نہ بڑا نہ کوئی چھوٹا
پچھلے دنوں میرے دوست فیصل کی کال تھی، کہنے لگا، ملک یار وہ ماسی سارہ فوت ہو گئی ہے۔ مجھے سن کے بڑا دھچکہ لگا، میں نے کہا یار گزشتہ ماہ ہی وہ ہمارے گھر سے ہو کر گئی ہیں بالکل ٹھیک تھیں، کیا ہوا انہیں۔
بس یار اچانک ہی کوئی بہانہ بنا، آج کل تو جوان جہان آدمی کا پتا نہیں چلتا وہ تو پھر بزرگ خاتون تھیں، فیصل نے جواب دیا۔
بات تو فیصل کی ٹھیک تھی لیکن جوان آدمی کی موت پر پھر بھی لوگ افسوس کرتے ہیں لیکن غریب کی موت کا تو بالکل پتا نہیں چلتا۔
بقول منیر نیازی،
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ماسی سارہ ایک غریب مسیحی خاتون تھیں۔ وہ کافی عرصہ پہلے بیوہ ہو گئی تھیں، تب ان کے بچے چھوٹے تھے۔ لیکن انہوں نے محنت مزدوری سے اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنے یتیم بچوں کو پالا۔ ان کے بچے اب جوان اور شادی شدہ تھے۔ ویسے تو وہ بھی بیچارے غربت سے بر سر پیکار تھے بہرطور زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔
اسی دوران ان کے گھر یہ المیہ وقوع پذیر ہوا کی سارہ کی ایک بہو گھر بار چھوڑ کر گاؤں کے کسی کے ساتھ چلی گئی۔ اس بہو کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو گھر میں ہی رہ گئے۔ اسے ایک گاؤں میں رہ کر بھی اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ نجانے نئے شوہر کی کون سی انا ایک ماں کو بچوں سے ملنے سے مجروح ہوتی تھی۔ آخر ان بے آسرا بچوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی سارہ نے اپنے ذمے لے لی اور اپنے آخری وقت تک انہوں نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی۔
میں بہت چھوٹا تھا جب سے سارہ کو اپنے گھر آتے ہوئے دیکھا۔ وہ مہینے میں ایک آدھ بار ہمارے گھر ضرور چکر لگا لیتی تھیں۔ وہ کئی دفعہ کھجور کے پتوں سے بنی ”چھابیاں“ اور اس طرح کی دیگر چیزیں لے آتی تھیں۔ اور میری امی بھی حسب توفیق ان کی مدد کر دیتی تھیں۔
ہمارے گھر میں چونکہ مذہبی بنیاد پر اس سے کوئی تفریق نہیں کی جاتی تھی لہذا وہ جب بھی ہمارے گھر آتی تو کام میں میری امی کا ہاتھ ضرور بٹا دیتی تھیں، جیسے برتن دھونا وغیرہ۔ تب میرے بچگانہ ذہن میں یہ انتہا پسند سوچ سمائی ہوئی تھی کہ عیسائی ناپاک ہوتے ہیں اور سارہ کے ہاتھ لگانے سے ہمارے برتن بھی ناپاک ہو گئے ہیں۔
”امی جن برتن میں سارہ نے ہاتھ لگائے میں ان میں کھانا نہیں کھاؤں گا“ میں اکثر اپنی امی سے یہ سرگوشی کرتا۔ میری امی بہت ہمدرد خاتون تھیں وہ کوشش کرتیں کہ ایسے الفاظ سارہ کے کانوں تک نہ پہنچیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔ میری امی مجھے سمجھا بہلا کر چپ کروا دیتی تھیں کہ اچھا تمہارا کھانا میں آپ برتن دھو کے بنا دوں گی، لیکن میں پھر بھی منہ پھلائے رکھتا۔
جب میں کچھ شعور کی منزل تک پہنچا تو مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ کوئی بھی انسان ناپاک نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ہمارے اندر کے تعصبات ہیں جو ناپاک ہوتے ہیں۔ ہر مذہب اور ہر فرقے کا انسان پاک ہوتا ہے بشرطیکہ اس کے اندر اچھائی ہو اور اس کے شر سے دوسرے انسان محفوظ ہوں۔ ماسی سارہ ایسی ہی نیک دل خاتون تھیں۔ وہ غریب تھیں، کمزور تھیں، اقلیت سے تھیں لیکن ایک نیک دل انسان تھیں۔ میں نے ہمیشہ انہیں ان کے خاندان اور بچوں کے لیے تڑپتے دیکھا۔ انہوں نے دوسروں کے گھروں میں کام کیا اور اپنے گھر کو سہارا دیا اور اپنے بچوں کی پرورش کی۔
جب تک مجھے یہ احساس ہو چکا تھا کہ تمام انسان پاک ہیں اور قابل تکریم ہیں، اس کے بعد جب بھی ماسی سارہ کا ہمارے گھر آنا جانا رہا۔ اس کے بعد میں ان سے اسی عزت و احترام سے پیش آتا تھا جس کی وہ حقدار تھیں۔ سن 2021 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا اس کے بعد بھی ان کا ہمارے گھر آنا جانا نہیں رکا۔ ہم سارے بہن بھائی ان سے اسی طرح پیش آتے رہے جس وضع داری اور رواداری کا ہمیں اپنی والدہ سے درس ملا تھا۔ وہ بزرگ خاتون جب بھی آتیں ہمیں دعائیں دے کر جاتی۔
ان کی ناگہانی موت کا سن کر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے زندگی بھر غربت، مشکلات اور مصیبتوں کا سامنا کیا، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہمیشہ مسکراتی رہتی تھیں اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا خوب جانتی تھیں۔ سارہ کی زندگی سے مجھے یہ سبق ملا کہ انسانیت، خدمت اور محبت کا جذبہ ہی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ ہم دوسروں کی خدمت کر کے اپنے لیے خوشی اور سکون حاصل کر سکتے ہیں۔
نہ بڑا نہ کوئی چھوٹا، سبھی ایک ہیں جہاں میں
ہے وہی عظیم جس نے، نئی شمع اک جلا دی


