عبدالرحیم مجذوب : شاعر ِ خوش نوا 2
مجذوب اپنے فکری میلان، انداز و اطوار، ہیئت و موضوع، لفظیاتی نظام اور تخیل کے بنیاد پر پشتو شعر گوئی میں ایک جداگانہ اسلوب کے حامل ہیں۔ یونانی، ہندی دیومالائی اور اساطیری داستانوں، مغربی اور فارسی ادب کے گہرے مطالعہ کی بدولت انہیں پشتو کے باقی شعراء سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔ دیشنت اور شکنتلا، شیکسپئیر کے وینس اور ایڈونس، کیٹس کے یونانی اساطیری کردار ’لیمیا‘ اورکیتھ ایف بی کی تخلیق کا منظوم پشتو ترجمہ ان کے فکری تکامل، وسعت مطالعہ اور پُر گوئی پر واضح دلیل ہے۔ پشتو میں شاید بیک وقت ایک شاعر کے اتنے انگریزی تراجم ہمیں نظر نہیں آتے۔
موضوعاتی تنوع کے لحاظ سے ان کے ہاں متصوفانہ خیالات ایک غیر متصوفانہ رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے اپنی ایک نظم ’وحدت اور کثرت‘ میں مادیت کے عناصر بھی زیر بحث لاتے ہیں، اور ’ہالی وڈ کے اِکٹریسس‘ جیسی نظم بھی تخلیق کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک اپنی کتاب ’دردانے‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’مجذوب کا تصوفی افکار و انداز اور اظہار روایتی تصوف سے بالکل ایک مختلف رنگ لئے ہوئے ہے، ان کی ہر نظم کا مرکزی خیال شاعرانہ انداز میں عقیدہ توحید کی تفسیر کرتی دکھائی دیتی ہے، تمثیلی اور تجریدی آرٹ کی یہ قسم اگرچہ ایک نیا تجربہ نہیں تاہم ایک اضافہ ضرور ہے یہاں بھی مجذوب ایک منفرد طرزِ فکر کے حامل ہیں‘ ۔ ڈاکٹر صاحب کی اس رائے سے جزوی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مزید بر آں عمر دراز وزیر کے ساتھ انٹرویو میں مجذوب صاحب کہتے ہیں کہ ’تصوف کے حوالے سے (وہ) تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں تاہم کوئی ذاتی تجربہ نہیں رکھتے‘ ۔
مجذوب کی غزل کا مطالعہ قاری کو ایک ماورائی، رومانی اور روحانی کیفیت میں گھیر لیتی ہے اور پھر مجذوب قاری کے ذہن میں موجود کیفیات کو مجسم و متشکل کرنے میں ید طولی ٰ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک مجذوب کی غزل کے حوالہ سے رقمطراز ہیں ’مجذوب کی غزل متنوع تشبیہات اور لفظی و معنوی صنائع سے مزین ہے اور یہ اتنے برمحل ہوتے ہیں کہ قاری محسوس کرتے ہیں گویا یہ انہی مواقع کے لئے تخلیق کیے گئے ہیں‘ ۔ ان کی نظم اور غزل میں تجربہ اور تازہ گوئی ایک نئے انداز کو جنم دیتا ہے جو کہ قدیم و جدید کے امتزاج کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے۔
قدیم دیومالائی اور اساطیری تجربہ کو ایک مقامی رنگ میں پرونا اور وہی کردار دوبارہ تخلیق کرنا آپ ہی کا خاصہ ہے۔ اسی حوالے سے کہتے ہیں ’میری موجودہ شاعری کا پس منظر یونانی یا رومن اساطیر ہیں کہ پشتون اساطیر کے ساتھ یونانی اساطیر جڑا ہوا ہے‘ ۔ مجذوب اپنی شاعری میں علامتوں کے برمحل استعمال سے بڑے دلکش تجربوں کو امر کر دیتا ہے جیسے ان کی ایک نظم ’درمے شپونکیہ سہ شوے؟‘ (کہاں گئے اے شبان گروہ! ) ، اور ’زہ چہ زو تیارے دی‘ ( چلو چلیں کہ اندھیرا ہے ابھی ’) وغیرہ میں یہ محاسن بدرجہ اتم موجود ہیں۔
مقامیت میں ’خطاب بہ کوہ شیخ بدین‘ جیسی نظم بھی تخلیق کرتے ہیں اور مزاحمتی ادب میں ’عوام دی پاسیدلی‘ (جنتا اٹھی ہوئی ہے) اور ’ویتنام تہ مے سلام دے‘ (ہے ویتنام کو سلام مرا) بھی تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی نظم ’زہ بہ لہ پخے لاندے کومہ زڑگے‘ (میں اپنے دل کو تہہ پا رکھ دوں ) یاسیت اور خودسپردگی کا ایک دلکش مرقع ہے۔ دوسری نظم ’مجمع البحرین‘ میں مادیت اور روحانیت کا ایک مکالمہ نظر آتا ہے۔ مجذوب حضرتِ خضر سے ملاقات اور علامتوں کے ذریعے پیش آمدہ حالات کی پیش بینی کرتے ہیں۔
اس نظم میں زمینی حقائق کی عکاسی کے علاوہ طلسماتی حقیقت نگاری کی ایک جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ خود شاعری سے متعلق عمر دراز وزیر کے ساتھ ایک نشست میں کہتے ہیں : ’شاعری کے لئے محبت اور حسن لازم ہے اور یہ دونوں شاعری کے لئے بمنزلہ نور کے ہیں‘ ۔ شاعری کے قدرتی ہونے، نہ ہونے سے متعلق کہتے ہیں کہ ’آپ قدرت سے اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتے، قدرت آپ پر حاوی ہے، قرآن اور سنت ہمارے لئے سب سے زیادہ مستند اور کافی ذرائع ہیں‘ ۔
پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسرت کے خیال میں ’انہوں نے پشتو نظم کو ایک نیا انداز عطا کیا جو اس قدر منفرد ہے کہ اس کا تتبع نہیں کیا جا سکتا‘ ۔ خود مجذوب صاحب سے جب عمر دراز وزیر نظم کی ہیئت کے حوالے سے پوچھتے ہیں تو مجذوب یو ں لب کشائی کرتے ہیں ’،‘ میں نے نظم لکھنے میں انگریزی کے شعراء کی پیروی کی ہے ”درمے شپونکیہ سہ شوے ’سے متعلق عام خیال کی تائید کرتے ہیں کہ‘ واقعی انہوں نے یہ نظم تحریک خدائی خدمتگار کے سرخیل کے حوالے سے لکھی ہے۔ ’
ڈاکٹر سید چراغ حسین شاہ مجذوب کے شعری مجموعہ ’دارالاوہام‘ میں ان کے شعری تجربہ کو ’رومانی تصوف‘ قرار دیتے ہیں اور انہیں ٹیگور سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ مجذوب کے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ ’میری شاعری میں عملی تصوف نہیں، کہ میں صوفی تو نہیں، الفاظ کا تصوف البتہ ہے‘ ۔ ان کی شاعری میں ایک جستجو، ایک بے قراری، محبت کا الہامی تصور، اور ماضی پرستی دکھائی دیتی ہے، مجذوب صاحب اس ضمن میں ایک سوال، کہ انہوں نے رومانی شاعری کیوں شروع کی؟
کا جواب یوں دیتے ہیں ’انگریزی شاعری کے مطالعہ سے یہ بات میرے پلے پڑ گئی کہ کلاسیکی شاعری کے دور کے اختتام پر کیوں نہ پشتو میں رومانوی شاعری کی جائے، قلندر مومند کا خیال بھی یہی تھا تو میں نے بھی رومانی شعرا کا ذکر کیا تاکہ یہ پشتو میں متعارف ہوں‘ ۔ مرحوم پروفیسر رحمت اللہ درد مجذوب کے شعری مجموعہ ’زیڑ گلونہ‘ (زرد پھول ) میں ان کو ’پشتو کا کیٹس‘ قرار دیتے ہیں، شاعر و سیاستدان ہاشم بابر بھی یہی خیال رکھتے ہیں۔
جبکہ مجذوب انگریزی شاعری سے متعلق رائے رکھتے ہیں کہ ’انگریزی کے شعراء میں، بعض خوبیوں کے بنا پر مجھے بائرن، کہیں شیکسپیئر، کہیں شیلے اور کہیں ورڈس ورتھ پسند تھے، سچی بات تو یہ ہے کہ شیلے ایک باغی شاعر تھے، کالرج بھی مجھے بھی پسند ہیں کہ وہ مادیت کے برعکس روحانی چیزوں کو پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ بائرن کے ساتھ مجھے اس وجہ سے اختلاف ہے کہ کہیں کہیں وہ مسلمانوں کے خلاف نظر آتے ہیں‘ ۔ اجمل خٹک انہیں ’موسمِ بہار کی خوش خبری‘ تصور کرتے ہیں۔
امیر نواز مروت کے مطابق امیر حمزہ خان شنواری کہتے ہیں کہ ’آج کے مجذوب کا شاعرانہ انداز پشتو کے ایک اہم شاعر جیسا ہے کہ ان کی شاعری کو دوسری زبانوں کے تخلیقات کے ساتھ تقابل کیا جا سکتا ہے۔ ابھی دونوں قیدِ حیات سے آزاد ہیں تو ناقدین اور محققین دونوں کی شاعری اور دعوی کا اندازہ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔
کلیات کے دوسرے حصہ میں (مرثیہ خود گفتہ ) ’مڑی خبرے کوی‘ ستمبر دو ہزار پانچ، اور دوسرا مرثیہ ’صدام کو سولی پر چڑھایا جاتا ہے‘ جو کہ دسمبر 2006 ع میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ چونکہ مزید ’ناچاپ شاعری‘ پر کوئی تاریخ مرقوم نہیں تو تخمیناً ہم اس شاعری کو مجذوب کی آخری دور کی شاعری قرار دے سکتے ہیں۔ باوجود صدام کی کوتاہیوں کے مذمت کے، مجذوب ان کی شجاعت کی داد دیتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ ہمیں ان کی سیاسی موقف کی کچھ نہ کچھ نشانی دیتی ہے۔
شاعری میں مقصدیت کے حامل یہ شاعر نہ صرف کم ہی پڑھے گئے ہیں بلکہ ان کی شاعری اور فکر و فن پر کیا گیا کم نسبتاً کم اور سطحیت پر مبنی ہے اس لیے ان پر ابھی تک کیا گیا تحقیقی کام بھی مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ ان کے فن و فکر کا کلی جائزہ محقق سے بیک وقت مغربی اور مشرقی ادبی رجحانات اور علم نفسیات سے پر عبور رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ان سے کلی آگاہی مجذوب کی فکر کی تحلیل اور سربستہ رازوں کا کھوج لگانے میں معاون و مددگار ثابت ہو گا۔


