تعلیم یافتہ خواتین کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ مردوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں؟
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بحث سننے میں آتی ہے کہ مرد، چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینئر، کم پڑھی لکھی یا ان پڑھ لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں، لیکن خواتین ایسا کیوں نہیں کرتیں؟ یہ سوال صرف تعلیمی فرق کا نہیں، بلکہ معاشرتی رویوں، نفسیاتی عوامل، اور صنفی مساوات کے عدم توازن کا بھی ہے۔ مردوں کے لیے کم تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کرنا ایک ”آسان انتخاب“ سمجھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہ انتخاب اتنا سادہ نہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا یہ صرف خواتین کی ”اکڑ“ ہے، یا پھر معاشرتی اور نفسیاتی حقائق کا ایک گہرا شعور؟
مرد اور ان کے گھر والوں کی توقعات کیا ہیں؟ ایک ایسی عورت جو بغیر چوں چرا کے ظلم کو برداشت کرے گھر کے تمام کام جانتی ہو، صبح چار بجے بغیر آہ کیے اٹھے، اور رات کو نیند کے نام سے بھی واقف نہ ہو۔ بلکہ ہر وقت کوئی نہ کوئی کام کرتی رہے۔ مرد اور ان کے گھر والوں کو صرف کام سے مطلب ہوتا ہے، اور کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ لڑکی یہ کام بخوبی انجام دے لیتی ہے۔ کیونکہ اسے بچپن سے ہی کسی گھر کی ملازمہ بننے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ جس کی نہ کوئی عزت نفس ہوتی ہے، نہ کوئی وقار اور مقام۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عزت و وقار کا مطالبہ بھی نہیں کرتی ہے کیونکہ اسے یہی سکھایا جاتا ہے کہ سسرال والے تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموشی سے برداشت کرتی رہتی ہے۔
اسی لیے مرد اور ان کے گھر والوں کا معیار زندگی ایسی لڑکی سے چل جاتا ہے، اور وہ سماج میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ دیکھیں، ہم مرد ڈاکٹر یا انجینئر ہونے کے باوجود کسی کم تعلیم یافتہ لڑکی کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ تو اپنی منشا کے مطابق لڑکی لے کر آئے ہیں
دوسری طرف، جو سب سے بڑا سوال اٹھایا جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکی کسی ان پڑھ یا میٹرک پاس سے شادی نہیں کرتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک خاتون پڑھ لیتی ہے، تو اس کی عقل و فہم اور دنیا کے بارے میں نظریات بدل جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے مرد بھی دقیانوسی اور جہالت سے گھرے ہوئے ہیں، تو پھر ایک کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ لڑکے سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟
جس معاشرے میں پڑھے لکھے مرد ہی مردانہ تفاخر کا شکار ہوں، وہاں ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ مردوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ ایک تعلیم یافتہ خاتون کو اگر کم تعلیم یافتہ مرد سے شادی کرنی پڑے، تو وہ ہر وقت اس کی صلاحیتوں پر شک کرتا ہے، اس کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتا ہے، اور آخرکار وہ اپنی ہی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتی ہے۔
کم تعلیم یافتہ گھرانوں میں جہالت کا راج ہوتا ہے۔ جب تعلیم یافتہ لڑکی اس جہالت کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو اسے دھتکارا جاتا ہے اسے طنز کیے جاتے ہیں کہ ”تم ہمیں مت سکھاؤ اپنی پڑھائی اپنے تک رکھو“
اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے بیشتر کیسز بھی ایسے ہی گھرانوں سے سامنے آتے ہیں۔ کم تعلیم یافتہ مرد شکی مزاج ہوتے ہیں، ہر وقت الزام تراشی اور کردار کشی ان کا وتیرہ ہوتا ہے۔ ان کے گھر والے بھی سازشیں کرنے، کان بھرنے اور چغلیاں کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
اب یہاں یہ اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکے بھی تو گھریلو تشدد کرتے ہیں۔ ہاں، یہ بات درست ہے، لیکن ان کیسز کی شرح ان پڑھ گھرانوں کی نسبت کم ہے۔ اور سب سے بڑا چورن جو دیا جاتا ہے کہ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لڑکے عزت کرتے ہیں، یہ محض ایک کو دل تسلی دینے والی بات ہے۔ سو میں سے ایک ہی ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ مرد ایسا ہو گا جو تربیت یافتہ ہو گا عورت کی عزت کرتا ہو گا اور اس کی پڑھائی کی قدر کرتا ہو گا ورنہ بیشتر کے حالات یہی ہیں کہ انہیں پڑھی لکھی بیوی سے تمیز و تہذیب کے ساتھ بات کرنی نہیں آتی ہے خود شناسی اور خود اعتمادی سے ماوراء ہوتے ہیں اپنے جذبات اور احساسات کو بہتر سمجھ نہیں پاتے ہیں صرف دو وقت کی روٹی کمانے سے سوچ شروع ہوتی ہے اور درجن بھر بچے پیدا کرنے پر سوچ ختم ہو جاتی ہے نا ہی ترقی کرنے کی کوئی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور نا یہ ترقی کرنا چاہتے ہیں
عورت دشمن سوچ کم تعلیم یافتہ مردوں میں زیادہ ہے آزاد، خود مختار اور با اعتماد عورت انہیں بد کردار لگتی ہے پھر کوئی اچھے ادارے سے پڑھی ایک خود مختار اور با اعتماد خاتون ان سے شادی کیسے کریں؟ ان کی پست ذہنیت سے جنگ لڑنے میں اپنا وقت کیوں برباد کریں؟ جو عورت کے بارے میں مثبت خیالات ہی نہیں رکھتا ہے وہ کیسے ایک عورت کو عزت دے گا؟ دن رات جو مرد عورت پر کیچڑ اچھالتے ہیں ان میں زیادہ تعداد انہیں کم پڑھے لکھے اور ان پڑھ مردوں کی ہے جو اپنی جھوٹی انا کی عینک لگائے بیٹھے ہیں جسے اتار کر وہ عورت کو انسان کے روپ میں دیکھنا نہیں چاہتے ہیں اور اسے ویسی عزت نہیں دینا چاہتے ہیں خود پر مذہبی افضلیت کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں
اسکے علاوہ آج کی خاتون نے ماضی کے تجربات سے بہت نتائج اخذ کیے ہیں بچپن سے لے کر جوانی کے عرصے میں وہ دیکھ چکی ہے کہ جن خواتین کی شادی کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ مردوں سے ہوئی وہ عورت کے ساتھ ظالمانہ رویہ رکھے ہوئے تھے بچوں کی ذہنی صحت پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں ان گھروں میں فساد و جھگڑے زیادہ ہوئے جو جاہل تھے عورتوں نے جسم توڑ کر کام کیا شانہ بہ شانہ محنت کیں غریبی ختم کرنے میں ساتھ دیا لیکن کبھی بھی شوہر سے دو لفظ محبت کے نہ ملے اور نہ ہی کبھی عزت دے کر سراہا گیا ہے جب بھی ملی گالیاں ہی ملی اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے لڑکیوں نے ان مردوں کو تمیز دار اور عزت دینے والا پایا جو تعلیم یافتہ تھے
معاشرے میں خاتون کے اس فیصلے کو غرور اور تکبر کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ وہ خود شناسی کے بہتر جانتی ہے کہ کس طرح کا مرد اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکتا ہے



لب لباب :
اللہ تعالی کی بنائی گئی سب سے معصوم اور مظلوم ترین مخلوق۔
پاکستانی عورت
–
انہی (نام نہاد) پڑھی لکھی اور عقل کل عورتوں کی جب ادھیڑ عمری تک شادی نہیں ہوتی تو پہلے تو وہ گھر میں آنے والی بھابی یا بھاوج کی زندگیاں خراب کرتی ہیں۔
پھر گنجے بوڑھے رنڈوے طلاق یافتہ مزید کم تعلیم یافتہ (بقول مصنفہ جاہل) مرد حضرات کی دوسری اور تیسری بیوی بخوشی بن جاتی ہیں۔