تعلیم کے بدلتے ہوئے نئے زاویئے


 

آج کے دور میں تعلیم ایک ایسے نئے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں روایتی اور فاصلاتی تعلیمی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج نے ایک نیا اور منفرد تعلیمی منظرنامہ تخلیق کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جہاں ایک طرف تو کتاب کی اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو دوسری جانب کرونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم کے فروغ نے ہماری سوچوں کو تبدیل کر کے دنیا بھر میں ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی صرف وقتی نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات طویل مدتی اور مستقل ہیں، جو مستقبل میں ہمارے تعلیمی ڈھانچے کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ دنیا میں آن لائن تعلیم کے اس فروغ نے تعلیم کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا ہے جہاں پہلے تعلیمی مواقع صرف مخصوص شہروں اور اداروں تک محدود تھے وہیں آج طلبا دنیا کے بہترین اساتذہ اور مواد تک محض ایک بٹن کلک کرنے کی دوری پر موجود ہیں۔ روایتی تعلیم سے فاصلاتی تعلیم اور اب مصنوعی ذہانت تک کا یہ تعلیمی جاری سفر نہیں معلوم ابھی اور کہاں تک پہنچے گا؟ اس کے ساتھ ساتھ ہر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا موجودہ آن لائن تعلیم اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم ہماری روایتی تعلیم کا بہترین متبادل بن سکتی ہے؟ کیا کمپیوٹرز اور موبائل ہماری درسی کتابوں کی جگہ لے سکتے ہیں؟ کیا کتاب کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے؟ کیا مصنوعی ذہانت سے کتاب کی ضرورت ختم ہو جائے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی نے معلومات کے حصول کے طریقوں کو ضرور تبدیل کیا ہے لیکن کتابوں کی اہمیت ختم نہیں کی جا سکی دونوں ذرائع کے اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے فوائد ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کی جلد رسائی ممکن ہوتی ہے۔ جدید اپ ڈیٹڈ اور تازہ ترین معلومات جلد دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ملٹی میڈیا، ویڈیو، آڈیو، اور انٹر ایکٹو مواد کے ذریعے پڑھنا اور سمجھنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ جبکہ کتابیں گہرائی سے مطالعہ اور غور و فکر کے لیے ایک مکمل اور بہترین ذریعہ ہے۔ کمپیوٹر کی نسبت کتابوں کا مطالعہ زیادہ توجہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ کتابیں علم، ادب، تاریخ اور ثقافت کا وہ خزانہ ہیں جو نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ کتابیں ان جگہوں پر بھی مفید اور کار آمد ہوتی ہیں جہاں بجلی اور انٹرنیٹ کی جدید سہولت تا حال میسر نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ کمپیوٹرز نے معلومات کے حصول کو کتابوں کی مدد سے ہی آسان اور تیز تر بنا دیا ہے لیکن کتابوں کی اہمیت ہمیشہ قائم رہے گی۔ دونوں ذرائع مل کر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور تعلیم و تحقیق میں ان کا ساتھ ساتھ ہونا بے حد ضروری ہے۔ کمپیوٹرز کا تمام تر مواد کتابوں کا ہی مرہون منت ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کتابوں کی اہمیت میں کچھ کمی ضرور آ سکتی ہے۔

تعلیم کے نئے ورژن اور منظرنامے جدید دنیا کی ضروریات اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ یہ نئے منظر نامے تعلیمی نظام، طریقہ تدریس، اور طلبہ کی ترقی کے حوالے سے اہم تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہاں کچھ اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ دنیا بھر میں روایتی تعلیم اور فاصلاتی تعلیم کے بعد ایک جانب تو ڈیجیٹل اور ہائبرڈ تعلیم کے ذریعے آن لائن اور آف لائن تعلیم کے امتزاج کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ ای لرننگ پلیٹ فارمز اور ورچوئل کلاس رومز تعلیمی اداروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ذریعے ذاتی نوعیت کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ( مہارت ) سکل بیسڈ لرننگ کے ذریعے نصاب میں مہارت پر مبنی تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کیا جا سکے۔ عملی تعلیم کے لیے پراجیکٹ بیسڈ لرننگ اور انٹرن شپ یا عملی تربیت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ تیسری جانب مساوی اور جامع تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی مواقع کو ہر طبقے تک پہنچایا جا سکے۔ مختلف ذرائع سے طلبہ کے لیے سہولیات اور رسائی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ چوتھی جانب تخلیقی اور تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ بار بار سوال کرنا یا پوچھنا اہمیت حاصل کر رہا ہے۔ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل کے حل کی مہارت کو بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ رٹا بازی اور رٹے رٹائے طریقے تعلیم کی بجائے مفہوم پر مبنی تعلیم کی ترویج کی جا رہی ہے۔ پانچویں جانب تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو شامل کیا جا رہا ہے اور نئے نئے ٹولز کو تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ فن کو ماحولیاتی اور سماجی ذمہ داریوں ور ان کے مسائل پر آگاہی فراہمی کرنے کو بھی جدید تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کو تعلیمی نظام میں شامل کر کے (SDGs) کو تعلیمی نظام میں ضم کیا جا رہا ہے۔ ساتویں جانب تعلیم کو اسکول، مدرسہ یا کسی ادارے تک محدود رکھنے کی بجائے زندگی بھر سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کورسز اور سرٹیفکیٹ پروگرامز کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ یہ نئے منظرنامے اور وژن طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے مواقع اور چیلنجز فراہم کرتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں دنیا کے بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ تعلیم کے یہ بدلتے زاویے کسی چیلنج سے کم نہیں ہیں۔

آج مصنوعی ذہانت (اے آئی ) تعلیمی نظام میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہی ہے اور یہ روایتی ڈگریوں کی اہمیت میں کمی کے ساتھ ساتھ تعلیم میں جدت اور مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا کردار، مہارتوں کی اہمیت، ملازمت اور جاب مارکیٹ کا رتقاء اور دوسرے کئی مختلف پہلووں سے تعلیم کو بہتر بنا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیمی نظام کو نہ صرف زیادہ موثر اور جدید بنا رہی ہے بلکہ تعلیم کو تمام طبقات تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے لیکن اس کے موثر استعمال کے لیے تربیت یافتہ افراد اور مضبوط پالیسیوں کے ساتھ ساتھ وسیع اور اچھے مالی حالات یعنی مضبوط معیشت کی بھی ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک ایسی نئی شاخ ہے جو کمپیوٹر سائنس کے تحت ہی آتی ہے اور اس کا مقصد ایسی مشینیں اور نظام بنانا ہے جو انسانوں جیسا سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گویا سادہ لفظوں میں مصنوعی ذہانت وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے مشینیں اور کمپیوٹر انسانی ذہانت کی نقل کرتے ہیں یا کسی حد تک ان کا متبادل ہوتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مقصد مشینوں کو انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی آسان بنانا اور جدید اور فوری حل فراہم کرنا ہے۔ جو ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کا منظر نامہ قطعی طور بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا استعمال بیماریوں کی تشخیص، ذاتی تعلیم کے نظام، ڈیٹا تجزیہ، چیٹ بوٹس اور خود کار گاڑیوں تک جا پہنچا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت فاصلوں کو سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو تعلیم کو صرف ڈگری کے حصول کی جدوجہد سے نکال کر مہارت اور سکلز کی دنیا میں داخل کر دے گی۔ بلکہ مصنوعی ذہانت کے بعد تعلیم کی ڈگریوں کی اہمیت بدل رہی ہے۔ اگرچہ ڈگریاں اب بھی بہت اہم ہیں لیکن مستقبل میں مہارت پر مبنی تعلیم لائف لانگ لرننگ، آن لائن لرننگ زیادہ اہمیت اختیار کر لیں گی۔ افراد کو اپنی تعلیم کو نئے دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں یہ جدید تعلیمی منظر نامہ کس حد تک اور کب تک کامیاب ہو پائے گا؟ کیا ہمارا نوجوان اس مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا کر بے روزگاری سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یا پھر اس کے منفی استعمال کا شکار ہو کر اپنی انرجی ضائع کرتا ہے؟ یہ سب اب ہماری نئی نسل کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔

Facebook Comments HS