کیا محبت کے بغیر سیکس جنسی اذیت شمار ہو گی؟
معروف سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل انسانی رشتوں پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں، وہ چند جملوں میں انسانی رشتوں پر ایسا بہت کچھ کہہ جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سننے والا حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ انسانی رشتوں کے متعلق لکھتے ہیں۔
”اگر تم اپنی اولاد کو بادشاہ بنانا چاہتے ہو تو پہلے اپنی شریک حیات کو ملکہ بنانا پڑے گا“
”ایک ہی چھت تلے دو پارٹنرز کے خواب الگ الگ کیسے ہو سکتے ہیں“
” فرینڈ شپ از دی کیک اینڈ رومانس از دی آئسنگ“
رشتے کا مجموعی جوہر تو دوستی ہی ہوتی ہے جس پر زندگی کے اگلے مراحل کی بنیادیں کھڑی ہوتی ہیں اور دوستی دلوں کا بندھن ہوتی ہے۔ یہ یک طرفہ ہو تو تکلیف دہ ہوتی ہے اور اگر دو طرفہ ہو تو زندگی سہل ہو جاتی ہے، یہ ایک ایسا فطری جذبہ ہوتا ہے جو دو دلوں کو جوڑ کر یک جان بنا دیتا ہے۔ اب جس طرح کے سماج میں ہم رہتے ہیں وہاں تو خیر اس قسم کی باتوں کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے؟ یہ تکلفات تو وہیں پنپ سکتے ہیں نا جہاں ”چوائس یا انفرادیت“ کا سکہ رائج ہو، جہاں انسانوں کے بیچ جینڈر کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ جہاں ذات پات، رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔
جس سماج میں شادی کا مطلب دو دلوں کا آزادانہ ملاپ ہونے کی بجائے خاندانی بزرگوں کا بندھن ہو، جہاں ایک خاتون کو گھر میں لانے کا مقصد ایک گھریلو ملازمہ کا اِضافہ کرنا مقصود ہو اور انسان کی بجائے ایک بچے جننے والی مشین کو گھر لانے کی خواہش ہو تو وہاں خاتون گھر کی ملکہ کیسے بن سکتی ہے اور بچے بادشاہ کیسے بن سکتے ہیں؟ اس قسم کے ماحول میں حادثاتی طور پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے میاں بیوی کے بیچ محبت کا روزن کیسے کھل سکتا ہے؟ کیا غلاموں کے بچے بھی کبھی بادشاہ ہوا کرتے ہیں؟
ہمارے سماجی بندوبست میں ”بزرگ پرستی“ ایک جزو لاینفک کے عنصر کے طور پر سرایت کر چکی ہے، ان بزرگوں کو بچیوں کی تو خاصی فکر لاحق رہتی ہے اور اپنی عقابی نگاہیں شادی ہونے تک ان پر گاڑے رکھتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ بچوں کی تربیت کا آغاز تو گھر سے ہوتا ہے، جو بھائی اپنی بہن کے ساتھ ایک بہترین رویہ اختیار کرنا سیکھ جاتا ہے وہی سماج میں خواتین کی عزت کرتا ہے اور ازدواجی حیثیت میں خاتون کو انسان سمجھے گا، جو بہن کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں وہی خواتین کی تذلیل کرتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ یہی بڑے بوڑھے اپنی اولاد کو ساری زندگی اپنی جذباتی آنول سے باندھے رکھتے ہیں اور ان کو آزادی سے فیصلے لینے کی اجازت نہیں دیتے، ان کو فرد سمجھنے سے انکاری رہتے ہیں۔ کچھ بھی نیا کرنا ہو یا اپنی زندگی کے متعلق کوئی اہم فیصلہ لینا ہو تو بڑے بزرگوں کی رائے کو بہرصورت فوقیت دینا ایک طرح سے امر لازم ہوتا ہے۔ یہاں بڑوں کا احترام کرنا تو سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے لیکن اختلاف کرنا اور مختلف رائے رکھنے والوں کا احترام کرنا نہیں سکھایا جاتا، یہی تابع فرمان ذہنیت نجانے کتنوں کی فطری آزادیاں سلب کر لیتی ہے اور نجی زندگیوں کو زہر آلود بنا دیتی ہے۔
ہمارے سماج کا یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ درجنوں بچے پیدا کر لینے کے باوجود بھی میاں بیوی کے درمیان حقیقی الفت پیدا نہیں ہو پاتی، پیار و محبت، پر کشش لطف اندوزیاں یا رومانوی اٹکھیلیاں کیا ہوتی ہیں ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہونے کے باوجود ساری زندگی نہیں جان پاتے، بس دو انجان جسموں کی مانند ایک اذیت ناک اور بے روح سی زندگی جیتے ہیں۔
مرد تو مردانگی کا فائدہ بہرحال کہیں نا کہیں سے اٹھا ہی لیتا ہے لیکن وہ خاتون کیا کرے جسے چار دیواری میں یہ کہہ کر قید کر دیا جاتا ہے کہ ”تم گھر اور خاندان والوں کی عزت ہو“ ظاہر ہے پیار بھرے جذبات بڑے بزرگوں کے ”آئی سی یو“ والے ماحول میں تو نہیں پنپ سکتے نا! پیار و محبت، اپنائیت یا فینٹسی آزاد اور پُرسکون ماحول میں نمو پاتی ہے، یہ ایک طرح سے فطری جذبہ ہوتا ہے جبری نہیں، یہ خود رو ہوتا ہے زبردستی طاری نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہوتا ہے جو ایک مخصوص یا فکس ٹائم فریم میں یا جبری اور سہمے ہوئے ماحول میں مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر رہتا ہے۔ جبری ماحول میں تو بچوں کی لائن ہی لگ سکتی ہے۔
خداوندان سماج و خاندان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ایک انجان سے رشتے کی تہہ میں سے پیار و محبت برآمد ہو سکتا ہے؟ کیا جبری رشتوں کے زیرِ سایہ بچوں کی بہترین نشوونما ممکن ہو سکتی ہے؟ کیا اس طرح کے رشتوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے بادشاہ اور بیوی ملکہ بن سکتی ہے؟
جہاں رضا مندی کی کوئی وقعت نہ رہے، دو انسان وقت گزاری کے لیے ایک دوسرے کے قریب آتے ہوں کیا وہاں جنسی عمل جنسی تسکین کی بجائے جنسی اذیت نہیں بن جائے گا؟


