بلوچستان میں بغاوت کچلنے کے لیے محرومیاں ختم کی جائیں!
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار عناصر کو ہر قیمت پر ختم کرنے اور امن بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجیوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نام نہاد دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، پاک فوج انہیں قوم کے تعاون سے شکست دے گی‘ ۔
آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق گزشتہ روز مختلف کارروائیوں میں فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 23 دہشت گردوں کو ہلاک کیا لیکن اس دوران 18 فوجی جوان بھی جاں بحق ہوئے۔ ایک ہی وقت میں اپنی فورس کے اتنے زیادہ جوانوں و افسروں کی شہادت پر جنرل عاصم منیر کی جھنجھلاہٹ اور غصہ قابل فہم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ مسلح جد و جہد پر مائل ہونے والے عناصر بھی پاک سرزمین ہی کے باشندے ہیں لیکن حالات نے انہیں تشدد اور تصادم پر آمادہ کیا ہے۔ ایسے عناصر کو دشمن کا ایجنٹ اور آلہ کار قرار دے کر ان سے رابطہ و تعلق ختم کرنے کی بجائے، یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کو کیسے واپس مین اسٹریم میں لایا جاسکتا ہے۔ آرمی چیف کی یہ بات تو درست ہے کہ اس وقت بلوچستان کے متعدد علیحدگی پسند عناصر کو دشمن ممالک کی مالی و عسکری امداد حاصل ہے۔ بعض عناصر گمراہ ہو کر دشمن کے جال میں بھی پھنسے ہوئے ہیں لیکن اگر اپنا ہی کوئی عضو سنگین غلطی کا ارتکاب کرے تو اسے خود اپنے بدن سے کاٹ کر علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس طریقے سے تو ہم اپنے ہی لوگوں کو دشمن کی طاقت میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
بلوچستان کے دورہ کے موقع پر پاک فوج کے سربراہ نے دہشت گردی کے خلاف فورسز اور سکیورٹی اداروں کے کردار اور ملکی دفاع کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قوم کے ساتھ مل کر شکست دیں گے۔ جب بھی جہاں بھی ضرورت پڑی دشمنوں کا قلع قمع کرنے کے لئے لازمی کارروائی کریں گے۔ غیر ملکی آقاؤں کے آلہ کار جو دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان سے آگاہ ہیں۔ یہ عناصر منافقت کا دوہرا معیار اپنا کر، درپردہ دوسری طرف سے کھیل رہے ہیں۔ تاہم مادر وطن اور عوام کے دفاع کے لیے ہم یقیناً دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں انجام تک پہنچائیں گے۔ دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں انہیں قوم کے تعاون سے پاک آرمی کے سامنے شکست ہوگی۔
ان تمام باتوں سے مکمل اتفاق کے باوجود یہ کہنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات سے پیدا ہونے والی سنسنی خیز صورت حال میں صبر و حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ملک کی سیاسی حکومت کے علاوہ عسکری قیادت کو یہ باور کرنا چاہیے کہ گمراہ ہو جانے والے لوگ بھی اس قوم کا حصہ ہیں، جنہوں نے دہائیوں پر محیط متعدد سیاسی غلطیوں اور وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کو مشرق اور مغرب کی جانب سے یکساں طور سے اندیشوں کا سامنا ہے۔ اگر بھارت کی انٹیلی جنس علیحدگی پسند اور شورش برپا کرنے والے عناصر کی سرپرستی و امداد کر کے پاکستان کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنی ہوئی ہے تو افغانستان میں طالبان کی حکومت نہ صرف بلوچ علیحدگی پسندوں کی سہولت کاری میں معاونت کا سبب بنتی ہے بلکہ اس نے تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر کابل کی طالبان حکومت یہ فراموش کرچکی ہے کہ پاک فوج ہی نے دہائیوں تک ان کی مدد کی۔ جب وہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کی طاقت ور فوج کے خلاف جد و جہد کر رہے تھے تو پاکستان ہی ان کی امیدوں کا واحد مرکز تھا۔
تاہم اس صورت حال میں پاکستان اگر طالبان کے حوالے سے دہائیوں پر محیط اپنی حکمت عملی اور پالیسی کا جائزہ لے کر کوئی نئی راہ متعین کرسکے تو اسے دوست دشمن میں تمیز کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ دہشت گردی اور داخلی شورش کے حوالے سے پاکستان اس وقت شدید مشکل صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔ پاک فوج طویل سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ دور دراز علاقوں میں چھپ کر بزدلوں کی طرح وار کرنے والے دہشت گرداور تخریبی عناصر مسلسل حملوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں پاک فوج کو مسلسل جانی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ البتہ ان حالات کو تبدیل کرنے کے لیے پرجوش دعوے کرنے سے پہلے پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر اور اپنے اپنے طور پر گزشتہ چالیس سال کے دوران کی جانے والی سیاسی و عسکری حکمت عملی کے نقائص کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر جذباتی کیفیت کے بغیر ان تجربات کا احاطہ کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اس مدت میں اختیار کی گئی حکمت عملی کس حد تک پاکستان کے لیے مہلک ثابت ہوئی ہے تو ملکی قیادت کو مستقبل کا بہتر لائحہ عمل بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ میں فریق بن کر پاکستان نے صرف نقصان اٹھایا ہے۔ یہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے صرف امریکہ سے ملنے والی مالی امداد اور عسکری خدمات کے معاوضے کا حساب کیا گیا اور یہ قیاس کر لیا گیا کہ ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہو گئی تو باقی ماندہ مسائل کا حل بھی تلاش کر لیا جائے گا۔ لیکن یا تو اس وقت یہ اندازہ ہی نہیں کیا گیا کہ ملک میں جس مذہبی شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، وہ بعد میں ایک سماجی علت بن جائے گی اور اس سے نمٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ یہ شدت پسند عناصر ایک طرف معاشرے میں تفریق اور انتہا پسندی کا زہر پھیلائیں گے تو دوسری طرف ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بنیں گے جو جعلی نعروں کی بنیاد پر ریاست اور اس کے اداروں پر حملے کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔
اس وقت ملک کو ایک طرف مذہب کو عذر بنا کر دہشت گردی کرنے والوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف بلوچستان کی صورت حال ہے جہاں بلوچ علیحدگی پسند وفاقی حکومت سے ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے ہتھیار اٹھانے پر آمادہ ہوچکے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بھارت کے علاوہ اب طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات یکساں طور سے کشیدہ ہیں۔ اسی لیے یہ دونوں ملک پاکستان کے خلاف سرگرم کسی بھی عسکری گروہ کی سرپرستی کو فرض عین سمجھتے ہیں۔ یہ صورت حال مقامی مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ناراضی و پریشانی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اگر ماضی بعید میں کی جانے والی غلطیوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی ملک میں 2008 سے مسلسل منتخب جمہوری حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ ان عرصے میں منعقد ہونے والے تمام انتخابات کے بارے میں اعتراضات اور تضادات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان پندرہ سولہ برسوں میں مسلسل آئینی پارلیمانی نظام موجود رہا ہے۔ پارلیمنٹ کام کرتی رہی اور صوبائی دارالحکومتوں میں بھی اسمبلیاں فعال رہی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بااختیار کرنے کے باوجود صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں کے لوگوں کی شکایات و مسائل دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ صورت حال کسی حد تک پنجاب میں بھی موجود ہے لیکن سندھ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں اس کی شدت نمایاں ہے۔ بلوچستان میں تو عام لوگوں کے حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ عسکری گروہ طاقت حاصل کر کے اب نام نہاد آزادی کی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہیں اور دشمن ممالک پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ان عناصر کی امداد کرتے ہیں۔
ایسے میں جوش میں ہوش کھونے کی بجائے پاکستانی لیڈروں کو پہلے تو خود یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ دہائیوں تک سیاسی مسائل سامنے آنے کے باوجود اور ان کا اعتراف کرنے کے باوصف انہیں حل کرنے کے لیے کوئی موثر منصوبہ سامنے کیوں نہیں آیا۔ بلوچستان میں مسلسل ایسے سرداروں اور قبائلی لیڈروں کی سرپرستی کے ذریعے انہیں اقتدار سونپا جاتا رہا ہے جن کا عوام سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور جو ان کی ضروریات و مجبوریوں کو یا تو سمجھتے نہیں ہیں یا وہ انہیں کوئی خاص اہمیت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ یہ صورت حال پیدا کرنے میں صرف بلوچ سردار ذمہ دار نہیں بلکہ ان کی سرپرستی کرنے والی ہر وفاقی حکومت اور عسکری قیادت بھی اس خرابی میں بالواسطہ طور سے شریک رہی ہے۔ اب بھی یہی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی کی مہم نے محرومی و احتیاج سے جنم لیا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے محرومیوں کو سمجھنے اور ان کا شافی علاج تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ان محرومیوں میں سر فہرست لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے۔ بلوچستان کا تقریباً ہر گھر اس مشکل سے دوچار ہو چکا ہے۔ اپنے حقوق کی بات کرنے والے کسی بھی شخص کو اٹھا لیا جاتا ہے اور ملک کے نظام عدل میں اس کا کوئی ریکارڈ شامل نہیں ہوتا۔ کسی شخص کے خلاف نہ تو مقدمہ قائم ہوتا ہے اور نہ کسی عدالتی کارروائی کے ذریعے اسے جوابدہ بنانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کچھ نوجوان غصے اور مایوسی کے عالم میں اس ملک دشمن تحریک کا حصہ بن جاتے ہیں جو ریاست کے خلاف جنگ آزما ہے۔ انہی عناصر کو آرمی چیف اب دشمن کے آلہ کار قرار دے کر ختم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ لیکن جنگ کی بجائے یا اس کے ساتھ ساتھ، اگر محرومی ختم کرنے کے لیے بھی کوئی اقدام کیا جا سکے تو ایک طرف فوج کی اس عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو گا جس کی ضرورت پر جنرل عاصم منیر ہر تقریر میں زور دیتے ہیں۔ دوسرے گھروں میں ان کے پیاروں کی واپسی سے بے چینی، غصے اور جارحیت کی کیفیت ختم ہوگی۔ یوں اس مسئلہ کو جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے جس کے لیے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں ضروری ہو چکی ہیں۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ نہ تو سیاسی حکومت حل کر سکی ہے اور نہ ہی ملکی عدالتی نظام اس بارے میں کوئی ریلیف دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ مسئلہ پاک فوج ہی حل کر سکتی ہے۔ جنرل عاصم منیر اگر ذاتی دلچسپی سے اسے حل کرائیں اور غیر قانونی اور خفیہ طور سے پکڑے گئے تمام شہریوں کو رہا کر دیا جائے تو اس سے ملک میں کوئی آفت بپا نہیں ہوگی بلکہ محروم عوام کے ساتھ اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا اور خوشگوار نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس ایک بڑے مسئلہ کے علاوہ سہولتوں اور دیگر شکایات دور کرنے کے لیے مقامی مقبول تحریکوں کو دشمن کا ایجنٹ سمجھنے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے، انہیں گلے لگایا جائے تاکہ اداروں اور لیڈروں کا عوام سے رابطہ بحال ہو اور ملک میں عوامی مسائل کو سیاسی عمل سے حل کرنے کی روایت پختہ ہو سکے۔


