نکلے جو ہم ڈھونڈنے رشتہ


آج کل پاکستان میں اچھا رشتہ ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا کہ کسی سرکاری محکمے میں کوئی ایماندار افسر ڈھونڈنا۔ قحط الرجال کے اس دور میں ہر دو کو ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ خاکم بدہن ہماری اس تحریر کا مقصد کسی سرکاری افسر کی شان میں گستاخی قطعاً مقصود نہیں۔ اس کا ایک ثبوت، جس کی تفصیل ہم آگے جا کے بیان کریں گے، تو یہ ہے کہ ہم خود اپنے رشتے کے لئے کئی سرکاری افسران کے دروازوں پر دستک دے چکے ہیں۔ ہماری تحریر کا مقصد صرف عوام الناس کو، قانون کی حکمرانی کی طرح، ملک میں اچھے رشتوں کی ناپید ہوتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے۔

اس قصہ کی ابتدا آج سے لگ بھگ تین چار سال قبل اس وقت ہوئی جب ایک دن دادی مرحومہ ( جو ہمارا رشتہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پچھلے سال اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ) نے اچانک فیصلہ سنایا کہ لڑکا جوان اور باروزگار ہے اس لئے اب بلا تاخیر کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈ کر اس کی شادی کر دی جائے۔ دادی کا حکم بجا لاتے ہوئے رشتہ کی تلاش شروع کر دی گئی۔ اب آپ سے کیا پردہ، ہم آپ کو اپنے بارے میں بتاتے چلیں کہ میری تعلیم بی اے ہے اور میں ایک پرائیویٹ فرم میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کر رہا ہوں۔ سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں۔ بابو صابو لاہور میں دس مرلے کے ذاتی گھر کے علاوہ اپنے آبائی علاقے چیچہ وطنی میں دس ایکڑ زرعی زمین بھی ہے۔ تفصیل بتانے کا مقصد تحریر کو اشتہار برائے ضرورت رشتہ بنانا مقصود نہیں (واضح رہے اب ہم شادی سے تائب ہوچکے ہیں) بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ ان کوائف کے ساتھ ہم نے رشتہ ڈھونڈنے کا آغاز کیا تھا۔

اگر حق سچ بات کریں تو مسائل کا آغاز ہمارے اپنے گھر سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مطلوبہ لڑکی کی خصوصیات اور خوبیوں کے حوالے سے ہماری دادی مرحومہ، والدہ اور سات بہنوں کو ایک پیج پر آتے آتے لگ بھگ چھ مہینے لگ گئے۔ دادی ہر چیز پر سمجھوتہ کرنے پر تیار تھی سوائے لڑکی کے قد کے ( واضح رہے ہمارا قد پانچ فٹ چار انچ ہے) ۔ دراصل دادی مرحومہ کے اندیشہ ہائے دوردراز مستقبل میں ہونے والے پڑ پوتے پڑ پوتیوں کے حوالے سے تھے۔ ہماری والدہ ایک سادہ لوح خاتون ہیں اس لئے ان کی ڈیمانڈ کوئی زیادہ نہیں تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ لڑکی صرف ڈاکٹر ہونی چاہیے۔ ویسے دیکھا جائے تو ان کی یہ خواہش بے جا نہیں تھی۔ ان کا بچپن سے یہ خواب تھا کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بنے گا مگر قسمت سے کون لڑ سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر بہو کی صورت میں ان کو اپنا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا تھا تو اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ اسی طرح ایک بہن کا خیال تھا لڑکی ماں باپ کی اکلوتی اولاد نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اکلوتی اولاد عام طور پر بگڑی ہوئی ہوتی ہے۔ دوسری اور تیسری بہن کا خیال تھا کہ بہنوں میں سب بڑی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایسی صورت میں تمام نخرے اور لڑائی جھگڑے پہلی لڑکی کے سسرال کو ہی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری لڑکی کی شادی تک تمام تجربوں سے گزر کے لڑکی اور اس کے ماں باپ کافی سمجھدار ہوچکے ہوتے ہیں۔ چوتھی اور پانچویں بہن کا خیال تھا کہ لڑکی ایسے گھر سے ڈھونڈنی چاہیے جو مشترکہ خاندانی نظام پر یقین رکھتا ہوں۔ اگر لڑکی نے گھر میں کبھی اپنے دادا دادی یا پھوپھو کی شکل بھی نہ دیکھی ہو تو وہ پہلے ہی دن بھائی سے الگ گھر کا مطالبہ کر دے گی۔ چھٹی بہن بہت سمجھدار اور حقیقت پسند تھی۔ اس نے مشورہ دیا کہ لڑکی کسی بڑے اور امیر گھر سے ہونی چاہیے۔ ساتویں اور سب سے چھوٹی بہن کا مشورہ تھا کہ بھائی کی ابھی عمر ہی کیا ہے۔ اس لئے کچھ عرصہ خود بھی کھا پی لے اور اپنے ماں باپ کی بھی خدمت کر لے۔ آخر ماں باپ کا بھی حق ہے بیٹے پر۔

اتنے اسٹیک ہولڈرز میں اتفاق رائے پیدا کرنا بلاشبہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی فل کورٹ ریفرنس میں معزز جج صاحبان کے بیچ اتفاق رائے پیدا کرنے سے کم مشکل نہیں تھا۔ مگر چونکہ گھر میں کسی قسم کی بیرونی ڈکٹیشن نہیں تھی اس لئے آخر کار کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر لڑکی کی مطلوبہ کوالیفکیشن پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

آخر خدا خدا کر کے وہ دن آ پہنچا جب میرے گھر والے مطلوبہ لڑکی کے متفقہ الیہ کوائف بغل میں دبائے تلاش کے لئے گھر سے نکل پڑے۔ تلاش میں آسانی کے لئے لاہور شہر کو چار حلقوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہم بھی ہر روز اپنی ہونے والی بیوی کا فرضی خاکہ ذہن میں سجائے دفتر پہنچتے اور وہاں بھی تھوڑا شرمائے شرمائے سے رہتے۔

شریک حیات کی تلاش کا یہ سفر مگر اتنا آسان ثابت نہ ہوا۔ پہلے کچھ عرصہ تو ہمارے گھر والوں کو مطلوبہ معیار کی لڑکی نہ مل سکی مگر بعد میں معاملات ہمارے گھر والوں کے ہاتھ سے نکلنے شروع ہو گئے۔ آخر ایک جگہ لڑکی تو ہمارے گھر والوں کو پسند آ گئی مگر ان کو ہماری سات بہنوں پر اعتراض کے ساتھ ساتھ ہمارے دینا میں ان سے پہلے تشریف لانے پر بھی اعتراض تھا۔ اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ بڑا بھائی ہے سات بہنوں کی شادی کراتے کراتے بوڑھا ہو جائے گا۔ اسی طرح کچھ عرصہ بعد گھر والوں کا ایک اور رشتہ پر تقریباً اتفاق رائے ہوا ہی تھا کہ وہاں سے اعتراض آیا کہ ہمارا گھر اگر نہر کے مشرقی طرف ہوتا تو رشتہ کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کو بابو صابو بھیجنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اگلا رشتہ ایک درمیانی درجہ کے سرکاری افسر کے گھر تھا۔ ان کو ہمارے سرکاری افسر نہ ہونے پر تحفظات تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پرائیویٹ فرم کی سوکھی تنخواہ میں گزارا کرنا ہماری بیٹی کے لئے بہت مشکل ہو گا۔ ایک اور جگہ بات تقریباً پکی ہونے والی تھی کہ اچانک لڑکی کی بہن نے چیچہ وطنی پر اعتراض لگا دیا۔ ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہم اب مستقل لاہور شفٹ ہوچکے ہیں مگر ان کا خدشہ تھا کہ چیچہ وطنی کسی نہ کسی شکل میں ہمارے اندر زندگی بھر موجود رہے گا۔

لاہور کے چاروں حلقوں کی عرق ریزی سے چھان بین مکمل ہو چکی تھی مگر اچھا رشتہ کہیں بھی نہ مل سکا۔ پھر گھر والوں نے باہم مشورہ کر کے اپنے معیار کو اچھے رشتہ سے مناسب رشتہ میں تبدیل کیا مگر پھر بھی بات بنتی نظر نہ آئی۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ ہم کبھی کسی رشتہ دار کو کسی محلے میں ملنے جاتے تو گلی محلے کے لڑکے دور سے آواز لگاتے کہ وہ دیکھو رشتہ ڈھونڈنے والے پھر آ گئے ہیں۔ پچھلے سال جب دادی اماں اپنے اکلوتے پوتے کی شادی کا خواب سجائے اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو ہم نے بھی زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

Facebook Comments HS