وائس چانسلرز تعیناتی کے مجوزہ معیار پر اعتراض کیوں؟
گزشتہ کئی دن سے سندھ کی سرکاری جامعات خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ بیشتر جامعات میں اساتذہ سراپا احتجاج ہیں۔ تعلیمی اور تدریسی عمل معطل ہے۔ حکومت سندھ اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔ احتجاج کی وجہ یہ ہے کہ سندھ کابینہ نے سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018 میں کچھ ترامیم کی منظوری دی ہے۔ یہ ترامیم سندھ کی جامعات میں وائس چانسلروں کی تعیناتی کے رائج طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق ہیں۔ تجویز ہوا ہے کہ گریڈ اکیس یا بائیس کا کوئی بھی سرکاری افسر، جو چار سالہ انتظامی تجربے کا حامل ہو، سرکاری جامعہ میں وائس چانسلر کے عہدے کے لئے درخواست دینے کا اہل ہو گا۔ ایسے امیدوار کے لئے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری کی شرط نہیں ہے، البتہ متعلقہ مضمون میں ایم۔ اے کی ڈگری لازمی ہے۔ اس ضمن میں انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو استثنا حاصل ہے۔ واضح رہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو پروفیسر بننے کا اہل ہے، اور چار سال کا تجربہ رکھتا ہے، وہ بھی وائس چانسلر بننے کا اہل ہو گا۔
سرکاری جامعات کے اساتذہ اور ان کی نمائندہ تنظیم اس مجوزہ معیار (criterion) پر شدید معترض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے سندھ حکومت دراصل سرکاری افسروں اور بیوروکریٹس کو جامعات کا وائس چانسلر بنانے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ ان کا نکتہ نظر ہے کہ جامعات کی سربراہی کے لئے پی۔ ایچ۔ ڈی کی شرط ختم کرنے سے تحقیقی اور تعلیمی عمل بری طرح متاثر ہو گا۔ یہ بیانات بھی میری نگاہ سے گزرے کہ ایک نان۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کس طرح تعلیمی معاملات کی تفہیم کرسکے گا۔ سینڈیکیٹ اور دیگر اہم فارموں، علمی تحقیق اور عالمی درجہ بندی سے جڑے پیچیدہ معاملات کو کیسے سمجھے گا؟ یہ بھی سننے کو ملا کہ ایک نان۔ پی۔ ایچ۔ ڈی سربراہ کی تقرری سے متعلقہ جامعہ کے وقار پر زد پڑے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جامعہ کی سربراہی کے لئے پی۔ ایچ۔ ڈی کے حامل پروفیسر کے علاوہ کسی اور کو تعینات نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا موقف ہے کہ سرکاری جامعات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ جامعات کے وائس چانسلر صاحبان جنسی ہراسانی اور مالی بد عنوانی کے مرتکب ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے تنبیہ کی ہے کہ احتجاج پر اکسانے اور اسے ہوا دینے والے وائس چانسلر اس عمل سے باز نہ آئے تو ان کی گرفت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی یہ بات قابل جواز معلوم نہیں ہوتی۔ اگر کچھ وائس چانسلر صاحبان مالی بد عنوانی یا ہراسانی میں ملوث ہیں، تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ آپ کسی بیوروکریٹ کو کسی جامعہ کے عہدے پر بٹھا دیں، یا کسی مسجد کے مولوی کو، ایسی شکایات تب بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ مطلب یہ کہ مالی بد عنوانی اور ہراسانی کے جواز پر جامعات میں وائس چانسلروں کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے میں کوئی منطق نہیں ہے۔ اس کے لئے آپ کوئی اور دلیل پیش کریں۔
تاہم دوسری طرف اس بات میں بھی وزن نہیں ہے کہ صرف تدریسی تجربے کا حامل ایک پی۔ ایچ۔ ڈی پروفیسر ہی جامعہ کے معاملات کو عمدہ طریقے سے چلا سکتا ہے۔ کوئی نان پی۔ ایچ۔ ڈی اس قابل نہیں کہ کسی جامعہ کے انتظامی معاملات کو سمجھ سکے یا چلا سکے۔ احتجاج اور اعتراض کرنے والوں کی اس بات کو درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی۔ ایچ۔ ڈی وائس چانسلروں کی موجودگی میں گزشتہ کئی برس سے ہماری سرکاری جامعات زوال پذیر کیوں ہیں؟ ہماری اعلیٰ تعلیم کا معیار کیوں مسلسل گراوٹ کا شکار ہے؟ 78 سال گزرنے کے باوجود عالمی سطح پر ہماری ڈگریوں کی وہ اہمیت کیوں نہیں ہے، جو ہونی چاہیے؟ سب سے اہم بات یہ کہ ہماری سرکاری جامعات اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بجائے بدترین مالی بحران کا شکار کیوں ہیں؟
وائس چانسلر جامعہ کے انتظامی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یعنی یہ ایک انتظامی عہدہ ہے۔ اس عہدے سے جڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے آپ کو اچھا، متحرک اور ایماندار منتظم ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ پی۔ ایچ۔ ڈی ڈگری کی اہمیت نہیں ہے۔ اس بات کی حمایت بھی نہیں کی جا سکتی کہ بیوروکریٹس کی تعیناتیوں کے لئے جامعات کے پھاٹک کھلے چھوڑ دیے جائیں۔ تاہم اس نکتہ نظر سے اتفاق کرنا بھی ممکن نہیں کہ کوئی نان۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کسی جامعہ کو عمدہ طریقے سے نہیں چلا سکتا۔ ایک نان۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کسی صوبائی یا وفاقی وزارت کو عمدگی سے چلا سکتا ہے تو ایک جامعہ کو کیوں نہیں؟ ہماری افسر شاہی میں بہت سے اچھے اور قابل افسران موجود ہیں۔ دوسری طرف ایسے بھی ہیں جن کے ماتھے پر بدعنوانی اور بد انتظامی کا داغ لگا ہے۔ اسی طرح جامعات میں بھی قابل اور ایماندار اساتذہ موجود ہیں اور اس کے قطعی برعکس بھی۔ یعنی کسی ایک شعبے کو سو فیصد ٹھیک یا غلط نہیں کہا جا سکتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کی کم و بیش تمام سرکاری جامعات خسارے کا شکار ہیں۔ بیشتر جامعات ملازمین اور اساتذہ کو بروقت تنخواہ اور پنشن ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ جامعات کو ہایئر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے یا ادھر ادھر سے ادھار مانگ کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ ایک نان پی۔ ایچ۔ ڈی اگر مالی بحران میں گھری جامعہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتا ہے تو اس کی تعیناتی میں کیا حرج ہے؟ مثال کے طور پر معاشی امور کا ایک اچھا ماہر سرکاری جامعہ کو مالی بحران سے نجات دلا نے کے قابل ہے تو اس کو ضرور موقع ملنا چاہیے۔
اعتراض ہو رہا ہے کہ وائس چانسلر کا پی۔ ایچ۔ ڈی ہونا بے حد ضروری ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ ہماری بہت سی نجی اور سرکاری جامعات نے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں بیچنے کی دکانیں کھول رکھی ہیں؟ آپ لاکھوں روپے فیس بھریں اور یہ ڈگری خرید کر ماتھے پر سجا لیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر کو علمی تحقیق کی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے تاکہ وہ تحقیقی عمل کی ترویج کے لئے کام کر سکے۔ ہمارے ہاں بہت سے اساتذہ نے تحقیقی مقالے لکھنے کی ایک اندھی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ ایسے بھی ہیں جو ہر سال بیس بیس تحقیقی مقالے لکھتے اور چھپواتے ہیں۔ اگلے دن وزارت تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر بتا رہے تھے کہ ایک یونیورسٹی پروفیسر نے انہیں باقاعدہ پیشکش کی کہ آپ کے نام سے پندرہ بیس آرٹیکل چند مہینوں میں شائع کر کے آپ کی وائس چانسلر شپ کی بنیادی requirement پوری کی جا سکتی ہے۔ تو کیا پندرہ، بیس تحقیقی مقالے لکھنا اور پی۔ ایچ، ڈی کرنا اس قدر مشکل کام ہے، جو پروفیسروں کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا؟ یہ اعتراض بھی ہو رہا ہے کہ نان پی۔ ایچ۔ ڈیز کی تعیناتی سے جامعہ کا وقار متاثر ہو گا۔ عرض ہے کہ ہماری جامعات کا وقار تب بھی متاثر ہوتا ہے جب ہمارے پروفیسر صاحبان کی جعلی تحقیق اور چربہ سازی کے قصے عالمی سطح پر مشہور ہوتے ہیں۔ ان پروفیسر صاحبان کی جعلی ڈگریوں اور تحقیقی مقالہ جات کے قصے بھی ہمیں یاد ہیں جو برسوں جامعات کے وائس چانسلر رہے اور ہایئر ایجوکیشن کمیشنوں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات بھی۔
بہرحال وزیر اعلیٰ سندھ کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ وائس چانسلروں کی تعیناتی کا جو طریقہ کار رائج ہے، اس کے ذریعے گھوم پھر کر چند نام ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے بار بار وائس چانسلر بن رہے ہیں۔ باقی صوبوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ وائس چانسلر تعیناتی کے عمل میں نئے امیدواروں کو بھی موقع دینا چاہتا ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ سندھ کی وزارت تعلیم کے ایک افسر سے میری بات ہوئی، پتہ یہ چلا کہ اس مجوزہ معیار میں صرف نان پی۔ ایچ۔ ڈیز نہیں بلکہ کم انتظامی تجربے کے حامل نسبتاً جونیئر پروفیسروں کے لئے بھی وائس چانسلر بننے کی راہ ہموار ہوگی۔
ویسے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کی جامعات میں غیر تدریسی پس منظر کے حامل سربراہان کی تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی آئیوا (IOWA) اور پرڈیو ( (Purdue جیسی نامور سرکاری جامعات سمیت کئی یونیورسٹیوں میں غیر تدریسی پس منظر کی حامل شخصیات جامعات کی سربراہ بنیں۔ یورپ میں بھی یہ مثالیں موجود ہیں۔ البتہ وہاں برسوں سے یہ بحث جاری ہے کہ جامعہ کے سربراہ کے تدریسی اور غیر تدریسی پس منظر سے جامعہ پر عملی طور پر کیا فرق پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی آپ یہ بحث ہونے دیجئے اور یہ نیا تجربہ بھی۔ تاہم لازم ہے کہ سندھ حکومت یا کوئی بھی صوبائی حکومت یہ تجربہ کرتی ہے تو اس کے پیش نظر جامعات کا مفاد اور اصلاح احوال ہو نہ کہ اقربا پروری اور دوست نوازی۔ سندھ حکومت باقاعدہ قانون سازی کر کے غیر تدریسی پس منظر کے حامل افراد کے لئے جامعات کے دروازے کھول رہی ہے تو تدریسی پس منظر کے حامل افراد کے لئے بھی حکومت کے دروازے کھولے۔ وزیر اعلیٰ سندھ ذہین پروفیسروں کو اپنی حکومت اور مشاورتی حلقے کا حصہ بنائیں جیسا کہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت سندھ لگے ہاتھوں یہ تجربہ بھی کر ڈالے۔



انجینئر مراد علی شاہ ویسے بھی ایک متعصب ذہنیت کے حامل شخص ہیں اوپر سے پیپلز پارٹی سے تعلق تو ان کی کسی بات پر کیا اعتبار کرنا کہ ان کے انڈے میں سے کونسا چوزہ نکلے گا۔
–
رہا وائس چانسلر والا معاملہ تو بڑا آسان حل ہے۔ اس کا نام بدل کر ڈائرکٹر جنرل رکھ دیں اور مختلف شعبوں کے سربراہ یعنی ڈین کو ڈائرکٹر بنادیں۔
–
بس پھر ڈائرکٹر جنرل کا اشتہار دیں اور کل کل مکا دیں۔
–
باقی آپ کی ییہ بات کہ پروفیسروں کو سرکاری شعبوں میں نوکری دیں ایک لایعنی بحث ہے۔
سرکاری شعبوں میں زیادہ تر جگہ انتظامی امور یا پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے ایسے لوگ جنہوں نے فیلڈ میں بھی زندگی گزاری ہو۔ کیا ہروفیسر حضرات ایسی جگہوں پر کھپ سکیں گے۔ بشرطیکہ جان پہچان نہ ہو تو۔
–
بیرسٹر معراج خالد محض بی اے ایل ایل بی تھے شاید ایل ایل ایم بھی کرلیا ہو۔
5 سے 6 سال اسلامک یونیورسٹی کو چلایا جب کہ عمر بھی 80 سے اوپر تھی۔
–
شیخ ایاز بھی ڈاکٹر نہیں تھے۔
کیا ایئر مارشل نورخان جو اس وقت شاید گریجویٹ تھے آج کسی جامعہ کے وائس چانسلر بن جائیں تو کیا کوئی اعتراض کرے گا۔
صحت ہو تعلیم کی زبوں حالی ۔ ان کی سب سے بڑی وجہ 18 ویں ترمیم ہی ہے۔ اس لئے مزے کریں۔