مہاراجہ سورج مل جاٹ: بھرت پور ریاست کا مہاراجہ جو ناقابلِ شکست رہا

جب ہم کوٹہ سے گزرے تو اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے۔ ریلوے کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق بھرت پور ہمارے راستے میں تو آتا تھا لیکن وہاں ہمارا سٹاپ نہیں تھا۔ یہ جان کر مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں بھرت پور کو دیکھوں، بھلے چلتے چلتے ہی صحیح۔ بھرت پور اور بھرت پور کے مہاراجہ سورج مل جاٹ کا ذکر میں نے بے شمار دفعہ سن رکھا تھا۔ میرے پاس موجود کتاب میں بھی اس کا تذکرہ تھا۔ جب ہم بھرت پور سے گزر رہے تھے تو اس وقت صبح کا اجالا ہو رہا تھا۔ اس لیے اسے روشنی میں دیکھنا ممکن ہوسکا۔ میرے ساتھی ابھی تک سو رہے تھے۔ البتہ چائے والے کی دھیمی آواز ضرور سنائی دینے لگی۔ یہ آواز میرے جیسے چائے کے شوقین حضرات کے لیے کسی موسیقی سے کم نہیں ہوتی۔
اس سے پہلے کہ میں اپنے ایک ہندو ہمراہی جن کا تعلق ایک پبلشنگ ہاؤس سے تھا سے ایک طویل مکالمے کا ذکر کروں، میں چاہوں گا کہ بھرت پور کے راجہ سورج مل جاٹ اور اس علاقے میں واقع چند اہم مقامات کا مختصر تعارف آپ کی خدمت میں پیش کروں۔
یہ تمام تر معلومات حاصل کرنے کے لیے میں نے درج ذیل تین کتابوں اور برٹانیکا انسائیکلوپیڈیا سے استفادہ کیا ہے :
·بالکشن داس کی کتاب The Political and Social History of the Jats
·راج پال سنگھ کی کتاب Rise of the Jat Power
·ایچ ای ڈریک بروک مین کی کتاب A Gazetteer of Eastern Rajputana Comprising the Native States of Bharatpur، Dholpur، & Karauli
·اور اس کے ساتھ ساتھ 1911 Encyclopædia Britannica، Volume 3 1911 Encyclopædia Britannica/Bharatpur کو بھی دیکھا ہے۔
راجستھان میں ایک جاٹ ریاست بھرت پور بھی واقع تھی جس کا ایک والی مہاراجہ سورج مل جاٹ بھی تھا۔ وہ بیک وقت مغلوں، مراٹھوں اور راجپوتوں سے بر سر پیکار بھی رہا، دلی اور آگرہ پر قبضہ بھی جمایا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے جاٹ قوم کا افلاطون بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی شہرت کی وجہ سے اس کے نام کی ایک یونیورسٹی بھی قائم ہے اور اس کے مجسمے بھی نصب ہیں۔
میں نے اب تک جہاں بھی کوئی مجسمہ دیکھا، ان میں اکثر ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے تھے اور کوئی بھی مجسمہ کسی غیر ملکی حملہ آور مغل، افغان، ترک، ڈچ، ایرانی، افریقی، عرب، انگریز یا کسی اور کا نہیں تھا۔ البتہ پاکستان میں ان مسلمان حملہ آوروں کے نام کے میزائل بھی ہیں، ادارے بھی ہیں اور کتابوں میں انہیں ایک مسلمان ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بھارت بھر میں مسلمان یا غیر مسلم حملہ آوروں کو کہیں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ یہ حملہ آور جب حکمران تھے تو اس وقت انہوں نے ضرور اپنے نام کی بہت سی عمارتیں، باغات کے علاوہ لوگوں کی فلاح کے کئی کارنامے سر انجام دیے جو اب تک بھی باقی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد غیر ملکی حملہ آوروں کی عزت افزائی کے لیے شاید ہی کوئی عمارت یا ادارہ بنایا گیا ہو۔ یہ بات میں اپنے علم کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ ممکن ہے یہ درست نہ ہو۔ دوسری طرف یہ بات بہت واضح ہے کہ غیر ملکی حملہ آوروں کے ساتھ جس نے بھی جنگ کی، خواہ وہ کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کی عزت آج بھی کی جاتی ہے۔ ٹیپو سلطان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہیں بھارت بھر میں ایک دیوتا کا مقام حاصل ہے۔
بھارت کے لوگوں کے لیے مہاراجہ سورج مل جاٹ اس وقت اس علاقے اور خاص طور پر جاٹ قوم کے نزدیک ایک افسانوی کردار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ اسے اس علاقے کا دُلا بھٹی یا احمد خان کھرل بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں حاصل معلومات حاضرِ خدمت ہیں۔
مہاراجہ سورج مل 1707 ء کو پیدا ہوا اور 1763 ء میں صرف پچپن سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ تاریخ دان اسے ہندوستان میں پیدا ہونے والا ایک عظیم ترین جنگجو اور قابل ترین حکمران مانتے ہیں۔ سورج مل، بدن سنگھ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کی زندگی سے ہی حکومتی معاملات میں اہم کردار کیا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد وہ باقاعدہ طور پر ریاست کے راجہ بن گئے۔ ان کی حکومت صرف سات سال ہی رہی اور وہ ایک جنگ کے دوران مارے گئے۔
ان کے نام سے کئی بڑے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ بھرت پور میں انہیں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے نام کے گانے جوگی حضرات آج بھی گلی محلوں میں گاتے پھرتے ہیں۔ وہ واحد جنگجو تھے جو کسی بھی جنگ میں شکست سے دوچار نہ ہوئے اور انہوں نے دلی اور آگرہ، دونوں جگہ پر مغلوں کے قلعوں پر قبضہ کیا۔ ان کی بیویوں میں جاٹ خاندان کے ساتھ ساتھ ایک راجپوت عورت بھی شامل تھی۔
سورج مل کی داستان کے بغیر راجستھان کی کہانی ناقص ہے۔ ان کے بارے میں ایک مختصر تحریر پیش خدمت ہے۔
بھرت پور کو راجستھان کا مشرقی دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دلی سے پونے دو سو کلومیٹر دور جنوب میں اور آگرہ کے مغرب میں پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے مغرب میں جے پور ہے جس کا فاصلہ پونے دو سو کلو میٹر ہے۔ گوالیار اس کے جنوب میں اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس طرح یہ ایک ایسی ریاست تھی جس کے چاروں طرف انتہائی طاقتور ریاستیں موجود تھیں۔ بھرت پور شہر اس ضلع کا صدر مقام ہے۔
یہاں موجود قلعے کی مناسبت سے اسے لوہا گڑھ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سترہویں صدی کے اوائل میں جب مغل مکمل طور پر ہندوستان کے طاقتور حاکم تھے تو انہوں نے آگرہ کے قریب بھرت پور کے کسانوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اس وقت بھرت پور جو کہ جاٹوں کا ایک گاؤں تھا، کے سر براہ چورامن تھا، جو اس علاقے کا ایک بڑا زمیندار تھا، وہ راجستھان میں بھرت پور جاٹ ریاست کا اصلی بانی بھی مانا جاتا ہے۔ اسی نے جاٹوں کو ہندوستان میں ایک سیاسی قوت کی شکل دی۔
چورامن نے مغلوں کے خلاف جنگ کی لیکن طاقتور مغل حکمران اورنگزیب نے اسے شکست دے دی۔ اس کے باوجود جاٹ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب رہے۔ جیسے ہی مغلیہ سلطنت کو زوال آیا تو یہ لوگ بدن سنگھ کی سربراہی میں اکٹھے ہوئے اور ایک وسیع و عریض علاقے پر اپنی حکومت قائم کی۔ بھرت پور ریاست کا پہلا دارالحکومت دیگ شہر تھا۔ ماتھورا اور آگرہ کے قریب ہونے کی وجہ سے اس پر بار بار حملوں کا خطرہ رہتا تھا۔
چورامن نے جاٹوں کی قیادت سنبھالنے کے بعد مٹی کا ایک قلعہ بنایا اور اس جگہ کا نام بھرت پور رکھا۔ اس نے اپنی ایک فوج بھی تیار کر لی۔ اس کی حکمت عملی میں ایک بڑی جنگ کی بجائے چھاپہ مار کارروائیاں زیادہ نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلے اس نے شاہی لشکروں اور کاروانوں کی نقل و حرکت پر پہرہ لگایا۔ عملی طور پر وہ اس علاقے کا مالک بن گیا اور مغلوں سے سنسنی کا قلعہ بھی چھین لیا۔ اس دوران اورنگزیب کی اولاد کے درمیان جنگ بھی جاری تھی۔
اس جنگ کو جیتنے والے بیٹے، بہادر شاہ نے چورامن سے صلح کی کوشش کی اور اسے کئی لالچ بھی دیے لیکن چورامن نے آزاد رہنے کو ترجیح دی اور اس طرح وہ مغل سلطنت کا درباری نہ بن سکا۔ اس کے برعکس اس نے مغل سلطنت کی گرتی ہوئی طاقت کو موقع غنیمت جانا اور اپنی ریاست کو وسعت دی۔ اب اس کی نگاہ ہمیشہ دلی کے تخت پر ہی رہتی تھی۔ اس کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہتا تھا۔

