پروفیسر ممتاز حسین ایک سنجیدہ شخصیت


پروفیسر ممتاز حسین کا شمار میرے قابلِ احترام اساتذہ میں ہوتا ہے۔ جب میں نے 1990 میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال میں فرسٹ ائر میں داخلہ لیا تو مجھے ان کی شفقت اور محبت سمیٹنے کا موقع ملا۔ کمال کے انسان پائے۔

ممتاز حسین ایک ممتاز اور تجربہ کار پروفیسر ہیں جنہوں نے تعلیمی میدان میں 40 سال سے زائد کا طویل عرصہ گزارا ہے۔ یہ طویل عرصہ نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور لگن کی علامت ہے بلکہ اس عرصے کے دوران انہوں نے جو علمی خدمات انجام دی ہیں وہ نہ صرف طلباء کے لیے بلکہ تعلیمی شعبے کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ ممتاز حسین کی تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے میں خدمات بے شمار افراد کے لیے ایک نمونہ ہیں، اور ان کی تعلیم کا اثر آج بھی مختلف تعلیمی اداروں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

ممتاز حسین کا تعلیمی سفر بہت پرجوش اور متحرک رہا ہے۔ ان کا آغاز تعلیم کے شعبے میں ایک استاد کے طور پر ہوا تھا، اور اس کے بعد انہوں نے نہ صرف تدریسی مہارت میں اضافہ کیا بلکہ مختلف تعلیمی موضوعات پر تحقیقی کام بھی کیا۔ ان کی تدریس کا انداز ہمیشہ سے بہت دلکش اور منفرد رہا ہے۔ وہ اپنے طلباء کے ساتھ نہ صرف علم کا تبادلہ کرتے ہیں بلکہ انہیں سیکھنے کی اہمیت اور اس کے معاشرتی فوائد کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں۔

ان کی تدریسی قابلیت اور مہارت کو دیکھتے ہوئے، ممتاز حسین نے اپنے کیریئر کے دوران نہ صرف اپنے شعبے کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت حاصل کی۔ ان کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے طلباء کو ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کریں جہاں وہ نہ صرف علم حاصل کریں بلکہ ان کی شخصیت میں بھی نکھار آئے اور وہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ میدان میں کامیاب ہوں۔ ممتاز حسین نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ اپنے تدریسی طریقوں میں جدت اور تخلیقیت کی کوشش کی، تاکہ طلباء کی دلچسپی اور توجہ برقرار رکھی جا سکے۔

ایک استاد کی حیثیت سے ممتاز حسین کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا طالب علموں کے ساتھ جڑاؤ اور ان کے مسائل کو سمجھنا تھا۔ وہ اپنے طلباء کی ہر ضرورت اور ان کے ذاتی حالات کو سمجھ کر ان کے لیے بہترین تعلیمی حکمت عملی تیار کرتے تھے۔ ان کے لیے تدریس صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن تھا، اور ان کا ماننا تھا کہ ایک اچھا استاد اپنے طلباء کے دلوں میں علم کی محبت پیدا کرتا ہے اور انہیں زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتا ہے۔

ممتاز حسین کی تدریس کا دائرہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے طلباء کو عملی زندگی کے مسائل سے روشناس کروانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف نصاب کا مطالعہ نہیں بلکہ اس علم کو حقیقی زندگی میں کیسے استعمال کیا جائے، یہ بھی سکھانا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے کلاس رومز میں نہ صرف تھیوری بلکہ عملی سیشنز اور مباحثے بھی شامل کیے تاکہ طلباء کو اپنی سوچ کو وسیع کرنے اور نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملے۔

ان کی تدریس میں ایک اور اہم پہلو ان کی مسلسل ترقی تھی۔ ممتاز حسین نے ہمیشہ اپنے آپ کو نئی تحقیق اور جدید تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے خیال میں، ایک اچھا استاد وہ ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے اور اپنے علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممتاز حسین نے اپنی زندگی کے اس طویل عرصے میں ہمیشہ نئے علوم اور تحقیقاتی منصوبوں پر کام کیا تاکہ وہ اپنے طلباء کو جدید ترین معلومات فراہم کر سکیں۔

ممتاز حسین کا تعلیمی سفر صرف تدریس تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے تحقیق کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا اور کئی تحقیقی منصوبوں پر کام کیا جنہوں نے نہ صرف تعلیمی دنیا کو متاثر کیا بلکہ ان کے کام کو عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا۔ ان کی تحقیق کا مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ وہ موجودہ تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے نئے اور موثر طریقے تلاش کریں اور اس کے ذریعے تعلیم کی دنیا میں بہتری لائیں۔

ان کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ان کا معاشرتی شعور تھا۔ ممتاز حسین کا ہمیشہ یہ ماننا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف فرد کی ترقی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کی ترقی بھی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی کمیونٹی اور ملک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ہمیشہ اپنے طلباء کو معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور انہیں یہ سکھایا کہ وہ اپنے علم کو صرف ذاتی ترقی کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ اس علم کے ذریعے معاشرتی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

ممتاز حسین کی 40 سالہ تعلیمی کیریئر میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں، ان میں ان کے طلباء کے کامیاب کیریئر، ان کی تحقیقی کامیابیاں، اور ان کے تدریسی طریقوں کی شہرت شامل ہیں۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف حصوں میں کامیاب پروفیشنلز اور محققین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اور یہ ان کی تعلیم کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان کی تدریسی خدمات کا اعتراف مختلف تعلیمی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے کیا گیا، اور انہیں مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

ممتاز حسین کی 40 سالہ محنت اور لگن نے انہیں ایک ایسا مقام دلایا ہے جس پر نہ صرف وہ فخر کرتے ہیں بلکہ ان کے طلباء اور ہم عصر بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ ان کا کیریئر اور ان کی زندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایک استاد کا کردار صرف علم دینے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک رہنما کی حیثیت بھی رکھتا ہے جو اپنے شاگردوں کو زندگی کی راہ دکھاتا ہے۔ ممتاز حسین نے اس بات کو ہمیشہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔

آج بھی، ممتاز حسین کا نام تعلیمی حلقوں میں عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور ان کی خدمات کی بدولت نئی نسل کے اساتذہ اور طلباء ایک کامیاب تعلیمی کیریئر کے لیے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک سبق ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اس علم کو معاشرتی ترقی اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ممتاز حسین کی یہ طویل اور کامیاب تعلیمی سفر ایک زندہ تاریخ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Facebook Comments HS