روزمرہ کی نفسیات
تخلیق: صادقہ نصیر
تبصرہ: نعیم اشرف
بدین (سندھ ) کا باشندہ اور میرا سابق رفیقِ کار ابو بکر لغاری (فرضی نام) آج کل لاس ویگس (امریکہ) میں رہتا ہے۔ اس نے مجھے چند ماہ پہلے خبر دی کہ وہ سخت پریشان ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی میں طلاق ہونے جا رہی ہے۔ میاں بیوی کے تین بچے ہیں۔ میں نے اس کو فی الحال رُک جانے اور دماغ ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا۔
لغاری سے میری پہلی ملاقات دو دہائی قبل ان دنوں ہوئی جب میری تعیناتی حیدرآباد سندھ میں تھی۔ لغاری سندھ کے ایک متمول کنبے کی واحد اولاد ہے۔ اس کے والد فوت ہو چکے تھے اور وہ حیدرآباد میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُن دنوں اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ ایک سال بعد اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ کچھ عرصے بعد میری تعیناتی اسلام آباد ہو گئی مگر ہمارا رابطہ قائم رہا۔ پھر ایک دن اس نے بتایا کہ اس کی بیوی نے اس کو بتائے بغیر اپنے زیورات بیچ دیے ہیں۔
میں نے اس کو مشورہ دیا کہ الزام بیوی کے سر دھرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیقات کرنا بہتر ہے۔ پانچ چھ ماہ بعد اس نے اطلاع دی کہ اس کو بیوی کے کردار پر شک ہے۔ میں نے پھر لغاری کو ٹھنڈا کیا اور مشورہ دیا کہ شک رشتوں کا دشمن ہے۔ تم لوگوں میں جو بھی مسئلہ ہے سکُون سے بیٹھ کر بات چیت سے حل کرؤ۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس بات کا کیا اثر ہوا مگر تین ماہ بعد لغاری نے مجھے بتایا کہ اس نے بیوی کو طلاق دے دی ہے اور وہ بیٹی سمیت ماں باپ کے پاس کراچی چلی گئی ہے۔
ایک سال کے بعد معلوم ہوا کہ لغاری نے دوسری شادی کر لی ہے۔ والدہ کی وفات کے بعد لغاری حیدرآباد سے اسلام آباد اُٹھ آیا۔ یہ آٹھ سال اُدھر کی بات ہے اس وقت ان کے ہاں دو بیٹے تھے اور میاں بیوی امریکہ ہجرت کرنے کا سوچ رہے تھے۔ امریکہ آ کر ان کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور زندگی بظاہر خوشگوار تھی۔ تین سال قبل جب میں لغاری سے ملنے لاس ویگس گیا تو ان دنوں وہ ایک لِکر اسٹور چلا رہا تھا۔ میں نے ویگس میں دو ہفتے قیام کیا۔
میری رہائش اسٹور سے ملحقہ ایک مہمان خانے میں تھی۔ اپنے قیام کے دوران میں نے لغاری کو ایک دفعہ پھر پریشان دیکھا۔ ایک تو وہ صفائی بہت زیادہ کرتا تھا۔ حتیٰ کہ مجھے کاؤنٹر پر بٹھا کر ایک وقت میں کم از کم ایک ڈیڑھ گھنٹہ واش روم کی صفائی میں گزارتا اور دوسرے اپنی بیوی کی برائیاں جی بھر کر کرتا تھا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اس کی بھلا وجہ صفائی ستھرائی اور بیوی کی برائی کی عادت حیدرآباد میں بھی تھی۔ لغاری نے بتایا کہ اس نے گزشتہ چھ سالوں کے دوران ماسوائے ہفتہ وار چھٹیوں کے کوئی تفریحی چھٹی نہیں کی۔
میں نے رخصت ہوتے وقت لغاری کو کام سے بریک لینے اور اور اپنا مکمل چیک اپ کروانے کا مشورہ دیا۔ چند ماہ قبل جب اس نے دوسری بیوی کو طلاق دینے کی بات کی تو میں نے اس کی بیوی سے اور ایک مشترکہ دوست سے بات کی۔ مجھے معلوم ہوا کہ لغاری مایوس رہتا ہے اور بیوی کو طلاق دے کر خود کشی کی باتیں بھی کرتا ہے۔ میں نے لغاری کی بیوی کو اعتماد میں لے اس سے لغاری کو دھمکی دلوائی کہ اگر اس نے اپنا نفسیاتی معائنہ نہ کروایا تو وہ بچوں کو لے کر شیلٹر ہوم چلی جائے گی۔
اس کنبے کی خوش قسمتی جانیے کہ بات لغاری کی سمجھ میں آ گئی۔ آج کل اس کی سائیکو تھراپی چل رہی ہے۔ جس میں ایک دو سیشن کے بعد اس کی بیوی کو بھی بلایا جاتا ہے۔ خبر یہ ملی ہے کہ ابو بکر لغاری ”او سی ڈی“ (OCD=OBSSESSIVE COMPULSIVE DISORDER) اور پیرا نائے (PARANOID) میں مبتلا ہے۔ علاج نہ کروانے اور الکوحل کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں یہ امراض اب کلینکل ڈپریشن میں تبدیل ہو رہے تھے۔ لمحہِ موجود میں وہ بہتر محسوس کرتا ہے۔ شادی ٹوٹنے بچ گئی ہے اور گھریلو ماحول بہتری کی طرف رواں دواں ہے۔
نفسیاتی عارضوں کی وجہ سے انسانی رویوں میں غیر معمولی تبدیلیوں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے کی اس طرز کی ان گنت کہانیاں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں۔ ہماری نفسیات، ہمارے وراثتی اوصاف ہمارے ماحول اور ہماری سکھلائی سے تشکیل پاتی ہیں۔ ہماری نفسیات میں شامل عناصر میں عدم توازن پیدا ہو جانے سے ہمیں نفسیاتی عارضے لاحق ہو جاتے ہیں۔ چونکہ ہمارے روئیے ہماری نفسیات ہی کا مظاہر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہم خود اور ہمارے ارد گرد رہنے والے افراد اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
اور ستم یہ ہے کہ آگاہی نہ ہونے یا ان عارضوں کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ہم اپنی اور اپنے ساتھ جڑے افراد کی زندگیوں کو جہنم بنا کر تمام عمر ایک اذیت میں تو گزار دیتے ہیں مگر ان نفسیاتی عارضوں کا علاج نہیں کرواتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تعلیم عام نہ ہونے کی وجہ سے ہم جیسے پس ماندہ معاشروں کی اکثریت ماہرین ِ صحت سے مشورہ کرنے کی بجائے جادو ٹُونے اور گنڈے تعویز لینے چل پڑتے ہیں۔ ان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جسم کے دیگر اعضاء کی طرح دماغ میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔
اور اس کے ماہرین بھی آج کل کم و بیش ہر جگہ موجود ہیں۔ عام لوگوں کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ کو گنڈے تعویز اور دم کیا ہوا پانی دینے والے پیر فقیر ملا اور دربارِ عالیہ پر نشست افروز عامل اور مجاور بیمار پڑنے پر خود بہتر سے بہتر معالج سے اپنا علاج کرواتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک بھی چلے جاتے ہیں۔
کینیڈا کی ماہر نفسیات، ادیبہ اور دانشور صادقہ نصیر کی زیرِ نظر کتاب: ”روز مرہ کی نفسیات“ انہی انسانی رویوں اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل کی تفصیلی رُوداد ہے۔ کتاب میں نفسیاتی عارضوں اور انسانی رویوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو نہایت آسان زبان اور سہل انداز میں اس طور سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری کی دلچسپی بھی ماند نہیں پڑتی اور بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ کتاب کو 21 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب میں شامل اکثر مضامین آن لائن اردو میگزین ’ہم سب ؛ پر شائع ہو چکے ہیں۔
مضامین کو قارئین میں اس قدر پذیرائی ملی کہ ان کو کتابی صورت میں یکجا کرنا ضروری سمجھا گیا۔ کتاب کے اہم مضامین میں : مشاہدہِ باطن یا دروں بینی۔ ذہنی صحت اور جسمانی صحت کا تعلق۔ پیری فقیری اور گنڈے تعویذ کے کاروبار کی نفسیات۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن (زچگی کے بعد کی یاسیت) ۔ کام چوری کی نفسیات اور وجوہات۔ کیا جپھی (ہگ) محبت کی دوا ہے؟ شادی کا بندھن ٹوٹنے کی نفسیاتی وجوہات۔ ٹین ایج کے نفسیاتی بحران (چار اقساط میں ) ۔
ذہنی امراض کا علاج اور سیلف ہیلپ (اپنی مدد آپ کے تحت معالجہ) اور گرین زون تھراپی شامل ہیں۔ ان مضامین میں ان انسانی روّیوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے جو دراصل کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں مبتلا ذہنی مریض نہ صرف خود کو بلکہ اپنے دوستوں اور قریبی رشتوں کو ایک مستقل اور لا یعنی اذیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔
کتاب کا دیباچہ معروف نفسیات داں، ادیب، شاعر اور گرین زون فلسفے کے بانی ڈاکٹر خالد سہیل نے لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے دنیا بھر کے عصر حاضر کے ادیبوں اور دانشوروں کی توجہ ایک اہم نقطے کی طرف دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ”معاشروں کے ادیبوں اور دانشوروں پر یہ سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے اہم موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جدید علوم سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ یہی عمل سماجی شعور کو بڑھاوا دیتا ہے اور انسانی ارتقاء کی اگلی منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“
صادقہ نصیر بطور ادیبہ اور شاعرہ اپنی حیثیت پہلے ہی سے منوا چکی ہیں۔ ان کے افسانے اور نظمیں، ماہِ نو، تخلیق، اخبارِ خواتین اور دیگر ادبی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ”پہلے نام کی موت“ اور ہائیکو اور دیگر نظموں کی کتاب ”سورج کے ساتھ رقص“ بھی شائع ہو کر ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ میں صدیقہ نصیر کو اردو قارئین کے لیے ”روز مرہ کی نفسیات“ جیسی کار آمد کتاب کا خوُبصورت تحفہ دینے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔



