عصمت چغتائی کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پانچویں قسط
سوچیں! اگر یہ بچی بڑی ہو کر ویسی شمن نہ بنتی تو کیا بنتی؟ بچپن سے سب کی ڈانٹ پھٹکار سمیٹتی، نوکروں کے رحم وکرم پر پلتی، پیار کے دو شبد بھی جس کو مشکل سے میسر آتے۔ غصے، تنہائی، بے بسی، بے چارگی کی آگ میں جلتی ایک چھوٹی سی بچی۔ ”اس نے منہ پھیر لیا اور چھت پر لٹکے جالوں کو دیکھتی رہی جس میں نیم مردہ مکھیاں جھول رہی تھیں۔ اس پر پھر دورہ سا پڑ گیا۔ وہ دانتوں سے نیلے کپڑے کھسوٹنے لگی۔ بدبودار پاجامے، سڑی ہوئی بنیانیں اور بساندے ہوئے کرتے وہ غصے میں ان سب کو نگل جانا چاہتی تھی۔“ بات صرف یہیں تک نہیں تھی کہ وہ توجہ سے محروم تھی بلکہ اپنے گھر میں اپنے جیسی ہم عمر بچی کے مقابلے میں برا سمجھا جانا وہ کیل تھی جو زندہ شمن کے کفن میں ٹھونکی گئی تھی۔
”نوری گوری ہے وہ کالی، نوری نازک وہ بھدی۔ نوری ہنس مکھ شرمیلی، باتمیز اور پڑھنے میں تیز، وہ بدمزاج، بدتمیز اور پھوہڑ۔ پڑھنے سے دم چراتی۔ نوری قرآن شریف کا سبق جھٹ پٹ سناتی، شمن کا اس پر ہزاروں پھٹکاریں پڑتیں۔ نوری چوکی پر بیٹھ کر وضو کرتی اور جائے نماز پر ماں کے برابر کھڑی ہو کر نماز پڑھتی، لوگ واہ واہ کرتے۔ شمن کو نماز کچھ زیادہ اچھی نہیں لگتی تھی۔“ واہ واہ کرنے والوں کو شاید نظر نہیں آتا تھا کہ نوری کے پیچھے اس کی ماں کھڑی تھی، ہر بات سکھانے اور بتانے والی اور شمن کی ماں تھی تو سہی مگر شمن کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ شمن زندگی کی ہر سیڑھی کو تنہا چڑھتی رہی۔
ضروری ہے کہ شمن جو ٹیڑھی لکیر کے نام سے پکاری گئی کے بچپن میں ہونے والے ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے۔ قابل فہم تو یہ تھا کہ ان واقعات میں ہونے والے ذہنی جذباتی اور جسمانی تشدد کے نتیجے میں ایک احساس کمتری کی ماری ہوئی دبّو لڑکی وجود میں آتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سوچیں کیوں نہیں ہوا؟ مجھے اس کا صرف ایک ہی سبب دکھائی دیتا ہے۔ شمن کا سکول جانا۔ اس میں ذہانت تو تھی اور اُس کے ساتھ خودترسی کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے فطرت نے اس دور کے مروجہ رسوم و رواج کو نہ ماننے اور باغی بننے کا راستہ اختیار کیا۔ اور اسی بنا پر ہی یہ کردار اردو ناول کا پہلا مزاحمتی اور نسائی کردار بننا شروع ہوا۔
دیکھیے عصمت کیا کہتی ہیں ؛ ”میں آزاد رہنا چاہتی ہوں یہ تو میں بچپن سے سوچتی تھی اب ایک راہ بھی سجھائی دی۔ تعلیم کے بغیر عورت کو آزادی نہیں مل سکتی بے پڑھی عورتیں گھر پر بیٹھ کر جاہل اور بے وقوف جیسے خطاب پائیں گی اور میاں کے دفتر جاتے ہی اس کا انتظار پھر سے شروع کر دیں گی۔ میں نے سوچا چاہے کچھ بھی ہو جائے کسی سے دب کر نہیں رہوں گی اور جتنا ممکن ہوا پڑھوں گی۔ ( عصمت چغتائی کا انٹرویو ؛ پدما سچدیو/ مرغوب علی ؛ شخصیت اور فن : ص نمبر 46 ) عصمت کے اس باغی مزاج کی وجہ سے اس کے نسوانی کرداروں میں ایک ایسی عورت ابھر کر آئی جو ایک پروٹو ٹائپ کے طور پہ عصمت کی سائیکی میں تھی۔ آغاز میں یہ عورت ایک نارمل ہستی کی طرح کہانی میں داخل ہوئی مگر جیسے جیسے وہ دوسرے کرداروں سے متصادم ہوئی اور حالات و واقعات سے گزرتی چلی گئی اس کے اندر کی چٹان یا ڈائن یا امر بیل یا طوائف یا لیزبین مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی گئی۔ لہٰذا اس کے راستے میں جو کردار روایات یا سماجی مظاہر آتے وہ حفاظت خود اختیاری کے تحت اس عورت سے متصادم ہو جاتے۔ دونوں صورتوں میں“ عورت ”قدم بہ قدم فعال ہوتی گئی مگر اس کے راستے میں آنے والے کردار اور مظاہر“ ادھڑتے ”چلے گئے۔
عصمت کی کردار نگاری میں خود کہانی کار کی شرکت نے ایک ایسی صورت پیدا کر دی ہے کہ نہ صرف اس کے کردار دوسرے رائٹرز کے کرداروں سے مختلف نظر آنے لگے ہیں بلکہ ان میں ایک قدر مشترک دکھائی دیتی ہے جو کردار میں عصمت کی شرکت کا بدیہی نتیجہ ہے۔ ویسے یہ ضروری بھی تھا کیونکہ اگر رائٹر کردار کی بنت میں شامل ہو کر اسے وہ سمت عطا نہیں کرے گا جو اس کی اپنی ذات میں مضمر ہے تو اس کا کردار دوسرے کہانی کاروں کے کرداروں سے اپنے جذباتی اور نفسیاتی امتیازات کی بنا پر الگ دکھائی نہیں دے سکے گا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کردار خود رائٹر کی محض ایک نقل یا replica ہوتا ہے بلکہ صرف یہ کہ رائٹر کی شرکت کے باعث اس کی بنیادی احساسی جہت اس کردار کو عطا ہو جاتی ہے اور یہ سب کچھ غیر ارادی طور پر ہوتا ہے۔ ( ڈاکٹر وزیر آغا ؛ عصمت چغتائی کے نسوانی کردار ؛ عصمت چغتائی۔ فن اور شخصیت : ص نمبر 221 ) عصمت نے شمن کے روپ میں خود کو دیکھا، فیصلہ کیا کہ وہ اس کو اپنے جیسا مزاحمتی کردار بنائیں گی اور ڈاکٹر وزیر آغا کے خیال میں ایسا کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔
مزاحمت کا پہلا رنگ دیکھئے۔ “ شمن کا کلیجہ پھٹنے لگا۔ خوف کی وجہ سے وہ دم گھوٹے سسکیوں سے روتی رہی۔ اسے پلنگ پر لیٹنا دوبھر ہو گیا اٹھ کر صحن میں چلی آئی۔ آنگن میں نیم کا درخت بھوت کی طرح پر پھیلائے کھڑا تھا وہ تھوڑی دیر اس کے کھردرے تنے سے لگی اپنی ہتھیلیاں رگڑتی رہی یہاں پھر آنسوؤں نے حملہ کر دیا اور گہری گہری سانسوں سے نہ جانے کتنی دیر تک روتی رہی۔ اتنے میں ایک بلی دیوار پر سے کودی، مرغیاں ڈربے میں چوکنی ہو کر کڑکڑائیں۔ وہ اٹھ کر واپس بھاگی۔ راستے میں اس کی نظر کیاریوں پر پڑی جہاں دھنیا اور ساگ بویا ہوا تھا، بڑی آپا کی کیاریاں! آناً فاناً وہ بھوکی شیرنی کی طرح کیاریوں پر پل پڑی۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے کھسوٹنا شروع کیا جیسے وہ اپنے کسی دشمن کی آنتیں نکال رہی ہو اور پھر مٹھیوں میں لے کر اسے رگڑ ڈالا۔ چنبیلی اور موگرے کے پودے جس میں سے پھول توڑ کر آپا جوڑے میں لگاتی تھیں توڑ موڑ کر پیروں سے مسل ڈالے۔ اب اسے ہنسی آنے لگی۔ گھنے بال سنپولیوں کی طرح لہرا رہے تھے اور وہ بالکل مرگھٹ کی چھوٹی سی ڈائن معلوم ہوتی تھی جو قبر کھول کر مردے کے کلیجے میں ناخن گاڑ کر اسے دانتوں سے چبانا شروع کر دیتی ہے۔

