صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 32 : پچھتاوا
” خدا جو امید کا سرچشمہ ہے، تمہیں ہر طرح کی خوشی اور سکون سے بھر دے، تاکہ روح القدس کی قدرت کے وسیلے سے تمہاری امید زیادہ ہو جائے۔“ رومی 15 : 13
میں چھوٹکی گِٹّی کی طرف سے شاہی بازار میں داخل ہوا تو سامنے ہی مٹھائی کی دکان کے برابر دین دنیا بک ڈپو سے انکل شاہد نکل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، مٹھائی والے کی ایک بات بتاتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں اس کی مٹھائی کا مقابلہ شاید ہی کوئی اور حلوائی کر سکتا۔ میں ہمیشہ اسی سے مٹھائی خریدتا تھا مگر اس کی ایک عادت سے چڑ تھی۔ جب وہ مٹھائی تولتا اور اگر ترازو کا پلڑا ذرا سا بھی جھکا ہوتا تو وہ لڈّو کا ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈال لیتا بجائے اس کے کہ پورا لڈو دے کر گاہک کو خوش کر دے۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کے موٹاپے کا راز لاتعداد لڈوؤں کے ٹکڑوں میں تھا۔ کئی بار میں نے سوچا کہ اس سے کہوں کہ اکنّی زیادہ لے لے مگر لڈو کو نہ توڑے تاکہ میں جس کے لیے مٹھائی لے جا رہا ہوں وہ یہ نہ سمجھے کہ میں نے راستے میں لڈو میں منہ مار دیا۔
دیکھیں، بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہو رہی تھی انکل شاہد کی جو دین دنیا بک ڈپو سے نکل رہے تھے۔ ہاتھ میں پٹ سن کا ایک تھیلا تھا جس میں غالباً بچوں کی کتابیں اور کاپیاں تھیں۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے مسکرا کر مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیا اور بولے، ”سر، آپ کہاں غائب ہو گئے؟ ہم شام کی چائے پر آپ کو مِس کرتے ہیں۔“
” بس انکل، اسکول سے آنے کے بعد ٹائم ہی نہیں بچتا۔ اگلے روز کی تیاری بھی کرنی پڑتی ہے،“ میں نے جواب دیا۔
”کم از کم ہفتے میں ایک آدھ دن تو ہمارے لیے بھی نکال لیا کریں۔ “
” اگلے ہفتے کسی دن چکر لگاؤں گا۔“
”بچے بھی آپ کو مِس کرتے ہیں۔ “
”مریم بچوں کو پابندی سے پڑھا رہی ہے نا؟“
” انہیں لے کر بیٹھتی تو ہے، اس کی منگنی ہو گئی ہے۔“
” منگنی ہو گئی ہے؟“ میں نے چیخ کر کہا، ”کس سے؟“
” یوحنّا عارف سے۔“
” اوہ، اچھا۔ میری طرف سے اسے مبارک باد دے دیجیے۔ میں کسی دن چکر لگاؤں گا۔“
” یاد کر کے آئیے گا۔“
” ضرور،“ میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
انکل شاہد خدا حافظ کہہ کر گھنٹہ گھر کی طرف چل دیے۔ مجھے بھی اسی طرف جانا تھا مگر دوسری طرف مڑ گیا کیوں مریم کی منگنی کی خبر میرے دماغ پر ہتھوڑے چلا رہی تھی اور میں جلد از جلد دانی ایل کو اطلاع دینا چاہتا تھا۔ کچھ دور چل کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انکل شاہد بھیڑ میں کہیں گُم ہوچکے تھے۔ میں واپس مڑ کر چھوٹکی گٹی پر اُتر لیا اور نکّڑ پر ہی ایک خالی رکشا مل گیا۔ میں اسے بیراج کالونی چلنے کی ہدایت دے کر بیٹھ گیا، اور راستے بھر مریم اور دانی ایل کے متعلق سوچتا رہا۔ میرے لیے بڑے اچنبھے کی بات تھی کہ مریم نے عارف کی پیش کش کو قبول کر لیا تھا۔ دانی ایل کا خیال تھا کہ آخر کار مریم اُسی کی طرف آئے گی۔ مقصد پر مرکوزیت مریم کی فطرت میں شامل تھی۔ فی الحال اس کا مقصد اپنی تعلیم مکمل کرنا تھا۔ دانی ایل کو یقین تھا کہ وہ پڑھائی ختم کرنے کے بعد اسی کا انتخاب کرے گی۔ میں بھی دانی ایل سے متفق تھا مگر انکل شاہد کی سنائی ہوئی خبر مجھے پتھر کی طرح لگی۔
جب ہم بیراج کالونی میں داخل ہوئے تو میں نے رکشا والے کو دانی ایل کے گھر تک پہنچنے کی ہدایات دیں۔ میٹر پر پورے تین روپے بنے تھے۔ میں نے اسے ایک ایک روپے کے تین نوٹ دیے اور ان کے اوپر ٹپ کی ایک اٹھنی بھی رکھ دی۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چل دیا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے انجم بھائی کی آواز آئی، ”کون؟“
” انجم بھائی، میں ہوں پرویز،“ میں نے جواب دیا۔
”اندر آ جاؤ، عزیزِ من،“ انہوں نے جواب دیا۔
میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو حسب معمول انجم بھائی پاجامہ اور بنیان میں ملبوس، لیٹے ہوئے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔
”آؤ عزیزِ من،“ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا اور گول تکیہ سرہانے رکھ کر ٹیک لگائی اور بیٹھ گئے۔
”کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں، انجم بھائی،“ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
” یہ شوکت تھانوی کی خدانخواستہ ہے،“ انہوں نے مجھے کتاب دکھا کر ایک طرف رکھ دی۔
” آپ کو کیسی لگی؟“ میں نے پوچھا۔
”آنہہ۔“ انہوں نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
” میں آپ سے متفق ہوں،“ میں نے جواب دیا، ”یہ غالباً شوکت تھانوی کی سب سے کم زور کہانی ہے۔ “
” تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ عورتوں کا معاشرے اور ملک کو چلانا کسی طور مضحکہ خیز نہیں ہو گا۔“
” خیر، دانی ایل کہاں ہے؟“
” ذرا نکّڑ تک میری سگریٹ لانے گیا ہے۔“
”میں تو جب بھی آتا ہوں، دانی ایل آپ کی سگریٹ لانے گیا ہوتا ہے،“ میں نے ہنس کر کہا۔
”یہ بات نہیں، دراصل تم آتے ہی اس وقت ہو جب وہ میری سگریٹ لانے گیا ہوتا ہے،“ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور دانی ایل داخل ہوا۔
”ارے تم کب آئے؟“ اس نے پوچھا۔
”بس ابھی ابھی آیا ہوں۔ تم حسب معمول انجم بھائی کے لیے سگریٹ لانے گئے ہوئے تھے۔ “
دانی ایل نے انجم بھائی کی میز پر سگریٹ کے دو پیکٹ اور بچی ہوئی ریزگاری رکھ دی۔
میں نے دانی ایل سے کہا کہ میرا موڈ ذرا چہل قدمی کا ہو رہا ہے اور اسے لے کر باہر نکل گیا۔ غالباً انجم بھائی سمجھ گئے ہوں گے کہ کچھ پرائیویٹ گفتگو کرنی ہوگی۔
” دانی ایل، تمہاری مریم سے کب ملاقات ہوئی تھی؟“ میں نے پوچھا۔
”دو ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ پچھلے ہفتے تو میں پنڈی گیا ہوا تھا۔“
” تمہیں معلوم ہے کہ اسے یوحنّا عارف نے شادی کی پیش کش کی ہے؟“
”نہیں، مجھے نہیں معلوم۔“
”اور مریم نے اس کی پیش کش قبول بھی کرلی ہے،“ میں نے کہا اور دانی ایل کے تاثرات کا اندازہ لگانے کے لیے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس نے یہ خبر سنی ہی نہیں۔ وہ زمین پر نظریں جمائے ہوئے چلتا رہا۔
***
اتوار کو حسب معمول طے شدہ وقت پر دانی ایل کی اسکوٹر انکل شاہد کے دروازے پر رُکی۔ اس سے پہلے کہ وہ ہارن بجاتا، مریم باہر نکل آئی۔
”کیا حال ہے دانی،“ مریم نے اسکوٹر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
” زبردست، تم سناؤ،“ دانی ایل نے جواب دیا۔
”آج کس کو قتل کرنے کا ارادہ ہے؟“ مریم کا اشارہ دانی ایل کی زرد رنگ کی قمیص اور گردن کے گِرد لپٹے ہوئے سرخ اسکارف کی طرف تھا۔
”جو بھی سامنے آٗئے۔ آج کسی کو چھوڑنا نہیں ہے،“ دانی ایل قہقہہ لگا کر ہنسا اور اسکوٹر موڑ کر گیئر میں ڈال دی۔
اس روز چرچ کی سروس بھی کچھ مختصر تھی۔ پادری پال کو تیز بخار تھا اور انہوں نے دانی ایل کے اصرار کے باوجود اس دن کی سروس کو کینسل نہیں کیا۔ سروس کے دوران دانی ایل مستقل سوچتا رہا کہ مریم نے نہ اسے اپنی منگنی کے متعلق بتایا اور نہ اس کے رویے میں کوئی فرق پڑا۔ کیا وہ اس سے چھپانا چاہ رہی تھی۔ مریم نے اس دن اپنے ہاتھ میں ایک نئی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی مگر دانی ایل نے نوٹ کیا کہ اس نے دائیں ہاتھ میں اس کی دی ہوئی انگوٹھی بھی پہن رکھی تھی۔ ”نہ جانے یہ لڑکی کیا چاہتی ہے،“ اس نے سوچا۔
جوں توں کر کے سروس ختم ہوئی اور چرچ خالی ہوا تو دانی ایل نے کہا، ”مریم، میں نے تمہارے لیے ایک گیت لکھا ہے۔ “
”اوہ تھینک یو، میں سننے سے پہلے ہی تمہارا شکریہ ادا کر رہی ہوں۔ “
”تم ہال کے وسط میں جاکر بیٹھو اور میں تمہیں اپنا گیت سناتا ہوں۔ “
دانی ایل نے ہال کی روشنی مدہم کردی اور اسٹیج پر پیانو کے سامنے آ بیٹھا۔ اس کی انگلیوں نے گرانڈ پیانو کے کی بورڈ پر رقص کرنا شروع کر دیا۔ موسیقی بلند ہوتی گئی اور مریم آنکھیں بند کیے اس میں جذب ڈوبتی گئی یہاں تک سُروں میں دانی ایل کی آواز شامل ہو گئی۔
زمانہ گزر گیا
اسکول کا آخری دن تھا
تم نے مجھے اپنی ڈائری دی
میں نے اس پر یوں لکھا،
”گلاب کے پھول سرخ ہیں، میری جان، اور بنفشہ کے پھول نیلے
شکر میٹھی ہے، میری جان، مگر اتنی نہیں جتنی تم ہو ”
ہم نے اسکول کے دوران محبت کی
اور جب آخری دن آیا
تم نے مجھے اسکول کا میگزین دکھایا
جس میں ہم سب کی تصویریں تھیں
میں نے تمہارے میگزین میں اپنے نام کے اوپر لکھ دیا
”گلاب کے پھول سرخ ہیں، میری جان، اور بنفشہ کے پھول نیلے
شکر میٹھی ہے، میری جان، مگر اتنی نہیں جتنی تم ہو ”
پھر میں بہت دُور چلا گیا اور تمہیں کوئی اور مل گیا
میں نے تمہارا خط پڑھا ہے، میری جان،
اور میں نے جواب میں لکھا ہے
”گلاب کے پھول سرخ ہیں، میری جان، اور بنفشہ کے پھول نیلے
شکر میٹھی ہے، میری جان، خدا تمہیں خوش رکھے ”
یہ چھوٹی سی بچی جس کی تصویر تم نے بھیجی ہے
بالکل تمہاری طرح لگتی ہے
کسی دن، کوئی لڑکا اس کی ڈائری میں بھی لکھے گا
”گلاب کے پھول سرخ ہیں، میری جان، اور بنفشہ کے پھول نیلے
شکر میٹھی ہے، میری جان، مگر اتنی نہیں جتنی تم ہو۔ ”
جب دانی ایل نے آخری نوٹ سے انگلی ہٹائی اور ہال میں خاموشی چھا گئی تو اسے مریم کی سسکیوں کی آواز آئی۔ اس نے کھڑے ہو کر دیکھا تو وہ اگلی نشست کی پشت پر سر ٹیکے اور دونوں بازوؤں سے سر کو ڈھانپے رو رہی تھی۔ دانی ایل اسٹیج سے اترا اور مریم کے کندھے کو ہلا کر بولا، ”کیا بات ہے، مریم؟“
مریم نے اٹھ کر دونوں بازو پھیلا کر دانی ایل کی گردن کے گرد حمائل کر دیے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”یہ میں نے کیا کر دیا، دانی؟ یہ میں نے کیا کر دیا؟“ اس نے سسکیوں کے دوران کہا۔
دانی ایل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ مریم کو سینے سے چمٹائے خاموش کھڑا رہا۔
نوٹ: Bobby Vinton کا 1962 کا دل سوز گیت Roses are red جس کا یہاں ترجمہ کیا گیا ہے، آپ یو ٹیوب پر اس لنک پر سُن سکتے ہیں :

