فیملی ولاگنگ
کسی بھی ویڈیو بلاگ کو ولاگ کہا جاتا ہے تو فیملی ولاگ، خاندان میں ہونے والے معاملات کو ویڈیو کی صورت میں پیش کرنا کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سماجی میڈیا پر ایک بھونچال سا مچا ہوا ہے۔ کچھ لوگ اس عمل کو واہیات اور بے حیائی کا ذریعہ کہتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے تحفظ میں سرگرداں ہیں۔ یہاں ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے یہ عمل اس قدر اہمیت و توجہ کا حامل کیسے ہوا ہے۔ اگر کوئی برائی معاشرے میں پھیل رہی ہے تو اس کا مطلب ہے معاشرے کو وہ عمل پسند ہے یہ بات الگ ہے کہ اس بات کو معاشرے میں علی الاعلان قبول کیا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ معاشرے کی منافقت کا ایک واضح ثبوت ہے اگر وہ کسی عمل کو برا بھی کہتے ہیں اور پھر اس کو پھلنے پھولنے میں ایک آلہ کار بن رہے ہیں۔ ہمیں پہلے اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ ہم فیملی ولاگنگ کو کیا واقعی برا عمل سمجھتے ہیں۔
فیملی ولاگنگ پر ایک اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ اس میں خواتین اور ان سے منسوب اس طرح کی سرگرمیوں کو پردے پر لایا جاتا ہے جو کہ عام طور معاشرے میں انتہائی نجی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا اس طرح منظر عام پر آنا ہماری معاشرتی اقدار اور روایات کے لیے ایک خطرہ اور روگ ہے۔ لیکن یہاں پر اس بات کو نظر انداز کیوں کر دیا جاتا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ان سرگرمیوں کو پسند کر رہے ہیں اور دیکھتے ہیں جن کو بظاہر خلاف تہذیب سمجھتے ہیں۔ دوسرا ایک نکتہ یہ زیر بحث لایا جا رہا ہے کہ ہماری نوجوان نسل ان لوگوں کو دیکھ رہی ہے اور وہ ان لوگوں کے راستے پر عمل پیرا ہونے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے نوجوان نسل رسمی تعلیم اور ہنر کی طرف اپنی دلچسپی کھو رہے ہیں۔
یہاں ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے جو کچھ سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے اس میں کوئی حقیقت بھی ہے۔ دراصل یہ ہوا کہ سکرین پر دکھائی دینے والے مناظر حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ یہ الگوردم کا بچھایا ہوا وہ جال ہے جس میں ہماری نوجوان نسل پھنس چکی ہے۔ جہاں آپ کو لگتا ہے کہ معلومات اور مواد کی لا انتہا دنیا کو آپ سے ایک کلک کی دوری پر لا کر رکھ دیا ہے وہاں یہ آپ بھول جاتے ہیں اس کے بدلے میں آپ کو ایسے کردار میں ڈھال دیا جائے گا جس کی اس عملی دنیا میں تو کوئی قیمت نہ ہو گی اور وہ سکرین پر بہت ہی عمدہ اور شاندار محسوس ہوتا ہو گا۔ یہ الگوردم آپ کو پسند کی چاکلیٹ تو فراہم کرتے ہیں لیکن وہاں ہی آپ کو ساتھ ساتھ مسلسل زہر بھی کھلایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ آپ کی توجہ حاصل کرتے ہیں پھر آپ کے ذہن کا ناکارہ بنانے کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ کھلتی ہے آپ اس دلدل میں سر تا پا دھنس چکے ہوتے ہیں۔
اب آ جاتے ہیں اس شخص کی طرف جس کو فیملی و لاگر کہا جاتا ہے۔ کون وہ شخص ہے جس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کسی بھی خاندان میں دن بھر کس طرح کے معاملات کارفرما ہوتے ہیں تو پھر کون سا ایسا عجوبہ ہے جو آپ کسی دوسرے کے خاندان کے دن بھر کی کارروائی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ شخص کس قدر اہلیت اور قدر و قیمت کا حامل ہو جو صبح سویرے کیمرا اٹھا کر اپنے خاندان کی کارستانیاں ریکارڈ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اس شخص سے بھی آپ کو بھلا کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے جو اس عمر میں ایسا کچھ بھی نہیں کر سکا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے کوئی عزت کی کمائی کر سکے۔ جس انسان نے کسی رزق، شہرت یافتہ کسی بھی مقصد کے لیے اپنے خاندان کو دوسروں کے حوالے کر دیا ہے وہ تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔ خدا کے لیے اس جھوٹ اور پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں۔ سکرین اور عملی دنیا کی زندگی میں بہت فرق ہے۔ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جنہوں نے کچھ علم و حکمت حاصل کی ہو، جنہوں نے زندگی میں کوئی ہنر سیکھا ہو، جو خود کو کسی بہتر مقام پر لے آئے ہیں۔ جن لوگوں کا سارا کمال صرف کیمرا لے کر گھومنا پھرنا ہے وہ آپ کی زندگی میں کون سی قدر کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ آپ جس کو دیکھتے ہیں پھر وہی بننا چاہتے ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہمیں کون سے کردار کو سوشل میڈیا پر نمونہ بنا کر پیش کرنے ہیں۔ کم از کم یہ ایک ایسا کردار ہونا چاہیے جو اگر کل کو آپ کے بچے بھی اپناتے ہیں تو آپ کو کسی قسم کی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔ اب وہ وقت آ چکا جب ہمیں اپنے سوشل میڈیا سٹار اور آئیڈیل کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ بھر ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور یہ لعنت آپ کی دہلیز تک پہنچ جائے۔


