گئی تھی دل کی دوا لینے، نئے تحفے لے آئی
اسی دوران ایک ڈاکٹر نے آ کر کمرے میں شفٹ کرنے، نیز سٹریچر پر نہیں کرسی پر بٹھا کر لے جانے کا کہا۔ مستعد نرسیں جیسے گلو خلاصی کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ آناً فاناً بیڈ سے گھسیٹ کر سامنے پڑی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے گھٹنے کے نیچے لگے ٹانکوں پر خراشیں بھی آئیں اور تھوڑا سا وہ چھل بھی گیا۔ اب احتجاج کرنا کس قدر فضول لگا اس کا مجھے اچھی طرح احساس ہو گیا تھا۔
دفعتاً بڑے کھلے ڈلے انداز میں باتیں کرتے کرتے ایک ادھیڑ عمر چنی منی آنکھوں والی سسٹر کو یاد آیا کہ اس نے خون کو بلاک کرنے والے دو گولے ابھی تک نہیں نکالے۔ وہ ویسے ہی میری ناف کے نچلے حصے سے چمٹے میرے ساتھ کمرے میں جا رہے ہیں۔ اب اُکھاڑنے پچھاڑنے والی پُھرتیاں شروع ہو گئیں۔ بیڈ پر دوبارہ لٹانے اور ان گولوں کو جنہیں Adhesive Tapes سے کسا ہوا تھا، کس بیدردی سے اتارا گیا کہ میری فریاد ”پلیز ذرا دھیان سے، پلیز ذرا آہستہ“ ۔ مگر وہاں تو کھینچ کھینچ کر اُتارنے کا عمل جیسے کشتوں کے پُشتے لگانے پر تُلا ہوا تھا۔ داہنی ٹانگ کی ران تین جگہ سے تھوڑی تھوڑی چھل سی گئی۔ میرے اعتراض پر جواب آیا ”ارے کچھ نہیں ذرا سی دوائی لگی تو ٹھیک ہو جائیں گے یہ۔“
Spiro meter مشین سے کھانسی کروانے کی کوشش صریحاً میرے بلند حوصلے نے کامیاب کی کہ پورے ہال کمرے کا سکوت میری کوشش کے شور سے گونج رہا تھا۔ روکا گیا کہ بس بھئی بس زیادہ ہیروئن بننے کی کوشش مت کریں۔ ٹانکے ابھی کچے ہیں۔
نو بجے کمرے میں شفٹ ہو گئی تھی۔ اگلے دو دن نالیوں کی اُترائی اور غسل کے مرحلے نے اپنے وجود کو دیکھنے اور اس کے لیر لیر ہونے اور گھنڈوں تروپوں سے اس کی جوڑا جوڑی کی کاوشوں پر گہری نظر ڈالنے کا موقع دیا، مجھے تو پنجابی زبان کی وہی کہاوت بار بار یاد آتی رہی کہ ”اگیوں بنو سوہنی اتھوں سُتی اٹھی (یعنی پہلے ہی خیر سے بنو رانی کیا حسین شے تھیں کہ سو کر اٹھنے سے اور چڑیل سی ہو گئی ہیں ) جسم تو پہلے ہی بس بیچارہ ایویں سا تھا اس نئے تجربے نے رہی سہی کسر بھی خیر سے پوری کر دی۔ خود ترسی اور ترحم کی ایک گہری یاس بھری آہ نے اندر سے نکل کر افسردہ کر دیا تھا۔
آج پانچواں دن تھا۔ تڑکے تڑکے ڈاکٹر سارہ کا راؤنڈ ہو گیا۔ خوش مزاج ڈاکٹر نے جس محبت سے میری ان دھلی پیشانی پر بوسہ دے کر خیریت دریافت کی۔ سچی بات ہے ان کے اس پیار بھرے انداز نے میرے رقیق دل کو موم کی طرح پگھلا کر رکھ دیا تھا۔ آنسو چھلک پڑے۔ ”دیکھو تو ڈاکٹر ہو کر بھی محتاط رہنے والی کوئی چیز ان کی زندگی میں نہیں“ ۔
”تو ڈاکٹر سارہ جب تم خدا کے حضور جاؤ گی تو خدا اسی طرح تمہارا ماتھا چوم کر تمہیں خوش آمدید کہے گا۔“ جاتے جاتے اُسی دن ڈسچارج ہونے کے امکان کو بھی یقینی بنا گئیں۔
گھر آنا، اپنے لان کے پھولوں کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھنا گویا ایک نئی زندگی کے فیز میں داخل ہونے جیسا احساس تھا۔ کمرے میں نیا میڈیکل بیڈ تھا۔ سہولت سے اس پر لٹا دیا گیا۔ ہسپتال میں دوائیں کتنی دی جا رہی تھیں اس کا تو اندازہ ہی نہ تھا۔ کہ براہ راست والا سلسلہ تھا۔ مگر اب چھوٹی بڑی پوری چودہ گولیاں عنبر نے کھلانا شروع کیں تو گویا چودہ طبق روشن ہو گئے۔
میں ساری حیاتی اپنی صحت مندی کا ڈھنڈورا ہی پیٹتی رہی۔ ”ارے زندگی میں دس بارہ پیناڈول سے زیادہ کی تو میں احسان مند ہی نہیں۔“
اس وقت جب عنبر چودہ پندرہ گولیاں ہاتھ میں لیے مجھے کھلانے کے لیے کھڑی تھی۔ مجھے احساس ہوا تھا جیسے میری وہ ساری یاوہ گوئیاں، اوپر والے کے احسان و شکریے سے کس قدر خالی اور روکھی پھیکی سی تھیں۔ میری فضول قسم کی بڑھکیں اور گھٹیا قسم کی شیخیوں کے پُھولے ہوئے غباروں کی سب ہوائیں نکل گئی تھیں۔ بیچارے پچک کر اور لجلجی سی شکل بنا کر سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھیں ڈب ڈب کر اٹھی تھیں۔ میرا غرور اور تکبّر کہیں کسی کونے کھدرے میں منہ چھپائے اپنی ندامت پر پانی پانی ہوا جا رہا تھا۔
اب ایک نئی افتاد سامنے آ کھڑی ہوئی۔ پتہ چلا تھا کہ ریکٹم والا حصّہ زخم زخم ہوا پڑا ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ کیا کہیں گھسیٹا گیا؟ یا جب وہ سسٹرز گولے نکال رہی تھیں اس وقت کوئی تماشا ہو گیا۔ اب ہارٹ کی کنجر کانی تو کلّی طور پر پس منظر میں چلی گئی۔ سب احتیاطی تدابیر کا تیا پانچہ ہو گیا تھا۔ ریکٹم کے زخم اپنی شدید جلن اور ہر پل بے قراری جیسی کیفیات کے ساتھ پورے وجود کو گھیر بیٹھے تھے۔ سکن سپیشلسٹ سے فوری رابطہ ہوا۔ کریمیں اور اینٹی بائیوٹک دواؤں کے پُڑے معدے کا مزید امتحان لینے آ موجود ہوئے۔ صبح شام زخموں کی دُھلائی، ہر وقت انہیں کریم سے لتھیڑنا اور ٹانگوں کو ننگا رکھنا ضروری ٹھہرا۔
دسمبر کے یہ یاسیت بھرے دن جو کبھی دھوپ، کبھی دھند کے دبیز غلافوں میں لپٹے اداسی اور ڈپریشن بڑھانے کا سبب تھے۔ شدید دُکھ اور کرب والے احساسات جن کے لئے محسوس ہوتا کہ زندگی میں ان کا ٹھہر جانا کس قدر تکلیف کا باعث ہے، جس کا اظہار لفظوں میں تحریر کرنا ممکن ہی نہیں۔ سچی بات ہے ”جس تن لاگے سو تن جانے ہور نہ جانے کوئی“ ۔ ایسے میں جس دن دھوپ نکلتی، باہر لان میں بیڈ پر لیٹی لیٹی شفاف آسمان کے سینے پر اڑتے، اٹکھیلیاں کرتے پرندوں کی قطاریں اور اڑانیں تکتے تکتے اوپر والے کو نم آنکھوں سے اپنا درد دل سُنانے میں جُتی رہتی۔
رات میں نیند کا مسئلہ، تب امیزون کے جنگل مدد کو آتے۔ ان جنگلوں کے خوبصورت ترین پرندوں، ہیبت ناک جانوروں اور تحیر انگیز زمینی مخلوق سے التجا کرتی کہ ”تسبیح کرتے پھرتے ہو اپنے خالق کی، میرا پیغام لے جاؤ نا اس کے پاس۔ میں بہت اذیت میں ہوں۔ وہ میرا درد اور میری تکلیف میں کمی کرے۔ رحم کرے میرے اوپر، میرے پروردگار رحم ہو مجھ پر“ ۔
کبھی خلیج الدسکا کے اٹلانٹک اور پیسفک سمندروں کے شانتی سے بہتے پانیوں کو ساتھ ساتھ بہتے اور ان کے رنگوں کو دیکھتی۔ آنکھیں درد کے پانیوں سے لبالب بھر جاتیں۔ کائنات کے حسین منظروں کے خالق کو ایسے بے مثل عجوبے تخلیق کرنے پر رحم کا واسطہ آنسوؤں کے نذرانوں کے ساتھ پیش کرتی۔
دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں کے حسین منظر، زور و شور سے بہتی آبشاروں کا ترنم و نغمگیʻ ہرے کچور درختوں کا بے پایاں حسن، البیلے رنگوں والے پھولوں کے قطعوں کا بانکپن اور دلاویزی، انواع و اقسام کے گھر، کچے پکے راستے اور اُن پر چلتے پھرتے لوگ سب میرے لیے خوبصورت واسطہ بن جاتے۔
کبھی کہیں شوریدہ سر برفانی ہواؤں کے منہ زور تھپیڑے جو دھرتی کے اس چھوٹے سے خوبصورت ٹکڑے کو تہس نہس کر نے کا پکا پکا منصوبہ بنا نے پر تلے ہوتے۔ پر ہیبت پہاڑ کا ایک خوفناک سا حصہ سفیدی سے اٹا پڑا جس کے ایک سمت خوفناک اور روح کو لرزا دینے والی کھائیاں۔ کچے راستے پر تین گھر اور کھلے دروازے والا ایک گھر جس کے عین وسط میں جلتا چولہا، میز پر دھرا سماوار، چائے کے پیالے، اور آگ تاپتے دو بندے۔ دروازے کے پلیٹ فارم پر کھڑی میں جو مصور کائنات کے اس مجموعے کو ڈبڈبائی نظروں سے دیکھتے ہوئے اُسے ان ننگی رعنائیوں کا واسطہ دیتے ہوئے کہتی۔ ”تو نے کائنات کو کیسے کیسے شاہکاروں سے سجایا ہوا ہے۔ میں جو چھوٹے سے دل کی مالک ہوں۔ تو جانتا ہے میں کس قدر اذیت میں ہوں رحم میرے اوپر، اے مصور کائنات رحم۔
جاری ہے۔


