نوجوان ادیبوں کے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کی روداد


میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں اقامت کے دوران یادداشت کے لیے چیدہ چیدہ نوٹس لکھتا رہا تاکہ جانے کے بعد وہاں کی تمام سرگرمیاں اپنے احباب سے شیئر کر سکوں مگر سچ پوچھیے تو اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بات کہاں سے شروع کروں اور کون کون سی کروں۔

ہر صوبے سے چار اور ملک بھر سے منتخب بیس ادیب دس روزہ قیام کے لیے رائٹرز ہاؤس (اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد) میں 15 جنوری 2025 شام سات بجے پہنچ گئے۔ جن میں فکشن رائٹرز، مصور، شاعر اور خطاط شامل تھے۔ حسنِ انتظام اس قدر شان دار تھا کہ ہم ششدر رہ گئے اور جو بات سن سن کان پک گئے تھے کہ ”سرکاری ادارے تو بس بجٹ ہی کھاتے ہیں کام شام کوئی نہیں کرتے“ وہاں جا کے یہ بات غلط ثابت ہوئی۔ میں مختلف اداروں میں رہا مگر اکادمی ادبیات اسلام آباد جیسا متحرک اور فعال ادارہ آج تک نہیں دیکھا۔ جہاں سیشن، سیمینار، طباعت، مکالمے اور اجلاس مسلسل چل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مشتہر ہونے والے فلائرز کے عین مطابق تمام پروگرامز نہایت نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد ہو رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ (چئیر پرسن) کلیدی عہدے پہ ہیں مگر ادارے کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا۔ میں ان کی غیر معمولی یادداشت اور سلیقہ مندی پہ حیران ہوں۔ ملک بھر سے ادیبوں کے چناؤ کے اس عمل میں انھوں نے کسی قسم کی مداخلت اور سفارش کو اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ پہلی ملاقات میں ان کی خاندانی نجابت کا اندازہ بھی ہو گیا۔ انھوں نے پہلے دن ہی نہ صرف ہمیں اپنے گھر پہ مدعو کیا بلکہ اکادمی میں بھی ملک کے طول و عرض سے آئے نوجوان ادیبوں کے لیے گھر جیسا پرسکون اور بے تکلف ماحول مہیا کیا۔ انھوں نے ہمارے لیے خصوصی طور پر یہ احتیاط برتی کہ ایک لمحہ بھی ضائع ہونے نہ پائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پورا عشرہ ملٹی فلیور تعمیری پروگراموں میں مصروف بھی رہے اور انجوائے بھی کیا۔

سلطان ناصر صاحب (ڈی۔ جی) تو ہمہ صفت موصوف تھے۔ ان کی ذمہ داریاں دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ یہ اتنی عمدہ نظمیں نہ جانے کب کہہ لیتے ہوں گے۔ ہمارے ساتھ بہت بے تکلف رہے۔ کچھ خوشگوار سرپرائز بھی ارینج کیے اور ایک بار تو شہر سے بہت باہر ایک پہاڑی پر ہمیں اچانک جا ملے اور ایسی محفل جمائی کہ دن بھر کی تھکن جاتی رہی۔ بھئی! سچی بات ہے بڑے لوگ ایسے ہی بڑے نہیں بن جاتے ان میں حیران کن خوبیاں ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے دل بڑے ہوتے ہیں۔

ادارے کے ڈائریکٹر اختر رضا سلیمی ہیں۔ ناول (جاگے ہیں خواب میں، جندر، لواخ) کے حوالے سے ان کا نام کون نہیں جانتا، مگر جب اپنی غزلیں سنانے بیٹھے تو ہم کنفیوز ہو گئے کہ یہ شاعر بڑے ہیں یا ناول نگار۔ بہرحال کیا ہی درویش منش انسان ہیں۔ رات کو ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے تو دنیا و مافیہا سے بے نیاز کر دیتے۔ جندر کے حوالے سے بالخصوص اور ناول کی تکنیکوں کے حوالے سے بالعموم گفتگو کی تو ہم پہ کھلا کہ ایک فکشن رائٹر کتنا باریک بین ہوتا ہے۔ ناول کی قرآت بھی ایک آرٹ ہے، اس حوالے سے سلیمی صاحب کے ساتھ آپ کی ایک نشست ضروری ہے۔ ان کے ساتھ بہت مزہ آیا۔ وہ گاڑی میں بھی ہمارے ساتھ رہے۔

عاصم بٹ صاحب بھی اس ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ہمارے اس دس روزہ پروجیکٹ کے انچارج بھی تھے۔ مختلف اداروں میں وہ ہمارے ساتھ رہے۔ ”دائرہ“ جیسے ناول کے لکھاری کو دیکھ کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ ادیبوں کو ”سٹھیایا ہوا“ اور ”خود پسند“ کہنے والوں کو اس ملنسار، شفیق اور حلیم الطبع ادیب سے ایک بار ضرور ملوایا جائے۔ اتنے بڑے ادیب کی زبان سے ایک بار بھی ”مَیں“ نہیں سنا۔ ان کی رفاقت ہمارے لیے مسرت اور فخر کا باعث رہی۔ بہت من کو بھائے۔

میر نواز سولنگی صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر) ادارے کی جملہ سرگرمیوں کے انعقاد میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نام سے جس قدر ہیبت اور رعب کا تاثر ابھرتا ہے، طبیعت میں اس قدر محبت کی مٹھاس شامل ہے۔ بہت خندہ پیشانی سے جپھی ڈال کے ملتے، گویا ”عالَمِ الست“ سے دوستی چلی آ رہی ہے۔

ایک اور غلط العام بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے علاقوں کے ادیبوں کو بڑے شہروں میں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ہم وہاں رہے اور اس ادبی عہد کے بڑے بڑے ادیبوں سے ملے۔ جنھوں نے بڑی خوش دلی سے ہماری پذیرائی بھی کی اور میزبانی بھی۔ گو رائٹرز ہاؤس کا میس ہال رنگا رنگ کھانوں سے مہکتا رہتا تھا لیکن اسلام آباد کے پرخلوص سینئر ادیب، ہمیں اپنے گھر میں کھانے کھلانے پہ مصر رہے۔

محمد حمید شاہد صاحب کے گھر عصرانہ تھا۔ انھوں نے تخلیق ادب کے حوالے سے کہا کہ ہر شخص یونیک ہے لہذا اسے چاہیے کہ وہ کسی بڑے ادیب کی سیکنڈ کاپی بننے کے بجائے اپنی اوریجنل کاپی کی شناخت مستحکم کرے۔ ان کے گھر پہ ان کی بہو کے مصوری کے خوب صورت فن پارے دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ عموماً ادیبوں کی بیویاں ان کی ادبی سرگرمیوں سے چِڑتی ہیں مگر حمید شاہد صاحب کی رفیقہِ حیات نہ صرف ان کے اس ادبی مذاکرے میں موجود رہیں بلکہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لقمہ بھی دے دیتی تھیں۔ ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔

نیلوفر اقبال صاحبہ نے اپنے گھر پہ ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر پہ روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ ترویجِ ادب میں رسائل و جرائد کی اہمیت بہت بنیادی ہے کیونکہ ہر ادیب کا سفر رسائل سے ہی شروع ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنا افسانہ ”لو سٹوری“ سنا کر سامعین سے خوب داد وصول کی۔

رائٹرز کیفے میں اختر عثمان صاحب کے ساتھ ایک یادگار نشست رکھی گئی۔ اختر عثمان بہت عالم فاضل شخصیت ہیں۔ ان کی بنیادی شناخت شاعر کی ہے مگر انھوں نے تنقید کے ضمن میں بہت اچھوتی باتیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ہمیں ان چیزوں کے لیے باہر نہیں لپکنا چاہیے جو ہمارے اپنے گھر میں موجود ہیں“ انھوں نے ادب برائے زندگی (مقصدیت) کے حوالے سے بھی پرمغز گفتگو کی۔

عکسی مفتی صاحب نے ہمیں اپنے گھر چائے پہ مدعو کیا۔ ان کے گھر میں ایک الگ جہان آباد تھا۔ دوران تعارف دیگر صوبوں سے تشریف لائے ہوئے مہمانوں سے بہت تکریم سے پیش آئے مگر ہم پنجاب سے آنے والوں کو ”پنجابی ڈھگے“ کہہ کر مخاطب کیا۔ وہ مقامی چیزوں اور مقامی ثقافت کے پرچارک ہیں۔

کشور ناہید صاحبہ نے ہمیں اپنے دفتر بلایا اور ہر ادیب سے اپنے علاقے کی ایک لوک کہانی بھیجنے کا وعدہ لیا۔

فرخ یار صاحب نے گھر پہ ایک پرتکلف عصرانے کا اہتمام کیا انھوں نے نظم کے حوالے سے بہت عمدہ گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ادب مقامی ہوئے بغیر قومی نہیں ہو سکتا اور اسی طرح قومی ہوئے بغیر بین الاقوامی (عالم گیر) نہیں ہو سکتا۔ ان کے ہاں ایک سرپرائز محفل موسیقی کا بھی اہتمام تھا۔ بلال نے اپنی انگلیوں کے سُروں سے محفل کو گرما دیا۔

اظہار الحق صاحب (معروف شاعر، کالم نگار تلخ نوائی) نے اسلام آباد کلب میں چائے پہ مدعو کیا۔ ان کے ساتھ یہ غیر رسمی مجلس بہت پرلطف رہی، شعر و شاعری کا دور بھی چلا۔ انھوں نے اپنی تین غزلیں سنا کر ہمیں دم بخود کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ زبان ترقی کرے گی جو ذریعہِ روزگار کے ساتھ جڑی ہوگی۔ انھوں نے مزید واضح کرتے ہوئے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لیا جانا چاہیے، اردو کی ترقی کے لیے اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی اقدام ہو۔ انھوں نے اپنے بڑوں کے احترام کے حوالے سے بہت خالص باتیں کیں اور کہا کہ یہ بات کسی نعمت سے کم نہیں کہ کوئی آپ کو ”توں“ کہہ کر بلانے والا، آپ کے درمیان موجود ہو۔ وہ بہت عمدہ حسِ مزاح رکھتے ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتانے لگے کہ ”وہاں کچھ ادب پر وروں نے مجھے لٹا کے زبردستی سگریٹ کا ’سوٹا‘ لگوا دیا، حالانکہ میں سگریٹ نہیں پیتا تھا، جب میری ناک سے دھواں نکلا تو وہ لونڈے ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہنے لگے کہ“ لو جی بندہ چالو ہو گیا اے ”

نعیم فاطمہ علوی صاحبہ نے اپنے گھر عشائیے پر مدعو کیا۔ ان کے شوہر فاسٹ یونیورسٹی میں وائس چانسلر ہیں۔ وہ مہمانوں کی آمد پہ اس قدر نہال ہوئے کہ خود کیمرہ سنبھال لیا۔

سینئر ادیبوں کی طرف سے ان ظہرانوں، عصرانوں اور عشائیوں میں شرکت کے علاوہ ہم نے دیگر علمی، ادبی اور سیاحتی مراکز کے تفصیلی دورے بھی کیے۔ جن میں ادارہ فروغ قومی زبان، نیشنل لائبریری آف پاکستان، لوک ورثہ میوزیم، پاکستان مونومنٹ میوزیم، فیصل مسجد، شاہ اللہ دتہ، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس، آرٹ آف سمال ٹاک، جیو ٹی وی اور روز ٹی وی قابلِ ذکر ہیں۔

زاہد گلزار رائٹرز ہاؤس میں ہمارا نگہبان تھا۔ رات کے دو بجے مجھے سردی محسوس ہوئی تو میں نے زاہد کو آواز دی اور حاضر پایا۔ ہاؤس میں ہمارا آخری دن تھا اور زاہد کی بیوی عمرے سے واپس آ رہی تھیں مگر یہ خاندانی مہمان نواز ہمارے ساتھ رہا۔ نہایت ہوشیار، حاضر باش، مخلص اور نیک طینت روح ہمیں کبھی نہیں بھولے گی۔

اس کے علاوہ وہاں ہماری ملاقات کے لیے اکادمی میں گاہے گاہے تشریف لانے والوں میں جناب افتخار عارف، جناب جلیل عالی، جناب ڈاکٹر وحید احمد، جناب زہیر درزید (فلسطینی سفیر) ، جناب چن پنگ (کلچرل قونصلر چین) ، سردار مسعود احمد خان (سابق صدر کشمیر) ، جناب مینوئل فریڈریکو (سفیر پرتگال) جناب علی محمد فرشی، جناب ڈاکٹر ضیاء الحسن، جناب حمیدہ شاہین، جناب حلیم اختر قریشی، جناب حسن ناصر جامی (وفاقی سیکرٹری) ، جناب ڈاکٹر طارق حبیب چیمہ، جناب ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، جناب محمد الیاس، جناب علی اکبر عباس، جناب امداد آکاش، جناب عبد الخالق تاج، جناب عاطف علیم، جناب زیف سید، جناب حسن عباس رضا، جناب ارشد وحید، جناب فریدہ حفیظ، جناب قیوم طاہر، جناب رفیق سندھیلوی، جناب اقبال آفاقی، جناب یاسمین حمید، جناب کامران کاظمی، ڈاکٹر بی بی امینہ، جناب رحمان حفیظ، ڈاکٹر احمد شجاع سید، ڈاکٹر عامر سہیل، جناب احمد حاطب صدیقی، ڈاکٹر جمیل اصغر جامی، جناب مظہر عارف، جناب فرحین چوہدری، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، جناب منیر فیاض، جناب صنوبر الطاف اور محمد جمیل اختر شامل ہیں۔

دس دن کی اس علمی، ادبی اور سیاحتی گہما گہمی کے بعد جس دن ( 25 جنوری، 2025 کو ) ہم نے رائیٹرز ہاؤس کو الوداع کہنا تھا، وہ دن چھٹی کا تھا مگر دس دن کی مسلسل تقریبات میں مصروف رہنے کے باوجود چیئر پرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ اور ڈی جی جناب سلطان ناصر صاحب چھٹی کے دن بھی ہمیں الوداع کہنے رائیٹرز ہاؤس تشریف لائے۔ ان محبت کے پُتلوں نے ہمیں حیران کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔

Facebook Comments HS