صحافت نہیں مری، اخبار اور نیوز چینلز مر رہے ہیں

صحافت نہیں مری، میڈیا کی زیست کے سامان بدل گئے ہیں۔ میڈیا (صحافت) اس وقت تک بقید حیات رہے گا جب تک ریاست آخری سانس نہیں لے گی۔ بلکہ جب تک انسان کا وجود باقی ہے میڈیا بھی رہے گا۔ ہاں میڈیا کا میڈیم پہلے بھی بدلا ہے، اب بھی بدل رہا ہے کیونکہ ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ ۔ خبر کہیں نہیں جانے والی۔ خبریت کو دوام ہے۔ خبر نکال کے دینے والے خبر نگار کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔
اخبار ختم نہیں ہو رہا۔ اخبار کی کاغذ پہ چھپائی وقت کی ضرورت نہیں رہی۔ اخبار ورقی سے برقی ہو گیا۔ خبر قرطاس کی پرتوں سے نکل کر سکرین پہ نمودار ہو گئی۔ پہلے لوگ کالم پڑھتے تھے۔ نئی نسل بلاگ میں دلچسپی لیتی ہے۔
قالین پہلے ہاتھ سے بنائے جاتے تھے۔ قالین اب مشین پہ بنتے ہیں۔ قالین کل بھی بچھایا جاتا تھا۔ قالین کی آج بھی ضرورت ہے۔ قالین بنانے کی تیکنیک بدل گئی۔ اب اگر دستی قالین ساز اپنے آپ کو زمانے کی جدتوں اور مشینی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کر سکے تو یہ ان کی سستی ہے۔ قالین تو آج بھی بن رہے ہیں اور قالین ساز مشین کو بھی جدید مہارت رکھنے والے لوگ ہی چلا رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کتنے تارکین وطن امریکہ سے نکالنے کا پروگرام بنا چکے ہیں؟ فہیم اشرف کی غیر متوقع اور بے محل پاکستان ٹیم میں واپسی کیسے اور کیوں ہوئی؟ امریکی خاتون کو محبت کا جھانسا دے کر بلانے کے بعد چھپ جانے والا کراچی کا نوجوان کون ہے؟ عمران خان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے؟ ان چار سوالوں میں موجود ”کیا، کون، کہاں، کیوں، کیسے“ کے جوابات کون دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے ایک پروفیشنل خبر نگار ہی یہ باتیں سامنے لے کے آتا ہے۔
ایسا صحافی جو خبر نکالنے کی گر رکھتا ہے، جس کے خبری ذرائع ہوں، جو خبر کو خبریت کے معیار پہ کشید کر سکتا ہو اور بیان کر سکتا ہو۔ یہ سب راز ایک ٹک ٹاکر تو نہیں جان سکتا۔ یا ایک یوٹیوبر تو نہیں بتا سکتا، تاوقتیکہ اسے کوئی پروفیشنل رپورٹر نہ بتائے۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان کی جبلت میں تجسس ہے۔ اسے کیا، کون، کیوں، کیسے، کہاں کے جواب چاہیے ہوتے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت، معاشرے کی ناہمواریوں اور ریاست کے فیصلوں سے متعلق آگاہی حاصل کرنا لوگوں کی جبلی ضرورت ہے۔
اور اسی ضرورت کے تحت صحافت شروع ہوئی تھی۔ جب صحافت کا آغاز ہوا تو قلم و قرطاس اس دور کی ٹیکنالوجی تھی۔ زمانے نے ڈھنگ بدلا، خبر ریڈیائی آواز کی صورت میں ڈھلی۔ نیا دور آیا، خبر نے آواز کے ساتھ ساتھ چلتی پھرتی تصویروں کی پوشاک پہنی اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر براجمان ہو گئی۔ اکیسویں صدی آئی، اپنے ساتھ انٹرنیٹ، فور جی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور چیٹ جی پی ٹی لائی۔ ظاہر ہے ان جدید ترین ٹیکنالوجیز کی اپنی ڈیمانڈز ہیں۔
انٹرنیٹ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر ایجادات نے کاغذ کی ضرورت ختم کر دی۔ ریڈیو، ٹی وی کے اسٹوڈیوز کو آثار قدیمہ میں بدل دیا۔ بھاری بھر کم کیمروں کو نینو ٹیکنالوجی کر دیا۔ لیکن کیا اس تمام صورت حال میں خبر مر گئی ہے؟ جی نہیں! خبر اس وقت تک نہیں مر سکتی جب تک آخری انسان دنیا سے مر نہیں جاتا، کیونکہ خبر کو جاننا انسان کی ضرورت ہے۔ چین کی ڈیپ سیک کی ایجاد خبر ہی تو تھی۔ یہ الگ بات ہے لوگوں نے یہ خبر اخبار اور ٹی وی سے پہلے اپنے موبائل کی اسکرینوں پہ پڑھی، سنی اور دیکھی۔ لیکن اس خبر میں دلچسپی دنیا بھر نے لی۔
حرف آخر یہ ہے کہ ٹی وی چینلز سے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے صحافی و غیر صحافی ملازمین کا گلہ کرنا نہیں بنتا۔ گلہ زمانے سے کیا جا سکتا ہے، لیکن زمانہ اور وقت کسی کی نہیں سنتے۔ یہ اپنی رفتار سے چلتے ہیں۔ آپ کو خود وقت کی رفتار پہ چلنا پڑتا ہے۔
اکیسویں صدی میں پیدا ہو کر اب یونیورسٹی میں پڑھنے والے نوجوانوں کو پڑھاتے ہوئے یہ میرا احساس ہے اور ذاتی مشاہدہ بھی کہ آج کے دور میں اگر کوئی آدمی نیوز سینس رکھتا ہے۔ انگریزی یا اردو میں موثر قوت بیان بیان رکھتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ایپس کا استعمال جانتا ہے تو وہ اس دور کا ہر فن مولا ہے۔ آج ایسے ہنر مندوں کی مانگ ہے۔ ان کا بڑا سکوپ ہے۔ نہیں، اگر آپ بزعم خود ”اخبار میں کام کرنے والے صحافی“ پہ ہی اکتفا کیے ہوئے ہیں تو آپ پچھلی صدی میں بیٹھے ہیں۔ زمانہ آپ سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ آپ کو کوئی نئی جاب ڈھونڈنی چاہیے۔ پروفیشنل صحافی کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے بشرط یہ کہ آپ ذہنی اور پیشہ ورانہ طور پہ اکیسویں صدی کا بندہ ہو۔ وگرنہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات


Good points and very well said / explained
–
وہ کنفیوژن جس سے معاشرہ اور لوگ نہیں نکل پارہے وہ بڑی سادی ہے۔
جو شخص میڈیکل یعنی ایم بی بی ایس کرلیتا یا پی ایچ ڈی اسے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنے کا ھق مل جاتا ہے۔
ہومیو پیتھی والا ہومیو ڈاکٹر اور یونانی والا خود کو حکیم کہتا ہے۔
اس میں ایک اضافہ اور ہوا کہ دس پندرہ سال کمپونڈری کرنے والا بھی ایک امتحان پاس کرکے علاج کرسکتا ہے اور RMP کہلاتا ہے
محض ایل ایل بی کرنے والا ہی وکیل نہیں ہوتا ساتھ اسے پریکٹس بھی کرنی ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ صحافی کس کو کہا جائے جسنے صحافت یا ماس کمیونیکشن ٹائپ کی کسی چیز میں اعلی تعلیم حاصل کی اور سوگیا یا ساتھ کچھ تجربہ حاصل کیا اور یا تعلیم صفر مگر کسی اخبار یا ٹی وی ریڈیو میں لکھ لکھ کر یا کام کرکے ابلاغ کا تجربہ حاصل کرلیا۔
آج مسئلہ اصلی صحافی نہیں ہیں بلکہ وہ ہی ہیں جو بزعم خود کو صحافی کہلانے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ اصل صحافی حضرات کے اپنے حق میں ہے کہ وہ جرنلسٹس کی ایسوسی ایشن سے منسلک ہونے والے لوگوں کا ریکارڈ رکھیں اور گھس بہٹھیوں کو خود میں شامل نہ ہونے دیں۔
نذیر ناجی ہوں یا عبیداللہ بیگ ۔۔۔ یہ بہت بڑے نام تھے مگر تعلیم گریجویٹ بھی نہیں۔