ملک ریاض حسین، جواب طلب سوالات
ایس آئی ایف سی پاکستان کا اس وقت انتہائی اہم ادارہ ہے۔ موجودہ دور میں جس طرح کاروباری معاملات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اور جیسے جیسے ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کی طرف راغب ہو رہی ہے اس سے کچھ بعید نہیں کے ایس آئی ایف سی جیسے اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ یہ ادارہ دنیا سے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی ترغیب ہے۔ بنیادی مقاصد ہیں کیا کہ ون ونڈو آپریشن ہو گا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور انہیں ڈاکیومینٹیشن کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنا نہیں پڑے گا۔ اس کونسل کے اغراض و مقاصد میں بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو پر کشش مراعات، سہولیات اور آسانیاں کی ترغیب دینی ہے تا کہ وہ پاکستان میں اپنا کاروباری حجم بڑھائیں۔ دوسری طرف ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ڈی ایف ڈی آئی) کا ڈیجیٹل غیر ملکی سرمایہ کاری کا اقدام، ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) اور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کا مشترکہ منصوبے کے تحت ملکی معیشت کے میں اہم کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
”ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ“ (DFDI) ایک قسم کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) ہے جس میں ایک ملک کی کمپنی دوسرے ملک میں ڈیجیٹل کاروبار یا ٹیکنالوجی پر مبنی آپریشن میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر ڈیجیٹل اثاثوں، مہارتوں، اور علم کی سرحدوں کے پار منتقلی شامل ہوتی ہے تاکہ میزبان ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں موجودگی قائم کی جا سکے۔ اس میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ای کامرس پلیٹ فارمز، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے۔ اور SIFC براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے۔
پاکستان کو سیاسی غیر یقینی، بھتہ خوری، کاروبار کے عدم تحفظ، ٹیکس کے معاملات، کاروباری کو قانونی دائرے میں شروع کرنے کی خواہش پر بھی ایک طویل المدتی عمل، غیر ضروری پوچھ گچھ، ادارہ جاتی سطح پر مسائل اور اس طرح کے دیگر اہم مسائل کی وجہ سے نا صرف بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں نا ہونے کے برابر تھی بلکہ مقامی کاروباری افراد بھی ہمیشہ سے اس حوالے سے گو مگو کا شکار رہے ہیں۔ اداروں کی طرف سے کاروباری شخصیات کو تنگ کرنا ایک ایسا اوپن سیکرٹ ہے جس نے پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کیے ہوئے ہیں۔ راقم الحروف اگر کسی بھی کاروبار میں 50 ہزار روپے بھی لگائے تو امید یہی دل میں پیدا ہوتی ہے کہ جلد سے جلد یہ سرمایہ نا صرف واپس مل جائے بلکہ اس سرمائے کی واپسی کے ساتھ منافع کی کچھ ایسی سبیل بھی میسر ہو جائے کہ معاملات زندگی بہتر نہج پر جا سکیں۔ لیکن پاکستان میں اس حوالے سے مشکلات روزِ اول سے ہی عیاں ہیں۔
آپ غیر ملکی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری دونوں معاملات کو کچھ لمحے کے لیے ذہن نشین رکھتے ہوئے پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون ریاض حسین کے کردار کو دیکھیے۔
ملک ریاض حسین کا شمار اس وقت پاکستان کے اہم کاروباری افراد میں ہوتا ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے روح رواں کی حیثیت سے اکثر کاروباری افراد جو ان کے منصوبوں سے منسلک ہیں ان کو دعائیں دیتے ہوئے ہی نظر آتے ہیں۔ رکیے، آپ کے ذہن میں یقینی طور پر ملک ریاض حسین کا متنازعہ کردار ہی گھوم رہا ہو گا۔ سیاستدانوں کے ساتھ معاملات، اداروں کے ساتھ محاذ آرائی (نیب کے حالیہ نوٹس سے اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ) ، اپنے ادارے کے حوالے سے ہمیشہ متنازعہ خبروں کی زینت رہنا، وغیرہ وغیرہ۔
ماس کمیونیکیشن کی ڈگری کے حصول میں ہم نے پڑھا کہ Mind Cultivation Theory بنیادی طور پر ہے کیا اور کام کیسے کرتی ہے۔ ملک ریاض حسین کے معاملے میں اس تھیوری کو ذہن میں رکھیں تو یہ تھیوری بہت اچھے سے سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ذہن سازی کسی بھی شخصیت یا ادارے کے حق میں یا خلاف کی جا سکتی ہے۔ اور ذہن سازی کرتے ہوئے اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگ منفیت کا رجحان اپنائیں یا مثبیت کا، دونوں صورتوں میں معاملہ انتہا کا ہونا چاہیے۔ اور بدقستمی سے ملک ریاض حسین کے معاملے میں ذہن سازی کی تھیوری میں منفیت کا پہلو نمایاں کیا گیا ہے اور کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو ایشیاء کی سب سے بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی دینے والے دماغ کو اس حد تک زچ کر دیا جائے کہ وہ پاکستان آنے کا نام بھی نا لے۔
ذہن سازی کی تھیوری میں منفی تشخص کو کوشش کر کے اجاگر کرنے سے قبل کچھ وقت اگر آپ اس سوچ کو بھی دے دیں کہ ملک ریاض حسین کے ادارے میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد افراد ملازمین ہیں۔ اور پاکستان کے دگرگوں حالات کے باوجود یہ اپنی مثال آپ ادارہ ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کر رہا ہے۔ 10 لاکھ کو آپ اوسطاً 50 افراد کے ساتھ بھی لیجیے تو کم و بیش 50 لاکھ افراد بنتے ہیں جو ہزاروں خاندانوں کی صورتوں میں ان ملازمین کے بل بوتے پر روزمرہ کی مشکلات سے نمٹ رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی صورتحال سامنے رکھیے گا، اور علاج معالجے کے اخراجات بھی جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ آپ کسی پیچیدہ سے پیچیدہ مرض کے لیے بھی جب بے بس ہو جاتے ہیں تو اچانک ہسپتال سے ہی آپ کو علم ہوتا ہے کہ ایک ادارہ ہے جہاں رابطہ کرنے پر آپ کے علاج کے معاملات سہل ہو سکتے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن ہی ایسا ادارہ ہے جو کسی مریض کی درخواست پر بناء غور کیے درخواست کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکتا۔ کتنوں کی مدد ہو پاتی ہے کتنوں کی نہیں، یہ الگ سوال ہے۔ مکمل تصدیق کے عمل کے بعد جہاں مدد کرنا مقصود ہو، اس سے کوئی ریفرنس، تعلق، فرقہ، مذہب، رنگ یا نسل نہیں پوچھا جاتا بلکہ انتہائی خاموشی سے ہسپتال کے خزانے میں رقم پہنچ جاتی ہے اور مریض کا علاج ہو جاتا ہے۔ جس ملک میں بھوک کے ہاتھوں لوگ خودکشیاں کر رہے ہوں، اور والدین اپنی اولاد بیچ رہے ہوں وہاں اسی ملک میں آپ کبھی یہ جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ کتنے گھروں میں بحریہ ٹاؤن کے راشن بیگز بناء کسی تشہیر کے ہر ماہ پہنچ رہے ہیں۔ جہاں روزگار کے یہ حالات ہوں کہ قرضوں کے بوجھ تلے ملازمین جان سے جا رہے ہوں، اس ملک میں ہی کتنے لوگوں کو عالمی سہولیات کے مطابق روزگار میسر ہے۔
یہاں اس پورے معاملے کو ایک مختلف الگ انداز میں دیکھنے کی کوشش کیجیے تو آپ جو تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھنا چاہ رہے اسے کیا نقصان ہو گا اس بارے میں تصور کیجیے۔ ملک ریاض حسین یا ان کے ادارے سے جو متنازعہ معاملات منسوب ہیں تو ان کی درستگی کے لیے آپ ان کو پابند کیجیے۔ اور اس بات کو یقینی بنائیے کہ مستقبل کے حوالے سے متنبہ کر دیجیے کہ مزید معاملات میں بہتری رکھیں تو آپ کو یہاں کاروبار کرنے میں آسانی رہے گی لیکن ایسا نا کرنے کی صورت میں نتائج کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ لیکن لٹھ لے کر کسی بھی ادارے یا فرد کے پیچھے پڑ جانا یقینی طور پر اس ملک کے لیے فائدہ مند کم از کم نہیں ہے۔
ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے سے پہلے کوشش کیجیے ملک کے اندر کاروباری حضرات سے معاملات درست کیجیے۔ نا کسی کو قانون سے ہٹ کر مدد فراہم کریں اور نا ہی کسی کو غیر ضروری تنگ کریں۔ ملک ریاض حسین ملکی قوانین سے مبرا نہیں ہیں لیکن جہاں بھی ان کی ذات کو متنازعہ معاملات میں جوڑا گیا ہے ان معاملات کو غیر جانبدارنہ طور پر جانچیے کہ ایسا ہوا کیوں۔ ایک کاروباری انسان تو صرف کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ وہ کیا عوامل ہیں کہ ان کو کاروبار کرنے میں رکاوٹیں در پیش ہوتی ہیں۔ پھر یقینی طور پر ایک سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے ہر راستے پر جاتا ہے۔
آپ ذہن سازی مثبت انداز میں کیجیے۔ پابند کیجیے ہر کاروباری فرد کو کہ معاملات کو شفاف رکھیں لیکن جو کچھ ہو چکا ہے اس پر فوری لٹھ اٹھانے کے بجائے تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے۔ ذہن سازی کو کچھ زحمت اس جانب بھی دیجیے کہ جو انسان بحریہ ٹاؤن روزگار پروگرام کے تحت ہزاروں بے روزگاروں کو رکشے دے سکتا ہے، جو شخص لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں اولاد کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو باعزت چھت اور تمام سہولیات مہیا کر سکتا ہے، جو فرد 2022 کے سیلاب میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان میں ادویات، خیمے، کمبل اور دیگر اشیاء اپنے پلے سے بہم پہنچا سکتا ہے، سیلاب میں بہہ جانے والے گھروں کے متبادل مکمل فری بنا کر دے سکتا ہے، جو تین لاکھ درخت لگانے کا آغاز کر سکتا ہے، 2018 میں لیاقت آباد حادثہ ہو یا ٰIDP ’s کی بحالی ہر جگہ صف اول میں موجود ہو، راولپنڈی گھکڑ پلازہ حادثہ ہو یا پھر میریٹ ہوٹل حادثہ، صومالی قزاقوں سے پاکستانیوں کی رہائی ہو یا اسلام آباد اتوار بازار متاثرین کو امدادی چیک کی تقسیم، بلدیہ ٹاؤن حادثے میں امداد دینا ہو یا ہیٹ اسٹروک میں ساتھ، اجتماعی شادیاں ہوں یا کرونا کے دوران ملازمین اور پاکستانیوں کی مدد کرنا، ہر لمحے پاکستان کے لیے کھڑے رہنے والے فرد کو آپ کیوں منفی انداز میں معاشرے کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں؟
جس ملک ریاض حسین کو اللہ کریم نے ایسے ہزاروں افراد کا وسیلہ بنایا ہوا ہے کہ جو ایک بہترین ماحول میں روزانہ دو وقت کا کھانا بحریہ دسترخوان سے کھا رہے ہیں، آپ اس کو ناکوں چنے چبوانے کی کوشش میں ہیں۔ فرض کیجیے آپ کامیاب بھی ہو گئے تو نقصان نا ملک ریاض کا ہو گا کہ اس کو اللہ نے اتنا دیا کہ وہ کسی بھی ملک میں جا کر کاروبار کر سکتا ہے، نا ہی سیاستدانوں کا ہو گا کہ وہ پاکستان سے کس حد تک مخلص ہیں ایک ان پڑھ انسان بھی جانتا ہے۔ نقصان ہو گا تو صرف پاکستان کا اور پاکستانیوں کا۔ ان لاکھوں افراد کا نقصان ہو گا جن کے رزق کا وسیلہ اللہ نے ملک ریاض حسین اور بحریہ ٹاؤن کو بنا دیا ہے۔ ان امیدوں کا نقصان ہو گا جو ہر مشکل میں ملک ریاض حسین کی طرف دیکھتی ہیں کہ جو اللہ کے دیے گئے رزق کو بانٹنے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔
بیشک ملک ریاض حسین کے گرد شکنجہ کس دیجیے۔ لیکن کل کو اگر کسی غیر ملکی سرمایہ کاری کانفرنس میں جب آپ کسی غیر ملکی سرمایہ کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی ترغیب دے رہے ہوں اور وہ سوال کر بیٹھا کہ ملک ریاض حسین پاکستانی ہے، اربوں کا سرمایہ پاکستان میں لگا چکا ہے اور آپ اس کی ذات کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں، تو یقینی بنائیے گا کہ آپ کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہو۔



معلوم نہیں ہے کہ خوشامد کہ حقیقت
کہہ دے کوئی الو کو اگر رات کا شہباز
—ڈاکٹر محمد اقبال—
—
رابن ہڈ ہو یا نطام ڈاکو یا ملک ریاض
ایک ہی بات ہے جلوہ کہو یا نظارہ
–
کبھی ان سیینکڑوں اور ہزاروں لوگوں سے بھی پوچھیں جن کی زندگی بھر کی کمائی اپنی زمین پر ہونے والے قبضے کو بحریہ ٹاؤن سے چھڑانے میں لگ گئی یا فائل پر ملنے والے پلاٹ کو اصل پلاٹ بنانے میں دہائیاں لگ چکی ہیں۔
–
یہ سارے بظاہر سماجی کام ملک صاحب اپنی جیب سے نہیں کررہے۔ ملٹی مارکیٹنگ کی ایک قسم ہے۔ اچھی لڑکی دکھاکر بدصورت لڑکی بیاہ دینا۔ کراچھی اور سندھ کے ہزاروں لوگ بحریہ ٹاؤن کراچی کی فائل ہاتھ میں لئے دادو میں پلاٹ میں نہیں لے پارہے۔
–