پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 2 )


Writing and Outlining

پرما مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں
میری خواہش تھی کہ میری پہلی اولاد بیٹی ہو۔ تمہارے بعد دوسری اولاد کی کوئی خواہش مجھے اور بابا کو نہیں تھی۔ مگر یہ تم تھیں جسے ایک بھائی چاہیے تھا۔ آج سوچ کر اتنا عجیب لگتا ہے کہ فرجاد کے بغیر زندگی کتنی خالی ہوتی۔

تمہیں معلوم ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ بیٹی کی پیدائش پر سوگ مناتے ہیں اور بہت سے ماں باپ بیٹی کو پیدا ہونے سے پہلے مار دیتے ہیں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی جہاں میرے پیدا ہونے پر خوشی منائی گی۔ تمہاری پیدائش پر سب کتنا خوش تھے تمھارے آنے کی زور و شور سے تیاریاں ہو رہیں تھیں اس احساس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ بابا نے تمھارے لئے کوٹ خود ڈیزائن کیا تھا یہاں تک کے اس کے پردے بھی بابا نے ڈیزائن کیے تھے۔

مان اور خالہ نانی بازاروں کے چکر کاٹ رہی تھیں خالہ نانی تمہارے کپڑے گدے اور گاؤ تکیہ خود سی رہی تھیں۔ دادی (کشور پھوپی) نے اپنے گھر میں سینک کی رسم کی اس میں مجھے دلہن کی طرح تیار کیا گیا تھا اور میری گود پھل اور مٹھائی سے بھری گئی تھی۔

سب گھر والے بہت خوش تھے۔ ہم نے تمہاری پیدائش سے پہلے تمہارے لیے الماری خرید کر وہ سارے کپڑے اور دیگر لوازمات جو تمہارے لے خریدے تھے وہ سب اس الماری میں سجا دیے تھے۔ تمہارا ایک ایک کپڑا میں نے خود استری کر کے اس میں رکھا تھا۔ لوشن، صابن، شیمپو اور اتنا بہت سا سامان کچھ کپڑے ہینگر میں بھی ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک دن افتخار پھوپا گھر آئے نئی الماری دیکھ کر انھوں نے پوچھا کہ یہ کسں کی ہے ہم نے کہا کہ یہ ہم نے آنے والے بچے کے لیے لی ہے وہ اتنا حیران ہوئے اور انھوں نے پوچھا کہ اس میں کیا ہے ہم نے بتایا کہ تمہارے کپڑے اور دیگر سامان ان کا اشتیاق دیکھ کر میں نے انہیں الماری کھول کر دکھائی وہ حیران رہ گئے کہ وہ بچہ یا بچی جو ابھی پیدا بھی نہی ہوئی اس کے لے اتنی تیاری اور وہ مجھ سے سوال کرتے رہے اور میں جواب دیتی رہی وہ بہت خوش ہوئے تھے۔

امی کو ایک کانفرنس کے سلسلے میں نیپال جانا تھا مگر انھوں نے اپنا پروگرام کینسل کر دیا ورنہ وہ تمہاری پیدائش کے وقت میرے پاس نہیں ہوتیں۔ جب تم پیدا ہوئیں تو اتنے پھول اور مٹھائی آئی کہ ڈاکٹر راحت قریشی جو میری ڈاکٹر تھیں انھوں نے بابا سے کہا تھا کہ میں اتنے عرصے سے اس پروفیشن میں ہوں مگر کبھی کسی بچے کی پیدائش پر اتنے پھول نہیں دیکھے۔

بابا نے اپنے سارے دفتر میں اور ملنے والوں میں مٹھائی بانٹی تھی۔ تمھارے پیدا ہونے پر سارے گھر والے ہسپتال میں تھے اور کئی دفعہ سیکیورٹی گارڈ نے آ کر بابا سے کہا تھا کہ اب آپ اپنے مہمانوں سے کہیں کہ وہ جائیں کمرے سے آوازیں باہر آ رہی ہیں باقی مریض بے آرام ہوں گے۔ بابا اس بات پر کچھ زیادہ خوش نہیں تھے اور ان کی گارڈ سے بحث بھی ہو گئی تھی۔

تمہاری پیدائش کے چند دن بعد بابا نے سب کو کلینڈر بنوا کر دیے تھے جس پر تمہاری تصویر اس رشتہ دار کے ساتھ اس پر چھپی تھی۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ایسے گھر میں پیدا ہوئے جہاں بیٹیوں کی پیدائش خوشی کا باعث ہے۔

اتنی یادیں ہیں کہ سب کو یہاں لکھنا ممکن نہیں۔ تمہاری پیدائش بہت یادگار ہے اس وقت ماموں، انکل، پھوپھا، ابا، بوا، رحمت ماموں اور افتخار پھوپھا زندہ تھے اور ہر کوئی تمہاری پیدائش پر میرا اور بابا کا بچپن یاد کر رہا تھا۔ اگر کوئی تمہارے چہرے پر پیار کر لیتا تو کامران کہتے کہ اتنے چھوٹے بچے کے چہرے پر پیار نہیں کرنا چاہیے بچے کو جراثیم نہ لگ جائیں سب ہی تم کو گود میں لے رہے تھے اور پیار بھی کر رہے تھے کامران کی یہ بات سن کر سحینا بہت ناراض ہوئی تھی اور اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تمھاری بیٹی کو گود میں نہیں لوں گی اور مجھے معلوم تھا کہ یہ وہ غصے میں کہ رہی ہے وہ تم سے اتنا پیار کرتی ہے کہ کہتی ہے یہ میری بیٹی ہے جو تمہارے ہاں پیدا ہوئی ہے۔

پرما اس بات پر ہمیشہ شکر ادا کرنا کہ تمہاری پیدائش سے آج تک تم کو کبھی کسی بھی معاملے میں اس لیے پیچھے نہیں رکھا گیا کہ تم بیٹی ہو اور آنے والے وقت میں مجھے یقین ہے کہ تم اور بھی زیادہ ایسے کام کرو گی کہ وہ لڑکیاں جو ہماری طرح خوش نصیب نہیں ہیں اور ان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے صرف اس لے کہ وہ لڑکی پیدا ہوئیں تم ان کے حق کے لے اپنی کوشش جاری رکھو گی۔ تم ابھی سے ان معاملات پہ سوچتی ہو اور اپنے طور پر جو ممکن ہو وہ کرتی ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔ پہلا قدم اٹھانا اہم ہے پھر راستے بنتے چلے جاتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ جہاں راستے میں کوئی رکاوٹ آئی تم اپنا راستہ خود بنا لو گی اور اس رکاوٹ کو پار کر لو گی۔

بیٹیاں کیسی نعمت ہوتی ہیں۔ خوش رہو اور ان لڑکیوں کے لیے جو اتنی خوش نصیب نہیں جیسے کہ میں اور تم ہیں ان کے راستے سے کانٹے چنتی جاؤ یہ ہر کسی کہ بس کی بات نہیں۔

Facebook Comments HS