ریاض قدیر کی افسانوی دنیا


ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال سکیں۔ ”گرداس پور کا جٹ“ اُن کا پانچواں افسانوی مجموعہ ہے، جو اِس امر کی دلالت کرتا ہے کہ وہ بہت تسلسل اور تواتر کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ یوں تو جنوبی پنجاب میں کئی افسانہ نگار پیدا ہوئے، مگر یہ باقاعدگی اور تخلیقی ڈسپلن شاید ہی کسی اور کو نصیب ہوا ہو۔

یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ کسی افسانوی مجموعے کا انتساب اِتنا شاعرانہ ہو۔ اُنہوں نے صاحبِ انتساب، ڈاکٹر خاور علی خان کی رفاقت کو روشنی اور سائبان سے تشبیہ دیتے ہوئے اُن خوابوں اور کہانیوں کو یاد کیا ہے، جن کا مسکن جی سکس اسلام آباد کالج فار بوائز تھا۔ ایک اور سطح پر دیکھا جائے تو اِس انتساب میں موجود وارفتگی، شاعرانہ زبان، جذبات پسندی اور اخلاص ہمیں ریاض قدیر کے اُس مخصوص میلو ڈرامائی مزاج کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جو اُن کی افسانوی دنیا کو خوب صورت، خواب ناک، مگر اکہرا بناتا ہے۔

ریاض قدیر کے پاس موضوعات کا جتنا تنوع ہے، شاید ہی کسی معاصر افسانہ نگار کے پاس ہو۔ انسانی معاشرت اور نفسیات کا ایسا کون سا گوشہ ہے، جو اُن کی نگاہ سے اوجھل رہ پایا ہو۔ اُن کی تخلیقی دنیا بہت وسیع، مگر عجلت میں بنائی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسے کہانی کار کی دنیا ہے، جس پر ہر رنگ کی کہانیاں وارد ہوتی ہیں، لیکن وہ اُنہیں من کی بھٹی میں تپائے بغیر صفحۂ قرطاس پر لے آتا ہے، چناں چہ اُس کی بیشتر تحریریں کچی رہ جاتی ہیں۔ مگر ایک سوال یہ بھی تو ہے کہ کیا تکمیل ہی کسی فن پارے کی معراج ہے یا ادھورے پن سے بھی لطف کشید کیا جا سکتا ہے؟ کیا پختگی واقعی اُتنی ہی ضروری ہے، جتنا ہم اُسے تصور کرتے ہیں، یا یہ ایک اوور ریٹڈ خیال کا نام ہے؟ کیا محض پھول ہی خوب صورتی کا معیار ہے یا ادھ کِھلی کلیاں بھی حسین ہو سکتی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم متعین کردہ افسانوی شعریات کے اسیر ہو گئے ہوں اور ہم نے نئی آوازوں اور اسالیب کو روکنے کے لیے طرح طرح کے بند باندھ رکھے ہوں؟ کہیں ہمارا تعینِ قدر کا نظام جمود اور سہل انگاری کا شکار تو نہیں ہو گیا؟

کتاب کا عنوان کافی معنی خیز ہے، جو پہلی ہی نظر میں قاری کو سیاسی اور تاریخی حقیقت نگاری کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ عنوان کو ذہن میں رکھ کر کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو ”اٹھائیس مئی دو ہزار چوبیس“ ، ”گرداس پور کا جٹ“ اور ”برف کے پیڑ“ جیسے افسانے تقسیمِ ہند، شناخت کے بحران اور تہذیبی ناسٹیلجیا کو موضوع بناتے ہیں۔ اِن افسانوں کے بین السطور میں ریاض قدیر کا پختہ سیاسی شعور، تاریخی ادراک اور ترقی پسند نظریہ کارفرما دکھائی دیتا ہے، مگر وقائع نگاری پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور متحرک کرداروں کی عدم موجودگی، اِنہیں افسانوی بیانیے کے بجائے صحافتی بیانیے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ”گرداس پور کا جٹ“ اِس سیریز کا سب سے موثر افسانہ ہے، جس کا زمانی کینوس لگ بھگ دو صدیوں پر محیط ہے۔ مصنف کی بطور کردار موجودگی اور اپنے مرحوم دادا سے مکالمہ اِسے فینٹسی، سیاسی حقیت نگاری اور آٹو بائیو فکشن کا ایسا منفرد اور دلچسپ آمیزہ بنا دیتا ہے، جس کے وسیلے ہم زیریں اور بالائی پنجاب کی ایک متوازی تاریخ سے متعارف ہوتے ہیں۔ اِس کا دو لسانی اسلوب بھی خاصے کا ہے، جو اِس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ مصنف بوقتِ ضرورت اپنا اسلوب بدلنے پر قادر ہے۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اُن کی آمد پسندی اور وجدان آفرینی اِس ضرورت کے بروقت ادراک میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، چناں چہ ایسا تجربہ پھر کہیں دیکھنے میں نہیں آیا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ آمد کی عیاشی، شاعروں کو ہی زیب دیتی ہے، فکشن نگاروں کے لیے یہ زہرِ قاتل ہے، خصوصاً تب جب وہ اِسے اپنے تخلیقی نظام کا ناگزیر حصہ بنا لیں۔ یہ آمد پسندی اور اِس سے منسلک عناصر ریاض قدیر کے اسلوب کو روانی اور شاعرانہ اعتبار تو مہیا کرتے ہیں، مگر اِس کے لیے اُنہیں کہانی کے پلاٹ اور کرداروں کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے، کیونکہ جب وہ کہانی کی باگیں پکڑ کر وجدان کے منہ زور گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کے کرداروں کو یہ سہولت میسر نہیں۔ جزئیات کا دامن بھی تنگ پڑ جاتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے غیر منطقی واقعات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کہانی تیز ہو تو خیر ہے، لیکن مصنف بھی اُسی رفتار سے بھاگ پڑے تو کئی ایسی تفصیلات نظروں سے چُوک جاتی ہیں، جو کہانی کو افسانہ اور افسانے کو عمدہ افسانہ بناتی ہیں۔ کرداروں کی گروتھ بھی رک جاتی ہے۔ اُنہیں اِتنا وقت ہی نہیں مل پاتا کہ وہ مصنف سے مکالمہ کر پائیں، چناں چہ وہ ایسی کٹھ پتلیاں بن کر رہ جاتے ہیں، جن کا کام محض اپنے خالق کے ماسٹر پلان کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ وہ اپنے متعلق پہلے سے متعین کردہ سماجی مفاہیم کا جال توڑنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ آئیڈیا مرتکز افسانہ ہو تو کچھ نہ کچھ بات بن جاتی ہے، کردار مرتکز افسانے کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ ”چشتی“ اِس مظہر کی نمائندہ مثال ہے، جہاں ایک غیر معمولی طور پر دلچسپ کردار، مصنف کے سماج سدھارک عزائم کی نذر ہو گیا۔ اُنہوں نے قاری کو محض یہ بتانے کے لیے کہ پاکستان میں کوئی بھی کاروبار سرکاری اہلکاروں کو رشوت دیے بغیر کامیابی سے نہیں چلایا جا سکتا، چشتی جیسے متحرک اور متنوع اوصاف کے حامل کردار کو ضائع کر دیا، اور المیہ یہ کہ جو بات وہ بتانا چاہتے تھے، وہ ہر قاری پہلے سے جانتا ہے۔ اِسی طرح ”آئینہ“ نامی ایک کردار مرتکز افسانہ، جس کا مرکزی خیال قرۃ العین حیدر کے افسانے ”نظارہ درمیاں ہے“ سے مشابہ تھا، مصنف کی وش فل تھنکنگ، تیز رفتاری اور ہائی میلو ڈرامہ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یوں تو ”نظارہ درمیاں ہے“ کا پلاٹ بھی اُتنا ہی روایتی اور اتفاقات سے پُر تھا جتنا کہ ”آئینہ“ کا، مگر قرۃ العین حیدر نے کردار سازی اور جزئیات نگاری کے بل بوتے پر اِسے ایک یادگار افسانہ بنا دیا، جب کہ ریاض قدیر ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اب یہ بات اُنہیں کون سمجھائے کہ منزل سے کہیں زیادہ اہم راستہ ہوتا ہے۔

ریاض قدیر کے متعدد افسانوں کا موضوع جینڈر ہے، جن میں سے کچھ براہِ راست، تو کچھ بالواسطہ انداز میں پدر شاہی نظام کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ ایک فیمنسٹ افسانہ نگار ہیں، مگر اُن کے فیمنزم کی اساس، لبرل یا ریڈیکل سے کہیں زیادہ مارکسی اور پوسٹ موڈرن نقطہ نظر پر استوار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں طاقتور مردوں کے ہاتھوں ستائی ہوئی عورتوں کے ساتھ ساتھ، جاہ پسند عورتوں سے ذلیل ہوتے ہوئے مرد بھی دکھائی دیتے ہیں، تاہم وہ یہ واضح کرنا نہیں بھولتے کہ اِس جاہ پسندی کو بھی مردانہ اقدار کی نقالی اور ردِعمل کی نفسیات میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ”پارسائی کا بوجھ“ ، ”خارزار“ ، ”دھوپ کا باغ“ اور ”زرد پتوں کا قالین“ بھی تانیثی مزاج کے افسانے ہیں، لیکن اپنے موضوع اور کرافٹ کے اعتبار سے ”مندروں میں چراغ“ اِس سلسلے کا سب سے عمدہ افسانہ ہے۔ مصنف نے اپنے عمومی مزاج کے برعکس، کہانی کے پروٹاگونسٹ، اکبر کمال کو مسلسل ارتقاء پذیر ہوتے دکھایا ہے۔ افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مردانہ انا، سچی محبت اور حقیقی خوشی کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک حساس مگر قدیم ذہن، جب محبت اور مردانہ انا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوتا ہے، تو اُس کے لیے اپنی حیاتیاتی نوع کے اجتماعی شعور سے علیحدگی اختیار کرنا کتنا دشوار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک سوال یہ بھی کہ اولاد کا مقصد نسلِ انسانی کی بڑھوتری اور ارتقاء ہے یا محض اپنے جین کا تحفظ اور اُس کے ذریعے لافانی ہونے کی جبلی خواہش؟ ہم اِس افسانے کے وسیلے پرسنل ول کو نیچرل ول سے ٹکراتے، اور بالآخر فتح یاب ہوتے دیکھتے ہیں۔ اِس دوران ہمیں یہ آگہی بھی ملتی ہے کہ آخر وہ کون سا باریک نقطہ ہے، جو ایک مرد کو اس کے اندرونی فرد سے جدا کرتا ہے۔ ایک اور سطح پر دیکھا جائے تو ریاض قدیر کے افسانوں میں جا بجا نمودار ہوتے بانجھ مرد اور زرخیز عورتیں، پدرشاہی نظام کے خاتمے اور مادرشاہی نظام کی ابتداء کو ظاہر کرتی ہیں۔

آپ افسانہ نگار ہوں، منٹو اور موپساں کے گرویدہ ہوں، اور سماجی بیانیوں کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ نہ بنائیں تو بلاشبہ یہ ایک مہمل بات ہے۔ ریاض قدیر تو خیر اِس وظیفے کے اِس حد تک قائل ہیں کہ اُن کے بیشتر افسانے سماجی حقیقت نگاری پر مبنی ہیں۔ منٹو ہی کی طرح کرداروں کے قول و فعل میں تضاد کی نشان دہی بھی اُنہیں کافی مرغوب ہے۔ اُن کے افسانے ”شناسا“ کو ہی دیکھ لیں، جس میں ایک موٹیویشنل سپیکر نہایت جذباتی انداز میں لوگوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کا خیال رکھیں، جب کہ خود اُس کا اپنا باپ جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ مختصر افسانہ اِس بات کا شاہد ہے کہ جب کبھی ریاض قدیر اختصار نویسی کا وظیفہ بروئے کار لاتے ہیں، ان کے قلم کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ کچھ یہی معاملہ ”بے بسی کے ساحل“ کے ساتھ بھی روا ہے، جو ہمیں موپساں کا بھُولا بسرا سبق ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ برے سے برے آدمی کے اندر بھی اچھائی کی رمق ہو سکتی ہے، اور لازمی نہیں کہ جسے لوگ ولن سمجھیں، وہ اصل میں ولن ہی ہو۔ اِس مختصر افسانے کے ذریعے زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھنے والے معصوم افراد کو باور کرایا گیا ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے اپنے ذاتی تجربات کو بروئے کار لایا جائے۔ جملہ معترضہ محض یہ کہ کہانی کا عنوان اِس کے متن کو جسٹی فائی نہیں کر پا رہا۔ بقول امیر تبسم،

میں نے اُس کو ملا دیا اُس سے
اُس نے مجھ کو مِرے خلاف کیا

کہیں کہیں ریاض قدیر نے نفسیاتی حقیقت نگاری سے بھی کام لیا ہے، جس کی نمائندہ مثال ”بدلہ“ نامی ایک مائیکرو فکشن ہے، جس میں ”فرمان“ اور ”ہادی“ نامی دو باہم متضاد کرداروں کی کتھا بیان کی گئی ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات، ایرک فرام کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہادی ایک بائیو فیلک کردار ہے، جس کی ذہنی کشادگی اور والہانہ جسمانی محبت اُس کی بیوی کو مطمئن اور شاد رکھتی ہے، جبکہ ہادی کا نیکرو فیلیا اس کی استحصالی فطرت، تنگ نظری اور اظہارِ محبت میں ناکامی سے عیاں ہے۔ فرمان کی بیوی کا اپنے خاوند کی جنسی قوت کو سراہنا اور ہادی کا اپنی بیگم کی زبانی اِس بات کا سننا، اُسے احساسِ محرومی سے روشناس کرواتا ہے، جس کی تلافی وہ فرمان کو اُس کی پیشہ ورانہ زندگی میں زک پہنچا کر کرتا ہے۔ اُس کی لگائی بجھائی کی صلاحیت اور محلاتی سازشوں کا ہی ثمر ہے کہ فرمان محکمانہ ترقی حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔ ہادی اپنی ازدواجی زندگی کی نا اہلی اور نا آسودگی دور کرنے کے بجائے ہر اس شخص کی زندگی میں زہر گھولنا اور اُسے سماجی طور پر ناکارہ ثابت کرنا چاہتا ہے، جو اُس کے خیال میں ایک پُر مسرت اور کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ شاید ایسے ہی کینہ پرور اور مردم آزار لوگوں کی وجہ سے سارتر کو ”ہیل از ادر پیپل“ کا چبھتا ہوا نظریہ وضع کرنا پڑا تھا۔ سگمنڈ فرائیڈ کا عدسہ لگا کر دیکھا جائے تو فرمان ”ایروز“ ، یعنی جیون شکتی ہے، جو خوب صورتی، مسرت، ہمدردی اور تخلیق کی صورت میں اپنا اظہار پاتی ہے، جب کہ ہادی ”تھیناٹوز“ عرف موت کا پیامبر ہے، جس کا مقصد حسن اور مسرت کو تاراج کرنا ہے۔

حساس اور حوصلہ مند فکشن نگار کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ حالاتِ حاضرہ کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنانے سے بالکل نہیں گھبراتا۔ یہ چیز مجھے مسلم انصاری کے بعد ریاض قدیر کے ہاں دکھائی دی، وگرنہ بیشتر معاصر ادیب اِس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ”ڈاکے“ ، ”برف کا مرگ زار“ اور ”میٹری فیگی“ اِسی سلسلے کے کچھ نمائندہ افسانے ہیں، تاہم مجھے اِن میں سے صرف ”میٹری فیگی“ ہی پسند آیا ہے۔ کووڈ کے تناظر میں لکھا ہوا یہ افسانہ اپنے سادہ پلاٹ اور ضرورت سے زیادہ اختصار کے باوجود زبان کے نپے تلے استعمال، متوازن جذبات نگاری اور موثر انجام کی بدولت دل میں گھر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم سب اپنی ماؤں کے قاتل ہیں، اُس سپائڈرلِنگ یا ننھے بچھو کی طرح، جسے فطرت نے کچھ اِس طرح سے پروگرام کیا کہ وہ بقاء کے گھناؤنے، مگر ناگزیر کھیل کو جاری رکھنے کے لیے اپنی ماں کو کھا جاتا ہے۔ ہم نے بھی تو زندہ رہنے کے لیے اپنی ماؤں کی جوانی کھائی ہے۔ ایک اور سطح پر دیکھا جائے تو ہماری پیدائش، ہماری ماؤں کی ذاتی زندگیوں کا خاتمہ ہے، اور کسی فرد کے لیے اِس سے بڑی موت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جیتے جی مر جائے؟

ریاض قدیر بنیادی طور پر ایک آئیڈیلسٹ ہے، لہٰذا اُسے سوگندھی کا وہ انجام قبول نہیں، جو اُسے منٹو نے عطاء کیا۔ اُسے لگتا ہے کہ محض مادھو کو دھتکار دینے سے اُس ہتک کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا، جو ایک سیٹھ کی تحقیر آمیز ”اوں ہوں“ کی دِین ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سوگندھی اپنی نو دریافت شدہ حقیت پسندی کے حصار سے باہر نکل کر اُس سیٹھ اور اُس قماش کے ہر فرد سے انتقام لے، چناں چہ وہ خارش زدہ کتے سے لپٹ کر سوئی ہوئی سوگندھی کو جگاتا ہے، اور وہیں سے ”اوں ہوں“ کا آغاز کرتا ہے، جہاں پر ”ہتک“ کا اختتام ہوا تھا، تاہم ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ٹھیک اُسی لمحے ایک جیتا جاگتا آزاد کردار، مصنف کی من چاہی تمثیل میں ڈھل کر ایک ایسا بلند و بانگ اور خطیبانہ انداز اختیار کر لیتا ہے، جو اُس کے محلِ وقوع، زمان و مکان اور سیاق و سباق سے بالکل لگا نہیں کھاتا۔ یہ سچ ہے کہ سوگندھی پر دۂ بکارت کو اپنا ہتھیار بنا کر زندگی کے میدان میں اِتنا آگے نکل جاتی ہے کہ دنیا کے تمام سیٹھ اُس کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود اِس کہانی کا اصل ہیرو وہ ڈاکٹر ہے، جس نے سرجری کے ذریعے اسے ایک کنواری دوشیزہ کا روپ دیا، اور وہ ڈاکٹر بھی ایک متحرک اور حقیقی کردار سے کہیں زیادہ سائنسی ترقی کا استعارہ ہے۔ ایک اور سطح پر دیکھا جائے تو ریاض قدیر اپنے افسانوں کے وسیلے ایسی دنیا کا خواب دیکھتا ہے، جہاں حاشیے پر دھرے افراد سائنسی ترقی کو اپنا مسیحا بنا کر ایک نہ ایک روز غربت، نا انصافی اور عدم مساوات جیسے مسائل سے چھٹکارا پا لیں گے اور ایسا جہان تعمیر کریں گے جہاں سب کے پاس تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع ہوں گے، جہاں کوئی کسی کا جنسی یا جذباتی استحصال نہیں کر پائے گا، اور نہ ہی کسی کے اندر احساس اور دانش کی موت واقع ہوگی۔

مجھ ایسے تشکیک پسندوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں سائنسی ترقی کے افق سے طلوع ہونے والے عالمگیر سماجی انقلاب کا پرخلوص اور مہربان مفروضہ جتنا قابلِ احترام دکھائی دیتا ہے، اُتنا ہی ناقابلِ عمل اور غیر حقیقی بھی۔ یہ درست ہے کہ سائنس کے پاس بیشتر انسانی مسائل کا فوری اور آسان حل دستیاب تھا، مگر اُس نے پچھڑے ہوئے طبقات کے بجائے غاصبوں کا ساتھ دیا۔ یہ سرمایہ داروں اور حکمرانوں کی ایسی کاسہ لیس بنی کہ انسان، چرند اور پرند تو دور، پورا کرہ ارض ہی فناء کے خطرے سے دو چار ہو گیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ریاض قدیر اور میں ایک ہی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں، لیکن میں سائنس کے بجائے فنون لطیفہ پر جوا کھیلنا چاہوں گا، جو نہ صرف انسان کو ہر اِن دیکھی ڈور سے آزاد کرتے ہیں، بلکہ اُسے بدترین حالات میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS