ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (حصہ اوّل)


پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغری صاحب یونیورسٹی آف تبریز، ایران میں فلسفے کے استاد اور جرنل آف فلوسوفیکل انویسٹی گیشن کے مدیر ہیں۔ مابعد جدید فلسفہ اور معاصر فلسفہ کی مباحث ان کی تحقیق کے موضوعات ہیں۔ علاوہ ازیں، فلسفۂ فن جیسے مضامین ان کی دلچسپی کے میدان ہیں۔ ناچیز کی محترم پروفیسر صاحب سے رسمی خط و کتابت رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایک برقی جریدے کے متعلقہ شخص سے معاصر فلسفی بیونگ چُل ہان کی کتب، تحاریر اور ان کے اسلوب سے روشناس کروانے کی غرض سے گفتگو کی جس کو بعد ازاں فارسی زبان میں تحریری شکل میں شائع کیا گیا۔ چونکہ میں بیونگ چُل ہان کو عہدِ حاضر کا اہم فلسفی اور ان کی تحاریر کو حسبِ حال فلسفہ سمجھتا ہوں، اس لیے فارسی تحریر کو اردو زبان میں منتقل کر کے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ طوالت کے باعث تحریر کو اقساط میں پیش کیا جائے گا۔ امید ہے آپ اس سے مستفید ہوں گے۔

بیونگ چُل ہان معاصر کورین نژاد جرمن فلسفی اور کلچرل تھیورسٹ ہیں۔ جدید معاشرت، جدید سماج اور ٹیکنالوجی کے فلسفہ اور انسانی نفسیات پر مرتب ہونے والے اثرات پر عمیق نظری کی حامل تحاریر شائع کروانے کی وجہ سے کافی معروف مفکر ہیں۔ موجودہ دور کہ جس میں کورین ڈرامہ سیریز اور کے۔ پاپ موسیقی کی وساطت سے لوگ کورین ثقافت سے آشنا ہور ہے ہیں، وہیں کورین نژاد جرمن فلسفی بیونگ چُل ہان کی منفرد فکر کو بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ جدید دنیا کے انتظام و انصرام کو سمجھنے کے لیے ہان نے انتہائی گہرائی میں جاکر مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور نتائج کو اپنی تحاریر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحاریر جدید دنیا میں درپیش نفسیاتی ٹارچر، فریڈم کے شاخسانے، ٹرانسپیرنسی، ڈیجٹلائزیشن اور نیو لبرل کیپٹلزم کے پیدا کردہ ڈھکے چھپے اور مبہم مسائل سے پردہ اٹھاتی ہیں۔

ان کی ایک مشہور کتاب بعنوان ’دی برن آؤٹ سوسائٹی‘ جدید سماج کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے ہمیں اپنے گرد و پیش پر غور و فکر پہ اکساتی ہے اور مقدمہ پیش کرتی ہے کہ آج کی جدید معاشرت اور نظمِ اجتماعی افراد کو عملِ فرسودگی کی آخری نہج تک جا پہنچاتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دلائل پیش کیے ہیں کہ معاصر جدید معاشرت کی حرکیات فرد کو ایک مخصوص قسم کے نفسیاتی دباؤ کا شکار کر کے اُسے محض حصولِ کامیابی کا متلاشی کارندہ بنا کر ہی دَم لیتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہم ہمہ وقت ایک نام نہاد ’مثبت سوچ‘ کو فروغ دینے کے کلچر میں دھنسے ہوئے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر اوقات خود کو نڈھال محسوس کرتے ہیں۔ دفتری کام کاج کے اوقات میں، ٹیلیویژن دیکھتے ہوئے یا کوئی و یب سائیٹ دیکھتے ہوئے۔ ہم پر مسلسل اس حکمیہ فقرے کی بوچھاڑ کی جاتی ہے کہ ہمیں کچھ نا کچھ کرنا ہے۔

ھان کی حالیہ شائع ہونے والی کتاب کا انگریزی ترجمہ ’دی کرائسس آف نریشن‘ ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح داستان گوئی جیسا نفیس رواج رو بہ زوال ہے جس سے سینہ بہ سینہ تفہیم و تاثیر کی منتقلی کانٹ چھانٹ کر کے تیار شدہ خلاصوں اور مختصر دورانیے کی تراشی گئی ویڈیوز کے آگے مغلوب ہو کر ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ اس کتاب میں ہان نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کیسے اب انسان اپنی زندگی کے زندہ تجربات کو بھی بیان کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان کے مقدمات کو متعارف کروانے کے لیے پروفیسر صاحب سے کی گئی گفتگو کا حاصل درج ذیل سطور میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال:سب سے پہلے کیا آپ ہمیں مشرقی فلسفے کا ایک اجمالی جائزہ پیش کر سکتے ہیں اور مزید یہ کہ وہ کون سے خصائص ہیں جو مشرق و مغرب کے فکر و فلسفے میں فرق قائم کرتے ہیں۔ اس کی بھی وضاحت درکار ہے؟

مشرقی اور مغربی فلسفے میں گہرا تفاوت پایا جاتا ہے۔ پہلا فرق تو یہ ہے کہ مشرقی فکر و فلسفہ میں انٹیوشن (جسے وجدان کہا گیا ہے ) کو ایک مرکزیت حاصل ہے اور ایمانیات و عقائد کو بھی علم کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے برعکس مغربی فلسفہ میں تعقل پسندی، استدلال اور تجرباتی غور و فکر کو ترجیحاً اولیت حاصل ہے۔ ان دونوں کے درمیان یہ ایک بڑا فرق ہے اور اسی سبب مشرقی فکر و فلسفہ میں عرفانی، متصوفانہ اور مذہبی جھلک پائی جاتی ہے جب کہ مغربی فلسفہ معقولات اور منطق و استدلال کو بنیاد بناتا ہے۔

مشرقی اور مغربی فکر و فلسفہ میں ایک اور بڑا فرق یہ ہے کہ مشرقی فلسفہ غیر منضبط ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں اس میں کوئی واضح فریم ورک یا سسٹم نظر نہیں آتا۔ بالعموم مشرقی فلسفہ، سیاسیاتی فکر اور فلسفۂ فن وغیرہ میں کوئی مختص اصول و ضوابط نہیں پائے جاتے۔ اس کے برعکس غالب مغربی فلسفہ میں باقاعدہ سسٹم موجود ہیں جن کو ملحوظِ خاطر رکھتے فلاسفہ اپنے افکار کو آرگنائز کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہیگل کے ہاں جدلیاتی فکر کا ایک مضبوط نظام موجود ہے جس کی بنیاد پر اس نے مذہب، آرٹ، سیاسیات اور اخلاقیات کی درجہ بندی کی۔ مشرقی فلسفہ میں بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایک فلسفی مذہب کے بارے میں الگ طور سے بات کرتا ہے جب کہ سیاسیات اور آرٹ کے بارے میں ایک الگ انداز میں کلام کرتا ہے۔

ان دونوں کے درمیان ایک اور مقامِ تفاوت یہ ہے کہ مشرقی فکر و فلسفہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں حدود قائم کرتے ہوئے کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا، جبکہ مغربی فلسفہ میں اس کے عین الٹ معاملہ ہے۔ مثال کے طور پر مغربی فلسفی سے اگر کسی ایک مسئلہ پر رائے طلب کی جائے تو امکان ہے کہ اس کی طرف سے یہ جواب آئے کہ مجھے اس کا علم نہیں، اور ساتھ ہی وہ کسی اور سپیشلسٹ کے پاس جانے کا مشورہ دے گا۔ جب کہ دوسری طرف مشرقی فلسفہ میں یہ معاملہ نہیں۔ یہاں ایسا ہے کہ اپنے تخصص کے علاوہ بھی دوسرے موضوعات کے دائرہ کار میں ایک فلسفی بہرحال ایک مضبوط رائے ضرور رکھتا ہے اور اس کو پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس کرتا ہے۔ ( عمومی طور پر یہ رویہ روزمرہ زندگی میں عوام الناس کے رویوں میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ ) یہ اس وجہ سے ہے کہ مشرقی فلسفہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعینات اور حدود کو خاطر میں نہیں لاتا۔

مشرقی اور مغربی فکر و فلسفہ کے درمیان چوتھا امتیاز یہ ہے کہ مشرقی فلاسفہ مغربی فلاسفہ کے مقابلے میں جو ہرِ زیست پر گہری توجہ مرکوز کیے رکھتے ہیں۔ یہ ایک تصدیق شدہ بات ہے کہ مشرقی فکر و فلسفہ اور دانش میں زندگی خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ غیر منضبط ہونے کے باوجود مغربی فکر و فلسفہ سے کئی درجے بہتر اساسِ زندگی کا ادراک اور شعور مشرقی فلسفیانہ روایات میں موجود ہے، اس میں زندگی کا رُکا ہوا یا جامد تصور موجود نہیں بلکہ اس کی رُو سے زندگی کلیتاً متحرک شے ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے شعراء کی شاعری مغربی شاعری اور افکار کی نسبت زیادہ بامعنیٰ انداز میں اساسِ زندگی کا اظہار کرتی ہے۔ مغربی فکر و فلسفہ میں زندگی کے بارے میں حاصل شدہ فہم کے اظہار کے لیے باقاعدہ سسٹم دستیاب ہیں لیکن مشرقی روایات میں متعین فلسفیانہ سسٹم یا طے شدہ میکانزم تو موجود نہیں، ہاں البتہ شاعرانہ اسلوب کو سہارے کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ مثال کے طور پر رومیؒ نے کہا نا کہ :

ہر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگار وصلِ خویش

یعنی جو (کوئی) اپنی اصل (جوہر) سے دور ہوجاتا ہے، وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر سے تلاش کرتا ہے۔

رومیؒ بس یہی کچھ کہہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں، اس سے آگے بڑھ کر ایسی کوئی وضاحت پیش نہیں کرتے جس سے انسان کی اصل سے جڑنے کا طریقہ کار متعارف کروایا جا سکے۔

Facebook Comments HS