انیتا آپا ( انیتا غلام علی) کا ایک خط
( خط سے پہلے تعارفی مضمون ملاحظہ ہو۔ )
میں نے اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ انیتا غلام علی کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا،
سیف (سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن ) کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا غلام علی (انیتا آپا ) کے نام جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں اسکول قائم کر کے محنت کش بچوں کی آنکھوں میں تابناک مستقبل کے سپنے دیکھنے کی جرات پیدا کی۔ ”
اپریل 2012 ء میں اس کتاب کو آصف فرخی نے اپنے ادارے ”شہرزاد“ سے بہت خلوص و محبت سے شائع کیا تھا۔ اب آصف اور انیتا آپا دونوں ہی خاک نشیں ہوئے، لیکن اپنے ناقابل فراموش کام کی وجہ سے آج بھی ہمارے دلوں پہ راج کر رہے ہیں۔ آصف ادب کے حوالے سے ایک زندگی میں کئی زندگیوں کے کام نپٹا گئے اور انیتا آپا نے، پوری زندگی تعلیم کی ترویج کے لیے انتہائی جرات مندی سے حاکم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے حق بات کی۔ چاہے وہ جنرل مشرف ہو یا کوئی اور حکمران۔ جھوٹ اور منافقت سے دور اور عام انسانوں کے مسائل سے جڑی ہوئی ہمدرد اور مخلص، انیتا آپا جو بقول ہماری والدہ، ”ایک دبنگ عورت ہے۔“ ۔
میں نے اپنے ذاتی مشاہدے میں انیتا آپا میں وہی خواص پائے جن کو تمام عمر اپنی والدہ کو برتتے دیکھا۔ جب ہی تو امی کے انتقال کے بعد ان کا سفید براق سوتی دوپٹہ میں نے یہ سوچ کے انیتا آپا کو تحفتاً دیا کہ اس کی حقدار صرف وہی ہستی ہو سکتی ہے جو امی ہی کی طرح ہو۔ دونوں ہی کی شخصیت نے خاموش استاد کی طرح سکھایا کہ حق اور سچائی کے لیے لڑو، منافق لوگوں سے فاصلہ رکھو اور سچے لوگوں اور دکھی انسانیت کو دل کے قریب جگہ دو۔ گو اس سبق کو سیکھنے میں مجھے خاصی دیر لگی۔ خیر دیر آید درست آید۔
انیتا آپا ایس ایم سائنس کالج میں مائیکرو بیالوجی کی سینئر استاد تھیں اور میں ان کے مقابلے میں بالکل جونیئر عبداللہ کالج میں مائیکرو بیالوجی کی استاد۔ بعد میں وہ سیف کی ڈائریکٹر ہو گئیں۔ میں نے عمر کی تیسری دہائی میں امریکہ نقل مکانی کی جو تین بچوں کے ساتھ یقیناً زندگی کا ایک بہت مشکل تجربہ تھا۔ اگر مستقل اپنے پیاروں کے خطوط اور ان کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو جانے کیا ہوتا۔ پاکستان سے ملنے والے سارے دوستوں کے خطوط کو میں نے حفاظت سے رکھا ہوا ہے کہ وہ کڑے وقت میں میری جذباتی بقا کے لیے آکسیجن کا کام دیتے تھے۔
انیتا آپا کے کالج میں میری سب سے عزیز دوست نزہت پڑھاتی تھی۔ ہماری دوستی کا تکون پہلے انیتا آپا ( 8 اگست 2014 ء) اور پھر نزہت ( 25 جنوری 2015 ء) کے انتقال کے بعد ٹوٹ گیا۔
لوگوں کو حیرانی ہوتی ہے کہ موت، خاص کر طبعی موت، مجھے کبھی حیران نہیں کرتی۔ اس کی وجہ یہ ہے میری نظر میں دنیا سے ہماری رخصتی کا سفر تو ہماری پیدائش پہ آمد کی پہلی چیخ کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ پھر تمام زندگی ایک راز کی طرح ہم پہ کبھی بھی پوری طرح منکشف نہیں ہوتی۔ کب کیا ہو جائے ہم کیا جانیں۔ زندگی کے بھیدوں میں ہی شاید جستجو کی خوبصورتی ہے۔
دس سے زیادہ سال ہو گئے انیتا آپا کو رخت سفر باندھے لیکن ان کے خطوط، ان کی باتیں ابھی یہیں ہیں، دل کے اندر، خود میرے اپنے سفر کے خاتمے تک۔ پچھلے دنوں پرانے خطوط میں انیتا آپا کا خط ملا۔ جس کا ترجمہ ”ہم سب“ کے ان پڑھنے والوں کے مطالعہ کی نذر، جو مجھ جیسے غیر معروف ادیبوں کی تحریر بھی پڑھ لیتے ہیں۔
786
2/1/2013
میری بہت پیاری گوہر
تمہاری کال (فون) کا بہت شکریہ جس نے میرا جی خوش کر دیا۔ خنک موسم نے میری توانائی سلب کرلی ہے اور میری ہڈیوں میں ”درد کے گیت“ کا سبب ہے۔ میرے خیال میں موسم پاکستان سے اسی طرح خفا ہے جیسے لوگ ایک دوسرے سے ہیں۔ بہت زیادہ اداسی ہے، خصوصاً ہم جیسوں کے لیے جو رجائیت پسند ہیں اور پاکستان کو بہت اعلیٰ مقام پہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہاں روزانہ مرنے والوں کی تعداد اسی طرح ہی جیسے کرکٹ بورڈ پہ اسکور۔ خدا ہماری مدد کرے۔ ہم اسی طرح کام کر رہے ہیں جیسے ہر بات معمول کی طرح ہے۔
آج صبح اپنے دفتر میں کچھ اسی موڈ میں آئی ہوں۔ شاید گزرتے وقت کے ساتھ کوئی اچھی خبر ملے۔ انشا اللہ۔ میں خوش ہوں کہ تم یہاں سے دور ہو اور محفوظ ہو (؟ ) مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ بچے اچھا کر رہے ہیں۔ میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔ مگر کسی کو کیسے بلاؤں۔ ہمارے خوبصورت ملک میں۔ جہاں غربت اور بدعنوانی کی ایک دوسرے سے دوڑ اپنے بام تک پہنچنے میں لگی ہوئی ہے، ایک نیچے تو دوسرا اوپر۔ اور لوگوں کے ساتھ رویوں کی کہانیاں اداسی سے پر ہیں۔ انسانی حقوق، انسان، اسلام اور دوستی سب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ معاف کرنا۔
مجھے اس سال اپنے دفتر میں نزہت (میری اور انیتا آپا کی مشترکہ دوست مائیکرو بیالوجی کی پروفیسر نزہت نقوی مرحومہ ) اور اس کی فیملی سے ملنے کا موقعہ ملا۔ وہ ایک اچھا خوش باش گھرانا لگتا ہے۔ اظہر (نزہت کے شوہر) بہت اچھے انسان ہیں۔ مجھے نزہت کی صحت کے لیے تشویش ہے۔ اس نے بہت زیادہ وزن بڑھا لیا ہے۔ میرے خیال میں وہ اپنی بیٹیوں کی کارکردگی سے خوش ہے۔
منیبہ (منیبہ شیخ مرحومہ، ہماری مشترکہ دوست) گھر پہ ہیں اور بہن کی بیٹی کو پڑھا رہی ہیں۔ وہ بہت ذہین ہے اور ان کے قابو میں بھی ہے۔ منیبہ اس کے ساتھ سخت ہیں اور اس کو اپنی ہدایات کے تحت چلاتی ہیں۔
میں تمھارے (نئے ) پتے کا انتظار کر رہی ہوں تاکہ شہر بانو کو خط دے سکوں جو لندن میں پڑھ رہی ہے۔ میں تمھیں رئیس علوی کی غزل بھیج رہی ہوں جو میرے پاکستان کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کے زمانے کے ساتھی ہیں۔ وہ آج کل آسٹریلیا اور جاپان سے آئے ہوئے ہیں اور جاپانی اردو انسائیکلوپیڈیا پہ کام کر رہے ہیں۔
میرے خیال میں مجھے اب خط ختم کرنا چاہیے۔ کیونکہ لوگ میرے دستخط وغیرہ کے منتظر ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتی کہ میں اپنے سفارش وغیرہ کے معاملے میں غیر مقبول رویے کی بناء پہ، یہاں کتنے عرصے اور ہوں۔ اور یہ بھی نہیں پتہ کہ اپنی صحت کی وجہ سے کتنی مدت اور چل سکتی ہوں۔ میں اپنی، حمیرہ اور ہر کسی کی صحت کا اپنی بساط بھر خیال رکھتی ہوں۔ امید کرتی ہوں کہ اللہ میری ناکامیوں کو معاف کرے۔
تمھیں اور تمھارے پیاروں کو بہت سارا پیار۔
تمھاری انیتا آپا
(انیتا آپا کا انتقال 8 اگست 2014 ء میں ہوا)





کیا کیا لوگ یاد کرادیئے آپ نے۔
اللہ تعالی میڈم انیتا، نعت خواں استانی منیبہ شیخ اور آپ کی دوست پروفیسر نزہت صاحبہ کی مغفرت فرمائے۔ غالباً ان کی بہن یا بیٹی کسی سے میری ریڈیو پاکستان میں ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ علم دوست خاندان تھا۔
میڈم انیتا سے دس پندرہ منٹ گفتگو کا موقع اس وقت ملا جب ضیا دور میں 1988 میں نیشنل سینٹر کراچی میں ہونے والے ایک مقابلے میں خاکسار کو پہلا انعام ملا تو اس وقت شاید میڈم انیتا صوبائی وزیرتعلیم کی خدمات انجام دے رہی تھیں اور مہمان خصوصی تھیں۔ پہلا انعام جیتنے والے یونیورسٹی کے اس طالب علم کو انہوں نے خوب دعائیں بھی دیں اور بہت کچھ سمجھایا بھی۔
اللہ تعالی ان سب کی مغفرت فرمائے۔
اسلام میں ہے کہ۔۔۔ تم میں بہتر شخص وہ ہے جو خود علم حاصل کرے اور پھر دوسروں کو سکھائے۔
کیسے بہترین لوگ تھے یہ سب۔
جی انیتا آپ کی زندگی مثالی تھی۔ منیبہ باجی کی آواز باکمال تھی۔ استاد بھی اچھی تھیں۔ نزہت بے پناہ عمدی انسان اور استاد تھی۔ جلد چلی گئی۔ اسکی بیٹیاں کم عمر تھیں اسکی رخصتی کے وقت لیکن بعد میں آرٹ کی استاد اور ٹی وی پہ پردیس سر کی طور پہ کامُ کیا۔ ایک بزنس کرتی ہے۔ دونوں کامیابی سے پروفیشنل زندگی گذار رہی ہیں ۔ ماںُ کی برح بلند کردار
میں نے ان تمام لوگوں پہ اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔لوگ مجھے انسپائر کرتے ہیں۔
املی کی غلطیاں معاف کردیں۔