جال والہ کا حیدر بخش


سنتیں ادا کرتے رمضان کے کزن کو ٹخنے سے کچھ اوپر، بزرگوں کے مطابق بہت ہی زہریلے، سانپ نے کاٹ لیا تھا۔ فوری مار دیا گیا سانپ قریب پڑا تھا۔ اب ہمیں ڈاکٹر بھی سمجھ لیا گیا۔ فضل ربی یا مریض کی قسمت کہ فلم شاید ”شہری بابو“ یاد آ گئی جس میں زہریلے سانپ کے ڈسے ہیرو کی ڈنک والی جگہ سے ہیروئن زہر چوس لیتی ہے۔ اور زخم کی جگہ سے زہریلا خون نکال دیے جانے سے جان بچ جانے کے امکان کی اخباری ہدایات بھی نظروں گھومیں۔ رمضان کی جیب سے ٹریٹ کا بلیڈ نکلوایا گیا اور مسجد کے دیے کی روشنی میں بڑی احتیاط سے کٹ لگا خاصا خون نکلنے دیا۔ جو میسر پٹی تھی باندھی گئی اور چند منٹ کے اندر لوگ چارپائی پہ مریض ڈالے اسی سانپوں سے بھرپور ریتلے میدانوں اور جھاڑیوں کے جھرمٹ سے نکلتے لیہ ہسپتال کی طرف بھاگے جا رہے تھے۔ شادی کے گیتوں اور ڈھولکی کی آواز بند ہو چکی تھی اور ذرا پرے ایک دو گھروں سے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

شب عروسی گزر چکی تھی صبح دس بجے تک ہسپتال سے مریض کے خطرے سے بالکل باہر نکلنے کی خوش خبری کے ساتھ ڈاکٹر کی یہ رائے بھی تھی کہ سانپ اتنا زہریلا تھا اگر ڈنک کی جگہ سے خون نکالنے میں کچھ بھی تاخیر ہوتی تو مریض کے بچنے کے امکان دس فیصد تھے۔ البتہ یہ کہ اناڑی بابو نے زخم کچھ زیادہ ہی گہرا لگا دیا تھا جس سے خون زیادہ نکل گیا، تاہم خوش قسمتی کہ کسی رگ وغیرہ کو نقصان نہ پہنچا تھا۔ دوپہر کے ولیمہ میں گاؤں کی رونق اور کھانوں کے مزے لیتے قہقہوں کی آواز واپس آ چکی تھی۔

اگلی صبح ہم بھائی حیدر بخش اور ان کے چار پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ہسپتال میں مریض کی عیادت کرنے اور معائنے کے لئے اتفاقاً پہنچے ڈاکٹر سے بروقت جراحی کا شکریہ لیتے واپسی پر بس پر بیٹھے یہ سوچ رہے تھے کہ اس افراتفری میں شکر ہے کوئی رمضان سے یہ نہ پوچھ بیٹھا کہ یہ تمہاری جیب سے  بروقت  بلیڈ کیسے نکل آیا۔ تب اچانک ذہن میں وہ برق چمکی جو آج بھی اس واقعہ کی یاد آتے پھر کوند جاتی ہے۔ اور حمد خداوندی کرتے سر جھکوا دیتی ہے۔ شاید یہ سب کچھ صرف اس لئے وقوع پذیر ہوا کہ خدائے بزرگ و برتر کو اس شخص کی کچھ آزمائش اور نئی زندگی مقصود تھی، ورنہ وہاں کا تو نائی بھی ساتھ والے گاؤں میں رہتا تھا جو جراحی کرتا۔ رنگ نرالے میرے رب کے۔

رمضان بی اے (آنرز ) اب بی ایڈ پاس کر چشتیہ ہائی سکول لاہور میں ٹیچر لگ چکا تھا مگر حیدر بخش کی ”اور ابھی اور ابھی“ کی ہلا شیری جاری تھی۔ انیس سو باسٹھ میں ان کا اپنا تبادلہ لاہور ہو گیا تھا اور وہ ہمت بڑھاتے خود بھائیوں کی پرانی کتابوں کی مدد سے بی اے کی تیاری میں لگ چکے تھے۔ اس دور میں ایک مرتبہ لاہور رمضان سے ملاقات کے لئے گیا تو وہ شام نگر کی ایک بہت ہی تنگ سی گلی میں ایک مکان کے گلی میں دروازہ کھلتے کمرہ کے کرایہ دار تھے۔ گلی کے درمیان گندے پانی کا نالہ سا تھا اور سامنے ایک مکان کی عقبی کھڑکی۔ ان دنوں ہم نے ممتاز مفتی کا افسانہ ”وہ ہاتھ“ تازہ تازہ پڑھا تھا اور یہاں رمضان اس کھڑکی سے جھانکتی آنکھوں کی کہانی سنا رہا تھا جو دیر تک خط و کتابت کی مٹھاس رہی۔

اب حیدر بخش بی اے ہو چکے تھے اور رمضان ملازمت کے ساتھ پوری لگن سے پڑھائی کرتے چونسٹھ میں ایم اے عربی اور دو سال بعد ایم اے اسلامیات کے لاحقے نام کے آگے لگا چکے تھے اور کالج کے پروفیسر ہو چکے تھے۔ ایف سی کالج لاہور میں عربی کے پروفیسر کے طور تعینانی ہوئی تو تھوڑے عرصہ بعد ایک بیرک نما بڑا کمرہ جس میں علیحدہ کچن اور ٹوائلٹ بھی تھا جو شاید کبھی میس رہا ہو بطور مکان الاٹ ہوا تو ہمارے بھی پھیرے لگنے شروع ہوئے۔ مزے کی یادوں کی باراتیں چلتیں۔ گاؤں والوں کو بھی لاہور میں اپنا گھر نظر آ گیا تھا ایک رات نو بجے کے لگ بھگ تیرہ چودہ افراد کا قافلہ آیا جو در اصل داتا صاحب کا عرس دیکھنے آیا تھا۔ اتنی رات گئے کھانا مہیا کرنا جب کہ ابھی سائیکل سوار تھے، کوئی آسان نہ تھا۔ انہیں آتے ہی کہا ”ارے پاگلو! آئے داتا صاحب کے عرس میں ہو کہ میرے گھر سونے؟ ابھی بس مل جائے گی، نکلو۔ انہیں ساتھ لیا داتا دربار کے لنگر سے خود کھایا انہیں کھلایا ساری رات قوالیوں محفلوں اور دعاؤں میں لگایا۔ عقیدت مند تھک کے صبح ہوتے وہیں سو چکے تھے اور پروفیسر صاحب اپنی کلاس کو لیکچر دینے کالج میں حاضر تھے۔

بھٹو دور میں ان کا نام "ملک محمد رمضان، بی اے آنرز، بی ایڈ، ایم اے عربی، ایم اے اسلامیات، ایل ایل بی، نائب صدر پنجاب کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن” ہو چکا تھا اور کالج کی کشتی رانی! سائیکلنگ، اتھلیٹکس، تیراکی وغیرہ میں بھی سرگرم تھے۔ اور پھر اسی کی دہائی کے اواخر میں وہ ٹاؤن شپ میں دس مرلہ کے پلاٹ پر اپنا مکان یوں تعمیر کرا رہے تھے کہ کالج کے بعد اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ تعمیر پہ لے جاتے اور راج مزدوروں کے ساتھ کام کرتے۔ ان کے جانے کے بعد اور چھٹی والے دن پروفیسر صاحب خود راج ہوتے اور بیٹے مزدور۔ پلستر ہونے سے کئی سال قبل تک ہر چکر میں ان کی اپنی تعمیر کردہ ٹیڑھی میڑھی دیواریں ہر دفعہ ملاقات کو جاتے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتیں اور ان کی عظمت کو سلام کہتیں۔

اسی کی دہائی میں ہی ایک مرتبہ پھر بھائی حیدر بخش میری دکان پہ اپنے روایتی مربیانہ انداز میں گپ شپ اور بہت زمانہ نہ ملنے کے بعد باتیں کر رہے تھے۔ لاہور سے نکل جنوبی پنجاب کے بہاولپور، رحیم یار خاں، ملتان وغیرہ شہروں میں چودہ سال گزار پھر لاہور متعین ہو مستقل رہائش اختیار کرتے گرین ٹاؤن میں مکان بھی بنا چکے تھے اور اب ان کا تبادلہ تھوڑی دیر کے لئے شیخوپورہ ہو چکا تھا اور روزانہ گرین ٹاؤن سے شیخوپورہ آنا جانا معمول تھا۔ ”پھر تو اس آنے جانے پہ خرچہ بھی بہت ہوتا ہو گا؟“ میرے سوال کے جواب ان کے روایتی انداز میں بڑا سا قہقہہ گونجا۔ چھوٹا بھائی ایل ایل بی کر چکا تھا، ریٹائر منٹ کے قریب پہنچا یہ بوڑھا جوان کیسے پیچھے رہتا۔ حیدر بخش اب لاء کالج کی شام کی کلاسوں میں ایل ایل بی کے لئے داخلہ لے چکے تھے۔ اب وہ دلکش انداز میں اپنے اس آنے جانے کی دلچسپ کہانیاں سنا رہے تھے۔

مکمل سفید داڑھی، جھکی کمر، کندھوں کے اندر دھنسی سی آگے جھکی گردن والا یہ بوڑھا گرین ٹاؤن سے سٹوڈنٹ کارڈ دکھا پچیس پیسے ٹکٹ کے پکڑا بادامی باغ بس سٹینڈ پہنچتا، وہاں سے پھر پچیس پیسے میں جتنا فاصلہ مقرر تھا شاید پندرہ کلو میٹر۔ پھر اتر کے دوسری بس۔ اس طرح ڈیڑھ دو روپے میں واپس جا لاء کالج کی کچھ کلاسیں اٹینڈ کر کے گھر پہنچتا۔ جہاں عموماً اس زمانے میں طلباء کو دیکھتے ہی ڈرائیور بس روکنے کی بجائے بھگا لیتے تھے۔ ایک بوڑھے کے لئے رک جاتی۔ اور پھر جب کنڈکٹر پچیس پیسے اور سٹوڈنٹ کارڈ دیکھتا تو اس کے منہ سے جھاگ اور باقی مسافروں کے قہقہے جگتیں اور بحثیں۔ کنڈکٹر ڈرائیور مسافر کے جھگڑے میں دوسرے مسافروں کی حمایت کی بحث میں ان کا سٹاپ آ چکا ہوتا۔ شاید کئی گھنٹے ہماری بھی ہنسی ان کے ساتھ گونجتی رہی۔

دسمبر 24، 1993۔ فیصل آباد میری بیٹی کی شادی پر۔ میرے ساتھ ملک رمضان مرحوم اور پھر چوہدری اکرم مرححوم سٹیشن ڈائرکٹر ریڈیو پاکستان لاہور۔ بعد میں ڈائرکٹر فنانس ریڈیو پاکستان اسلام آباد

اب بچوں کی شادیوں اور تقریبات کا دور کبھی کبھار میل ملاپ کا دور بھی تھا۔ بھائی حیدر بخش ایل ایل بی پاس کر چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فارغ نہ تھے۔ بالآخر انیس سو نوے کے مئی کی ایک شام ہم ان کو دفنا کے ان کی یادوں اور حوصلہ بڑھانے کے طریقوں کی کہانیاں دریوں پہ بیٹھ دہرا رہے تھے۔

دو ہزار ایک دسمبر کے اواخر میں انتہائی افراتفری میں ہم پاکستان کو الوداع کہہ رہے تھے۔ اور آخری شام ہم رمضان اور بھابھی کے پاس چند منٹ بیٹھے ان کی بڑھتی بیماری کا سن رہے تھے۔

تین ماہ بعد پاکستان کا اپنا پھیلاوا سمیٹنے واپس لاہور اترے۔ ٹاؤن شپ ہی میں عزیزوں کے گھر رات گزار علی الصبح وہیں کھڑی اپنی کار نکال رمضان کے گھر کا رخ کیا۔ رستے میں ایک چوک پہ کوئی آٹھ دس پولیس وین والوں نے ہمیں روکا۔ ایک صاحب آئے۔ بڑے ادب اور شائستگی سے ہماری خیر خیریت پوچھی۔ کہاں جا رہے ہیں کے جواب میں بتایا کہ ایک دوست کی عیادت کو جا رہا ہوں۔

” جی وہ ریکوئسٹ تھی ہمارے کچھ ناشتہ پانی کا تو بندوبست کر دیں رات سے بھوکے ہیں“ ۔

پتہ نہیں کینیڈا کے پانی کا اثر اتنی جلد ہو چکا تھا کہ منہ سے نکلا ”عزیزم اس فنڈ کے لئے تو میرے پاس کوئی رقم نہیں، البتہ کچھ چھیننا ویننا چاہتے ہیں تو حاضر ہوں“ خلاف توقع صاحب مسکرا پڑے اور نہیں صاحب، شکریہ آپ جائیں سنتے ہم کار چلا چکے تھے۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد واپسی پر یہ وین ایک سڑکی ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی اور جوان ناشتے پہ اپنی جوانی کا زور لگا ہے تھے۔

رمضان خاصے علیل تھے پھر بھی ہم دونوں بڑی ہی شگفتگی سے پچھلے پینتالیس برس کی رفاقت کی جگالی کرتے قریب بیٹھے بچوں کو بھی ہنسا رہے تھے۔

اوائل جون دو ہزار دو میں کینیڈا واپسی والی شام ہم پھر رمضان کے سرہانے اس کے ساتھ لگے بیٹھے تھے۔ مگر اب وہ بول نہیں سکتا تھا۔ کبھی آنسو بھری کبھی مسکراتی آنکھیں مجھے نظر آ رہی تھیں اور دیر تک ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیے ہم وہاں تھے۔ یہ آخری ملاقات تھی۔ اور پھر جون کے آخری ہفتہ میں ہمارے عزیز ہمیں ان کے الوداع کہہ جانے کی خبر فون پہ سنا رہے تھے۔

الحمدللہ۔ ہم اتنے خوش نصیب ہیں کہ اپنے اکثر دوستوں کی اولادوں سے رابطہ ہے اور گاہے بگاہے خیر خیریت اور گپ شپ رہتی ہے اور پرانے فوٹوز ہمیں ان خوشگوار گھڑیوں کو سامنے لا کھڑا کرتے پوری پرانی بہار دکھلاتے نہ اداس ہونے دیتے ہیں نہ بڑھاپے کا احساس۔ فارغ اوقات میں ان ہی فوٹوز میں جب جال والہ میں رمضان کی شادی کے فوٹوز پر نظر پڑ جاتی ہے تو سب سے پہلے بھائی حیدر بخش کا مشفق چہرہ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتا اور باتوں باتوں میں ہماری ہمت بڑھاتا سامنے آ جاتا ہے اور پھر وہ فلم چلتی ہے جو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان ٹائمز کے ایک مقالہ کے آخری اور ہمیشہ کے دل میں کھب چکا فقرہ چلاتا ہے، کسی ”نفیس“ نامی مضمون نگار نے لکھا تھا۔

” تنہائی کے لمحات ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکوں کی ملاقات کی محفل ہوتے ہیں“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2