جال والہ کا حیدر بخش
درمیانہ قد، اوپر اٹھے کندھوں کے درمیان نیچے دھنسی لگتی تھوڑا آگے جھکی گردن۔ تیس کی دہائی میں ہوتے بھی عمر سے خاصے زیادہ لگتے، سفید بالوں کی جھلک دکھاتی خشخشی داڑھی مخصوص سرائیکی لہجہ۔ یہ تھے خاردار جھاڑیوں ٹخنے تک پاؤں دھنسا دینے والی ریت کے میدانوں ٹیلوں اور سانپوں کے دواروں سے بھرپور پیدل چلتے لیؔہ سے چند کوس کے فاصلے پہ چھوٹی سی آبادی جال والہ کے حیدر بخش۔ ان سے ملاقات کی راہیں بھی انیس سو چھپن میں فرسٹ ائر میں گورنمنٹ کالج میں داخل ہوتے کھلیں۔ گھر سے کالج سائیکل پہ آتے جاتے ابتدائی دنوں میں سڑکوں پہ اپنے کلاس فیلو لڑکوں کا ساتھ ہوتے ہیلو ہائے سے گہری دوستی میں ڈوب جانے اور گھروں تک ملاقاتی سلسلوں کے بڑھنے نے ان تک جا پہنچایا۔ حیدر بخش محکمہ انجمن ہائے امداد باہمی یعنی کوآپریٹو سوسائٹیز میں انسپکٹر تھے اور فیصل آباد ستیانہ روڈ پر اس وقت آباد ہونے کی طرف بڑھتی پیپلز کالونی کے تقریباً آخری سرے میں اپنے محکمہ کے کسی افسر کے پلاٹ میں بنے دو نامکمل کمروں والے مکان میں اپنے دو بھائیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔
کالج کے پہلے ہفتہ میں ہی کالج کی راہ میں ساتھ ہوتے جن لڑکوں کا ساتھ گہری دوستی میں بدلا ان میں ایک رمضان تھے۔ وہ اپنے سائنس سیکشن میں پڑھتے بھائی عبدالرحمان کو ساتھ بٹھائے ہوتے۔ رمضان کا میٹھا سرائیکی لہجہ اور دیہاتی انداز دوستی میں بدلا اور پھر ان کے گھر جا ان کے بڑے بھائی حیدر بخش سے بھی احترام والی دوستی میں بدل گیا۔ حیدر بخش کی لائل پور انسپیکٹر انجمن ہائے امداد باہمی تعیناتی ہوئی اور ان کا خلوص ان کے افسر کے محض قبضہ کے لئے بنائے عارضی دو کمروں اور باہر صحن میں پانی والے نلکے والے گھر میں مفت رہائش کا بندوبست کرا گیا تو وہ بجائے اپنے بال بچوں کے دونوں بھائیوں کو ساتھ لے لائلپور آ بسے۔ محدود تنخواہ اور برائے نام زرعی آمدنی پورے گھرانے کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔
زمانہ انیس سو چھپن کا تھا۔ جب سکول کالج کے لڑکے اور اساتذہ پیدل یا سائیکل سوار ہوتے اور تانگوں میں سکول کالج کی لڑکیوں کے جھرمٹ ہوتے۔ دو تین ماہ کی سائیکل سواری کے بعد جوانی چڑھتے لڑکے اپنی اپنی پسند کے تانگوں کی ٹائمنگ کا اندازہ کرتے نکلتے اور ان کو کراس کر کے نکلنے تک ہی کی محبتیں اور ارمان بھرے خواب دیکھتے۔ محمد آباد کے گھروں کے لئے دو نامکمل کمروں والے کوئی دو کنال کے احاطے والے گھر کا پانی کا نلکا ابھی تک کچی اس آبادی کے اکثر گھروں کا واٹر سپلائی سسٹم تھا اور اس کا ہر وقت کھلا گیٹ آبادی کے باسیوں کو گھڑے اور بالٹیاں لئے آتے اور پانی بھر لے جاتے تکتا خوش ہوتا۔ اور جب کبھی بڑے بھائی ابھی گھر نہ ہوتے یا محکمانہ ٹور پہ ہوتے اور کہیں مٹیاروں کا ٹولا گاگریں اور گھڑوں کو بھرنے میں مصروف ہوتا تو دونوں چھوٹے بھائی کمرے کے اندر دبک جاتے یا باہر بھاگنا پڑتا کہ سرائیکی لہجے کی نقل اتارتے خوب جگتیں سننا پڑتیں اور زمانہ اصلی تے وڈے ظالم سماج کا تھا۔ ہم چونکہ تازہ تازہ اختر شیرانی کے گرویدہ ہوئے تھے۔ صبح کالج جاتے سائیکلوں کا ساتھ ہوتے ہی پوچھتے
” او دیس سے آنے والے بتا
کیا آج بھی تیرے آنگن میں پنہاریاں پانی بھرتی رہیں
انگڑائی کا نقشہ بن بن کے، ماتھے پہ گاگر دھرتی رہیں
اور کولہے مٹکاتے واپس جاتے تم پر جگتیں گھڑتی رہیں
تو سرائیکی لہجے کی آہیں سننے کو ملتیں۔ گرمیوں دسمبر اور مارچ کی چھٹیوں میں دونوں چھوٹے بھائی گاؤں جا کھیتوں پہ بھی کام کرتے اور حیدر بخش کی فیملی اس گھر میں آ جاتی۔ ہماری رمضان سے خط و کتابت شروع ہو جاتی وہ جال والہ، کھیت کھلیان، صحرا، سانپوں اور جھاڑیوں کی کہانیوں کے ساتھ اب شہری بابو ہوچکے گبھرو کے گاؤں آ جانے پہ شروع ہوتی روایتی کہانیاں لکھتا اور میں ہوت والا جمن شاہ میں اس کے دوست مولوی اللہ بخش کی معرفت اپنی معاشی جدوجہد اور اس کے دوران ہوتے لطیفے لکھتا۔
دو سال پلک جھپکتے گزر گئے۔ ہم بی اے کے طالبعلم بن گئے۔ اور حیدر بخش بھائی اپنی فیملی کو بھی فیصل آباد لانے پہ مجبور ہو گئے۔ گاؤں میں بچوں کو چھوڑ وہ ان کے تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ جانے کی صورت میں قربانی دے چکے تھے۔ اب کام سے تھکے ہارے آتے تو میٹرک میں فیل ہو جانے والے اپنے بڑے بیٹے الہٰی بخش اور دوسرے بچوں کے ٹیوٹر بن جاتے۔ الہٰی بخش نے بس پاس مارکس لے کے میٹرک کیا۔ الہٰی بخش کی ذہانت بھی نہ تھی اور اس کے کالج پڑھائی کے وسائل مشکل۔ حیدر بخش نے نئی راہ نکالی بیٹے کو گھر ہی منشی فاضل کی تیاری پہ یوں لگایا کہ خود بھی منشی فاضل کا امتحان اس کے ساتھ دیا۔ باپ پاس اور بیٹا فیل۔ اب بیٹا دوبارہ منشی فاضل کی تیاری پہ اور باپ صرف انگریزی میں ایف اے کا پیپر دے کر ایف اے پاس ہو چکا تھا۔
بی اے کا رزلٹ آیا تو ہم تو اچھے نمبروں میں بی اے پاس ہو چکے تھے۔ مگر رمضان کی گو تھرڈ ڈویژن تھی مگر ساتھ آنرز ان عربی کا لاحقہ لگ چکا تھا۔ انہیں بذریعہ ٹیلیگرام نتیجہ کی اطلاع اور مبارک باد دی تو جواب میں ساتھ تھرڈ ڈویژن کی لعنت لگ جانے کا شکوہ تھا۔ چنانچہ جوابی خط میں ایڈریس میں نام کے ساتھ، بی اے (ل) آنرز لکھنا شروع کیا جو عمر بھر ساتھ رہا۔
بی اے کے امتحان ختم ہوتے ہی حسب معمول رمضان اور عبدالرحمان گاؤں جا گندم کی کٹائی میں لگ گئے۔ شہر جا اخبار پڑھتے عبدالرحمان نے داؤد خیل سیمنٹ فیکٹری کی فرنیس کے لئے آپرینٹس برنر، ( کام سیکھنے پہ ملازمت ) کا اشتہار پڑھا۔ درخواست دی۔ انٹرویو میں سیمنٹ بنانے والی بھٹی کی ناقابل برداشت گرمی میں کام کا ذکر ہوا تو جناب نے صرف یہ کہا کہ جناب میں لیہ کی شدید گرمی میں پچھلے ہفتہ گندم کی فصل کٹائی کے مقابلے میں اوؔل آیا ہوں۔ بغیر دوسرے سوال اس کا انتخاب ہو گیا۔ وہ داؤد خیل سیمنٹ فیکٹری میں ابتدائی تربیت کے بعد اسسٹنٹ برنر سے بڑھتا چیف برنر تک پہنچتا ہمیشہ کے لئے وہیں کا ہو گیا ( بتاتا چلوں اس کا پیش رو بالکل معمولی تعلیم یافتہ مگر اپنے کام میں ماہر تھا ) عبدالرحمان سے ملاقات کبھی کبھار ہوتی ہی رہی۔ کہ فیصل آباد سے گزرتے، آتے جاتے ہمارے ہر بے تکلف دوست کا ٹھکانا ہمارا گھر اور ہماری دکان رہے۔
حیدر بخش اپنے محکمہ کے کسی افسر کے توسط سے رمضان کو لاہور کسی معمولی سی نوکری دلوا ساتھ جس طرح ممکن ہو آگے پڑھائی جاری رکھنے کا حکم سنا چکے تھے۔
قسمت میں بعض اوقات ایک لمحہ ہی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے اور ایسا ہی ایک لمحہ ہمارے ایم بی اے کے خواب کو نومبر ساٹھ میں اس وقت لائل پور کی سرکلر روڈ پہ ایک معمولی سے آٹو پارٹس ڈیلر میں تبدیل کر گیا۔ اکسٹھ کی گرمیوں کی ایک سہ پہر ہم لیہ کے لاری اڈے پہ اتر وہاں کے مین بازار کے ایک صراف کا پتہ پوچھ رہے تھے کہ رمضان اور عبدالرحمان کی شادی میں شرکت کا حکم نامہ اپنی تعمیل کا متقاضی تھا۔ اور یہ شادی ہماری زندگی کی اب تک کی سب سے یادگار شادی بن گئی۔ بازار میں داخل ہوتے ہی سامنے سے آتے تین جوان جھپٹے اور پہلے ہمارا مختصر سا اٹیچی کیس چھینا اور پھر تعارف کرایا۔ وہ ہمیں لینے آئے تھے۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد ہم ان کے ساتھ پیدل لیہ شہر سے نکل اونچے نیچے ریتلے ٹیلوں اور کانٹے دار جھاڑیوں کے درمیان پگڈنڈی پہ رواں تھے۔
ایک تو ہمارے پاؤں ریت میں دھنس دھنس جاتے ادھر کانٹوں سے بچ نکلنے کی ہدایت اور ساتھ خوش خبری کہ تین چار میل کا یہ پیدل فاصلہ ہم نے مکمل نظر رکھتے طے کرنا ہے کہ علاقہ زہریلے سانپوں کا ہے۔ اس کے باوجود ہم جو کچھ عرصہ پہلے دیکھی فلم سسؔی پنوں کی ریت پہ پنوں کو ڈھونڈتی پھرتی کسی سسؔی کا تصور کیے چلے جا رہے تھے۔ صحرا کے اس حسین سحر سے نکل تو نہ پائے مگر محتاط سے ہو گئے۔ گاؤں کیا تھا بس تیس چالیس کچے گھر اور چھوٹی سی کچی مسجد۔ اندھیرا چھا رہا تھا۔ گاؤں اور خاندان کے بزرگ اور جوان دونوں بھائیوں کے دوستوں سمیت ہمارا استقبال کر کھلے میدان میں بچھی چارپائیوں پہ چوپال لگا چکے تھے اور ہم پوری توجہ سے ٹھیٹھ سرائیکی میں گفتگو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گو کچھ کچھ ان بھائیوں سے پہلے سیکھ بھی چکے تھے۔ کھلے میدان میں بچھی چارپائیوں پہ دیر تک گپیں مار سونا اور رات دیر گئے تک گھروں کے اندر سے ڈھولکی اور دف وغیرہ پہ شادی کے گیتوں کی جھنکار اور ہلکی چاندنی کا سحر اپنے رنگ بچھا چکا تھا۔

باراتیں وغیرہ اگلے روز تھیں۔ اگرچہ شادی والے دن کے لئے ہم کمالیہ کے کھدر کا کرتہ اور وہاں مشہور لہرئیے رنگ دیتی لنگی بھی ساتھ لائے تھے مگر یار لوگوں نے اسی دن ہمیں کھدر کی چادر کرتہ اور سر پہ لیہ کی مخصوص پگڑی پہنا دی اور ہمیں ارد گرد گھمانے نکل گئے۔ ایک کسان گدھے پہ سوار کسؔی گود میں رکھے شاید کھیتوں کو پانی لگا واپس آ رہا تھا۔ اسے اتار ہمیں اس کی جگہ بٹھا کسؔی ہمارے ہاتھ میں پکڑے روپ میں لیا گیا کسان کے روپ میں فوٹو وہ لمحے قید کیے اب بھی سرور دیتا ہے۔ دوپہر کے بعد دف اور ڈھولکیوں کی آواز میں شادی کے گیت گاتی خواتین کھلے میدان میں اکٹھا ہونا شروع ہوئیں ایک دو کلومیٹر ہی دور سسرالی گاؤں سے بھی عزیز و رشتہ دار آنے شروع ہوئے۔ کھلے میدان میں پنڈال سجا اور شاید مایوں قسم کی اس تقریب نے ہماری سٹؔی گم کر دی۔
ڈھولکی، معروف میکے سسرال کے چھیڑ چھاڑ کرتے قہقہے لگواتے گیت اور کندھوں کے پیچھے سے اس شہری بابو پہ کسی گئی پھبتیوں کا تڑکا بھی تھا۔ اب دولہوں کی بہنیں سالیاں اور خواتین بڑی بڑی چوکور مقامی چھاپہ ڈیزائن کی چادروں کو چاروں کونوں سے پکڑے اور درمیان میں چھڑی سے اوپر اٹھا بنائے سائبان بنا چکی تھیں۔ اس کے نیچے دلہا کھڑا کیا گیا۔ اس کے سامنے اچھے بھلے درمیانے سائز کا گھڑا پانی سے بھرا رکھا گیا۔ یہ دولہے کی طاقت کا امتحان تھا۔ اس بیچارے کو ایک ہاتھ سے اس گھڑے کو اٹھا، بغیر دوسرا ہاتھ لگائے، سر کے اوپر لا اپنے سر پر پانی الٹا نہانے کا مظاہرہ کرنا تھا۔ آزمائش ان کی تھی اور جان ہماری پہ بنی ہوئی تھی کہ اگر پہلوانی ناکام ہوئی تو جو درگت بننی تھا اس کا رخ ہماری طرف بھی ہو گیا تو۔ ۔ ۔ عبدالرحمان نے گھڑا ہاتھ میں اٹھایا پینگ کی طرح آگے پیچھے لہراتے اوپر لے گیا۔ پانی اس کو نہلا رہا تھا تالیوں کی گونج اور نعروں کا شور تھا۔ اور جان میں جان ہماری آ رہی تھی۔ اب رمضان کی باری تھی اس کا بازو کچھ ڈول گیا مگر گھڑے کا پانی اسے بھی سر کی طرف سے تر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اب تالیوں اور قہقہوں کے ساتھ کچھ پھبتیاں بھی تھیں۔

اگلے روز باراتیں ایک ہی گاؤں جانا تھیں۔ رات سونے سے پہلے دولہا کے قریبی دوستوں کی محفل سجی تو وسیب میں دلہن کی سہیلیوں کی شب عروسی ایک ( ناگفتنی ) شرارت کے بھی ہو سکنے کے رواج کا علم ہوا۔ اس کا حل سوچا گیا جو ہمارے شیو کے سامان میں پڑا ٹریٹ کا بلیڈ نکلا۔
اگلی صبح بارات تیار تھی۔ اب اونٹ پہ دولہا کے پیچھے وہی سرائیکی سٹائل کی پگڑی کھدر کا کرتہ اور کمالیہ کی لنگی میں ملبوس ہم زندگی میں پہلی مرتبہ اونٹ سواری کی کوشش میں تھے۔ اور اناڑی پن دور کھڑی مٹیاروں کی ہنسی ہمیں پسینہ محسوس کرا رہا تھا۔ یہ ہماری اونٹ کی بھی پہلی سواری تھی وہ بھی بجائے بطور مہمان نہیں بلکہ شہ بالا سمجھی گئی اور جو درگت شہ بالا کی وسیب میں بنتی ہے ہمارے نصیب میں کچھ کچھ آ ہی گئی۔ بارات دلہن لئے واپس آ چکی تھی، ہلکی چاندنی میں احباب کی محفل میں مولوی اللہ بخش نیر کے مولویانہ لطیفے چل رہے تھے کہ اچانک مسجد کی طرف سے شور اٹھا۔


