جابروں اور آمروں نے گھیر لیا ہے اور ان کے خلاف مذہب کو استعمال کر کے زندگی کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس تاریکی میں کمیونسٹ پارٹی آف اسرائیل کا سچائی پر مبنی بیان اس بات کی دلیل ہے کہ اسرائیل کے اندر بیٹھ کر وہ نیتن یاہو جیسے جنگی ملزم اور آمر کو للکار رہے ہیں جس نے مذہب کی آڑ لے کر ساری دنیا میں نفرت کے بیج بوئے ہیں

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی جرات ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بلند ہے کہ یہ یہودی شہری اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مظلوم فلسطینیوں کے لیے کھڑے ہیں اور ہر ظلم برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس ساری جنگ اور تباہی میں بس یہی ایک روشنی کی کرن اور امن کی آشا ہے۔

خالد سہیل کے تاثرات

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ جس معاہدے پر جانبین نے دستخط کیے ہیں وہ معاہدہ انہوں نے مئی 2024 میں تیار کیا تھا۔ وہ اس معاہدے کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے امریکیوں کو یہ نہیں بتایا کہ وہ اس معاہدے پر اسرائیل کے سیاسی نمائندوں سے نہ تو دستخط کروا سکے اور نہ ہی اس معاہدے پر عمل کروا سکے کیونکہ اسرائیلی رہنما بی بی نیتن یاہو نے امریکی حکومت سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا اور غزہ پر بمباری جاری رکھی تھی۔

جب نومبر 2024 کے الیکشن کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن میں جیت کر امریکی صدر چنے گئے تو انہوں نے جنگ بندی کے وعدے کو پورا کرنے پر عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے نیتن یاہو کو مجبور کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکی معاونت کے بغیر اسرائیلی فوجی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ جنگ بندی کے سلسلے میں جو بائیڈن اور ٹونی بلنکن نے نیتن یاہو کی جارحیت اور ہٹ دھرمی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد جب نیتن یاہو پر دباؤ بڑھایا تو اس نے ٹرمپ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔

امن کے معاہدے کے مطابق

حماس اسرائیلی قیدی اور اسرائیل فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔
اسرائیل غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا
بھوکے پیاسے فلسطینیوں کے لیے پانی خوراک اور ادویہ کا انتظام کیا جائے گا۔
حماس اور اسرائیلی حکومت کے معاہدے کو سننے والے یہ تکلیف دہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا
جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینیوں کو علیحدہ آزاد ریاست ملے گی یا نہیں؟
اب ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل کے آگے دو راستے ہیں

پہلا راستہ

اسرائیلی اس جنگ سے سبق سیکھیں اور فلسطین کی علیحدہ ریاست کو تسلیم کریں اور سیاسی مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔ یہ حل دو ریاستی حل ہو گا جس میں اسرائیل اور فلسطین ہمسائے بن کر امن سے زندگی گزار سکیں گے۔

دوسرا راستہ

اگر اسرائیل نے نسل کشی جاری رکھی اور فلسطینیوں کو ان کا حق نہ دیا اور ان کی علیحدہ ریاست کو نہ مانا تو خطرہ ہے کہ چند سال بعد اسرائیل پر پھر حملہ ہو گا اور فلسطینیوں کی گوریلا اور مسلح جدوجہد کی جنگ جاری رہے گی اور یحییٰ سنوار جیسے سیاسی اور عسکری رہنما اور محمود درویش جیسے فلسطینی شاعر پیدا ہوں گے اور مزاحمت کی جنگ اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک وہ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں کر لیتے۔

ساری دنیا میں بہت سے امن اور انصاف کو پسند کرنے والے ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا انتظار کر رہے ہیں۔

یورپ کے کئی ممالک دو ریاستی حل کے حق میں ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اسرائیل اور فلسطین دو ممالک پر امن ہمسایوں کی طرح رہیں۔

ان کا خیال ہے کہ ان پندرہ مہینوں میں چھیالیس ہزار سے زیادہ معصوم فلسطینیوں کی قربانی رنگ لائے گی اور ان کا آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ انہیں امید ہے کہ پچھلی صدی کی تباہ کن جنگوں کے بعد ساری دنیا کے انسانوں نے یہ سبق سیکھ لیا ہو گا کہ جنگ میں معصوم انسانوں کا خون بہانا کسی بھی سیاسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ سب قوموں کے افراد کو یہ سیکھنا ہے کہ ہم پرامن طریقے سے مل جل کر کیسے جی سکتے ہیں۔ امن قائم کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں اور ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں۔ میری نگاہ میں یہی انسان دوستی کا فلسفہ ہے اور یہی فلسفہ ہمارے سماجی و سیاسی مسائل کا پرامن حل ہے۔ ساری دنیا کے امن پسند عوام فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے حق میں ہیں اور منزل کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں۔

آخر میں میں اپنی ایک نظم ”عالمی سیاست“ کے چند اشعار پیش کرنا چاہتا ہوں

جبین عدل کی رنگت جو خونچکاں ٹھہری
ہمارے عہد کی ہر آہ بے زباں ٹھہری
نہ جانے کون کسی لمحہ قتل ہو جائے
حیات اہل سیاست سے بدگماں ٹھہری
سلامتی کے خداؤں نے خون تھوکا ہے
رفاقتوں کی روایت دھواں دھواں ٹھہری
ڈھکے چھپے جو تضادات تھے ابھر آئے
ہر ایک جنگ وفاؤں کا امتحاں ٹھہری
نہ کوئی شہر نہ دیہات بچ سکا اس سے
چلی جو ظلم کی آندھی تو پھر کہاں ٹھہری
سہیل چاروں طرف بے بسی کے طوفاں ہیں
صدا عوام کی ابھری تو بادباں ٹھہری
(خالد سہیل)

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail