ملکی سیاست اور ہماری قومی ذمے داریاں


اس وقت مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کل رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 251 ہے۔ اگر آپ ان تمام سیاسی جماعتوں کے منشور کا بغور جائزہ لیں تو سیاسی جماعتوں نے وہ منصوبے، پروگرام اور وسیع تر پالیسیاں اپنے منشور میں پیش کی ہوئی ہیں جن پر وہ عمل کرنے کا وعدہ کرتی ہیں تاکہ انتخابات میں وہ ووٹ حاصل کر کے اقتدار میں آ سکیں۔ لیکن اقتدار ملنے کے بعد یہ اپنے وعدے بھول جاتے ہیں۔ جبکہ اگر دیکھا جائے تو سیاست کا بنیادی مقصد امور مملکت کو احسن انداز میں چلانا، عوام الناس کے مسائل کو حل کرنا، داخلی اعتبار سے امن وامان کو قائم رکھنا، ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا اور ملک کی بہتر خارجہ پالیسی کو مرتب کرنا ہے۔ ان مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کی جانے والی جدوجہد سیاسی جدوجہد کہلاتی ہے۔

منشور کسی بھی سیاسی جماعت کا وہ پروگرام ہوتا ہے جو اس کے ویژن اور آئندہ کے لائحہ عمل کا عکاس ہوتا ہے اس کے ذریعے سیاسی جماعت اور اس کی قیادت عوام کو بتاتی ہے کہ وہ برسر اقتدار آ کر ان کے لئے کیا کرے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔ گویا منشور کسی بھی سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کا مستقبل کا روڈ میپ ہوتا ہے۔ اگر آپ پاکستان میں حکومت سازی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں اور خصوصاً مسلم لیگ نون کا دورِ حکومت دیکھیں، تو بدقسمتی سے اس جماعت کو ہمیشہ انتہائی مشکل اور نامساعد حالات ہی میں اقتدار ملا، جب کہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز اس کے علاوہ ہیں۔ اس کے باوجود مسلم لیگ نون نے اپنے تجربے، کارکردگی اور سیاسی تدبّر کی بنیاد پر عوام کو مسائل سے نجات دلا کر جینے کی اُمید دی۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون واحد جماعت ہے جس کی قیادت نے اقتدار میں آ کر کسی حد تک اپنے روڈ میپ پر عمل درآمد کیا ورنہ اکثر ہماری سیاسی جماعتیں اس سے نابلد ہیں۔ جب بھی انہیں اقتدار ملا یہ اپنی ساری صلاحیتیں اپنے مدمقابل کی کردار کشی، جھوٹے الزامات، بے بنیاد مقدمات میں ضائع کرتی ہیں اور عوام کو لولی پاپ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

پاکستان کو معرض وجود میں آئے 78 سال ہونے کو آئے ہیں جبکہ قائداعظم کو اس دنیا سے گئے ہوئے بھی 77 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے بحیثیت ایک راہنما کے قائداعظم کے افکار سے مجموعی طور پر ہم سب آگاہ ہیں اور انہیں اپنے لئے مشعل راہ بھی سمجھتے ہیں مگر ان پر عمل آج تک نہیں کرسکے۔ بدقسمتی سے قائداعظم پاکستان کے قیام کے بعد صرف ایک سال ہی زندہ رہے۔ جن کے بعد قیادت کا ایک ایسا شدید خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہیں ہوسکا۔ ان کے جانے کے بعد ہم آج تک بھٹک رہے ہیں۔ اس دوران ہم نے اپنا آدھا ملک بھی کھو دیا مگر سبق حاصل نہیں کیا۔

قائداعظم نے جدوجہد آزادی کے دوران اور اس کے بعد نوزائیدہ مملکت کے سربراہ کے طور پر ایک سال دور حکمرانی کے دوران ہمارے لیے ایسے راہنما اصول بنا دیے جس پر ہم نے صرف عمل ہی کرنا تھا تو ترقی اور خوشحالی ہمارا مقدر ہوتی، مگر بدقسمتی سے ہم ایسا نہ کرسکے جس کا خمیازہ آج بحیثیت قوم ہم سب بھگت رہے ہیں اور قائداعظم کے نظریے کے مطابق پاکستان کو نہیں ڈھال سکے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہمیشہ سیاست میں اخلاقیات کو ترجیح دیں اور اپنے ورکرز کی بھی یہی تربیت کریں کہ تہذیب کا دامن کبھی مت چھوڑیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دَور میں ایک جماعت پی ٹی آئی نے سیاست میں بدتہذیبی اور گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا، جس نے ہماری سیاسی اقدار اور روایات کو بری طرح مسخ کر دیا ہے پی ٹی آئی اگر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتی ہے اور اپنی مشکلات کو ختم کرنا چاہتی ہے تو پھر اُسے سب سے پہلے اپنی گزشتہ دو ڈھائی سال کی فوج اور فوجی قیادت کے خلاف سیاست کا جائزہ لینا ہو گا۔ اُنہیں یہ سوچنا سمجھنا ہو گا کہ اُن کے فوج اور فوجی قیادت کے خلاف بیانیے نے کس طرح اُن کے ووٹرز سپورٹرز میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کی اور جس کا ایک نتیجہ 9 مئی کی صورت میں دنیا نے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پی ٹی آئی سیاسی طور پر مقبولیت کے باوجود بہت کمزور ہو چکی ہے۔ اور اس سانحہ سے تمام سیاسی جماعتیں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے بالخصوص پاکستان تحریک انصاف خود کو منفی سیاست سے باہر نکالنے کے ساتھ ساتھ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو چھوڑ کر اپنی مقبولیت کو سب کو جوڑنے کے لئے استعمال کرے۔ دوسروں پر الزامات سے باز رہیں اور اپنے سوشل میڈیا اور ووٹرز سپورٹرز کو اُس نفرت، گالم گلوچ اور منفی سیاست سے باہر نکالیں جس نے تحریک انصاف کے بارے میں انتشاری ٹولے کا تاثر پیدا کیا۔ اپنی سیاست اور اپنے مطالبات کے لیے کوئی ایسا کام نہ کریں جس کا نقصان پاکستان یا پاکستان کی معیشت یا اداروں کو ہو۔

Facebook Comments HS