نو آبادیاتی اداروں کا استحصالی کردار: نوبل انعام یافتہ تحقیق نے کیا راز فاش کیے؟
نوبل انعام تقسیم ہوں تو پاکستان میں ایک بھونچال برپا ہو جاتا ہے کہ پاکستان علم و تحقیق کی اس دوڑ میں کیوں شامل نہیں ہوتا۔ دوسری جانب نوبل انعام کی ساخت یہی بتاتی ہے کہ مغربی اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے محققین کو ان انعامات سے زیادہ نوازا جاتا ہے۔ ادب اور امن کا نوبل انعام تو اخبارات میں خبروں کی شہ سرخیاں بن جاتا ہے لیکن اس سال معاشیات کے مضمون میں جن تین پروفیسرز کو نوبل انعام سے نوازا گیا ہے اس پر پاکستان کا میڈیا اور علمی حلقے خاموش ہیں حالانکہ نوبل انعام یافتگان کی تحقیق نے نو آبادیاتی عہد کی سیاہ کاریوں کا مزید پردہ چاک کر دیا ہے جس کی جڑیں یورپی بالخصوص برطانوی کالونائزرز کے استعماری حربوں میں پیوست ہیں۔ اس سال کے معاشیات کے نوبل انعام یافتگان نے اس بات پر نئی روشنی ڈالی ہے کہ مختلف ممالک کی خوشحالی میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟ ان کے نزدیک، ایک اہم وجہ سماجی اداروں میں مستقل فرق ہے۔ یورپی نو آبادیات کے ذریعے متعارف کردہ مختلف سیاسی اور معاشی نظاموں کا جائزہ لے کر، ڈیرون عجم اوغلو، سائمن جانسن اور جیمز اے رابنسن نے اداروں اور خوشحالی کے درمیان تعلق کو وضع کیا ہے اور سائنسی تحقیق پر انھیں اکتوبر 2024 ء میں نوبل انعام دیا گیا۔ انھوں نے theoretical tools بھی تیار کیے ہیں جو اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ اداروں میں یہ فرق کیوں برقرار رہتا ہے اور ادارے کیسے بدل سکتے ہیں؟ سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک امیر کیوں ہیں اور کچھ غریب کیوں؟
اوغلو اور جیمز رابنسن نے 2001 ء میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر ایک ماڈل تشکیل دیا تھا جس میں خوشحالی اور اداروں کے درمیان تعلق کا سائنسی مطالعہ کیا گیا تھا، اس تحقیق کو پذیرائی ملی تو 2012 ء میں Why Nations Fail کتاب تصنیف کی۔ ان پروفیسرز کی تحقیق کے مطابق، دنیا کے امیر ترین 20 فیصد ممالک اس وقت غریب ترین 20 فیصد ممالک کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ خوشحال ہیں۔ امیر ترین اور غریب ترین ممالک کے درمیان آمدنی کا فرق مسلسل برقرار ہے۔ اگرچہ غریب ترین ممالک کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن وہ سب سے زیادہ خوشحال ممالک کے قریب نہیں پہنچ پا رہے۔ ایسا کیوں ہے؟ نوبل انعام یافتگان نے شواہد پیش کیے ریاستوں میں قائم سیاسی و انتظامی اداروں کے ڈھانچوں کے باعث خوشحالی کا یہ فرق موجود ہے۔
عجم اوغلو، جانسن اور رابنسن نے دُنیا کے بڑے حصوں میں یورپی نو آبادیات کا جائزہ لیا، سائنسی مطالعہ میں یہ وضاحت کی گئی کہ یورپی نو آبادکاروں کی جانب سے سولہویں صدی میں متعارف کرائے گئے وہ سیاسی و معاشی نظام ہیں جو موجودہ خوشحالی میں فرق کی ایک اہم وجہ ہیں۔ نو آبادیاتی اداروں کی تشکیل سے اِن معاشروں کی تقدیر خراب ہو گئی، جسے وہ reversal of fortune قرار دیتے ہیں۔ جو علاقے نو آبادیات کے وقت نسبتاً امیر تھے، وہ آج سب سے غریب علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے نو آبادیات کے دور میں نو آبادکاروں (colonizer) کی اموات کے اعداد و شمار سمیت دیگر عوامل کا استعمال کرتے ہوئے ایک تعلق دریافت کیا۔ یہ عجیب نوعیت کا تعلق ہے۔ جن نو آبادیات میں کالونائزرز کی اموات کے خطرات زیادہ تھے وہاں پر قائم ہونے والے اداروں کے ڈھانچہ پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہوئے، جہاں یہ خطرہ زیادہ تھا، آج وہاں فی کس آمدن بھی اُتنی ہی کم ہے۔ نوبل انعام یافتگان کے جدید نظریاتی فریم ورک سے وضاحت ہوتی ہے کہ نو آبادیاتی ریاستیں ایسے اداروں کے جال میں پھنس گئی ہیں، جنھیں وہ استحصالی ادارے (extractive institutions ) قرار دیتے ہیں۔ نو آبادیاتی اداروں کے جال سے نکلنا ریاستوں کو مشکلات کا شکار کرتا ہے۔
ہم موجودہ دور میں ان نو آبادیاتی اداروں کے اثرات کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ نوبل انعام یافتگان نے اس کی مثال کے طور پر نوگالیس شہر کا حوالہ دیا ہے، جو امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر واقع ہے۔ نوگالیس شہر ایک باڑ کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اگر آپ اس باڑ کے قریب کھڑے ہو کر شمال کی طرف دیکھیں تو نوگالیس، ایریزونا، امریکہ آپ کے سامنے نظر آئے گا۔ یہاں کے رہائشی نسبتاً خوشحال ہیں، ان کی اوسط عمر زیادہ ہے، اور زیادہ تر بچے ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ جائیداد کے حقوق محفوظ ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے زیادہ تر فوائد حاصل کر سکیں گے۔ آزادانہ انتخابات کے ذریعے لوگ ان سیاستدانوں کو تبدیل کر سکتے ہیں جن سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ اگر آپ جنوب کی طرف دیکھیں تو آپ کو نوگالیس، سونورا، میکسیکو نظر آئے گا۔ حالانکہ یہ میکسیکو کے نسبتاً خوشحال حصے میں واقع ہے، لیکن یہاں کے رہائشی باڑ کے شمالی حصے کے لوگوں کے مقابلے میں کافی غریب ہیں۔ منظم جرائم کی وجہ سے کاروبار شروع کرنا اور چلانا خطرناک ہے۔ بدعنوان سیاستدانوں کو ہٹانا مشکل ہوتا ہے، حالانکہ جمہوریت کے قیام کے بعد ، جو کہ تقریباً 20 سال پہلے ہوا، اس میں کچھ بہتری آئی ہے۔ ایک ہی شہر کے یہ دو حصے اتنے مختلف حالات زندگی کیوں رکھتے ہیں؟ جغرافیائی طور پر یہ ایک ہی جگہ واقع ہیں، اس لیے آب و ہوا جیسے عوامل بالکل ایک جیسے ہیں۔ دونوں آبادیوں کی تاریخی طور پر ایک ہی اصل ہے ؛ دراصل شمالی علاقہ کبھی میکسیکو کا حصہ تھا، لہٰذا شہر کے قدیم رہائشیوں کے کئی مشترکہ آبا و اجداد ہیں۔ ثقافتی لحاظ سے بھی بہت سی مماثلتیں موجود ہیں۔ لوگ ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں اور دونوں طرف تقریباً ایک ہی طرح کی موسیقی سنتے ہیں۔
یہاں سائنسی تحقیق میں اُجاگر کیا گیا ہے کہ دراصل یہ فرق جغرافیہ اور ثقافت کے باعث نہیں ہے بلکہ اس فرق کی وجہ ادارہ جات ہیں۔ باڑ کے شمال میں رہنے والے افراد امریکی اقتصادی نظام کا حصہ ہیں، جو انھیں اپنی تعلیم اور پیشے کا انتخاب کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ وہ امریکی سیاسی نظام کا بھی حصہ ہیں، جو انھیں وسیع سیاسی حقوق فراہم کرتا ہے۔ باڑ کے جنوب میں رہنے والے اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ وہ مختلف اقتصادی حالات کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں، اور ان کا سیاسی نظام ان کے قانون سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔ نوگالیس کا منقسم شہر کوئی استثنائی مثال نہیں ہے۔ بلکہ، یہ ایک واضح نمونہ ہے جس کی جڑیں نو آبادیاتی دور تک جاتی ہیں۔ جب یورپی استعماریت نے دنیا کے بڑے حصوں کو کالونائزڈ بنایا تو موجودہ اداروں میں بعض اوقات نمایاں تبدیلیاں آئیں، لیکن ہر جگہ ایک جیسی تبدیلی نہیں ہوئی۔ کچھ نو آبادیات میں مقصد مقامی آبادی کا استحصال اور قدرتی وسائل کا حصول تھا تاکہ نو آبادی قائم کرنے والوں کو فائدہ ہو۔ دوسری صورتوں میں، نو آبادی قائم کرنے والوں نے یورپی نو آبادکاروں کے طویل مدتی فائدے کے لیے جامع سیاسی اور اقتصادی نظام قائم کیے۔ اس بات کا تعین کرنے والا ایک اہم عنصر یہ تھا کہ جس علاقے کو نو آبادی بنایا جا رہا تھا، اس کی آبادی کی کثافت کتنی تھی؟ جتنی زیادہ مقامی آبادی ہوتی، اتنی ہی زیادہ مزاحمت کا امکان ہوتا۔ دوسری جانب، ایک بڑی مقامی آبادی۔ جب ایک بار شکست کھا جاتی۔ سستے مزدور کے طور پر فائدہ مند مواقع فراہم کرتی تھی۔ اس کے نتیجے میں، زیادہ گنجان آبادی والی نو آبادیات میں کم یورپی آبادکار منتقل ہوئے۔ وہ علاقے جو کم گنجان آباد تھے، نو آبادی قائم کرنے والوں کے لیے کم مزاحمت پیش کرتے تھے اور وہاں استحصال کے لیے کم مزدور دستیاب ہوتے تھے، اس لیے زیادہ یورپی نو آبادی قائم کرنے والے ان کم آبادی والے علاقوں میں منتقل ہوئے۔
چنانچہ، ان نو آبادیات کے سیاسی اور معاشی نظاموں کی تشکیل پر اثر پڑا۔ جہاں کم یورپی نو آبادی قائم کرنے والے موجود تھے، انھوں نے مقامی اشرافیہ کے فائدے کے لیے استحصالی ادارے قائم کیے، جو وسیع آبادی کے مفادات کو نظرانداز کرتے تھے۔ ان نو آبادیات میں انتخابات نہیں ہوتے تھے اور سیاسی حقوق نہایت محدود تھے۔ اس کے برعکس، جہاں زیادہ یورپی آبادکار تھے۔ یعنی Settler Colonies، وہاں جامع اقتصادی ادارے قائم کرنے کی ضرورت تھی جو نئے settlers کو سخت محنت کرنے اور اپنے نئے وطن میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ اس کے نتیجے میں، وہاں کے Settlers نے سیاسی حقوق کا مطالبہ کیا تاکہ انھیں منافع میں حصہ مل سکے۔ یقیناً، ابتدائی یورپی نو آبادیات وہ نہیں تھیں جنہیں ہم آج جمہوریت کہیں گے، لیکن ایسی نو آبادیوں میں جہاں کم یورپی آبادکار منتقل ہوئے تھے اور زیادہ گنجان مقامی آبادی تھی، نسبتاً زیادہ وسیع سیاسی حقوق فراہم کیے گئے تھے۔ نو آبادیاتی اداروں کے یہ ابتدائی فرق آج کے دور میں خوشحالی کے بڑے فرق کی ایک اہم وضاحت ہیں۔ نوگالیس، امریکہ اور نوگالیس، میکسیکو میں موجودہ حالات زندگی میں جو فرق ہے، اس کی بڑی حد تک وجہ وہ ادارے ہیں جو اسپین کی نو آبادیات میں متعارف کروائے گئے تھے، جو بعد میں میکسیکو بنا، اور وہ ادارے جو ان نو آبادیات میں قائم کیے گئے جو بعد میں امریکہ بنے۔ یہ رجحان پوری نو آبادیاتی دنیا میں یکساں ہے اور اس بات پر منحصر نہیں کہ نو آبادی قائم کرنے والے برطانوی تھے، فرانسیسی، پرتگیزی یا ہسپانوی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 500 سال پہلے جو علاقے نسبتی طور پر زیادہ خوشحال تھے، وہ آج نسبتی طور پر غریب ہیں۔ غریب اور کم گنجان آبادی والے علاقوں میں یورپی نو آبادیات قائم کرنے والوں نے ایسے ادارے متعارف کروائے یا قائم رکھے جو طویل مدتی خوشحالی کو فروغ دیتے تھے۔ لیکن جو نو آبادیات زیادہ خوشحال اور گنجان آباد تھیں، وہاں کے ادارے زیادہ استحصالی تھے اور مقامی آبادی کے لیے خوشحالی کا باعث بننے کے امکانات کم تھے۔ یہ خوشحالی کا اُلٹ جانا تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔ جب نوبل انعام یافتگان نے نو آبادیات سے قبل کے صدیوں میں شہری آبادی کا مطالعہ کیا، تو انھیں کوئی ایسا نمونہ نہیں ملا۔ نوبل انعام یافتگان کے مطابق؛ یہ اُلٹ جانا بنیادی طور پر صنعتی انقلاب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ مثال کے طور پر، اٹھارہویں صدی کے وسط تک، جو علاقے آج ہندوستان کہلاتے ہیں، وہاں صنعتی پیداوار امریکہ سے زیادہ تھی۔ اس میں بنیادی تبدیلی انیسویں صدی کے آغاز سے آئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اُلٹ جانا دراصل اداروں میں فرق کی وجہ سے ہوا۔ وہ تکنیکی اختراعات جو دنیا بھر میں پھیل رہی تھیں، صرف انھی جگہوں پر کامیاب ہو سکیں جہاں ادارے اس طرح قائم کیے گئے تھے جو وسیع تر آبادی کے مفاد میں ہوں۔ نو آبادیاتی اداروں کی نوعیت کی سب سے براہ راست وضاحت یورپی نو آبادکاروں کی تعداد تھی۔ جتنے زیادہ یورپی آبادکار ہوں گے، اُتنا ہی زیادہ امکان ہو گا کہ ایسے اقتصادی نظام قائم کیے جائیں جو طویل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں۔ نوبل انعام یافتگان نے یہ دکھایا ہے کہ ایک اور عنصر جو اداروں کے فرق میں معاون تھا، وہ بیماریوں کی شدت تھی جو نو آبادکاروں کی کمیونٹیز میں پھیلتی تھیں۔
امریکہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں مہلک بیماریوں کی موجودگی میں بہت فرق تھا، جیسے افریقی علاقوں میں بھی خط استوا کے قریب والے حصوں میں بیماریوں کی شرح جنوبی حصوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ اسی طرح، ہندوستان میں پائی جانے والی بیماریاں برطانوی نو آبادیاتی حکام کے لیے نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد میں اور خطرناک تھیں۔ بیماریوں کی شرح، جو نو آبادیاتی دور میں اموات کے تاریخی اعداد و شمار میں دیکھی جا سکتی ہے، موجودہ اقتصادی خوشحالی کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتی ہے۔ وہ علاقے جہاں بیماریوں نے یورپیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرہ پیدا کیا، وہ وہی علاقے ہیں جہاں ہمیں اب غیر فعال اقتصادی نظام، سب سے زیادہ غربت، سب سے زیادہ بدعنوانی اور کمزور قانون کی حکمرانی ملتی ہے۔ اس کا ایک اہم سبب وہ استحصالی ادارے ہیں جو یورپی نو آبادیات نے قائم کیے یا وہ ادارے جنہیں انھوں نے اپنے فائدے کے لیے برقرار رکھا۔
نوبل انعام یافتگان نے دنیا بھر میں ممالک کی دولت کے موجودہ فرق کے لیے پچھلی وضاحتوں میں ایک نیا پہلو شامل کیا ہے۔ ان میں سے ایک جغرافیہ اور آب و ہوا سے متعلق ہے۔ جب سے مونٹسکیو نے اپنی مشہور کتاب The Spirit of Laws ( 1748 ) شائع کی، ایک معروف خیال یہ ہے کہ معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں معاشرتی پیداواریت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ استوائی علاقوں میں یہ کم ہوتی ہے اور اس میں ایک تعلق ہے : خط استوا کے قریب ممالک زیادہ غریب ہوتے ہیں۔ تاہم، نوبل انعام یافتگان کے مطابق، یہ صرف آب و ہوا کی وجہ سے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو خوشحالی کا یہ اُلٹ جانا ممکن نہ ہوتا۔ زیادہ گرم ممالک کے غریب ہونے کی ایک اہم وضاحت ان کے سماجی ادارے ہیں۔ نوبل انعام یافتگان تینوں پروفیسرز نے وجہ اور اثر کا ایک واضح سلسلہ دریافت کیا ہے۔ وہ ادارے جو عوام کو استحصال کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، وہ طویل مدتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ وہ ادارے جو بنیادی اقتصادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کو قائم کرتے ہیں، طویل مدتی ترقی کے لیے فائدہ مند ہیں۔ سیاسی اور اقتصادی ادارے عام طور پر بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں۔ اگرچہ استحصالی اقتصادی نظام حکومتی اشرافیہ کے لیے قلیل مدتی فوائد فراہم کرتے ہیں، لیکن زیادہ جامع اداروں کا قیام، کم استحصال اور قانون کی حکمرانی طویل مدتی فوائد پیدا کرتا ہے۔ تو پھر اشرافیہ موجودہ اقتصادی نظام کو کیوں نہیں بدل دیتی؟
سیاسی طاقت کے لیے تنازعات، حکومتی اشرافیہ اور عوام کے درمیان اعتبار کا نکتہ اُٹھایا گیا ہے۔ جب تک سیاسی نظام اشرافیہ کو فائدہ پہنچاتا ہے، عوام یہ نہیں مان سکتے کہ اصلاح شدہ اقتصادی نظام کے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ تاہم، حکومتی اشرافیہ کو یقین نہیں ہے کہ عوام نیا نظام قائم ہونے کے بعد اقتصادی فوائد کے نقصان کے بدلے انھیں معاوضہ دیں گے؟ یہ مسئلہ ”کمٹمنٹ کا مسئلہ“ کہلاتا ہے ؛ یہ حل کرنا مشکل ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے استحصالی اداروں، عوامی غربت اور ایک امیر اشرافیہ کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ تاہم، نوبل انعام یافتگان کے مطابق؛ معتبر وعدے کرنے میں ناکامی یہ بھی وضاحت کر سکتی ہے کہ جمہوری نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ چاہے ایک غیر جمہوری قوم کی عوام کے پاس رسمی سیاسی طاقت نہ ہو، ان کے پاس ایک ایسا ہتھیار ہوتا ہے جس سے حکومتی اشرافیہ خوفزدہ ہوتی ہے۔ وہ زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں، عوام کو متحرک کیا جا سکتا ہے اور وہ ایک انقلابی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ خطرہ تشدد پر مشتمل ہو سکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انقلابی خطرہ سب سے زیادہ تب ہوتا ہے جب یہ تحریک پُرامن ہو، کیونکہ یہ سب سے زیادہ لوگوں کو احتجاج میں شامل ہونے کا موقع دیتی ہے۔
جب یہ انقلابی خطرہ سب سے زیادہ شدت اختیار کرتا ہے، تو اشرافیہ دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے ؛ وہ اقتدار میں رہنا پسند کریں گے اور بس عوام کو اقتصادی اصلاحات کا وعدہ کر کے ان کو تسلی دینے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ایسا وعدہ قابل اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ اشرافیہ اگر اقتدار میں رہتی ہے تو ایک بار صورتحال پرسکون ہونے کے بعد وہ جلد ہی پرانے نظام کی طرف واپس جا سکتی ہے۔ اس صورت میں، اشرافیہ کے پاس واحد اختیار یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اقتدار عوام کے حوالے کر دیں اور جمہوریت متعارف کرائیں۔ نوبل انعام یافتگان کا وہ ماڈل جو سیاسی اداروں کے قیام اور تبدیلی کے حالات کی وضاحت دیتا ہے، اس میں تین اجزاء ہیں : اوّل، وسائل کی تقسیم پر تنازعہ اور یہ کہ ایک معاشرے میں فیصلہ سازی کی طاقت کس کے پاس ہے (اشرافیہ یا عوام) ۔ دوم؛ کبھی کبھار عوام کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ طاقت کو متحرک کر کے حکومتی اشرافیہ کو دھمکانے کی کوشش کریں ؛ معاشرے میں پاور صرف فیصلہ کرنے کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔ تیسرا ہے ”کمٹمنٹ کا مسئلہ“ ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اشرافیہ کے لیے واحد متبادل یہ ہے کہ وہ فیصلہ سازی کی طاقت عوام کے حوالے کر دیں۔
اس ماڈل کو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں مغربی یورپ میں جمہوریت کے عمل کی وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں، حقِ رائے دہی کو کئی مراحل میں بڑھایا گیا، اور ہر مرحلے سے پہلے عام ہڑتالیں اور وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ برطانوی اشرافیہ اس انقلابی خطرے کا موثر طریقے سے سامنا کرنے میں ناکام ہو گئی اور سماجی اصلاحات کے وعدوں سے اسے قابو نہیں کیا جا سکا؛ اس کے بجائے، انھیں اکثر غیر رضامندی کے باوجود طاقت بانٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سویڈن کی صورتحال بھی مشابہت رکھتی تھی، جہاں دسمبر 1918 ء میں عمومی حقِ رائے دہی کے فیصلے کے بعد روسی انقلاب کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر فسادات ہوئے۔ اس ماڈل کو یہ سمجھانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے کہ کچھ ممالک جمہوریت اور غیر جمہوریت کے درمیان کیوں متبادل ہوتے ہیں۔ اس کا استعمال یہ بتانے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ ممالک جو inclusive institutions نہیں رکھتے، ترقی میں ان ممالک کا مقابلہ کیوں نہیں کر پاتے جو ان اداروں سے استفادہ کرتے ہیں، اور کیوں حکومتی اشرافیہ کبھی کبھار نئی ٹیکنالوجی کو روکنے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
ڈیرون عجم اوغلو، سائمن جانسن اور جیمز رابنسن نے یہ انقلابی تحقیق کی ہے کہ طویل مدتی میں ممالک کی اقتصادی خوشحالی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں متعارف کرائے گئے سیاسی اور اقتصادی اداروں کی نوعیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی نظریاتی تحقیق نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ استحصالی اداروں کی اصلاح کیوں اتنی مشکل ہے، اور ساتھ ہی ان حالات کی نشاندہی کی ہے جن میں یہ تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ نوبل انعام یافتگان کا کام معاشیات اور سیاسی سائنس میں جاری تحقیق پر فیصلہ کن اثر ڈال چکا ہے۔ ان کی یہ بصیرت کہ ادارے خوشحالی کو کیسے متاثر کرتے ہیں، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمہوریت اور جامع اداروں کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششیں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم راستہ ہیں۔
افریقی سکالر والٹر مگنولو نے بھی نو آبادیاتی اثرات کو زائل کرنے کے لیے ردّ نو آبادیت کا تصور پیش کیا جس میں اداروں کے ڈھانچہ جات سے نو آبادیاتی ضابطوں کو ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ناصر عباس نیئر، شاہ زیب خان، شاہد صدیقی جیسے سکالرز ردّ نو آبادیت کے تصورات پر مسلسل تحقیق کر رہے ہیں جبکہ بھارت میں ڈی کالونیل (Decolonial) مطالعے کے میدان میں کئی معروف اسکالرز اور دانشور شامل ہیں جو نو آبادیاتی ورثے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور نو آبادیاتی بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان میں گائتری سپیواک، ہومی بھابھا، رنجیت گوہا سبالٹرن اسٹڈیز کے بانی، آرون دھتی رائے، ششی تھرور جیسے نام شامل ہیں۔ یورپ کی تہذیبی شناخت، ماڈرینٹی اور نشاۃ ثانیہ نے نو آبادیاتی تصورات سے جنم لیا ہے اور یورپی نو آبادیاتی عہد جبر، ظلم، بربریت، معاشی لوٹ کھسوٹ، سیاسی استحصال، سماجی بد امنی، مذہبی فرقہ واریت و منافرت کی طویل تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ نوبل انعام یافتگان کی حالیہ تحقیق، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ برطانوی سامراج نے نو آبادیاتی عہد میں انسانوں کا قتل عام کیا۔ جدید دور کے مہذب برطانیہ کے چہرے پر فسطائیت اور انسانی جرائم کے نقوش معاشیات کے مضمون میں نوبل انعام یافتگان نے ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں۔


