کراچی: ایک سمندر پار پاکستانی کی نظر سے ( 1 )
اب کراچی کی زیارت مسافر کے طور پر ہوتی ہے لہذا شہر کا بدلتا روپ، اطوار اور مزاج غیر کی آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں۔
برمنگھم سے ٹرکش ائر لائنز استنبول لے گئی۔ پندرہ سال میں لیرا اور روپے کی قدر ہمارے سامنے مٹی میں ملی۔ لیرا بیس گنا گرا جبکہ پاکستانی سکے کا انحطاط پونے تین گنا ہوا۔ ترکی میں اب دکاندار آپ سے لیرا کے بجائے پاؤنڈ، ڈالر اور یورو طلب کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ پاکستانیوں کے مقابلے میں عام ترک اپنے حال سے پریشان ضرور ہے لیکن مستقبل سے مایوس نہیں۔ کبھی لگتا ہے کہ اس قومی مایوسی کو ہوا دینے میں ہم جیسے سمندر پار افراد کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔
استنبول ائرپورٹ پر ایک بڑا خاندان سوار ہو کر عین ہمارے ساتھ والی نشستوں پر تشریف فرما ہو گیا۔ سربراہ کی شکل جانے کیوں بہت شناسا لگ رہی تھی۔ انہوں نے سر پر مہنگے برانڈ گوچی کی بیس بال کیپ پہنی ہوئی تھی۔ ہمارے دماغ میں بلب کی طرح دو خیالات روشن ہوئے۔ ترکی ان دنوں دنیا بھر میں بالوں کی سستی پیوند کاری کا گڑھ ہے جبکہ مہنگے ترین برانڈز کی نقالی یعنی چینی ساختہ فیک کپڑوں، بیگ اور جوتوں کی فروخت کا بہت بڑا مرکز بھی۔ ممکن ہے یہ حضرت صارف بن کر ترکی گھومنے گئے ہوں۔ کراچی ائرپورٹ پر جہاز کے دروازے کے باہر درجنوں افراد استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ کچھ نے ہاتھوں میں گلدستے اور بڑے بڑے کیمرے بھی سنبھالے ہوئے تھے۔ تب سمجھ میں آیا کہ برانڈڈ ٹوپی والے صاحب دراصل صوبۂ سندھ کے اعلی ترین آئینی عہدیدار ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مشہور مذہبی سیاسی رہنما اور یوٹیوبر مفتی تقی عثمانی نے انہیں تاریخ اسلام کی ایک اہم شخصیت سے تشبیہ دی تھی۔ یہ قافلہ پورے پروٹوکول کے ساتھ رخصت ہوا۔
امیگریشن کاؤنٹرز اور اشرافیہ
ہمارے ہمراہ آنے والوں میں برطانوی، کینیڈین اور امریکی تارکین وطن شامل تھے۔ فلائٹ پر محسوس ہوا کہ اکثر مسافر اپنی انگریزی کی دھار تیز کر رہے ہیں۔ امیگریشن تک پہنچتے پہنچتے ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ بیرونی پاسپورٹ والے کاؤنٹرز پر بہت زیادہ بھیڑ تھی جبکہ پاکستانی پاسپورٹ کی تختی تلے نسبتاً امن تھا۔ قطار میں لگے افراد کی بے صبری قابل دید تھی۔ باہر سے آنے والوں کی گفتگو سن کر یہ تاثر ملا کہ بڑی تعداد میں ریٹائرڈ سرکاری افسران یا ان کے بچے ہیں۔ ہمارے جیسے مختلف الاقسام پروفیشنل کی باہر منتقلی بھی صنعتی پیمانے پر ہوئی ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ آبادی کا چار فیصد بیرون ملک مقیم ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے مساوی نہیں۔ اس درجہ بندی میں سعودیہ، امارات، کویت، قطر میں رہنے والوں کا مقام پست تر ہے۔ یہ وہ مسلم اقوام ہیں جو مغربی ممالک کی طرح شہریت عطا کرنے کی قائل نہیں۔ مجموعی طور پر ہم سب احساس برتری اور معصومیت سے معمور ایک اشرافیہ بن چکے ہیں۔
سڑکوں کا نیا جال
ائرپورٹ کے باہر کا منظر پانچ چھ سالوں میں بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ ہر چند کلو میٹر پر ایک نیا فلائی اوور یا انڈر پاس حیران کر دیتا ہے۔ راشد منہاس روڈ کے ایک پل پر کار کی رفتار اچانک بہت سست ہو گئی۔ مخالف سمت سے تین خواتین سڑک کے بیچوں بیچ پیدل چلتی ہوئی آ رہی تھیں۔ یہاں تک پہنچ کر اندازہ ہو چکا تھا کہ کراچی کے آزاد منش شہری ہر یک طرفہ سڑک کے دونوں طرف گاڑی، موٹرسائیکل یا ریڑھی چلانا اپنا طرۂ امتیاز سمجھتے ہیں۔ ہم نے زیادہ تر اِن ڈرائیو یا یانگو سے استفادہ کیا اور سروسز کو اطمینان بخش اور کم خرچ پایا۔ ڈرائیور البتہ شہر کے جغرافیہ سے بالکل نابلد ہیں۔ ایک ہاتھ میں سٹیرنگ اور دوسرے میں سمارٹ فون سنبھال کر گوگل میپ کی مدد سے گاڑی چلاتے ہیں۔ کہیں پھنس جائیں تو علاقے کے مکین انہیں صحیح راستے پر جانے کے لئے اس طرح کی ہدایات دیتے ہیں :
”بھائی تم بائیں ہاتھ جا کر سگنل سے دائیں ہاتھ موڑ لینا اور آدھا کلو میٹر رانگ سائیڈ پر چلا کر چوڑی سڑک پر چڑھ جانا۔ وہاں ایک یوٹرن آنے والی ٹریفک کے لئے ہے لیکن تھوڑا گیپ ملے گا بس تیزی سے نکال کر تھوڑا رانگ سائیڈ جا کر سیدھے ہاتھ مڑ جانا۔ راؤنڈ اباؤٹ سے بائیں کے بجائے دائیں طرف گُھسو گے تو چند قدم کے فاصلے پر گلی مل جائے گی۔ ورنہ اگر تم گوگل سے گئے تو برے پھنس جاؤ گے“ ۔
کراچی والوں کے نزدیک ہمہ وقت ٹریفک کی شکایت کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا انگریزوں کے لئے موسم پر کُڑھنا ہے۔ ایک نگاہ دنیا کے بڑے شہروں کے ٹریفک انڈیکس رپورٹ پر ڈالیں تو کراچی سے 56 ویں نمبر پر ملاقات ہوتی ہے۔ اس سے اوپر یعنی بدتر پوزیشن پر لاس اینجلس، شارجہ، تہران، سان فرانسسکو، قاہرہ، استنبول، ڈیٹرائٹ، میامی، بوسٹن، ہیوسٹن، ٹورنٹو، اٹلانٹا، سیاٹل، شکاگو ملتے ہیں۔
کنزیومرازم اور اصرافیہ
کراچی کے وسیع و عریض شاپنگ مال میں کافی رونق نظر آئی۔ اس شہر میں اوسط آمدنی کتنی ہے؟ ایک برطانوی چیرٹی اور سرکاری اعداد و شمار پر یقین کر لیں تو ستر سے اسی ہزار ماہانہ درمیانی تنخواہ ہے۔ نصف ملازمین اس سے نیچے اور نصف اس سے اوپر ہیں۔ بڑے شاپنگ مراکز میں پاکستانی برانڈز کے علاوہ بین الاقوامی فیشن برانڈ کے آؤٹ لیٹ موجود ہیں۔ لوکل برانڈ کا کرتا شلوار سات سے دس ہزار روپے کا ملتا ہے جبکہ جوتا بھی اس سے کم نہیں۔ تنخواہوں کے لحاظ سے یہ دام بہت زیادہ ہیں۔ چینی ساختہ سامان کی بھرمار ہے۔ بالخصوص مشہور ٹیکسٹائل برانڈز پر چینی مصنوعات دیکھ کر تکلیف ہوئی۔
صدر میں زیب النساء سٹریٹ اور زینب مارکیٹ کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ ایک تبدیلی یہ نظر آئی کہ مرکزی مارکیٹ کے بجائے ہر علاقے کا اپنا بازار بن گیا ہے جہاں تمام مشہور برانڈز نے اسٹور کھول لئے۔ اکثر پر رعایتی سیل لگی ہوئی ہے۔ کپڑا خرید کر سلوائیں تو اس پر بھی کم و بیش اتنا ہی خرچہ آتا ہے۔ اسی لئے درزی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ کنزیومرازم اور سرمایہ داری لازم و ملزوم ہیں۔ انسانوں کو بلا ضرورت خریداری پر راغب کرنا اور پھر بہت ساری غیر ضروری اشیاء بنا کر بازار میں لے آنا سرمایہ داری نظام کا ہی کمال ہے۔ امریکہ اور چین دونوں اس رجحان کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی جہاں دوسری اقدار کے ساتھ برانڈ پہننے کا شوق ساتھ لاتے ہیں اور طاقتور کرنسیوں کے تبادلے سے حاصل کردہ روپیہ زیادہ مقدار میں خرچ کر کے اصرافیہ بھی بن جاتے ہیں۔

