کراچی سے بورے والا کا سفر
مسافروں کا ساز و سامان اٹیچی کیسوں اور بیگوں کی صورت میں کراچی ائرپورٹ کی عمارت میں بیلٹ کے اوپر آہستہ آہستہ متحرک تھا اور بیلٹ کے اردگرد کھڑے مسافر اپنے اپنے سامان کو پہچان کر اُٹھا رہے تھے۔ میں بھی اسی ہجوم میں شامل لکسمبرگ سے اپنے ساتھ آنے والے سامان کی تلاش میں تھا۔ جو ایک عدد چھوٹے اور ایک بڑے اٹیچی کیس پر مشتمل تھا۔
میں جو بیگ پاکستان سے ساتھ لے کر گیا تھا وہ منزل ِ مقصود تک پہنچتے پہنچتے دریدہ دامنی کا شکار ہو چکے تھے اور واپسی پر ساتھ نبھانے کے متحمل نہیں رہے تھے۔ اس لیے اس مقصد کے حصول کے لیے فرانس سے دو عدد نئے نویلے اٹیچی کیس خریدے گئے۔ اب انہی کی تلاش میں میں متحرک بیلٹ پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ اُن میں سے ایک کا رنگ سبز تھا اور دوسرے کا ڈارک براؤن سا تھا۔ گو کہ ان کے ساتھ پہچان کے لیے سرخ و سفید رنگت کے کپڑے کے ٹکڑے بھی باندھے ہوئے تھے۔ لیکن جونہی کوئی بیگ بیلٹ کی پشت پر سوار ہو کر باہر نمودار ہوتا میں سب سے پہلے ان کی رنگت کو دیکھ کر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتا۔ اگر کسی بیگ کی رنگت میرے بیگوں سے مشابہہ ہوتی تو میں نہایت مستعدی سے اس کے ہینڈل کے ساتھ باندھے گئے کپڑے کو پہچانتا اور اس کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کے تعاقب میں موجود بقیہ اٹیچی کیسوں کو تاڑنا شروع کر دیتا۔
اسی طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے میں اپنا ایک عدد چھوٹے سائز والا سبز رنگ کا اٹیچی کیس ڈھونڈ کر اپنے قبضے میں کرچکا تھا۔ اب مجھے ڈارک براؤن رنگت والے اپنے بڑے اٹیچی کیس کی تلاش تھی۔ جو کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس رنگت کے دو تین بیگ مجھے وہاں دکھائی ضرور دیے لیکن وہ اپنی ساخت، جسامت اور شکل و شباہت کے لحاظ سے میرے والے سے بالکل ہی مختلف تھے۔ اس لیے میں نے اُن کے ہینڈل کے ساتھ باندھے گئے مخصوص رنگت والے کپڑے کو دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔
مجھے وہاں کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ چار پانچ بیگ ہی ہیں۔ جو اس بیلٹ کے مستقل سوار ہیں اور وہی بار بار میرے سامنے سے گزر رہے ہیں۔ کوئی نیا بیگ توان میں شامل نہیں ہو رہا ہے۔ اب مجھے فکر لاحق ہوئی کہ ٹرکش ائر لائن نے میرا بیگ کہیں گم کر دیا ہے۔ میں ابھی اس سلسلہ میں حکامِ بالا کے ساتھ رابطے کی منصوبہ بندی کر ہی رہا تھا کہ اچانک میری نظر اپنی طرف آتے ہوئے ایک گرے رنگت کے بڑے سے اٹیچی کیس پر پڑی جس کے ہینڈل کے ساتھ اسی قسم کے کپڑے کی دھجی بندھی ہوئی تھی۔ جس قسم کے کپڑے کی دھجی میرے پاس پڑے ہوئے دوسرے بیگ کے ہینڈل کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر میں چکرا گیا کہ لکسمبرگ سے کراچی پہنچتے پہنچتے بیگ کی رنگت کیوں کر تبدیل ہو گئی۔
بہرحال میں نے تذبذب اور گومگو کی کیفیت میں اس بیگ کو بیلٹ سے اُٹھا کر اپنے پاس پڑے ہوئے دوسرے بیگ کے ساتھ ہی رکھ دیا۔ دوسرے بیگ کے ہینڈل کے ساتھ بھی ویسا ہی کپڑے کا ٹکڑا بندھا ہوا تھا۔ پھر اچانک ہی میری نظر اپنے ہینڈ کیری کے ہینڈل پر پڑی اس کے ہینڈل کے ساتھ بھی ویسا ہی کپڑے کا ٹکڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے مزید تصدیق کے لیے اس بیگ پر ائر لائن کی طرف سے لگائے گئے ٹیگ کو بغور پڑھا۔ تو وہاں پر میرا نام فلائٹ نمبر کے ساتھ درج پایا۔ گویا کہ مسئلہ سارا میری یادداشت کا تھا جو عمر بھر ہی میرے ساتھ بے وفائی کی مرتکب رہی ہے اور اب بھی ایسے ہی ہوا تھا۔
عمارت سے باہر نکلا تو شاہد نعیم کو اپنا منتظر پایا۔ ہم لوگوں نے سامان گاڑی میں رکھا اور گھر کی طرف چل دیے۔ چوبیس نومبر کا دن تھا۔ صبح کا وقت تھا آج پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔ میرا خیال تھا کہ اس احتجاج کے باعث جگہ جگہ پر ٹریفک جام سے واسطہ پڑے گا لیکن ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں تھی اور ہم تیس پینتیس منٹ میں گھر پہنچ گئے۔
میری بڑی خواہش تھی کہ کراچی سے بورے والا تک کا سفر میں ٹرین سے کروں لیکن سب بچے بضد تھے کہ ٹرین کا اتنا لمبا سفر آپ کے لیے تکلیف دہ ہو گا اس لیے کراچی سے ملتان تک بذریعہ ہوائی جہاز پہنچیں اور ملتان سے ہم لوگ آپ کو لے کر بوریوالا بذریعہ کار پہنچیں گے۔ مجبوراً بچوں کی بات ماننا پڑی۔ اب شام پانچ بجے پی آئی اے کی فلائٹ سے میں نے ملتان پہنچنا تھا اور یہ درمیانی وقت میں نے شاہد نعیم کے گھر میں گزارنا تھا۔ جو میرا کزن بھی ہے اور میرا شاگرد رشید بھی۔
1987 ء میں یہ آخری کلاس تھی جس کو میں نے بی ٹی ایم ہائی سکول میں پڑھایا تھا کیوں کہ اس کے بعد میرا ٹرانسفر گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول بوریوالا میں ہو گیا تھا۔ یہ کلاس تقریباً چالیس سٹوڈنٹس پر مشتمل تھی۔ اس کلاس کو میں نے ایک ماڈل کلاس کے طور پر پڑھایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے دن میں نے تعارفی لیکچر میں یہ بات واضح کر دی تھی کہ میں اس کلاس کو جسمانی سزا بالکل نہیں دوں گا لیکن اس کے ردِ عمل میں آپ لوگوں نے مجھ سے غلط بیانی نہیں کرنی۔ جھوٹ نہیں بولنا، جب کہ اس دور میں مولا بخش کا استعمال اکثر و بیشتر ہوا کرتا تھا۔ میں اپنے الفاظ پر قائم رہا اور اس کے نتائج بھی بہت مثبت رہے۔ اسی کلاس کے طالب علم محمد اکرم بھٹی نے نہ صرف ملتان بورڈ میں دوسری یا غالباً تیسری پوزیشن حاصل کی بلکہ باقی تمام طلباء نے بھی انتہائی شان دار کارگردگی کا مظاہرہ کیا۔
پچھلے دنوں لکسمبرگ میں قیام کے دوران اسی کلاس کے ایک طالب علم عطا عزیز کا فون موصول ہوا وہ بتا رہا تھا کہ محمد اکرم بھٹی آج کل امریکہ میں ڈاکٹر ہیں اور بھی اس کلاس کے کافی سارے طالب علم امریکہ اور کینیڈا میں سیٹل ہیں۔ وہ مجھے کینیڈا آنے کی دعوت دے رہا تھا کہ اگر آپ وقت نکال کر یہاں آ جائیں تو ہم نہ صرف ان دونوں ملکوں میں سیر سپاٹا کر لیں گے بلکہ آپ کی اپنے بہت سے اولڈ سٹوڈنٹس کے ساتھ ملاقات بھی ہو جائے گی۔ لیکن میں نے حسب عادت اس دعوت کو اس کے پاکستان آنے اور ملاقات کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی کرنے تک مؤخر کر دیا۔
گھر پہنچ کر میں نے ناشتہ کیا اور شاہد نے بتایا کہ دوپہر کے کھانے میں اس کے بڑے بھائی اور میرے کزن طاہر ندیم بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ شرکت کریں گے اور میں اس وقت تک سو لوں۔ سوتی جاگتی سی کیفیت میں ہی دوپہر ہو گئی۔ طاہر اپنی مسز کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل پر باتیں شروع ہو گئیں۔ شاہد اور طاہر دونوں ہی میرے چچا زاد بھائی ہیں۔ ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد یہ دونوں گھرانے ایک لمبے عرصے تک ایک ہی گھر بلکہ ایک بہت ہی بڑے کمرے میں اکٹھے مل جل کر رہتے رہے۔ اس کے بعد بتدریج علیحدہ ہونے لگے۔
پہلے کمرے کے درمیان میں دیوار کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد جیسے جیسے خاندان بڑھتے گئے تو باقی جگہ تقسیم کر کے اس میں حسب ضرورت کمرے تعمیر ہونے لگے۔ اس دور کی باتیں ہوتی رہیں۔ یادِ ماضی کا بھی اپنا الگ ہی مزا ہے۔ ہم لوگ کافی دیر تک اس سے لطف اندوز ہوتے رہے اور ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ کھانا بھی کھاتے رہے۔
تقریباً تین بجے طاہر کے مشورے پر میں نے ائر پورٹ جانے کے لیے تیاری شروع کر دی۔ پانچ بجے فلائٹ ٹائم تھا۔ ساڑھے تین بجے ہم لوگ گھر سے باہر نکلنے لگے تو طاہر نے کہا، کہ بھائی جان آپ چیک کر لیں کہ آپ نے اپنا سارا سامان ساتھ رکھ لیا ہے۔ کیوں کہ آپ کے بھول جانے کی دھوم تو خاندان بھر میں خوب مچی ہوئی ہے۔ میں نے بڑی بے فکری سے کہا، کہ میں نے بیگ گاڑی کی ڈگی سے ہی نہیں نکالے جو کپڑے پہن کر آیا تھا انہی میں واپس جاؤں گا۔ اب میں شلوار یا قمیض تو بھولنے سے رہا۔ بہرحال پھر بھی آپ دیکھ لیں کیوں کہ آپ سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔
اب میں نے اپنی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُسے تھوڑا سا گھور دیا۔ تو وہ خاموش ہو گیا۔ میں اور شاہد سب لوگوں کو خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں ائر پورٹ روانہ ہو گئے۔ ہم ائر پورٹ پہنچنے ہی والے تھے کہ شاہد نے کہا، کہ بھائی جان جب آپ ملتان ائر پورٹ پہنچیں گے تو سردی ہوگی۔ آپ کوئی جرسی یا کوٹ وغیرہ پہن لیں اس کی اس بات سے مجھے اچانک یاد آیا کہ میں اپنی جیکٹ گھر ہی بھول آیا ہوں۔ حالاں کہ طاہر بار بار کہہ رہا تھا کہ دیکھ لیں کوئی چیز بھول تو نہیں گئے۔
بہرحال اب میں نے لاپراوہی سے کہا کہ کوئی بات نہیں جیکٹ بعد میں کسی کے ہاتھ بورے والا پہنچ جائے گی لیکن اس نے کہا، کہ ابھی وقت ہے ہم گھر سے لے آتے ہیں۔ بہرحال ایسا ہی کیا گیا۔ جب ہم ائر پورٹ پہنچے تو تقریباً آدھ گھنٹہ باقی تھا۔ یہاں پر کوئی خاص رش نہیں تھا۔ دس منٹ بعد ہی بورڈنگ کارڈ میرے ہاتھ میں تھا۔ لیکن اس پر گیٹ نمبر درج نہیں تھا۔ استفسار پر بتایا گیا کہ آپ سامنے لاؤنج میں تشریف رکھیں۔ آپ کو بتا دیا جائے گا۔
1960 ء کی دہائی میں پی آئی اے دنیا بھر کی بہترین ائر لائنز میں سے ایک تھی۔ باکمال لوگ اور لاجواب سروس کے لوگو کے ساتھ اس کی ائر ہوسٹسز کے حسن و جمال اور طرز میزبانی کے چرچے دنیا بھر میں زبانِ زدِ عام تھے۔ عرب ممالک کی اکثر ائر لائنز کو کھڑا کرنے اور انہیں کامیابی سے چلانے میں پی آئی اے کا بھرپور کردار رہا ہے لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہنہ سال عفیفہ بس اپنے آخری ایام گزار رہی ہے اور یہ کسی وقت بھی راہی ملک عدم ہو سکتی ہے۔
بہر حال ہماری فلائٹ میں ایک گھنٹہ تاخیر ہو گئی تھی۔ تقریباً مجھ سمیت سبھی لوگوں کو جہاز کے اندر بٹھا دیا گیا اور جہاز نے آہستہ آہستہ حرکت شروع کر دی۔ یوں لگتا تھا کہ جہاز سامنے کی طرف حرکت کرنے کے ساتھ دائیں بائیں بھی جھول رہا ہے۔ آہستہ آہستہ جہاز کی رفتار بڑھ رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ جہاز بس اب اُڑان بھرنے ہی والا ہے کہ اچانک سپیڈ کم ہونا شروع ہو گئی۔ گویا کہ جہاز کو فضا میں بلند کرنے کے لیے کپتان کا حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا۔ یا پھر جہاز ایسا کرنے سے انکاری تھا یا شاید عاری تھا۔
بہرحال اسی قسم کی دو تین کوششوں کے بعد خدا خدا کر کے جہاز نے زمین کو چھوڑا اور ٖفضا میں اوپر کی طرف اُٹھتا ہی چلا گیا۔ ہائیں یہ کیا ہوا، جہاز ایک جگہ پر ٹھہرا ہوا تھا میں نے تصدیق کے لیے شیشے سے نیچے کی طرف جھانکا تو مجھے اپنا یہ خیال درست لگا، کیوں کہ کراچی شہر کی روشنیاں بھی جہاز کی پوزیشن کے لحاظ سے اپنی اپنی جگہ پر موجود تھیں۔ جب کہ جہاز میں حرکت کی صورت میں جہاز کی نسبت سے ان روشنیوں کی پوزیشن میں تبدیلی ایک لازمی امر تھی۔ جو کہ نہیں ہو رہی تھی۔
مجھے دس پندرہ سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ محکمہ ریلوے نے چین سے کچھ ریلوے انجن منگوائے جو تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد ہی بالکل ناکارہ ہو گئے۔ متعلقہ چینی کمپنی سے شکایت کی گئی اس کے انجنیئر صوررتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے وطن عزیز میں آئے۔ بڑی پرکھ پڑچول کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ انجن کے پرزوں کو رگڑ سے بچانے کے لیے اس میں بریکیٹنگ آئل استعمال کیا جاتا تھا، لیکن وہ آئل انجن کے اندر ڈالنے کی بجائے کسی دوسری جگہ پہنچا دیا جاتا۔ پہلے پہل تو صرف اس کی مقدار میں ہی کمی ہوتی رہی اس کے بعد کم ہوتے ہوتے یہ بالکل ہی غائب ہو گیا اور اس طرح اہل کاروں نے اپنے معمولی فائدے کے لیے تمام انجنوں کا بیٹرہ غرق کر دیا اور پی آئی اے بھی حالت نزاع میں ہے اور ایسی حالت میں تو ممکن ہے کہ جہاز کے انجن میں پٹرول ہی نہ ڈالا گیا ہو اور اسی وجہ سے جہاز آگے بڑھنے سے انکاری ہو۔
ریلوے انجن میں تیل ڈالنے یا نہ ڈالنے سے زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ریل گاڑی حرکت کرنے سے انکار کر دے گی لیکن پٹڑی پر کھڑی تو رہے گی۔ لیکن اگر جہاز تیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے آگے حرکت نہیں کرے گا تو پھر فضا میں بھی اس کا کوئی کام نہیں ہے۔ اس سے آگے سوچ کر ہی ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔ ایک بار پھر نیچے دیکھا تو صورتِ حال جوں کی توں تھی۔ جو تین کلمے یاد تھے اُن کو دبی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ میرے علاوہ سبھی لوگ بڑے اطمینان سے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں شاید حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر نیچے جھانکا۔ اب کراچی کی تمام روشنیاں غائب تھیں۔ گویا کہ جہاز اب حرکت میں تھا۔ بہرحال پرواز کا یہ وقت مجھ پہ بہت کڑا گزرا۔
خدا خدا کر کے ایک گھنٹے بعد ملتان ائر پورٹ پر ہوائی جہاز نے لینڈ کیا تو خدا کا شکر ادا کیا۔ یہاں سے اپنا سامان اُٹھا کر باہر کی طرف چلا تو ایک گیٹ پر ایک صاحب کھڑے لوگوں کے ٹکٹ چیک کر رہے تھے۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ٹکٹ اتفاق سے ہی وہاں موجود تھا۔ میں نے اُسے نکال کر دکھایا تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور مجھے کہنے لگا کہ سامان کی بکنگ کی رسیدیں دکھاؤ۔ میں نے اُسے بتایا کہ شاید مجھے یہ نہیں ملیں کیوں کہ یہ میرے پاس موجود نہیں ہیں۔ اتنی دیر میں مجھ سے پیچھے آنے والے مسافر نے اپنے ٹکٹ کے ساتھ دو ننھی منی سی رسیدیں نکال کر بھی اس کے سامنے کر دیں۔ یہ تو مجھے بھی ملی تھیں لیکن پتہ نہیں میں نے کہاں پھینک دی ہیں۔
بہرحال اب میرے پاس یہ نہیں تھیں۔ میں نے صورت ِ حال واضح کر دی۔ اس نے میرے بیگوں کے ساتھ لگے ہوئے سٹکرز چیک کیے اور مجھے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ میں باہر نکلا تو باہر بدر اور وسیم دونوں میرے منتظر کھڑے تھے۔ میل ملاپ اور حال احوال کے بعد گاڑی کی طرف بڑھے تو بدر نے پوچھا، کہ آپ کوئی چائے، کافی، یا ٹھنڈا پینا پسند کریں گے۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی فضا انتہائی آلودہ محسوس ہوئی۔ میں نے بدر سے کہا، کہ یار یہاں تو بہت گردوغبار ہے۔ راستے میں سڑک کنارے کسی صاف ستھری جگہ پر بیٹھ کر چائے پئیں گے۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا اور بولا، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے چائے نہیں پینی۔ اب آپ یقیناً یورپ جیسا ماحول ڈھونڈیں گے جو یہاں میسر نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال کی وجہ سے جگہ جگہ پر سڑک کے ساتھ ساتھ ٹرک اور ٹریلر کھڑے تھے کہ جب چاہیں سڑک کو ان کی مدد سے بند کیا جا سکے۔ ہم لوگ ان سے بچتے بچاتے راستے میں کہیں رُکے بغیر تقریباً رات ساڑھے دس بجے بورے والا پہنچ گئے۔ اڑھائی ماہ کی یورپ یاترا کے بعد بالآخر میں نے بخیر و عافیت واپس گھر پہنچ کر خدائے وحدہ لاشریک کا صدق دل سے شکر ادا کیا۔



جی آیاں نوں۔
آپ نے لکھا جو بہتیرے اور لوگ بھی گاہے بہ گاہے لکھتے ہیں :
1960 ء کی دہائی میں پی آئی اے دنیا بھر کی بہترین ائر لائنز میں سے ایک تھی۔
–
حضرت وہ آمر کا دور تھا جسے کوستے ہم تھکتے نہیں ہیں۔ ایئرلائن مکمل طور پر ایک سرکاری ادارہ تھا اور لازمی سروس کے زمرے میں آتا تھا یعنی اگر شہر میں کرفیو بھی لگا ہو تو پی آئ یاے کا عملہ کارڈ دکھاکر آگے نکل جاتا تھا۔
–
سقوط ڈھاکہ تک گزارا تھا۔ اس کے بعد جب بھٹو صاحب آگئے تو کیا نجی اور کیا سرکاری ادارے سب کا وہی حال ہوا جو پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاصہ ہے۔
–
1973 سے پہلے پی آئی اے کی کامیابی کی کئی وجوہات تھیں جن کا نور خان سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
ایک تو یہ کہ اس وقت کوئی بہت بڑا کوٹہ سسٹم نافذ نہیں تھا۔ اچھا کام کرنے والا میرٹ پر آرام سے نوکری لے لیتا تھا۔
دوسرا اس وقت پی آئی اے میں یونین نہیں ہوتی تھیں۔
–
1973 کے آئین کے بعد پی آئی اے میں کوٹہ بھی آگیا اور یونین بھی۔
کراچی کے ہیڈآفس میں اگر سو 100 نوکریاں نکلتیں تو اسی شہر میں رہنے والوں کے حصے میں ڈومیسائل پر بمشکل دس آتی تھیں۔ لگ بھگ پچاس پنجاب کو جاتی تھیں۔ یہ عصبیت نہیں بلکہ سیدھا سادھا معاملہ تھا۔ سن 80 کے وسط میں ہم اہالیان کراچی پی آئی اے کا مطلب پنجاب انٹرنیشنل ایئرلائنز لیتے تھے۔ اور PASMIC کو پنجاب اسٹیل ملز۔
–
بہرحال جو حال ہورے پاکستان کا سقوط کے بعد ہوا وہی پی آئی اے اور اسٹیل ملز، سرکاری بنکوں، ٹی ایند ٹی اور دوسرے شاندار سرکاری اداروں کا بھی ہوا۔
–
جمہوریت کی قیمت کچھ تو دینی ہوتی ہے۔ شوق دا مل کوئی ناں۔
–
سائنس ویسے آپ نے بھی پڑھی اور پڑھائی ہے۔ 30 ہزار فٹ کی بلندی یعنی لگ بھگ دس کلومیٹر اونچائی سے نیچے تبدیل ہونے والی روشنیاں یا علامتیں اتنی جلدی تبدیل نہیں ہوتیں۔ ویسے بھی نیچے روشنیاں سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔
–
جہاں تک کوٹہ سسٹم کی بات ہے کراچی والے سندھ دیہی یا کسی اور صوبے کا تو کجا اپنے کراچی کا ڈومیسائل بھی بہ آسانی حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ دینے والی کرسی کوئی سائیں ہی بیٹھا ہوتا ہے۔
جب کہ طرفہ تماشہ دوسرے صوبوں اور سندھ دیہی کے لوگ کراچی کا ڈومیسائل بہ آسانی حاصل کرلیتے ہیں۔
اس وقت کراچی میں پولیس ہو یا سرکاری تعلیمی ادارے یا کے ڈی اے یا کے ایم سی۔۔۔۔ اندرون سندھ کے لوگ مقامیوں سے کئی گنا زیادہ نظر آئیں گے۔ اور اہم مقامات پر بمشکل صفر یعنی خال خال۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے ہر ادارے میں ڈائون فال آیا ہے اوراق عمل میں سب سیاسی جماعتوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے