جرم محبت کی سزا
صبح اٹھتے ہی اخبار اٹھایا تو ایک لڑکی کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں چچا کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر پڑھنے کو ملی۔ سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے قانونی نظام اور پورے معاشرے کو صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور سماجی جبر کے معاملات پر مسلسل توجہ دینے اور کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس لڑکی کا مقدمہ ایک خاتون جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا جنہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ اپنی مرضی سے زندگی کا ساتھی چننے کا حق استعمال کرنے کے جرم میں لڑکیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل اس لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے بعد عدالت سے تحفظ مانگا تھا۔ ایک سال بعد جب عدالت نے اس کی پیٹیشن پر کارروائی کا فیصلہ کیا تو جج صاحبہ کو بتایا گیا کہ لڑکی کو تو قتل کیا جا چکا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں ”انصاف میں تاخیر کسی کو انصاف دینے سے انکار کرنا ہے۔ “
پدر سری معاشروں میں لڑکی کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کو خاندان کی بے
عزتی تصور کیا جاتا ہے اور انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاندان کے مردوں کی غیرت کے جوش میں آنے کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں۔
عورت کی جنسیت اور تولیدی فریضے کو سماجی فرض سمجھا جاتا ہے۔ ماڈرن طرز زندگی بھی مردوں کو خوف زدہ کرتا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ ماڈرن طرز زندگی اپنانے والی لڑکی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مالیاتی اور مادی اسباب بھی ہوتے ہیں، کہیں زمینیں ہاتھ سے نکل جانے کا خوف ہوتا ہے اور کہیں لڑکی کی کمائی کے مسئلے ہوتے ہیں۔ قبائلی رواجوں کی وجہ سے بھی لڑکی کو خاندان کی پسند سے ہی شادی کرنا ہوتی ہے۔ لڑکی کے کسی بھی کام سے اگر نافرمانی کا تاثر ملے جیسے اپنی مرضی کا لباس پہننا تو بھی اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل کو کاروکاری بھی کہا جاتا ہے جس میں کسی غیر مرد کے ساتھ ’ناجائز‘ تعلقات کا الزام لگا کر عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے جب کہ ’غیر‘ مرد عام طور پر بھاگ جاتا ہے۔ یہ جرائم دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے مطابق ہر سال دنیا میں پانچ ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں۔ جب کہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں دنیا بھر میں تیس ہزار عورتیں اپنے موجودہ یا سابق شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے دفتر کے مطابق 2020 میں سینتالیس ہزار عورتیں اپنے شوہروں یا رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ یو این ویمن کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں پچاسی ہزار عورتوں اور لڑکیوں کو قتل کیا گیا۔ ان میں سے ساٹھ فی صد یعنی اکاون ہزار ایک سو شوہروں یا رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ گزشتہ عشرے میں یورپ میں اس طرح کے جرائم میں تیرہ فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ جب کہ امریکہ میں ایسے واقعات میں نو فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ان ہلاکتوں کے حوالے سے ایشیا سر فہرست ہے، اس کے بعد افریقہ کا نمبر آتا ہے۔
مغربی ممالک بھی اس سے بچے ہوئے نہیں، وہاں بھی کچھ کمیونٹیوں میں عورت کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ وہاں بھی مرد قتل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ انہوں نے مشتعل ہو کر یا حسد کی بنا پر قتل کیا ہے جب کہ ایشیائی مرد عام طور پر خاندان کی عزت کا جواز پیش کرتے ہیں۔ ابھی دو دن قبل ہی امریکہ سے اپنی فیملی کو واپس پاکستان لانے والے شخص نے ٹک ٹاک بنانے پر اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔ مسئلہ وہی خاندان کی عزت اور غیرت کا تھا۔
امسال یعنی 2025 میں بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کی تیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور پائیدار ترقیاتی مقاصد کا ہدف پورا ہونے میں بھی پانچ سال رہ جائیں گے۔ اس لئے عورتوں کے حقوق اور صنفی مساوات کے لئے جلد از جلد اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق عورتوں پر تشدد کو سمجھنے کے لئے ماحولیاتی ماڈل سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جو چار سطحوں پر کام کرنے والے عوامل تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ اس ماڈل کے مطابق تشدد کرنے والا مندرجہ ذیل عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے : ٭بے روزگاری، ٭بندوق یا اسلحہ کی موجودگی، خاص طور پر امریکہ میں تو زیادہ تر قتل ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ وہاں اسلحہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ٭بعض لوگوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے کی عادت ہوتی ہے، جسے وہ کبھی عملی جامہ پہنا دیتے ہیں۔ ٭بیوی کو زبردستی مجامعت پر مجبور کرنا٭ذہنی صحت کے مسائل۔
تشدد کا شکار ہونے والی خواتین پر درج ذیل عوامل اثر انداز ہوتے ہیں :٭حاملہ ہونا۔ ٭قتل سے پہلے کے عرصے میں مار پیٹ٭سابقہ شوہر کے بچے کی موجودگی جیسے عوامل بھی عورتوں پر تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ سماجی سطح پر پائی جانے والی صنفی نا برابری اور صحت اور تعلیم کے شعبے میں حکومت کا کم خرچہ کرنا بھی عورتوں پر تشدد کا سبب بنتا ہے۔
صنفی مساوات کے خلاف رد عمل، موسمیاتی بحران، تنازعات میں اضافہ اور نئی ٹیکنالوجیز کے مسائل بھی عورتوں پر تشدد میں اضافہ کریں گے۔ اس کے لئے ہمیں معاشرے میں تشدد کو ہر گز برداشت نہ کرنے کا کلچر پروان چڑھانا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کی انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

