آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس
نیوٹن ایک انگریز سائنسدان تھے جن کا شمار تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی مکینکس کی بنیاد رکھی، کشش ثقل کا قانون پیش کیا، اور حرکت کے تین قوانین بیان کیے۔ یہ قوانین طبیعیات کی بنیاد بن گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ زمینی اور آسمانی اجسام ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ نیوٹن کے کام نے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھنے کے نظریے کو ختم کر دیا اور سائنسی انقلاب کو تقویت بخشی جو کہ اس کتاب کا حاصل اخذ بھی ہے۔
انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران یہ بتا کر پوری یونیورسٹی میں کھلبلی مچا دی تھی کے سفید روشنی دراصل قوس قزح کے تمام رنگوں کے ملاپ سے بنتی ہے۔ پروفیسر ڈھانا نے اس کتاب کے دوسرے حصے میں نیوٹن کی کتاب ”principia“ کا مقدمہ اور اوپر بیان کردہ اصولوں اور عنصروں کو رائل سوسائٹی آف سائنس میں نہایت ہی دلچسپ اور مکالماتی انداز میں پیش کیا ہے۔
گو کہ نیوٹن کی ذاتی زندگی اور محبت کے بارے میں کوئی ایسا تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نے شادی کی ہو یا اس کے کسی رومانوی تعلق کا تذکرہ ہی ملتا ہو۔ وہ اکثر اپنے خیالات اور تحقیق کی سرگرمیوں میں مصروف رہتا تھا اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم توجہ دیتا تھا۔ نیوٹن کی زندگی میں زیادہ دوست اور ساتھی نہیں تھے، لیکن اس کے قریبی شاگرد اور دوست تھے جن کے ساتھ اس کا تعلق محبت اور احترام پر مبنی ہوتا تھا۔ باقی اس کی زندگی رومانویت سے خالی تھی۔ جیسا کہ اس کتاب میں ایک کردار البرائٹ نیوٹن کے بارے میں کہتا ہے، ”میرے خیال میں وہ عورتوں سے بیزار لڑکا ہے۔“ لیکن نیوٹن عورتوں سے بیزار نہیں تھا۔ عورتوں سے بیزاری (Misogyny) ایک اور بات ہے۔ اسے بس عورتوں سے قربت و نشیب کا شوق نہ تھا اور اس کی وجہ عورتوں سے دشمنی یا بیزاری نہیں بلکہ اس کی شخصی تضادات اور سائنسی تحقیق کا جنون تھا۔
البتہ نیوٹن کی اپنی کشش ثقل کی تحقیق نے اسے جذبات کی شدت سے جوڑ دیا تھا، اس کے لیے انسانی تعلقات اور رشتوں میں کوئی کشش نہیں رہی تھی۔ وہ سماجی تعلقات پر کتابوں کی صحبت کو ترجیح دیتا تھا اور ہر طرح سے تنہائی اور اندرونی خلاء میں رہنے والا فرد تھا۔ دوسری طرف اس کا ٹکراؤ ”ٹرینٹی یونیورسٹی“ کے روایتی نصاب اور تعلیم کی مشق بازی سے ہوتا ہے جو اس پر شدید اثر ڈالتا ہے۔
نیوٹن کی ابتدائی زندگی عدم استحکام کا شکار رہی ہے، اس کے والد اس کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اس کی ماں چھوٹی عمر میں ہی دوسری شادی کر لیتی ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی ماں کی شفقت اور محبت کی قربت حاصل کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو پاتا، نتیجتاً وہ بچپن میں ہی Bipolar disorder کا شکار ہو جاتا ہے۔ نیوٹن کی زندگی میں تنہائی کا عنصر اس کے بچپن کے وہ واقعات بھی ہیں جنہوں نے اسے تعلقات سے دور کر دیا تھا۔ کائنات کی بناوٹ اس کے رنگ و فریب پر غور و فکر کرنا نیوٹن کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ نیوٹن کو اسکول کی تعلیم میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہوا کرتی تھی وہ اکثر کھیت کھلیانوں میں گھومتا ہوا نظر آتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کی والدہ نے اس کو اسکول سے نکلوا دیا اور وہ یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک کسان بنے۔ لیکن نیوٹن کے من میں کچھ اور ہی سوار تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے 26 برس کی عمر میں سائنس کہ کلاسیکل بیانیہ، مقدس کلیسا کے ساتھ روایتی تدریسی و رسم کو بھی چیلنج کر دیا تھا۔
پروفیسر ڈھانا نے اپنی کتاب ”سر آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس“ میں نیوٹن کی ذاتی زندگی اور محبت کی کہانی کے بارے میں لکھا ہے، جو یقیناً افسانوی اور تخلیقی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ یہ کتاب تحقیقی، فکری اور افسانوی آتم کتھائی نوعیت کی ہے، لیکن اس میں فکشن کا عنصر بھی شامل ہے۔ جس میں پروفیسر ڈھانا نے یقیناً انتہائی نفاست، جمالیات اور وضاحت کے ساتھ ایک سائنسدان کے وجود کی تنہائی اور پیچیدگی کو بیان کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کتاب دو حصوں یعنی نیوٹن کے خیالات و فکر اور محبت میں تقسیم کی گئی ہے، جو ناسٹیلجیا، فلیش بیک اور انٹر ٹیکسچوئلٹی کے امتزاج سے ماضی اور حال کی پرستش کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور قاری کو موہ لینے والی منظر نگاری کے ذریعے نیوٹن کے انتہائی ذاتی خیالات اور تصورات سے آگاہ کرتی ہے۔
پروفیسر ڈھانا نے انتہائی خوبصورت اور افسانوی طریقے سے نیوٹن کی زندگی کے اس خلاء کو ظاہر کرنے اور محبت، دوستی اور احساس کے جذبے سے بھرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جسے پڑھتے ہوئے مرزا غالب کا خیال ذہن میں آتا ہے۔
”یوں ہوتا تو کیا ہوتا“
نیوٹن کا سب سے عظیم کارنامہ کشش ثقل کی دریافت تھی۔ گرتے ہوئے سیب نے کیا ہی شک و شبہات و سوالات اٹھائے کے سائنس کی دنیا کی کایا ہی پلٹ گئی۔ پروفیسر طفیل ڈھانا کی یہ کتاب بھی اسی سیب کی طرح خیال و افکار و شعور پہ گری ہے جس نے عجب لطف و سوز سے گداز کر دیا ہے۔


