گوگل، مصنوعی ذہانت اور والدین کا کھویا ہوا مقام
مصنفین: فینانہ فرنام اور کامران عباس
زمانہ بدل رہا ہے اور اس تبدیلی نے زندگی کے ہر پہلو پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں خاص طور پر خاندان کے اندر نسلوں کے درمیان تعلقات پر ٹیکنالوجی اور معلومات کے نئے ذرائع نے گہرا اثر ڈالا ہے۔ ماضی میں بچے کسی بھی سوال یا مسئلے کے لیے اپنے والدین یا بزرگوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہ عمل نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ تھا بلکہ والدین کی عزت و احترام اور تعلقات کی مضبوطی کا بھی سبب بنتا تھا۔ لیکن آج کی نسل اپنے سوالات کے لیے والدین کی بجائے گوگل، مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کا سہارا لیتی ہے۔
گوگل اور مصنوعی ذہانت کی آمد نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ جب کسی چیز کے بارے میں جاننا ہو تو صرف ایک کلک پر ہزاروں جوابات مل جاتے ہیں۔ یہ سہولت نوجوان نسل کے لیے بے حد کارآمد ہے لیکن اس کے اثرات صرف مثبت نہیں ہیں۔ یہ تبدیلی والدین کی وہ اہمیت اور مقام کم کر رہی ہے جو وہ پہلے علم کے سب سے بڑے ذریعہ کے طور پر رکھتے تھے۔ گوگل آپ کو ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے لیکن وہ جذبات تجربات اور زندگی کے سبق نہیں دے سکتا جو ایک والد یا والدہ دے سکتے ہیں۔
نوجوان نسل نے گوگل اور مصنوعی ذہانت کو ایک ایسے ذریعے کے طور پر اپنایا ہے جو نہ صرف تیز ہے بلکہ سوال کرنے پر بچوں کو کسی قسم کی ڈانٹ یا روک ٹوک کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ پہلے بچے اپنے والدین سے سوال کرتے تھے اور والدین نا صرف ان کا جواب دیتے بلکہ اپنے تجربات کہانیاں اور نصیحتیں بھی ساتھ میں بیان کرتے تھے۔ یہ عمل بچوں کی ذہنی تربیت اور رشتوں کی مضبوطی کا ذریعہ بنتا تھا۔ لیکن آج کے دور میں بچے اپنے والدین کے تجربات اور کہانیوں کو سننے کے بجائے گوگل سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں جو ایک خشک اور غیر جذباتی ذریعہ ہے۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اپنے بڑوں سے بہت کچھ سیکھا۔ مجھے یاد ہے میں اور میرے بہن بھائی رات میں امی اور ابو سے کہانی سنا کرتے تھے۔ نانی اماں ہمیں اپنے بچپن کے قصے سناتی تھیں۔ گھر میں کھانے کی میز پر علمی گفتگو ہوا کرتی تھی غلط اردو بولنے پہ ہماری اصلاح کی جاتی لفظ کا تلفظ درست ہونا چاہیے یہ سب ہماری تربیت کا حصہ تھا۔ ہم آج جو بھی ہیں اس میں ہمارے بڑوں کی تربیت کا بہت ہاتھ ہے۔ کامران بچپن میں اپنے والد کے ساتھ سیاسی میٹنگ میں جایا کرتے تھے جس سے یہ ہوا کہ انھوں نے کم عمری میں سیاسی شعور حاصل کیا اور ان کی شخصیت کی جو آج بنت ہے اس میں وہ سیاسی تربیت جو ان کے والد اور والد کے دوستوں نے کی اس کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں سمجھتی ہوں جو اقدار، تہذیب مجھے میری اپنی ماں، نانی اور خالہ سے ملے ان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ میں نے اور کامران نے پرما اور فرجاد کو ان کے بچپن میں جو کہانیاں سنائیں جو تربیت کی اس نے انھیں بہتر انسان تو بنایا ہی اور اچھی بات یہ ہوئی کہ بچے آج کے اس ڈیجیٹلائز دور میں بھی ہم سے مشورہ کرتے ہیں۔ اپنا کوئی مضمون لکھتے ہوئے پرما ہم سے ہماری رائے لیتی ہے فرجاد کوئی نیا بزنس آئیڈیا کامران کو ضرور سناتا ہے اور مشورے بھی مانگتا ہے۔
مصنوعی ذہانت جیسے ٹولز نے اس تبدیلی کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ آج کا نوجوان اپنی الجھنوں کو حل کرنے کے لیے اے آئی پر انحصار کرتا ہے کیونکہ یہ آسان اور تیز ہے۔ لیکن یہ سہولت ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔ جب بچے اپنے والدین سے سوال کرنا بند کر دیتے ہیں، تو وہ ان کہانیوں نصیحتوں اور جذباتی رہنمائی سے محروم ہو جاتے ہیں جو والدین کا ایک اہم حصہ ہیں۔
یہ تبدیلی والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ والدین جو کبھی استاد اور رہنما کے طور پر دیکھے جاتے تھے اب زیادہ تر ایک دوست یا سرپرست کے طور پر نظر آتے ہیں۔ دوستی ایک خوبصورت تعلق ہے لیکن جب والدین اور بچوں کے درمیان استاد اور شاگرد کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے تو اس کا اثر بچوں کے رویے اور ان کے والدین کے ساتھ تعلق پر پڑتا ہے۔
اس رویے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ والدین کی عزت اور احترام میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب بچے ہر سوال کا جواب گوگل یا مصنوعی ذہانت سے لے لیتے ہیں تو وہ اپنے والدین کو علم کے سب سے اہم ذریعہ کے طور پر دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ عمل والدین کی اہمیت اور ان کے مقام کو کمزور کرتا ہے۔ پہلے بچے اپنے والدین سے رہنمائی اور علم حاصل کرتے تھے جس سے ان کے دل میں والدین کی عزت بڑھتی تھی۔ لیکن اب بچے انٹرنیٹ کو زیادہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں جس سے والدین کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف علم کی منتقلی تک محدود نہیں ہے۔ جب بچے اپنے والدین سے سوال کرنا بند کر دیتے ہیں تو اس کا اثر ان کے جذباتی تعلق پر بھی پڑتا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت کم ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے رشتے میں سرد مہری آ سکتی ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں بچے ان سے سوالات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ بچوں کے سوالات کا جواب محبت اور صبر کے ساتھ دینا چاہیے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ان کے والدین ان کے سب سے بڑے رہنما اور استاد ہیں۔ دوسری طرف بچوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے والدین کے پاس زندگی کے تجربات اور وہ علم ہے جو گوگل یا مصنوعی ذہانت کبھی نہیں دے سکتی۔
یہ ضروری ہے کہ ہم جدید دنیا کی سہولتوں اور اپنے خاندانی رشتوں کے درمیان ایک توازن قائم کریں۔ گوگل اور مصنوعی ذہانت علم حاصل کرنے کے اہم ذرائع ضرور ہیں لیکن یہ انسانی تعلقات اور جذبات کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنے والدین اور بزرگوں کے تجربات سے سیکھنے کی روایت کو زندہ رکھنا ہو گا تاکہ نسلوں کے درمیان علم اور محبت کی منتقلی کا عمل جاری رہے۔
اگر ہم اپنے والدین کی عزت اور اہمیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان کے تجربات اور علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہو گا۔ والدین کی رہنمائی اور تربیت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک نعمت ہے جسے ہمیں ہر حال میں محفوظ رکھنا چاہیے۔ گوگل اور مصنوعی ذہانت ہماری زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں لیکن وہ رشتوں کی گہرائی اور والدین کی محبت کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو جدید دنیا کی سہولتوں کی نظر ہونے سے بچائیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان سوالات اور بات چیت کا عمل صرف علم کی منتقلی کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت اور احترام کے رشتے کو مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کو آسان بنانے کے لیے ہے نہ کہ ہمارے خاندانی رشتوں کو کمزور کرنے کے لیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے مضبوط اور نسلوں کے درمیان محبت اور عزت کا رشتہ برقرار رہے تو ہمیں جدید دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی روایات اور خاندانی اقدار کو بھی زندہ رکھنا ہو گا۔ والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد اور محبت کے رشتے کو مضبوط کرنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی وقت کے ساتھ جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان کے ساتھ اپنی سوچ میں لچک اور تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔


