مفت مشوروں کی چلتی پھرتی دکانیں


 

نصیحت یا مشورہ وہ چیز ہے جو چونکہ مفت ملتا ہے اس لئے لوگ دل کھول کر دیتے ہیں اور بلا تفریق ہر ایک کو دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ناصح بننے کا اس قدر شوق ہوتا ہے کہ اپنے تجربات کی روشنی کا ٹیبل لیمپ روشن کر کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کی مٹھی کھول کر زبردستی ایک آدھی نصیحت ایسے پکڑاتے ہیں جیسے پرانے وقتوں میں بڑے بوڑھے بچوں کی مٹھی کھول کر ٹافی یا ایک روپے کا سکہ پکڑا کر زور سے مٹھی بند کر دیا کرتے تھے تاکہ وہ چیز بچوں کے ننھے منے ہاتھوں سے پھسل کر گر ہی نہ پڑے۔

ہمارے یہاں مشوروں کی ٹافیاں اور نصیحت کا لولی پاپ ہر انسان اپنی پٹاری میں سنبھالے بیٹھا ہے اور مفت بانٹتا پھرتا ہے۔ چونکہ انٹرنیٹ، یو ٹیوب کا زمانہ ہے اس لئے اب وہ وقت دور نہیں جب ”کونسلنگ“ کے نام پر باقاعدہ مشورہ سینٹر بھی بنائے جائیں گے قوی امکان ہے کہ نفسیات دانوں کی طرح مشورہ سینٹر بھی کھولے جائیں گے اور ہمارے سیدھے سادھے عوام کو جب اس طرح کے فیس والے مشورہ سینٹرز کا علم ہو گا تو بھاگے بھاگے وہ مشورے ”خریدنے“ جائیں گے جن کو عام طور پر وہ مفت ہونے کی بنا پر بڑی نخوت سے رد کر دیتے ہیں۔ خیر یہ تو ان امکانات کی بات ہو رہی ہے جو ابھی تک حقیقت کی پہنچ سے شاید تھوڑا دور ہیں۔

بات ہو رہی تھی مفت مشورہ بانٹنے والے خواتین و حضرات کی کہ وہ کس طرح لوگوں کے مزاج اور موڈ کے بر خلاف ہر وقت مفت مشوروں کی ”پورٹ ایبل“ دکانیں اپنے ساتھ ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ اور کس طرح اپنے مشورے زبردستی ہر کسی پر تھوپتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان مشورہ دانوں کی جانب سے کسی ”معصوم شکار“ کو شیشے میں اتارنے سے قبل یعنی اپنے نادر مشوروں کی پٹاری کھولنے سے ذرا ہی پہلے بڑی راز داری سے اس کا ہاتھ تھام کر نہایت دلگیر انداز میں پہلے آپ کی خیر خواہی کا دم بھرا جاتا ہے، پھر سرگوشی کے اسٹائل میں بات شروع کی جاتی ہے جو ہوتے ہوتے اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ اس مشورے اور نصیحت سے وہ لوگ بھی بہرہ ور ہو جاتے ہیں جنہیں عام طور پر کم سنائی دینے کی شکایت ہوتی ہے۔

مشورہ دینے کا شوق یا زبردستی کے ناصح بننے کا شوق ہمارے یہاں تقریباً سبھی کو ہے اس کے لئے تجربے یا عمر کی کوئی قید نہیں ہے ماشاء اللہ سب حسب استطاعت، حسب عادت یا حسب تجربہ اپنے قیمتی و نادر نصیحتوں اور مشوروں سے نوازتے نظر آتے ہیں۔

عام طور پر کیونکہ ہم فراغت پسند قوم واقع ہوئے ہیں اس لئے ہم اپنے وقت کو ضائع تو کرتے ہی ہیں لیکن باقیوں کو بھی اپنی طرح فارغ ہی سمجھتے ہیں۔ کبھی کسی واقف کار کو گلی میں روک کر سلام دعا لینے کے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ کے ان سے ان کے مسائل کے بارے میں دریافت کرنا اور انہیں اپنی رائے سے نوازنا ان جیسے عاقلین کا جیسے مقصد حیات ہوتا ہے جو مفت مشورہ بانٹنے کے شائق ہوتے ہیں۔

حالانکہ مہذب معاشروں میں کسی کو روک کر بے وجہ گپ بازی کرنا یوں بھی بنیادی ادب آداب کے خلاف ہوتا ہے بات سلام دعا تک اور حال احوال تک رہے تو کوئی حرج نہیں بلکہ احسن اقدام ہے مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص کو روک کر آپ اس سے حالات حاضرہ پر اپنے بے لاگ تبصرے شروع کرتے ہیں اور کسی معاملے پر اس کی لا علمی پر باقاعدہ اس کی گوشمالی شروع کر دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ وہ بیچارہ آپ کی بے تکان گفتگو کو بار بار گھڑی میں ٹائم دیکھ کر اشارتاً آپ ہر یہ جتانا چاہ رہا ہے کہ بھائی میں ذرا جلدی میں ہوں پھر کسی وقت سہی، مگر مروت اور لحاظ کی وجہ سے ان کے آگے اظہار نہیں کر پاتا اور یوں اسے آپ کی بے جا نصیحت کا کڑوا گھونٹ حلق سے اتارنا ہی پڑتا ہے۔

عام طور پر ان مشورہ نوازوں کا خاص شکار محلے کے بیروزگار نوجوان یا پھر ان کے والد صاحبان ہوتے ہیں اس لئے اٹھ کر ناشتہ کرنے کے بعد محلے کی مشہور و معروف کریانہ کی دکان پر جا موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے پوچھے بھلے آدمی! بشیر کریانہ سٹور پر تمہارا کیا کام؟ آگے سے فوری جواب آتا ہے ”ارے بھائی وقت گزاری کے لئے اور کیا؟“

کوئی انہیں یہ بتانے کی ہمت نہیں کر پاتا کہ آپ کی وقت گزاری کسی کے وقت کی بربادی کا باعث بھی ہو سکتی ہے، خیر یہ صاحب خراماں خراماں چلتے ہوئے راستے میں مشتاق نگاہی سے ہر ایک چہرے کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے (مبادا کسی ضرورت مند کو ان کا نادر مشورہ یا نصیحت درکار ہو اور وہ اس فیض سے محروم نہ رہ جائے ) ہر کس و ناکس کی احوال پرسی کرتے کرتے بالآخر بشیر صاحب کے کریانہ سٹور پر جا پہنچتے ہیں پھر اپنے مطلوبہ شکار کو پہلے سے ہی وہاں پا کر طبیعت نہال سی ہو جاتی ہے۔ گھیرنے سے پہلے اس غریب کی مزاج پرسی کچھ یوں کی جاتی ہے۔

”ارے بھائی شکور صاحب! کیسے ہیں بہت کمزور دکھائی دے رہے ہیں“
اگلے صاحب فرماتے ہیں
”بس میاں کیا پوچھتے ہیں مہنگائی نے جینا دو بھر کیا ہوا ہے اوپر سے دوا دارو بھی ساتھ ہو گیا“
بس یہیں سے ہی ان صاحب کی رگ مشورہ نوازی پھڑک اٹھتی ہے۔

” اوہو تو یوں کہیے ناں کہ معاشی پریشانیوں کی وجہ سے آپ نہ صرف پریشان ہیں بلکہ بیماری میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں۔“

آپ ایک کام کیوں نہیں کرتے اپنے بڑے صاحب زادے کو کوشش کر کے باہر بھیج دیجئے نا ایسے ہی تعلیم پر پیسے ضائع کیوں کر رہے ہیں۔ کون سا پڑھ لکھ کر اس بھلے مانس نے کہیں کمشنر لگ جانا ہے؟

”ارے بھیا ہم نے ایک اور جاننے والے کو مشورہ دیا تھا ان کا بیٹا اب ماشاءاللہ سے سعودی عرب میں ڈرائیور بنا ہوا ہے لاکھوں کما رہا ہے لاکھوں۔“

کوئی ان سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کر پاتا کہ ایسی بات ہے تو آپ کیوں نہیں اپنے لخت جگر کو دیار غیر کی راہ دکھاتے جو محلے میں آوارہ گردی کرتا ہے اور سارا سارا دن کبوتر بازی میں مصروف رہتا ہے۔

اگلے صاحب ٹالنے کے لئے یوں گویا ہوتے ہیں

” جی مگر باہر بھیجنے کے لیے بھی تو پیسہ درکار ہے وہ کہاں سے لاؤں۔ کسی سے قرضہ بھی تو نہیں لیا جا سکتا“

اگلا مشورہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کچھ یوں عنائیت ہوتا ہے جیسے اگلا بندہ کوئی بے وقوف اور گھامڑ ہو اور یہ دنیا میں بچ جانے والے آخری عقل مند، لو بھیا!

”اس میں بھلا پریشان ہونے کی کیا بات ہے“ ؟
”کیوں؟ کیا آپ دیں گے اتنا قرض، شکور صاحب کو“
کریانہ والے بشیر انکل بھی ایک چبھتا ہوا سوال اٹھا کر گویا کار ثواب میں اپنا حصہ پکا کرتے ہیں۔
مشورہ نواز صاحب دکاندار کی اس جسارت پر جی بھر کے بد مزہ ہوتے ہیں
ارے بھائی میرے پاس کہاں سے آ گئے اتنے پیسے؟
اگر ہوتے تو اپنے لڑکے کو نہ بھیج دیتا؟ ساتھ ہی اپنی مجبوری کے بارے میں ٹھوس توجیہہ پیش کی جاتی ہے۔

ہم تو بس چاہتے ہیں شکور میاں کے حالات بھی بدلیں اور اس مہنگائی کے دور میں عزت سے گزر بسر کریں بغیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔

اتنے میں چائے والا لڑکا ہاتھ میں ایک پرچہ لئے چلا آتا ہے اور صاحب مشورہ کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔
ارے بشیر میاں! یہ کیا ہے بھلا دیکھو تو ہمارا نظر کا چشمہ تو گھر ہی رہ گیا ”

یہ آپ کے ادھار کا کھاتہ ہے شاید، چائے کا بل جناب! پورا پانچ ہزار آپ کے ذمہ واجب الادا ہے۔ اور ساتھ نوٹ بھی درج ہے

” گزشتہ ادائیگی سے پہلے ادھار پر مزید چائے نہیں ملے گی“
مشورہ نواز صاحب دل ہی دل میں جی بھر کے خود کو کوستے ہیں

ارے بھائی کیا ضرورت تھی اس موئے بشیر سے پرچہ پڑھوانے کی؟ وہ کم بخت تو سارے محلے کو سنا سنا کے پڑھ رہا ہے۔

اچھا بھئی چھوڑو اس فضول بات کو، فی الحال تو ہم بہت اہم مدعے پر بات کر رہے ہیں۔
اس وقت ہم سے زیادہ شکور میاں کا مسئلہ اہم ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ درد دل جو شکور میاں کے لئے آپ کے دل میں جا گزیں ہے اس کو آپ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کیوں نہیں دکھاتے۔

”جی تو میں کہہ رہا تھا“
مشورہ نواز صاحب دوبارہ سلسلہ کلام وہیں سے جوڑنے کی کوشش فرماتے ہیں جہاں سے گفتگو کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔
شکور میاں گھبرا کر بعد میں بات کرنے کا کہہ کر جان چھڑاتے ہیں۔
”ابھی میں چلتا ہوں گھر میں سودا ختم ہے وہاں انتظار ہو رہا ہو گا“
ارے بھیا پانچ منٹ کی بات ہے بس سنتے جاتے تو تمہارا ہی بھلا ہوتا۔
”جی جی میں ضرور سنوں گا ابھی ذرا جلدی میں ہوں“

”چلیں ضرور آ جانا شام میں، بشیر بھائی کی دکان پر ہی موجود ہوتا ہوں میں“ پھر شکور صاحب کو الوداعی جملوں میں بھی ”اللّٰہ حافظ“ کہنے کی بجائے کچھ یوں گویا رہتے ہیں

”سمجھائیے گا ضرور صاحب زادے کو۔ باہر جائے بغیر کوئی چارہ نہیں، کچھ نہیں رکھا اس پڑھائی وڑھائی میں“

ایسے فقرات شکور میاں کا اس وقت تک پیچھا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ تیز تیز چلتے ہوئے اپنی گلی میں داخل نہیں ہو جاتے۔

یہاں بات کچھ ہلکے پھلے انداز میں بیان کی گئی ہے مگر یہ کافی سنجیدہ نوعیت کا موضوع ہے آپ کے مشورے بہت قیمتی ہیں ان کو یا تو اپنے تک رکھیں یا صرف اس وقت دیں جب آپ سے کوئی مشورہ مانگے اور نصیحت بھی اس وقت کریں جب کوئی آپ کی نصیحت پر کان دھرے۔

ہر وقت کے مشورے دینے کی عادت یا ناصح بنے رہنے کا شوق بعض اوقات خود آپ کے لئے بھی مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔

مشورہ بھی ایک امانت ہے اس لئے جب آپ سے کوئی مشورہ مانگے تو پوری دیانت داری اور خوش دِلی سے بہترین مشورے سے نوازیں تاکہ لوگوں کا واقعی بھلا ہو کسی ضرورت مند کو مفید مشورے اور اچھی نصیحت سے نوازنا بھی ایک صدقہ ہے مگر بے کار کے مشورے اور بے جا نصیحتوں سے نہ صرف آپ دوسروں کا وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ لوگوں پر اپنا شخصی تاثر بھی خراب کرتے ہیں اور ان ”متاثرین“ کا بھی اعتماد ہمیشہ کے لئے کھو بیٹھتے ہیں جو آپ کے مشوروں پر عمل کر کے کسی قسم کا نقصان اٹھاتے ہیں۔

Facebook Comments HS