اے آئی کا میدان، چینی کمپنی فاتح قرار


چین کے اسٹارٹ اَپ ڈیپ سیک نے اپنے جدید ترین اے آئی ماڈلز سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یہ ماڈلز نہ صرف جدید اور طاقتور ہیں بلکہ کم لاگت میں بھی تیار کیے گئے ہیں، جو امریکہ کے اعلیٰ درجے کے اے آئی ماڈلز کے ہم پلہ یا ان سے بھی بہتر قرار دیے جا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر، ڈیپ سیک نے یہ ماڈلز صرف تقریباً 6 ملین ڈالر کی کمپیوٹنگ پاور کے ذریعے ٹریننگ دے کر تیار کیے، جس میں این ویڈیا ایچ 800 چپس استعمال کیے گئے۔ اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا الگورتھم اور سورس کوڈ نہیں چھپایا بلکہ پبلک کر دیا تاکہ لوگ بھی اس کا استعمال کریں۔ اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے لئے 500 ارب ڈالر کی منظوری دی اور اس سے اگلے دو تین دن میں ڈیپ سیک کا دھماکہ دار ظہور ہوا۔

ڈیپ سیک وی۔ 3 اور اس کی حیرت انگیز کارکردگی

ڈیپ سیک۔ وی 3 کی طاقتور ٹیکنالوجی کی بدولت، ڈیپ سیک کا اے آئی اسسٹنٹ ایپل ایپ اسٹور پر سب سے زیادہ ریٹنگ والی مفت ایپلیکیشن بن گیا ہے۔ اس پیشرفت نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے فیصلے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، این ویڈیا سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے شیئرز پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔

چین میں اے آئی کی ترقی

2022 کے آخر میں اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا تھا، جس کے بعد چین کی بڑی کمپنیوں نے بھی اپنے اے آئی چیٹ بوٹس بنانے پر زور دیا۔ ابتدا میں بائیڈو کا چیٹ بوٹ مقابلے میں کمزور ثابت ہوا، جس کی وجہ سے چینی صارفین کو مایوسی ہوئی۔ لیکن ڈیپ سیک کے جدید ماڈلز نے یہ تاثر بدل دیا ہے، کیونکہ ان کی کوالٹی اور لاگت دونوں ہی بہتر ہیں۔

ڈیپ سیک۔ وی 3، ڈیپ سیک۔ آر 1، ڈیپ سیک۔ آر 3 اور ڈیپ سیک۔ 0 : جدید ترین ماڈلز

ڈیپ سیک کے مطابق، ان کے چار جدید ماڈلز۔ ڈیپ سیک۔ وی 3، ڈیپ سیک۔ آر 1، ڈیپ سیک۔ آر 3 اور ڈیپ سیک۔ 0۔ عالمی معیار کے مطابق ہیں اور اوپن اے آئی اور میٹا کے جدید ترین ماڈلز کے برابر ہیں۔ ان ماڈلز کو استعمال کرنا بھی انتہائی سستا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈیپ سیک۔ آر 1 کو حال ہی میں لانچ کیا گیا اور اس کی ٹاسک بیسڈ قیمت اوپن اے آئی کے 01 ماڈل سے 20 سے 50 گنا کم ہے۔ ڈیپ سیک۔ آر 3 اور ڈیپ سیک۔ 0 بھی اسی کم لاگت حکمت عملی کے تحت تیار کیے گئے ہیں اور جدید ترین نیورل نیٹورکس کے حامل ہیں۔

امریکی کمپنیوں کی پریشانی

اسکیل اے آئی کے سی ای او، الیگزینڈر وینگ نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ڈیپ سیک کے پاس 50,000 این ویڈیا ایچ 100 چپس موجود ہیں، لیکن اس کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ امریکہ کے ایکسپورٹ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، جو کہ چین کو ایڈوانس اے آئی چپس کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ تاکہ امریکی اکیلے عقلمند معلوم ہوں، لیکن چین نے یہ فخر ان سے چھین لیا اور ایشیائی ممالک بالخصوص بھارت و پاکستان کے لئے یہ فخر کی بات ہے۔

این ویڈیا کے شیئرز میں زبردست گراوٹ

چین کی کم لاگت مگر طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی نے امریکی ٹیک کمپنیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پیر کو این ویڈیا کے شیئرز میں شدید کمی دیکھنے میں آئی، اور چند منٹوں میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 600 بلین ڈالر ختم ہو گئے۔ یہ این ویڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ اس پہلے ایلون مسک اور مارک ذکربرگ نے بھی بڑے نقصانات کیے ہیں لیکن یہ ان دونوں کے نقصان سے دوگنا ہے۔

امریکی حکومت کی تشویش

چین کے اس نئے اے آئی ماڈل کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک ’ویک اپ کال‘ قرار دیا ہے اور امریکی کمپنیوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کریں۔ کہ کہیں ایسا نا ہوں چین ان کو ٹیکنالوجی میں بھی پیچھے چھوڑ جائے، پہلے ہی شمالی کوریا نے یوکرین میں روس کو فوجی مدد دے دی ہے اور برکس کے ابھار نے ڈالر کو کڑی ٹکر دے رکھی ہے اب اگر مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس ) میں چین کا پلڑا بھاری رہا تو اگلا ورلڈ لیڈر چین بن سکتا ہے۔

عام آدمی کے لیے فوائد اور نقصانات

ڈیپ سیک کی یہ ٹیکنالوجی عام آدمی کو کئی فوائد فراہم کر سکتی ہے، جیسے کہ سستی اور زیادہ قابل اعتماد اے آئی سروسز تک رسائی۔ چھوٹے کاروبار اور اسٹارٹ اپس جو مہنگے مغربی اے آئی ماڈلز استعمال نہیں کر سکتے، وہ اب کم لاگت میں انہی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف، اس سے بہت سے لوگوں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ جو ڈیٹا اینٹری، ترجمہ، کسٹمر سپورٹ، اور دیگر روایتی آئی ٹی ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں ان کے لئے کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ بطور پاکستانی، ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اے آئی انڈسٹری کو ترقی دینی چاہیے، تاکہ ہم عالمی مارکیٹ میں ایک مضبوط پوزیشن حاصل کر سکیں اور دوسرے ممالک پر انحصار کم کر سکیں۔ لیکن پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش، اور معلوماتی ویب سائٹ پر پابندیاں ہمارے راستے خاردار بنا رہی ہیں۔ پاکستانی آئی ٹی کی وزارت خواب خرگوش کر مزے لوٹ رہی ہے اور ہمارے اعلیٰ ذہین افراد بے روزگار ہیں جبکہ طنز و مزاح اور فراغت کے مشغلے ٹک ٹاک سے یوٹیوب تک نولکھیوں کی تعداد میں اضافے ہماری قوم کی شناخت بطور مسخرے کے کروا رہے ہیں۔

نتیجہ

ڈیپ سیک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لیے صرف وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ اسمارٹ حکمت عملی اور بہتر انجینئرنگ بھی لازمی ہے۔ اگر چین اسی طرح ترقی کرتا رہا تو مستقبل میں امریکی ٹیک انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یقیناً علم و عقل معجزہ ہیں جو نا امیر کی دولت سے خریدے جا سکتے ہیں نا غریب کی مفلسی ان کے آڑے آتی ہے۔ ہم بطور پاکستان اس میدان میں اپنی شناخت منفرد بنا سکتے ہیں اگر ہم چاہیں تو کیا نہیں کر سکتے۔

Facebook Comments HS