پنجابی لسانی یادداشت اور پختون


آخری دفعہ پختون بت پرست نہیں تھے، بوت پرست تھے۔ پختون اگر ایسے ہی جنگ پسند تھے جیسے کہ ان کے بارے میں لکھا اور تصور کیا جاتا ہے، تو پھر ان کی سرزمین کی آرکیالوجیکل کھدائی سے قدم قدم پر انسانی ڈھانچے نکل آنے چاہیے تھے، لیکن یہاں ڈھانچوں کی بجائے بت نکل رہے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ پختون لاشیں جلایا کرتے تھے اور بت پوجا کرتے تھے۔ اس کے باوجود بھی حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب اتنے بتوں کی برآمدگی کے باوجود پشتو زبان میں بت لفظ موجود نہیں ہے۔ پشتو میں بُت کو بوت کہا جاتا ہے، جس کی وجہ صدیوں پر محیط، ان کی بنی ہوئی لسانی یادداشت ہے، جو ثابت کرتی ہیں کہ پختون آخری بار بت پرست نہیں، بوت پرست تھے، جن کے لئے بت اور بودھ ہم معنی لفظ تھا، اس لیے ان کی زبان پر بت کی بجائے آج تک بوت (بودھ) روانی سے چڑھ جاتا ہے۔

بودھ، جن کی تعلیمات کی یونیورسٹی ٹیکسلا میں، لیکن جن کی عقیدت کو تجسیم کرنے کے فنکار، اوزار اور خریدار، وادی پشاور میں موجود ہوتے، جو کپل وستو سے پنجاب، پنجاب سے پشاور، پشاور سے بامیان بامیان سے چین اور وہاں سے مشرق بعید تک پھیلی ہوئی زیارت گاہوں میں درشن، گیان اور عقیدت کے لئے موجود ہوتا۔ بودھ کے علاوہ پنجاب سے کاشتکاری کے اوزار، جن کے نام آج بھی مشترک ہیں۔ بیل، گائے اور بھینس جن کو بلانے، سدھانے اور استعمال میں لانے کی ہدایات بھی آج تک مشترک ہیں، کے ساتھ فصلوں کے بیج، تجارتی قافلے، ہندوستان کے لوٹے ہوئے خزانے اور غلام مارگلہ سے مغرب کی طرف آتے تھے، جن کی آخری فطری سرحد بعد میں اباسین بن گیا۔

اگرچہ پنجابی رنجیت سنگھ نے پختونوں کے لئے ہندوستان کا راستہ مسدود کر دیا تھا، جہاں پر ان کی تجارت، زمینیں، راجواڑے اور رشتہ داریاں تھیں، اور ان کے اختیار کو خیبر تک محدود کر دیا تھا، لیکن اس وقت حکومت قبضہ کرنا اور ظلم زیادتی سے مخالف آبادی کو قابو کرنا اتنا عام اور قابلِ قبول سمجھا جاتا تھا، کہ پاکستان بننے تک پختونوں کی لسانی یادداشت میں پنجابی سے کسی خطرے، نفرت یا تعصب کا اظہار موجود نہیں تھا، کیونکہ رنجیت سنگھ کے مختصر دورانیہ کے علاوہ پختون نے پنجابی کو کبھی بھی اپنی ٹکر کا سپاہی نہیں سمجھا۔ ویسے بھی رنجیت سنگھ کے سپاہی سکھ تھے، پنجابی ہونے کے باوجود جن کی پہچان مذہبی تھی، لسانی نہیں۔

ہندوستان میں پختون کا مقابل اور مخالف پنجابی یا سکھ، نہیں مغل تھا، جو آج تک اس کی لسانی یادداشت اور تاریخ و ادب میں غاصب، ظالم اور ولن کے طور پر موجود ہے، کیونکہ مغل نے نہ صرف ہندوستان سے پختون طاقت کی بیخ کنی کی تھی، بلکہ پختون کو ہر طرح سے لوٹ کر، کرائے کا سپاہی بنانے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن یہ مغل مخالف یادداشت بھی پاکستان میں موجود پختون تک محدود ہے، افغانستان میں پختون لسانی یادداشت میں مغل سے زیادہ ایرانی گورگین ولن سمجھا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان (پختونخوا) کے پختون کے ولن بابر کا شاندار مقبرہ آج بھی کابل میں پورے کروفر کے ساتھ موجود ہے، اور بابر و ببرک کے نام وہاں کے پختونوں میں آج بھی عام مستعمل ہیں۔ تبھی پختونوں کی برداشت اور روشن فکری کو میں نے اپنے ایک شعر میں سموتے ہوئے لکھا ہے۔

ما شان روشن فکر بل راوخایہ
نن ہم د بابر قبر کابل کی دی

جس کا رواں ترجمہ یہ ہے کہ مجھ سا روشن فکر کون ہو گا، جس کے دشمن بابر کا مزار آج بھی کابل میں موجود ہے۔

قدیم پختون لسانی یادداشت، جتنی پنجابی کے بارے میں تعصب اور نفرت سے پاک ہے، اتنی پنجابی لسانی یادداشت، پختون کے بارے میں نفرت، بے بسی اور ظلم و لوٹ مار سے بھری پڑی ہے۔ پنجابی ماؤں کا، اپنے بچوں کو "پٹھان چک (اٹھا) لے گا” کی پکار، جتنی اس کی بے بسی اور خوف کی مظہر ہے، اتنی وہ پختون کے ظلم بھرے تاریخی کردار کی شاہد ہے۔ اسی طرح پٹھان جانڑیں تے رمضان جانڑیں، والا محاورہ بھی پختون کے مذہبی جبر و اکراہ کا کھلا ثبوت ہے۔ پنجابی ماں، جس طرح سندھی یا بلوچ چک لے گا نہیں کہتی، اسی طرح رمضان جانڑیں اور سندھی جانڑیں اور رمضان جانڑیں، بلوچ جانڑیں بھی نہیں کہا جاتا، جو تاریخی طور پر پنجابی نفسیات کو لگائے ہوئے پختونوں کے وہ چرکے ہیں، جو آج بھی پنجاب کی لسانی یاداشت میں رستے رہتے ہیں۔

پھر کھادا پیتا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا، اس دور کی یادگار ہے جب، احمد شاہ ابدالی نے بائیس سال تک پنجاب (ہندوستان) پر بار بار حملے کیے اور ہر دفعہ پنجاب کی زمین، زندگی، معاش، عقیدہ اور نفسیات کو تہہ و بالا کرتے ہوئے گزر گیا۔ جس کے ثبوت پختونخوا کی طرف موجود پرانے گاؤں اور اندرون شہر (لاہور) کی تنگ اور ٹیڑھی میڑھی گلیاں (جو حملہ آور کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں ) اور لاہور میں کسی کو صحیح راستہ نہ بتانے کی روایتی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ گو کہ یک طرفہ جارحانہ ہمسایہ گیری کے وہ طبعی اثرات تو وقت نے مٹا ڈالے لیکن اس کے نفسیاتی اثرات آج تک پنجاب کی لسانی یادداشت اور عمومی رویے میں پختون کے بارے میں موجود ہیں۔ جن کے لسانی مظاہرے، حال ہی میں، پختونخوا سے پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاج کے لئے آمد کے دوران، پنجاب کی مسلم لیگی لیڈرشپ اور اس کے کنٹرول میں موجود میڈیا میں اور انتظامیہ نے، ’پٹھان آرہے ہیں‘ ، اور ’افغان آئے ہوئے ہیں‘ ، کی شکل میں، پنجاب پر اسی تاریخی خوف کو طاری کرنے کے لئے بار بار دہراتا رہا، تاکہ پی ٹی آئی کو حملہ آور دشمن باور کروا کر جو چاہے سلوک کردے، کیونکہ ’پٹھان آیا‘ اور ’افغان آیا‘ پنجاب کی تاریخی لسانی یادداشت کو ٹریگر کرنے والے پینک الفاظ ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ کی طرف سے عمران خان کو، جو کل تک لاہور (زمان پارک، شوکت خانم ہسپتال) اور پنجاب کا قابلِ فخر ہیرو تھا، پنجاب کی لسانی یادداشت میں غیر پنجابی ثابت کرنے کے لئے، عمران نیازی، لکھا اور بولا جانے لگا ہے، تاکہ پنجاب کی قدیم لسانی یادداشت میں افراتفری پیدا کر کے اسے لاہور کے دل سے اتارا جائے۔

پشتو میں کہا جاتا ہے کہ اپنا کیا ہوا ظلم یاد نہیں رہتا، اس لیے پنجاب میں صدیوں تک خوف، مذہبی اکراہ اور معاشی ابتری پھیلانے والا پختون، آج وہاں کی سڑکوں اور بازاروں میں عینکیں، مسواک اور چھلیاں بیچتے ہوئے، اس کی لسانی یادداشت کو سمجھنے اور قبول کرنے سے قاصر ہے۔

اشوکا، جے پال اور گوتم بودھ سے آگے بھی پنجابی اور پختون ایک دوسرے کے ہمسایہ اور ’گاؤں ونڈی‘ تھے۔ جتنا اباسین پرانا ہے اتنی اس کے اردگرد بنی ہوئی پختون اور پنجابی آبادیاں ہیں، اس لیے قوم پرست یا نسل پرست جو بھی کہتے ہیں، تاریخ دانوں کے پاس، اباسین کے ایک طرف موجود پنجابی کی یہاں مہاجرت کے کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں، اور نہ اباسین کے اس پار موجود پختون کی اس علاقے میں آمد کے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani