”تاریک راہوں کے مسافر“ کی کہانی اور کردار
بالزاک کی مشہورِ زمانہ کتاب ”یوجین گرینڈٹ“ کا ترجمہ ”تاریک راہوں کے مسافر“ ( جو کہ پاکستانی ادب کے نامور مترجم رؤف کلاسرا نے کیا ہے ) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آپ بھی اس میں شریک ہوں :
یہ کہانی فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’سامیر‘ ، اس کے رہائشی اور خاص طور پر گرینڈ فیملی کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آج کل کے سماجی مسائل کا نقشہ بخوبی کھینچتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ بالزاک بذاتِ خود ایک نجومی اور دور اندیش رہا ہو کہ اس کی یہ تصنیف جو کہ انیسویں صدی میں تحریر کی گئی تھی دور حاضر کے درپیش مسائل کی عکاسی کرتی ہے، شاید اس لیے کہ انسانی فطرت اور جبلی تقاضے سدا سے ایک سے رہے ہیں اور آگے بھی جاری رہیں گے کسی قدر تغیر کے ساتھ!
گرینڈ فیملی کے چار کردار۔ جن کے گرد ناول کی کہانی گھومتی ہے۔ مذکورہ کردار ایسے نہیں جن میں مزاج، جذبات اور نفسیات سے جڑے تلاطم ٹھاٹھیں مارتے ہیں یہ تو ایسے مومی مجسمے ہیں جو صرف اور صرف اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔
پہلا کردار موسیو گرینڈ کا ہے جو ایک زمانہ میں کوپر ہوا کرتا تھا آج وہ ایک پُر اسرار شخصیت لیے ہوا ہے اور گاؤں کے ہر عام و خاص کی گفتگو کا محور ہے۔ اور کیوں نہ ہو، گرینڈ نے اپنے گرد ایک حصار جو کھینچ رکھا ہے جسے سامیر کے لوگ تو کجا اس کی بیوی اور بیٹی بھی اس کی عجیب و غریب برتاؤ کو نہیں سمجھ پاتے۔ گرینڈ جو ایک معمولی سا کوپر تھا کب انگور کے باغ (تاکستان ) اُگانے لگا، اپنی خواہشات کا غلام بنتا، لالچ اور کنجوسی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا، ان کمزوریوں اور کجیوں کا ادراک شاید گرینڈ کو بھی نہ ہوا۔
اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے اوصاف کا مالک انسان پیسے کا بندہ اور نفرت سے محبت رکھتا ہے۔ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی صرف ایک موم بتی جلانے کے لیے ترسا تا رہتا ہے، روزمرہ کے معمولی خرچ اور کھانے پینے کی چیزیں وہ خود تقسیم کرتا ہے، اگر مہمان آ جائے تو اپنی ملازمہ کے حصے کی روٹی اُس سے چھین لیتا ہے۔ رات کو مقفل کمروں میں جا کر اپنی دولت یعنی لکشمی دیوی کا دیدار کر کے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ وہ اپنی پرانی، خستہ اور بد نما حویلی کے ان کمروں میں موجود بے تحاشا دولت کا اپنی بیوی اور بیٹی کو احساس تک نہیں ہونے دیتا۔ بظاہر وہ اپنی بیٹی سے محبت کرتا ہے مگر اُس کے خرچ کے پیسے بھی حیلے بہانوں سے خود اینٹھ لیتا ہے۔ گرینڈ کے لیے صرف اور صرف ایک چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ہے دولت اور سونے کے سکے جنھیں دیکھنے سے اُس کی آنکھیں نہیں تھکتیں۔
گرینڈ اپنی بیوی کی بیماری پر افسردہ ہوتا ہے مگر یہ سوچ کر کانپ جاتا ہے کہ اگر طبیب کو بلایا تو اُس کی دولت کے انبار کم ہو جائیں گے۔
یہ بے حسی آخر گرینڈ میں کیوں ہے اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ اس نے زمانے کی سختیاں جھیلی تھیں، بطور کوپر اُس نے ناگوار حالات کا مقابلہ کیا تھا۔ نیوٹن کے قانون کے مطابق ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے اور بلا شبہ گرینڈ کا یہ ری ایکشن شدید تھا اور الٹی طرف بھی۔
ناول کا دوسرا کردار گرینڈ کی بیوی (مادام گرینڈ) بھی ایک حصار میں مقید عورت ہے۔ وہ ازل سے فرمانبرداری کے قفس میں مجبور چڑیا کی مانند ہے۔ اپنے شوہر کی اطاعت اُس نے خود پر طاری کر لی ہے۔ ایک ایسی عورت جو اپنے شوہر کی محبوبہ نہیں ہے بلکہ اس کے شوہر نے اپنے دل کے خانے میں بے حد و حساب فرانکس کو دے رکھی ہے۔ وہ ایک ایسی بد قسمت عورت ہے جو اپنا حق نہیں مانگ سکتی، چاہے بھی تو اپنی بات اپنے شوہر کے سامنے نہیں رکھ سکتی، اپنے لاڈ، چاؤ اور ناز نخرے نہیں اُٹھوا سکتی، چیخنا چلانا چاہے تو چلا بھی نہیں سکتی۔ وہ ساری زندگی خود بھی دبی رہی اور اپنی بیٹی کو بھی یہی کچھ سکھایا۔
تیسرا کردار ”یوجین“ ۔ گرینڈ فیملی کی اکلوتی تئیس سالہ بیٹی جو ساری عمر اپنے باپ کی شفقت سے محروم رہی۔ اُس نے ساری زندگی اپنی بد نما اور بھدی حویلی سے باہر قدم نہیں رکھا۔ وہ ایک کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر باہر کی دنیا دیکھتی تاکتی رہتی اور سلائی کڑھائی کے کاموں میں جُتی رہتی۔ ایسے میں اُس کے چچا زاد ”چارلس“ کی آمد اُس پر سِحر طاری کر دیتا ہے اس کی وجہ واضح ہے کہ اگر انسان کو گھر سے بھر پور محبت اور اپنائیت کا احساس نہ ملے تو وہ اپنی زندگی میں آنے والی پہلی محبت کی پھوار کو غنیمت سمجھتا ہے اور خود کو خوش قسمت انسان۔
یوجین بھی اب ایک زنجیر سے بندھ جاتی ہے اور وہ ہے چارلس سے بے لوث محبت۔ چارلس اور یوجین میں ’درد‘ کا تعلق اُن کو آپس میں جوڑتا ہے، اپنے والد کی موت کے غم میں ڈوبا ہوا چارلس۔ اور قیدِ تنہائی اور سرد رویوں کی شکار یوجین۔
یوجین کی محبت کی انتہا تب دیکھی جا سکتی ہے جب وہ چارلس کی بے وفائی کے باوجود اُس کی مالی مدد کرنے سے انکار نہیں کرتی۔ دونوں باپ بیٹی اپنی پسندیدہ چیز کے عشق میں ایک دوجے کے مقابل آ جاتے ہیں۔ گرینڈ جو یوجین سے چارلس کا دیا ہوا واحد تحفہ ہتھیانا چاہتا ہے جس پر سونے کے سکے جڑے ہیں اور دوسری طرف یوجین جو ہر قیمت پر اپنے محبوب کا تحفہ بچانے کے لیے خود کو چاقو سے مار ڈالنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔
یوں گماں ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے سیاروں کی مانند یہ خاندان اپنے محدود مداروں کے گرد چکر کاٹنے پر مجبور ہے اور ان مداروں کے چنگل سے باہر نکلنے کی کوشش اُن کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
گرینڈ کے عشق کی انتہا صرف دولت۔
مادام گرینڈ کا مدار اپنے شوہر کی اطاعت۔
اور یوجین کے لیے بے وفا چارلس سے عقیدت اور لازوال محبت کہ وہ کسی اور سے شادی کرنے کے باوجود خود کو کہانی کے چوتھے کردار چارلس کی ملکیت سمجھتی ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ یوجین کو عزت ِ نفس کے آداب نہیں سکھائے گئے اور اِسی بنا پر وہ اپنے محور کے گرد چکر لگانے پر مجبور ہے۔
بالزاک کی اِس تحریر سے ہر کوئی اتفاق کر سکتا ہے کہ اِس طرح کے کردار ہمیں حقیقی زندگی میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنے کسی جنون کی وجہ سے خود کو برباد کر لیتے ہیں۔ گرینڈ ایک ادنیٰ سا کوپر تھا اور اُس کا پیشن صرف روپیہ پیسہ تھا اور یہی پیشن جب جنون کی راہ اختیار کر گیا تو وہ کہیں کا نہ رہا۔ یوجین نے بھی جان بوجھ کر ایک لالچی انسان سے شادی کر کے خود کو تباہ کیا، اور مادام گرینڈ نے ساری زندگی چپ کا روزہ رکھ کے نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ یوجین کے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔
اور رہی بات چارلس کی تو وہ اپنے چچا (گرینڈ) سے اُس کی فطرت کی وجہ سے خفا تھا مگر بالآخر وہ خود بھی دولت کا پجاری بن گیا۔
سچی خوشی سے محروم ہونے کے لیے اِس طرح کا کوئی حصار بھی کافی ہے، اس لیے آپ بھی اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہ ہر چیز اعتدال میں رہے وگرنہ:
شک تو تھا کہ محبت میں خسارے
ہوں گے
یقین نہ تھا کہ سارے ہی ہمارے
ہوں گے


